باصلاحیت سرکاری ملازمین کا انتخاب کیسے؟

دنیا بھر میں حکومتیں ایک بنیادی مسئلے سے دوچار ہیں۔ یہ کہ نچلے اور اعلیٰ عہدوں پر انتہائی باصلاحیت اور پرعزم افراد کو کیسے تعینات کیا جائے۔ سول سرونٹس اور بیورو کریٹس کی تیاری و تعیناتی دردِ سر میں تبدیل ہوتی جارہی ہے۔

۱۹۵۵ء میں امریکا میں فیڈرل ریزور انٹرنس ایگزام کے لیے دیے جانے والے اشتہار میں صراحت کی گئی تھی کہ باصلاحیت افراد کی ضرورت ہے۔ تحریری امتحان میں ریاضی اور حساب کتاب کی بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ تاریخ کے بارے میں بھی جاننے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ساتھ ہی امیدواروں سے چند غیر متعلق سے سوالات بھی پوچھے جاتے تھے۔ مثلاً یہ کہ امریکی صدر کے معاونین کے لیے گمنام ہونا کیوں لازم ہے۔ اس کی صراحت یہ تھی کہ یہ معاونین صدر کو بہت سے معاملات میں بے جا بوجھ سے بچاتے ہیں اور یوں مخالفین اور میڈیا کو صدر پر تنقید کا زیادہ موقع نہیں ملتا اور یوں صدر کی کارکردگی متاثر نہیں ہوتی۔

دو عشروں کے بعد اس نوعیت کے امتحان پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ معترضین کا کہنا تھا کہ امریکی فیڈرل ریزرو میں کام کرنے کے لیے حساب کتاب کی بنیادی معلومات اور مہارت کے ساتھ ساتھ ٹیکس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جاننا ضروری تھا۔ دنیا بھر کی معلومات کا جائزہ لینا ضروری بھی نہ تھا اور یہ سب کچھ افریقی نسل اور لاطینی امریکا سے تعلق رکھنے والے امریکیوں سے امتیاز برتنے کے مترادف بھی تھا۔ داخلہ کے امتحان پر اعتراضات میں اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر ۱۹۸۰ء کے عشرے میں یہ امتحانی طریقہ ترک کردیا گیا۔

اب پھر وہی طریقہ اختیار کیا جارہا ہے مگر چند ایک تبدیلیوں کے ساتھ۔ معاشی حالات بہت تبدیل ہوچکے ہیں۔ بہتر امیدواروں تک رسائی یا ان کی صلاحیتوں کی درست آزمائش ایک بنیادی مسئلہ بن چکی ہے۔ کسی ایک اسامی کے لیے بھی اشتہار دیجیے تو ہزاروں درخواستیں آتی ہیں۔ حکومتی اداروں کے لیے بہتر امیدواروں کا انتخاب کرنا انتہائی دشوار ہوچلا ہے۔ بیشتر معاملات میں ادارے الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ اعلیٰ سند یافتہ امیدوار بڑے پیمانے پر درخواستیں دیتے ہیں۔ وہ تو اپنی خدمات فراہم کرنے کو تیار ہیں مگر حکومتی اداروں کے لیے یہ طے کرنا انتہائی دشوار ہوچکا ہے کہ ان میں مطلوبہ صلاحیت اور سکت ہے یا نہیں۔ بہت سے امیدوار غیر معمولی قابلیت تو رکھتے ہیں مگر مطلوبہ قابلیت کی بات آئے تو وہ خاصے ناکام ثابت ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت آن لائن کوئز ’’یو ایس ہائر‘‘ کا سہارا لے رہی ہے جو مطلوبہ قابلیت کا حامل امیدوار تلاش کرنے میں غیر معمولی حد تک معاون ثابت ہوتا ہے۔

امریکا واحد ملک نہیں جہاں نوجوان بڑی تعداد میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں کا رخ کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں بہتر تعلیمی قابلیت رکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہی سبب ہے کہ کسی بھی ملازمت کے لیے موزوں ترین امیدوار کا انتخاب انتہائی دشوار ہوگیا ہے۔ ایک طرف تو حکومتیں اور بین الاقوامی ادارے متعلقہ گرانٹ میں کٹوتی کر رہے ہیں اور دوسری طرف سول سروس کے لیے موزوں ترین امیدوار کے انتخاب سے متعلق امتحانات کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ سوال غیر معمولی قابلیت رکھنے والوں کی خدمات حاصل کرنے کا نہیں بلکہ انہیں ملازمت دینے کا ہے جو مطلوبہ قابلیت رکھتے ہوں۔ عالمی بینک کے وویک شری واستو کہتے ہیں کہ ربع صدی کے دوران بہت سے ممالک نے سول سروس میں بہترین امیدوار منتخب کرنے کے لیے خصوصی امتحانات لینے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ اور اس کے خاطر خواہ نتائج بھی برآمد ہوئے ہیں۔

معروف غیر سرکاری تنظیم گلوبل انٹیگریٹی نے ۱۱۔۲۰۱۰ء میں ایک سروے کیا تو معلوم ہوا کہ ۶۲ میں سے ۵۵ ممالک نے سرکاری ملازمت کے حوالے سے سخت تر قوانین اپنا رکھے ہیں، تاکہ کوئی کسی بھی نا اہل کو بھرتی نہ کراسکے، کسی کی غیر ضروری سرپرستی نہ کرسکے اور کسی بھی سرکاری وسائل پر ایسے شخص کو متصرف نہ کرے جو اس کا اہل نہ ہو۔ گزشتہ برس پاکستان اور قبرص جیسے ممالک نے بھی چند ایسے قواعد متعارف کرائے ہیں، جن کا بنیادی مقصد سرکاری ملازمت ان نوجوانوں کو دینا ہے جو اس کے اہل ہوں، خزانے پر بوجھ نہ ہوں۔ جرمنی، پرتگال اور اسپین نے تو اپنے اپنے آئین میں یہ عہد بھی شامل کیا ہے، وہ سرکاری ملازمت انہی لوگوں کو دیں گے جو مطلوبہ اہلیت (تعلیمی قابلیت اور مہارت) اور سکت رکھتے ہوں۔ افغانستان اور سوڈان نے بھی حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ بھی سرکاری ملازمتیں دینے کے معاملے میں صرف اور صرف اہلیت کو بنیاد بنائیں گے۔

دنیا بھر میں سرکاری ملازمت کے حصول کی خواہش رکھنے والوں کو اب بھرتی کے سخت تر مراحل کا سامنا ہے۔ برطانیہ میں فاسٹ اسٹریم پروگرام کے تحت نوجوان گریجویٹس کو بھرتی کے سخت مراحل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی ٹیسٹ، مشقوں اور انٹرویو کے بعد بیس میں سے ایک امیدوار کو سرکاری ملازمت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ بھارت میں ہر سال ایلیٹ سول سروس کے لیے کم و بیش پانچ لاکھ درخواستیں آتی ہیں مگر ان میں سے صرف ایک ہزار کو، چھان پھٹک کر، منتخب کیا جاتا ہے! گزشتہ برس چین میں سول سروس کی ۲۷ ہزار ۸۱۷؍ اسامیوں کے لیے متعلقہ امتحان میں حصہ لینے والوں کی تعداد ۹ لاکھ ۳۰ ہزار سے زائد تھی۔

دنیا بھر میں صدیوں سے سرکاری ملازمتیں معیار اور اہلیت کے بجائے محض سرپرستی اور نوازش کے طور پر دی جاتی رہی ہیں۔ چین میں اس حوالے سے ۱۳۴؍ قبل مسیح میں بھی امتحانات لیے جانے کا ذکر ملتا ہے مگر مغرب میں سرکاری ملازمتوں کے لیے باضابطہ امتحانات لینے اور خالص میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں کرنے کا نظام انیسویں صدی میں رائج کیا گیا۔ ۱۸۵۴ء کی نارتھ کوٹ ٹریولین رپورٹ نے سفارش کی کہ سرکاری ملازمتوں سے یکسر نا اہل افراد کو نکال باہر کرنے کے لیے باضابطہ آڈٹ کیا جائے، صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جائے اور نئے سرے سے امتحان لیے جائیں۔ اس دور میں امریکا میں بھی سرکاری ملازمتیں حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کو دینے کا رواج عام تھا۔ برطانیہ کی دیکھا دیکھی امریکا میں بھی یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا کہ سرکاری ملازمتیں ان لوگوں کو نہ دی جائیں جو اہلیت نہ رکھتے ہوں اور سیاسی پس منظر کے حامل ہوں۔

سرکاری ملازمتوں کے لیے بہترین امیدواروں کے انتخاب کا زبردست حامی اور اس حوالے سے ماڈل تیار کرنے کا سہرا جرمن ماہر عمرانیات میکس ویبر کے سر ہے۔ میکس ویبر کا انتقال ۱۹۲۰ء میں ہوا۔ میکس ویبر نے ایک ایسی بیورو کریسی کا تصور پیش کیا، جس میں بھرتی انتہائی سخت اور غیر لچکدار طریق کار کے تحت ہو اور جو اس طریق کار کے تحت منتخب ہوں ان کی ملازمت کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ پوری یکسوئی اور دل جمعی سے کام کرسکیں۔ میکس ویبر کا استدلال تھا کہ ایسا کرنے سے بیورو کریسی میں نا اہل اور من پسند افراد کو داخل کرنے کا رجحان دم توڑے گا اور کام کا معیار بھی بلند ہوگا۔

میکس ویبر نے میرٹ پر مشتمل جس نظام کی وکالت کی تھی اس کے کارگر ہونے کے بہت سے شواہد ملتے رہے ہیں۔ ۲۰۱۱ء میں یونیورسٹی آف گٹینبرگ کے وکٹر لیپیوئنٹ اور کارل ڈیرسٹارم اور لینڈ یونیورسٹی کے جین ٹیوریل نے تحقیق کے ذریعے یہ نکتہ بیان کیا کہ ۵۲ ممالک میں بدعنوانی اور سرکاری وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا تعلق بنیادی طور پر نہ تو سول سروس کے پے اسکیل سے تھا اور نہ ہی اس بات سے کہ ملازمت کو مکمل تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ بیورو کریسی میں بھرتی کے وقت میرٹ کا سختی سے خیال رکھنا ہی بدعنوانی کی راہ میں دیوار کھڑی کرسکتا ہے۔ یہ نتیجہ بہت سے ممالک میں ترقی کے مختلف مراحل اور مختلف سیاسی نظاموں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد اخذ کیا گیا۔

میرٹ پر سرکاری ملازمتوں کا دیا جانا بہت سے دوسرے معاملات میں بھی معاون ثابت ہوتا ہے مگر ترقی کی راہ تیزی سے ہموار ہوتی ہے۔ وکٹر لیپیوئنٹ نے صرف یورپ میں ۲۱۲ خطوں اور ممالک کے پروکیورمنٹ کنٹریکٹس کا جائزہ لیتے ہوئے ایک تحقیقی مقالے کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ جو سرکاری ملازمین اور افسران میرٹ کے اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہوئے بھرتی کیے گئے ہوں وہ خریداری کے معاملے میں ضرورت سے کچھ بھی زائد دینے کے لیے بہت مشکل سے راضی ہوتے ہیں۔ سرکاری وسائل کو کفایت شعاری سے خرچ کرنا اور کسی بھی چیز کی قیمت سے زیادہ ادا نہ کرنا ان کا وتیرہ ہوا کرتا ہے۔ میرٹ پر بھرتی کیے جانے والے اعلیٰ افسران سڑکوں، پُلوں اور عمارات کے ٹھیکوں کے لیے زائد ادائیگی پر یقین نہیں رکھتے۔ کسی بھی ٹھیکے کے لیے فنڈنگ کا تعین کرتے وقت وہ تمام حقائق کو ذہن نشین رکھتے ہیں اور ان کی بھرپور کوشش ہوتی ہے کہ سرکاری وسائل بلا ضرورت زائد نہ دیے جائیں۔ محققین کا اندازہ ہے کہ اگر یورپ میں ہر ملک اور ہر خطہ بیڈن ورٹمبرگ (جرمنی) کی طرح میرٹ کے اصولوں پر انتہائی سختی سے عمل کرے تو سالانہ کم و بیش ۲۲؍ ارب ڈالر تک کی بچت ممکن ہوسکتی ہے۔ یونیورسٹی آف برکلے کیلیفورنیا کے پیٹر ایوانز اور یونیورسٹی آف سان ڈیاگو کے جیمز راچ نے ایک تحقیقی مقالہ میں بتایا ہے کہ بہت سے پس ماندہ اور غریب ممالک میں جب سرکاری بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر کی جاتی ہیں اور ترقیاں بھی میرٹ ہی کی بنیاد پر دی جاتی ہیں تب ترقی کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، معیشت تیزی سے پنپنے لگتی ہے اور عوام کا معیارِ زندگی بلند تر ہونے لگتا ہے۔

ایک بڑی مصیبت یا بدنصیبی یہ ہے کہ بعض ممالک سرکاری بھرتیوں کے لیے غیر لچکدار اصول اپناتے ہوئے امتحانات تو لیتے ہیں مگر ان امتحابات میں امیدواروں سے قطعی غیر متعلق سوال کیے جاتے ہیں۔ مثلاً بھارت میں مقابلے کے امتحانات میں امیدواروں سے بھارت کی تاریخ سے متعلق بہت سے غیر اہم سوال پوچھے جاتے ہیں۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ امیدواروں سے ان کی قابلیت کے مطابق اور ملازمت کے لیے مطلوبہ اہلیت کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پوچھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی معلومات عامہ کے حوالے سے غیر معمولی اہلیت کا حامل ہو مگر اپنے کام کے بارے میں کم ہی جانتا ہو تو اس کی بھرتی سرکاری ادارے کے لیے کچھ خاص کارگر ثابت نہ ہوگی۔ بہت سے ممالک میں بیورو کریسی کے لیے بھرتی کے موقع پر میرٹ کا خیال تو رکھا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ترقی اسی کی ہوتی ہے جو حکمراں جماعت کا پسندیدہ ہو۔ اٹلی، یونان اور اسپین میں خاصی بند بیورو کریسی پائی جاتی ہے، جس میں تبادلوں اور ترقی کے لیے وہی اصول اپنایا جاتا ہے جو بہت سے پس ماندہ ممالک کا وتیرہ ہے یعنی سیاسی سرپرستی۔

مشرقی یورپ کے متعدد ممالک میں معاملات بگڑ رہے ہیں۔ ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ کے انسٹی ٹیوٹ آف لیگل اسٹڈیز کے گیورگی گیڈسچیک کہتے ہیں کہ قانون اور اس پر عمل کے درمیان خلا بڑھتا ہی جارہا ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے لیے بھرتی پر مامور خود مختار ادارے اپنا کام عمدگی سے نہیں کر رہے۔ سیاسی دباؤ معاملات کو بگاڑ رہا ہے۔ بیورو کریسی میں بڑے عہدوں پر انہیں تعینات کیا جارہا ہے، جو کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے حمایت یافتہ ہوں یا پھر جو متعلقہ حلقوں کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتے ہوں۔ کارل ڈیرسٹارم کہتے ہیں کہ یورپ میں ترقی اور تعاون کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے بہت سے ارکان، یعنی انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں صورت حال کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا ہے کہ ۱۹۸۰ء کے عشرے سے اب تک انتخابات کے بعد اعلیٰ افسران کے تبادلوں کا رجحان تیزی سے پروان چڑھتا گیا ہے۔

گلوبل انٹیگریٹی کا کہنا ہے کہ افریقا کے ۵۴ میں سے ۴۳ ممالک میں سرکاری بھرتیوں کے حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں، مگر عمل صرف بوٹسوانا میں کیا جاتا ہے۔ عالمی بینک کے وویک شری واستو کہتے ہیں کہ افریقا کے بیشتر پسماندہ ممالک نے میکس ویبر کا تجویز کردہ میریٹوکریٹک سسٹم اپنا تو لیا ہے مگر اسے حقیقی انداز سے نافذ کرنے کی اہلیت ان میں نہیں۔ بعض افریقی ممالک سے کہا گیا کہ وہ اپنا بیورو کریٹک نظام ڈنمارک کی طرز کا بنائیں۔ انہوں نے ایسا کیا مگر کچھ بھی تبدیل نہ ہوا۔ کسی نظام کو متعارف کرانے اور رائج کرنے میں بہت فرق ہے۔ صرف زبانی جمع خرچ سے کچھ نہیں ہوتا۔

اب دنیا بھر میں سرکاری ملازمتوں پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ ایک مسئلہ یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو آسانی سے برطرف نہیں کیا جاتا۔ ان کی بھرتی کا نظام برائے نام بھی پیچیدہ نہیں مگر برطرفی کا نظام بہت پیچیدہ ہے۔ جب سرکاری ملازمین کی ملازمت کو مکمل تحفظ دینے کا نظریہ اپنایا گیا تھا تب غایت یہ تھی کہ وہ کسی بھی طرح کے دباؤ کے بغیر کام کریں اور کسی بھی لمحے انہیں یہ خوف لاحق نہ ہو کہ سیاسی اور دیگر بنیادوں پر مداخلت کرنے والے انہیں برطرف کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ مگر بیورو کریٹس اور عام سرکاری ملازمین کو مکمل جاب گارنٹی دینا اب تنقید کا نشانہ بن رہا ہے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ سرکاری ملازمین کو جب ملازمت جانے کا خوف لاحق نہیں ہوتا تو وہ یکسوئی اور دل جمعی سے کام نہیں کرتے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح دفتری اوقات مکمل کیے جائیں اور گھر کی راہ لی جائے۔ بیشتر ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک میں سرکاری ملازمین کا یہی وتیرہ ہے کہ کام نہ کیا جائے۔ لوگ سرکاری ملازمتوں کو اسی لیے پسند کرتے ہیں کہ کام نہیں کرنا پڑتا۔ بہت سے ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک میں سرکاری ملازمت پانے کے بعد نوجوان ایسے لاپروا ہوجاتے ہیں کہ وہ لوگ کڑھتے ہی رہتے ہیں جو غیر سرکاری ملازمین کی حیثیت سے رات دن کام کرتے رہنے پر مجبور ہیں۔ بیشتر پس ماندہ ممالک میں آج بھی سرکاری ملازمت کام نہ کرنے کی بہترین صورت تصور کی جاتی ہے۔ لوگ ہفتوں بلکہ مہینوں دفتر سے غیر حاضر رہتے ہیں مگر ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ سب ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے رہتے ہیں۔

اس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ سرکاری ملازمین اور بالخصوص بیورو کریٹس کی نوکری مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔ بڑے پیمانے پر اعداد و شمار کا تجزیہ، بڑے سرکاری منصوبوں کی فزیبیلیٹی تیار کرنا اور آؤٹ سورسنگ کے لیے دستاویزات کو حتمی شکل دینا غیر معمولی حد تک پیچیدہ عمل ہے۔ پسماندہ ممالک میں سرکاری وسائل پر بُری نظر رکھنے والے سیاست دانوں کو قومی خزانے سے دور رکھنے کی یہی قیمت ہے جو عشروں سے ادا کی جارہی ہے۔ گڈ گورننس والے ممالک اس صورت حال کا سامنا کرتے ہوئے خالص میرٹ کی بنیاد پر بھرتیاں یقینی بناسکتے ہیں اور بنا رہے ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین کی طرف سے دنیا بھر کی بیورو کریسی کے موازنے اور تجزیے پر مبنی دی کوالٹی آف گورنمنٹ سروے رپورٹ کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک اپنی بیورو کریسی میں باہر سے ماہرین کو لاتے ہیں اور کامیاب رہتے ہیں۔ ان میں نیوزی لینڈ بھی شامل ہے۔ کسی بیرونی ماہر کو سرکاری مشینری کا حصہ بناتے وقت بھی میرٹ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔

کنسلٹنسی فرم بی سی جی کے ایگنیز آدیئر کا کہنا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں سول سروس کی بھرتیوں کا بحران تیزی سے سر اٹھا رہا ہے۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں اعلیٰ افسران کی اکثریت کی عمریں پچاس سال سے زائد ہوچکی ہیں۔ امریکا میں ۶۰ فیصد سے زائد سینئر فیڈرل بیورو کریٹس بہت جلد ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچنے والے ہیں۔ بجٹ کو متوازن رکھنے کی کوشش نے سرکاری بھرتیوں کے عمل کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں یہ سب کچھ اور بھی مشکل ہوگیا ہے۔ سرکاری ملازمین کو دی جانے والی سہولتوں پر عوام اعتراض کرتے ہیں۔اگر اس بحران کو بہتر انداز سے کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو ترقی پذیر ممالک کی طرح ترقی یافتہ ممالک میں بھی سرکاری بھرتیاں غیر متوازن ہوجائیں گی، جو سرکاری مشینری اور معاشرے کے لیے انتہائی پریشان کن ثابت ہوں گی۔

(ترجمہ: محمد ابراہیم خان)

“Civil servants: Mandarin lessons”.
(“The Economist”. March 12, 2016)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*