عظیم مقاصد اور لازوال قربانیوں کی حامل امت

اخوان المسلمون کے مُرشدِ عام ڈاکٹر محمد بدیع اِس وقت مصر کی غاصب فوجی حکومت کی حراست میں ہیں۔ گرفتاری سے کچھ ہی دن پہلے ۱۳؍شوال بمطابق ۲۰؍ اگست کو موصوف نے ایک تحریر بطور پیغام اپنے کیڈر کے نام بالخصوص اور امت کے نام بالعموم جاری کی تھی۔ ذیل کا مضمون اُسی عربی تحریر کا ترجمہ ہے:

یہ وہ اُمت ہے جسے اللہ عزوجل نے انسانوں کے لیے آخری آسمانی پیغام اور انتہائی بلند اخلاق کی حامل امت بنایا ہے، محمد رسول اللہ، خاتم المرسلین، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شکل میں اسے تاریخ انسانی کا بے مثال انسانی اُسوہ ملا۔

اللہ رب العزت نے ہمیں ذمہ داری سونپی اور رسولِ حبیب مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے اس ذمہ داری کی عظمت واضح کی۔ آپؐ نے ہمیں ہر اُس چیز سے بچنے کی تاکید کی، جو ہمارے لیے اور ساری انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس سلسلہ میں واضح اور روشن آیات موجود ہیں:

’’تم خیرِ امت ہو، جسے لوگوں کے لیے نکالا گیا ہے‘‘۔ خیر امت، اس شرف سے سرفراز ہونے کے لیے پہلی مطلوبہ صفت ہے: ’’تم ہی وہ امت ہو جو نیکی کا حکم دیتی ہے اور برائی سے روکتی ہے‘‘۔ امت کا یہی امتیازی پہلو ہے جو اسے دیگر سابقہ امتوں سے ممتاز کرتا ہے۔ اگر امت اس ذمہ داری سے غافل ہو جائے تو یہ اللہ کی لعنت کی سزا وار ہوگی، اللہ کی رحمت سے دور ہو جائے گی: ’’انہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، برا طرزِ عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا‘‘۔

یہ کوئی معمولی منصب نہیں ہے۔ ہمیں دشمنانِ حق اور شرپسندوں کی طرف سے اذیتوں، ایذا رسانی، تکذیب، ظلم، افترا پردازی، قید و بند حتیٰ کہ قتل و نہب جیسے مراحل کا سامنا کرنا پڑے گا: ’’بیٹا! نماز قائم کر، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبر کر۔ یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکید کی گئی ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے سلسلہ میں ان مجرموں، قاتلوں اور غنڈوں کے ہاتھوں جن مراحل کا فیصلہ کیا ہے، وہ پورے ہو کر رہیں گے، تاکہ امت کا امتحان ہو، اور اللہ تعالیٰ یہ دیکھے کہ ہم میں سے کون لوگ مجاہدین اور صابرین کی صف میں ہیں اور کون منافق ہیں، کون تذبذب کا شکار ہیں اور کون خطا کے بعد حق کی طرف پلٹ کر آنے والے ہیں؟ چنانچہ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

’’مسلمانو! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنو گے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی کی روش پر قائم رہو تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے‘‘۔ ’’ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تاکہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کون ہیں‘‘۔ ’’اور ہم ضرور تمہیں خوف و خطر، فاقہ کشی، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے تو کہیں کہ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کر جانا ہے، انہیں خوشخبری دے دو، ان پر ان کے رب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں‘‘۔ یہ انتہائی آزمائش بھی ہو سکتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں منصب شہادت پر فائز کرے۔ ان شہدا کا وجود خود یہ دلیل ہے کہ ہمارے یہاں غنڈے، مجرمین اور قاتلین موجود ہیں، وہ محض اس وجہ سے بے گناہوں کو قتل کر رہے ہیں کہ انہوں نے اللہ کو اپنا رب تسلیم کیا ہے اور ظالم، سرکش اور خائن کے سامنے کلمۂ حق کا اعلان کرتے ہوئے ڈٹ گئے ہیں۔ وہ اسے نیکی کا حکم دے رہے ہیں اور برائی سے روک رہے ہیں اور اس جرم کی سزا یہ ہے کہ ظالم کے ہاتھ ان کے خون سے رنگین ہیں: ’’اور ایک وہ شخص ہے جس نے ظالم حکمراں کے سامنے کھڑے ہو کر امر (بالمعروف) اور نہی (عن المنکر) کا کام کیا اور اس ظالم نے اسے قتل کردیا۔ اس نے صرف امر اور نہی کا کام کیا۔ اب بتائو دہشت گرد کون اور مجرم کون ہے، اور سیدالشہدا کون ہے؟ تمہیں کیا ہو گیا ہے۔ تم کیسے فیصلے کرتے ہو؟‘‘

تمام ہی شہدا کے وارثوں سے میں کہتا ہوں کہ مصر کے اندر برپا حق اور حریت وکرامت کی جنگ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے شہید مردوں اور شہید خواتین کا انتخاب مبارک ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ سب کو جنت میں بیت الحمد میں جگہ عطا کرے۔ اللہ کے فیصلے پر ہم راضی ہیں: شکر ہے۔ ’’ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف پلٹنا ہے‘‘۔ ہم اس عظیم انعام کے مستحق ہیں کیونکہ جس ہستی نے فرشتوں کو اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہمارے عزیزوں کی روح قبض کریں، اسی کی طرف سے یہ مژدہ ہے: فرشتو! تم نے میرے مومن بندے کے فرزند کی روح قبض کی ہے، تم نے میرے مومن بندے کے لخت جگر کی روح قبض کی ہے، (حالانکہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ خوب جانتا ہے)، تم نے اس کے جگر پارے کی روح قبض کی ہے، فرشتے کہیں گے: ہاں۔ پروردگار پوچھے گا: بتائو اس نے کیا کہا: فرشتے کہیں گے کہ اس نے تیری حمد بیان کی اور کہا الحمدللہ اِناللہ واِنا الیہ راجعون، اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرمائے گا: اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنائو اور اسے بیت الحمد کے نام سے پکارو‘‘۔

اے میرے رب! بے انتہا حمد ہے تیری، شکر ہے تیرا، ہم تیرے بندے ہیں، تیرے بندوں اور بندیوں کی آل و اولاد ہیں، ہمارے اوپر تیرا ہی حکم چلتا ہے، ہماری پیشانیاں تیرے ہاتھ میں ہیں، ہمارے سلسلہ میں تیرا جو بھی فیصلہ ہو، وہی عدل ہے۔ ہمارے رہبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ ایسے موقع پر ہم کیا کہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے ابراہیم کی روح قبض کی گئی تو آپﷺ نے فرمایا: ’’آنکھیں اشکبار ہیں، دل کرب میں ڈوبا ہے، اے ابراہیم ہم تیری جدائی سے غمزدہ ہیں، پر ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو‘‘۔ اے اللہ ہمیں ہماری مصیبت کااجر دے اور اس کا بہتر بدل عطا فرما، آمین۔ اس طرح کے مواقع پر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف سے واضح کردہ یہ بنیادی اسلامی حقیقت بھی ہمارے سامنے ہونی چاہیے کہ جب ان سے کہا گیا کہ بہت سے ایسے شہدا بھی ہیں جنہیں آپ نہیں جانتے، ان کے آبا کو بھی نہیں جانتے، ان کے لیے جنازہ کا اہتمام بھی نہیں ہوسکا، انہوں نے کہا: عمر اور ابن عمر کو جان کر لوگوں کو کیا ملے گا، جس نے انہیں شہادت کا شرف عطا کیا ہے، وہ انہیں جانتا ہے۔

ہم اللہ عز و جل سے دعاگو ہیں کہ شہداء، زخمیوں، مصیبت زدوں، اور خاک و خون میں لپٹنے والوں کا یہ پاکیزہ خون قاتلوں اور درندوں کے لیے لعنت بن جائے۔ یہ خون ان کا ساتھ دینے والوں اور ان کی مدد کرنے والوں کے حق میں بھی تاقیامت لعنت بن جائے۔ روز قیامت ان کی پیشانیوں پر یہ لکھ دیا جائے کہ ’’یہ اللہ کی رحمت سے مایوس شخص ہے‘‘۔ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ مومن مردوں اور عورتوں کی ان تمام قربانیوں، عزیمت کے مظاہر، نیکیوں، اعمال اور دعائوں کو امت کی آزادی کے ذریعہ کے طور پر قبول کرلے۔ یہ امت خدا کی بندگی کے سوا ہر بندگی کے قلاوے سے آزاد ہو جائے۔ اسے اس کے تمام جائز حقوق مل جائیں۔ منتخب صدر کی دوبارہ واپسی ہو، استصواب رائے سے منظور شدہ دستور پھر سے بحال ہو، عوام کے منتخب نمائندے پھر سے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے لگیں۔

اخوان المسلمون اور اس وطن کے تمام ہی مخلص گروہ عوامی فوج ہیں۔ یہ اپنی قوم کو بے سہارا نہیں چھوڑیں گے، ان کے حق میں، ان کی آزادی اور عزت کی خاطر قیمتی سے قیمتی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ انہوں نے جس حق پر بیعت کی ہے، اس پر وہ گامزن رہیں گے۔ صہیونیوں اور غاصبوں سے مقابلہ جاری رہے گا، تمام ظالموں کے مقابلے میں یہ ڈٹے رہیں گے۔ یہ ’’دہشت گرد‘‘ لوگ ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ برائی کے مقابلہ میں بھلائی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے اور یہ امت جو دوسری امتوں پرگواہ ہے، یہ بھی اس حقیقت کی گواہ ہے اور سب سے بہتر گواہ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ جن لوگوں نے ہمارے اوپر فوجی مقدمات چلائے، ہم نے ان کے ساتھ کیا کیا۔ ہمارے خلاف مجموعی طور پر پندرہ ہزار سال سے زائد مدت کی سزائے قید سنائی گئی۔ ہمیں پھانسی پر چڑھایا گیا۔ قید خانوں کے اندر اذیتیں دے کر ہماری جانیں لی گئیں۔ پرامن احتجاج اور مظاہروں میں ہمیں قتل کیا گیا۔ پرامن مصریوں کے ساتھ ہمیں آگ اور خون کے کھیل کا نشانہ بنایا گیا۔ ہماری جائیدادیں جلائی گئیں۔ پہلے بھی ان کے غنڈوں نے ہمارا خون بہایا۔ انتخابات میں دھاندلی کی۔ چھ ہزار مقدمات میں ہمارے حق میں فیصلے ہوئے لیکن ہمارے حق میں ہونے والے ایک بھی فیصلے پر عمل نہیں ہوا۔ ’’کہہ دو اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو‘‘۔ عدلیہ کا احترام کرنے والا کون ہے اور کون ہے جو قانون کی توہین کرتا ہے؟ کون ہے جو اس وقت اپنے نازی اور فرعونی عزائم کی خاطر دستور، قانون، اور مصری عوام کی خواہش کو اپنے قدموں تلے روند رہا ہے۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ ظلم کی حکمرانی گھڑی بھر کے لیے ہے اور حق کی حکمرانی تاقیامت باقی رہنے والی ہے۔ اللہ عزوجل نے اپنے عزت و جلال کی قسم کھا کر کہا ہے کہ وہ مظلوموں کی پکار سنے گا۔ ’’میں لازماً تمہاری مدد کروں گا، کچھ صبر کرو‘‘۔ ان شاء اللہ یقینا مدد کا یہ وقت بہت جلد آکر رہے گا کیونکہ اللہ کی ذات ہی حق ہے۔ وہ ایسے ہتھیاروں سے حق کی مدد کرتا ہے جن کا مقابلہ تمہارے طیارے، بندوق، ان کی گولیاں اور تمہاری توپوں کی یلغار نہ کر سکے گی: ’’مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں، جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے، اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو‘‘۔ دنیا کے تمام ہی حریت پسندوں سے، افراد، اداروں اور حکومتوں سے ہم یہ گزارش کرتے ہیں کہ دنیا کی تمام ہی قوموں کے لیے حق و حریت کی کوششوں کا بھرپور ساتھ دیں۔ فوجی انقلابات کا زمانہ چلا گیا اور اب اس کی واپسی نہیں ہوگی۔ اے حریت پسندو! دنیا کے ہر مقام پر تم نے حریت، عدل اور انسانی حقوق کا ساتھ دیتے ہوئے فوجی نظام کے خلاف آواز اٹھائی ہے، اس سبق کو تم اب بھی یاد رکھو۔

جن افراد، مقامی اور بین الاقوامی اداروں، عرب اور غیر عرب حکومتوں نے ظلم، قہر، قتل، خونریزی اور آتش زنی کا ساتھ دیا ہے، ان سے میں یہی کہوں گا کہ جلد ہی، بہت ہی جلد، تمہیں اپنے اس رویہ پر پچھتانا پڑے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ حق کی مدد کرنے والا ہے۔ اور اسی نے تو کہا ہے کہ ’’جلد ہی وہ نادم ہو کر رہیں گے‘‘۔ ’’اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں‘‘۔ ’’کل ہی انہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور برخود غلط ہے‘‘۔

جو بھی صبر، ثابت قدمی اور بہادری کا سبق سیکھنا چاہتا ہو، وہ فلسطینیوں کو دیکھے۔ آئے دن خون کی ہولی کھیل کر حرمتوں کو پامال کرنے والے صہیونی آلات حرب کا انہیں کوئی خوف نہیں۔ ان کا عزم اور ان کا حوصلہ کمزور نہیں ہوتا۔ وہ اس پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ خونی لٹیروں کو وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی لیے تو اللہ کے رسولﷺ نے انہیں بشارت دی ہے کہ وہ کامیاب ہوں گے، دشمنوں کی چالیں انہیں نقصان نہیں پہنچا سکیں گی۔ ان کا ساتھ چھوڑنے والے اور ان سے الگ ہونے والے ان کا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ’’جو اللہ کی مدد کرتا ہے، اللہ لازماً اس کی مدد کرتا ہے، اللہ طاقتور ہے، غالب ہے‘‘۔

ہم تو وہ امت ہیں کہ ثابت قدمی ہمارا شعار ہے، کیونکہ جو چیز اللہ کی ہے، اسی کو دوام حاصل ہے۔ ہم وہ امت ہیں جو رمضان کے بعد شوال کے چھ روزوں کا اہتمام کرتی ہے۔ ہم دوشنبہ اور جمعرات کے روزوں کا اہتمام کرنے والی امت ہیں، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک رب ہے اور سب کچھ اس کے ہاتھ میں ہے۔ ’’تو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسا رکھ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا رب اس سے بے خبر نہیں ہے‘‘۔ حق کی حفاظت کرنے والا تو پروردگار ہے۔ اور باطل کے لیے رسوائی اور ندامت ہے۔ اہل باطل کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں تباہی ہے۔ ’’وہ پوچھتے ہیں کہ یہ ہوگا کب؟ تم کہو، کیا عجب، وہ وقت قریب ہی آلگا ہو‘‘۔ ’’اللہ اپنے معاملات پر غالب ہے، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے‘‘۔

اللہ ہی سب سے بڑا ہے، حمد اسی کے لیے ہے، اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اپنی فوج کو قوت دی اور تنہا اسی نے سارے لشکروں کو شکست دی۔ وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ و اصحابہ وسلم۔

(ترجمہ: اشتیاق عالم فلاحی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.