تیونس کے اسلامی عناصر اقتدار میں!

تیونس میں النہضہ نے اقتدار میں ابتدائی ۱۰۰؍دن عمدگی سے مکمل کرلیے ہیں۔ پارٹی کو چند ایک مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے لوگوں کے ذہنوں میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے میں مصروف رہی ہے۔ تیونس کی نئی حکومت کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس کی کابینہ کے دس ارکان سابق سیاسی قیدی ہیں۔ خود وزیراعظم حمادی جبالی (Hamadi Jebali) ۱۴؍سال جیل میں رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر قیدیوں کو قیدِ تنہائی میں رکھا جاتا رہا ہے۔ تیونس پر ۲۳ سال تک حکمرانی کرنے والے زین العابدین بن علی کے دور میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے سڑنے والے ان لوگوں کو قرآن کے علاوہ صرف سرکاری اخبارات پڑھنے کی اجازت تھی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جیل اور جلا وطنی کی سختیوں نے بھی ان لوگوں کو حالات سے لڑنا کم سکھایا ہے جو اَب اقتدار میں ہیں۔

تیونس کے بیشتر باشندے مختلف انداز سے سوچتے ہیں۔ حکومت میں شامل اسلامی اور سیکولر عناصر کی مدد میں اضافہ ہوا ہے۔ وزیراعظم جبالی کی حمایت بھی بڑھی ہے۔ کانگریس آف دی ری پبلک اور التکتل (Ettakatol) سیکولر جماعتیں ہیں اور ان سے امیدیں وابستہ رکھنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تیونس کی نئی حکومت کو ابتدائی دنوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ موسم بھی اس کے خلاف تھا۔ شمال مغرب میں برف باری ہوئی اور پھر بارش کے بعد سیلاب نے کھڑی فصلیں تباہ کردیں۔ حکومت کی جانب سے بروقت ریسپانس نہ ملنے پر لوگ خاصے دل برداشتہ ہوئے۔ وزیر اعظم جبالی نے ہیلی کاپٹر میں متاثر علاقوں کا جائزہ لیا کیونکہ نیچے مشتعل نوجوانوں کے ٹولے بروقت اقدامات نہ ہونے پر سرکاری عمارات پر حملے کر رہے تھے۔

نئے وزیر داخلہ علی لاریہ (Ali Laarayedh) نے انقلابیوں کو کچلنے کی پاداش میں پولیس چیف کو برطرف کردیا ہے۔ ان کے اس اقدام کو خوب سراہا گیا۔ فیس بک پر ایک وڈیو اَپ لوڈ کرکے مخالفین نے علی لاریہ کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ مگر سب کا خیال تھا کہ انقلاب کے ہاتھوں اقتدار سے محروم ہونے والے عناصر اس قسم کی اوچھی حرکتوں سے علی لاریہ اور نئی حکومت میں شامل دیگر شخصیات کو بدنام کرنا چاہتے ہیں تاکہ حکومت کی کارکردگی متاثر ہو۔ یہی سبب ہے کہ متنازع وڈیو کی پوسٹنگ کے بعد علی لاریہ کی حمایت گھٹنے کے بجائے بڑھ گئی ہے۔

زین العابدین بن علی کے دور میں خفیہ پولیس نے لوگوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ مخالفت برائے نام بھی برداشت نہیں کی جاتی تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نئی حکومت کے تحت عام آدمی کے معیار زندگی میں کچھ خاص فرق رونما نہیں ہوا۔ مگر لوگ جانتے ہیں کہ تبدیلی مرحلہ وار آتی ہے۔ جابر پولیس سے جان چھڑالینا ہی خاصی بڑی کامیابی ہے جسے لوگ برقرار رکھنا چاہیں گے۔ نئی حکومت نے زین العابدین بن علی کا اقتدار ختم ہونے پر جو ہنگامی حالت نافذ کی تھی اسے خاصے تذبذب کے ساتھ برقرار رکھا تاہم کسی بھی نوعیت کی سختی برتنے سے گریز کیا۔

تیونس کے مسائل برقرار ہیں۔ بیروزگاری پہلے بھی تھی مگر آمریت ختم ہونے کے بعد سے اس میں اضافہ ہوا ہے اور اب یہ انیس فیصد کی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ حکومت نے اس سال پچیس ہزار سرکاری ملازمتیں دینے کا اعلان کیا ہے تاہم ساتھ ہی غریبوں کے لیے گزشتہ سال زین العابدین بن علی کی جانب سے ترغیب کے طور پر سامنے لائے جانے والے ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ اشیائے خور و نوش کی قیمتیں غیر معمولی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ حکومت نے خوردہ فروشوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے منافع کی شرح نیچے لائیں تاکہ کم آمدنی والوں کو کچھ سہولت ملے۔

سوال صرف سیکولر عناصر کا نہیں، نئی حکومت کو بعض اوقات دائیں بازو کی جانب سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سلفیوں نے بارہا مظاہرے کرکے سخت شرعی قوانین نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سلفیوں کے زیرِانتظام چلائی جارہی درجنوں مساجد پر گہری نظر رکھے گی۔ ساتھ ہی سلفیوں سے در پردہ مذاکرات کی بھی اطلاعات ہیں۔

سیکولر عناصر ان تمام اقدامات سے بظاہر مطمئن نہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ حکومت بیلینسنگ ایکٹ کے طور پر جو اقدامات کر رہی ہے، وہ معیشت کی بحالی اور معاشرے میں توازن پیدا کرنے کے لیے ناکافی ہیں۔ انہوں نے آئندہ سال کے انتخابات کو بھی چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے ایک نیشنلسٹ بلاک قائم کرنے کی باتیں بھی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال حکومت نے ۴۰۰ سے زائد سرکردہ کاروباری شخصیات کے سفر پر پابندی عائد کردی تھی۔ اگر یہ پابندی ہٹائی جائے تو بڑے کاروباری ادارے ایسی سرمایہ کاری کرنے کا عندیہ دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر ملازمت کے مواقع پیدا ہوں گے۔

مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ تیونس میں النہضہ پارٹی بہت اچھی طرح کام کر رہی ہے مگر ملازمت کے ہزاروں مواقع پیدا کرنا مشکل کام ہے اور اس کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔

(“Doing Well on Parole”… “The Economist”. April 7th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*