النہضہ ’’عفریت‘‘ کو پال رہی ہے؟

تیونس میں اسلام پسندوں کی حکومت سلفیوں سے بہتر تعلقات کے معاملے میں خاصی شاکی اور محتاط ہے۔ گستاخانہ فلم کے خلاف ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے جب لیبیا کے شہر بن غازی میں مظاہرین نے امریکی سفیر کرس اسٹیونز کو مار ڈالا اُس کے صرف تین دن بعد تیونس میں بھی بنیاد پرست اور انتہاپسند مسلمانوں نے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا۔ پولیس نے مظاہرین پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چار افراد مارے گئے۔ اس واقعے نے تیونس میں دو غیر اسلام پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے والی النہضہ پارٹی کو اسپاٹ لائٹ میں لا کھڑا کیا۔ النہضہ پارٹی پر یہ الزام تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ بنیاد پرست سلفیوں سے نمٹنے کے معاملے میں خاصی نرم دِلی کا مظاہرہ کرتی رہی ہے۔ امریکی سفارت خانے پر حملے کے حوالے سے بہتوں نے النہضہ پارٹی کو لتاڑا ہے۔ حکومت پر تنقید کرنے میں کاروباری طبقہ پیش پیش ہے کیونکہ اُس کا یہ کہنا ہے کہ اِس نوعیت کے احتجاج کی اجازت دینے سے سرمایہ کاری اور سیاحت دونوں شعبے بُری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ امریکا اور تیونس کے تعلقات اچھے رہے ہیں۔ تیونس کا کاروباری طبقہ امریکیوں سے زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرانا چاہتا ہے، مگر امریکی اب بہت محتاط ہوگئے ہیں اور سفارت خانے سے برائے نام اسٹاف کو چھوڑ کر باقی سب کو واپس بلالیا گیا ہے۔ تیونس خاصا پُر امن ملک رہا ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاری بھی بڑے پیمانے پر ہوتی رہی ہے اور سیاحت کو بھی طویل مدت تک تیزی سے فروغ ملتا رہا ہے۔ مگر اب ملک کی ساکھ داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ سیاحت اور سرمایہ کاری سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبے ہیں۔

تیونس میں سلفیوں کے حوالے سے متعدد تصورات پائے جاتے ہیں۔ ان میں جہادی بھی شامل ہیں جو اپنے مقاصد کے لیے ہتھیار اٹھانے کو درست سمجھتے ہیں۔ بعض کا استدلال ہے کہ وہ صرف پُرامن طریقے سے اپنے تمام معاملات طے کرنا چاہتے ہیں۔ قدرے اعتدال پسند سلفیوں پر مشتمل ایک جماعت کو سال رواں کے اوائل میں کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ جن علاقوں میں بے روزگار نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں سلفیوں کی کسی جماعت یا مبلغ کے نہ ہونے کی صورت میں بھی سلفیوں کا پیغام ضرور موجود ہے اور خاصا پھیل چکا ہے۔

تیونس میں سلفی نظریات رکھنے والے لاکھوں ہیں۔ گزشتہ برس ۱۸۰۰ سے زائد انقلابیوں کو جنوری ۲۰۱۱ء کے انقلاب کے بعد گرفتار کیا گیا تھا مگر بعد میں انہیں رہا کردیا گیا۔ حکومت کو تمام سلفیوں سے خطرات لاحق نہیں۔ جہاد کی بات کرنے والوں کے حوالے سے تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ فروری میں تیونس کی فوج نے ملک میں سلفیوں کے لیے لیبیا سے بھیجی جانے والی ہتھیاروں کی ایک کھیپ پکڑی تھی۔ وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ ہتھیار مستقبل میں کسی سلفی ریاست کے قیام کے حوالے سے استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

تیونس میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکمراں النہضہ پارٹی کے رجعت پسند عناصر اور سلفیوں کے اعتدال پسند عناصر کے درمیان اچھا تال میل ہے۔ النہضہ کے ارکان کا کہنا ہے کہ بیشتر سلفی اچھے تیونسی ہیں اور ملک کی ترقی چاہتے ہیں۔ ان میں اور دوسروں میں صرف یہ فرق ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں زیادہ جذباتی اور پُرجوش ہیں۔ حکومت نے سلفیوں کے بیشتر بڑے مبلغین اور خطیبوں سے رابطے استوار رکھے ہیں جن میں الانصار الشریعہ کے سربراہ ابو عیاد بھی شامل ہیں۔ لیبیا میں الانصار الشریعہ ہی نے بن غازی میں امریکی سفارت خانے پر حملہ کرکے سفیر کو ہلاک کیا تھا۔ ابو عیاد افغانستان میں جہاد کی تحریک دیتے رہے ہیں مگر اب وہ اِس نکتے پر زور دے رہے ہیں کہ ہر معاملے میں جہاد سُود مند نہیں۔ امریکیوں کو اس بات کا شکوہ تھا کہ ابو عیاد کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ پولیس نے انہیں گرفتار کرنے کی نیم دِلانہ کوشش کی۔ ویسے حکومت خود کئی بار کہہ چکی ہے کہ لیبیا میں امریکی سفیر کی ہلاکت سے ابو عیاد اور تیونس میں ان کے گروپ کا کوئی تعلق نہیں۔

النہضہ کے قائد راشد الغنوشی نے گستاخانہ امریکی فلم کی مذمت کی ہے مگر ساتھ ہی انہوں نے لیبیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے اور امریکی سفیر کے قتل کی بھی مذمت کی ہے۔ حکومت میں شامل النہضہ پارٹی کے ارکان کا مطالبہ ہے کہ سلفیوں سے نمٹنے کے معاملے میں سخت گیر رویہ اپنایا جائے اور شہروں کے پس ماندہ حصوں میں سلفیوں کے نظریات سے متاثر ہونے والے بے روزگار نوجوانوں کے حوالے سے بھی سختی برتی جائے۔ تاہم وہ اس بات کے خلاف ہیں کہ سلفیوں کو دیوار سے لگایا جائے یا ایسا کریک ڈاؤن کیا جائے کہ وہ زیر زمین جانے پر مجبور ہو جائیں۔

کیا تیونس کی حکومت یعنی النہضہ پارٹی ایک بڑے عفریت کو پال رہی ہے؟ سلفیوں کا بنیادی مسئلہ یہ بھی رہا ہے کہ وہ مکالمے پر زیادہ یقین نہیں رکھتے اور اپنی بات زیادہ سختی سے منوانے پر یقین رکھتے ہیں۔ ملک میں نئے آئین کی تشکیل کا کام جاری ہے۔ ایسے میں سلفیوں کا نقطۂ نظر بہت اہم ہے۔

(“Don’t Push Them Underground”… “The Economist”. Sep. 22nd, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.