ڈاکٹر محمد یونس اور گرامِن بنک کا ایشو

بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس کا ایشو ایک دفعہ پھر زور پکڑ گیا۔ ۵؍اپریل کو جب بنگلہ دیش سپریم کورٹ کے سات رکنی فل بنچ نے چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کی سربراہی میں ڈاکٹر محمد یونس کی درخواست مسترد کر دی تو اس فیصلے پر بنگلہ دیش کے اندر اور باہر سخت ردعمل سامنے آیا۔ اٹارنی جنرل محبوب عالم نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے فوراً بعد کہا کہ اب ڈاکٹر محمد یونس کا اپنے آفس میں بیٹھنا سراسر غیر قانونی ہوگا۔ ۲مارچ کو بنگلہ دیش بنک (اسٹیٹ بنک) نے ڈاکٹر محمد یونس کو گرامِن بنک کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ دوسرے دن ڈاکٹر محمد یونس نے ہائی کورٹ میں اس کے خلاف پٹیشن دائر کردی۔ جس کو ۸مارچ کو ہائی کورٹ نے خارج کر دیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد گرامِن بنک سے تعلق رکھنے والے سارے لوگوں نے احتجاجاً کام کرنا بند کر دیا۔ سینکڑوں اسٹاف ممبران سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد یونس نے کہا کہ میں انصاف کے لیے سپریم کورٹ تک گیا لیکن سپریم کورٹ نے مجھے مایوس کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کو گرامِن بنک کے منیجنگ ڈائریکٹر برقرار رکھنے کے لیے انٹرنیشنل لیول پرلابنگ شروع ہو گئی ہے۔ اس میں امریکا، فرانس اور یورپ کے کئی ملکوں کے سفارتکار متحرک نظر آئے۔

۲۰ مارچ کو امریکا کے اسسٹنٹ سیکریٹری برائے وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا راورڈ بلیک نے وزیراعظم شیخ حسینہ سے ملاقات کی۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر بلیک کا یہ سفر ڈاکٹر محمد یونس کے معاملے کو حل کرنے کے لیے تھا۔ انہوں نے پریس کو بتایا کہ ابھی بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ ڈاکٹر محمد یونس کے ساتھ صلح کرلے۔ تاکہ بنگلہ دیش اور امریکا کے درمیان موجود اچھا تعلق جاری رہے۔ مسٹر بلیک بنگلہ دیش کے فارن سیکریٹری سے بھی ملے۔ ان کے ہمراہ بنگلہ دیش میں متعین امریکا کے سفیر James Moriorty بھی موجود تھے۔ پریس رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ ملاقات کے دوران موضوع بحث ڈاکٹر محمد یونس کا ایشو تھا۔ مسٹر بلیک نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ گرامن بنک کی خودمختاری برقرار رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ میں جب وزیراعظم سے ملا تو میں نے ان سے کہا کہ میں یہ معاملہ آپ (وزیراعظم) پر چھوڑتا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اس کا کامیاب اور بہتر حل سامنے آئے گا۔ اس کے بعد مسٹر بلیک نے سابق وزیراعظم اور بنگلہ دیش کی اپوزیشن لیڈر بیگم خالدہ ضیا سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد مسٹر بلیک نے صحافیوں کو بتایا کہ میں نے خالدہ ضیا کے ساتھ ڈاکٹر محمد یونس کے ایشو پر بات کی اور ان کو گرامن بنک کے مستقبل کے بارے میں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گرامن بنک بنگلہ دیش کا ایک اہم ادارہ ہے۔ جہاں پر بہت سارے لوگ کام کرتے ہیں، جن میں خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بیگم خالدہ ضیا نے کہا کہ ہم مسٹر بلیک کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں کہ گرامن کا معاملہ تشویش ناک ہے۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے فوراً بعد ڈاکٹر یونس کے نام فرانس کے صدر سرکوزی کا ایک خط تقسیم کیا گیا۔ سرکوزی نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ فرانس میں گرامن بنک کی کارکردگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس بنک نے غریبوں کی خدمت کی۔ آپ کے اس کام نے پوری دنیا میں بنگلہ دیش کو عزت کا مقام دیا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس وقت آپ مصیبت میں گرفتار ہیں اور مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ بنگلہ دیش حکومت اس کا بہتر حل نکالے گی۔ فرانسیسی حکومت حالات کو قریب سے دیکھ رہی ہے اور ہم اس مسئلے پر عنقریب بنگلہ دیش حکومت کے ساتھ بات کریں گے۔
اِس سب کچھ کے باوجود، شیخ حسینہ واجد کی ہٹ دھرمی پر سیاسی تجزیہ نگار دم بخود ہیں۔ عوامی لیگ کی صفوں میں بھی اس معاملے پر خاصی بے چینی پائی جاتی ہے۔ عوامی لیگ کے حامی کئی کالم نگار یہ لکھ چکے ہیں کہ حسینہ واجد کی یہ ہٹ دھرمی ان کو لے ڈوبے گی۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وزیراعظم حسینہ واجد سب کچھ بھارت کے اشارے پر کر رہی ہیں۔ ایک غریب اور پسماندہ ملک کے کسی شہری کا نوبل پرائز حاصل کرنا اور مغرب کا بھرپور سپورٹ کرنا بھارتی حکومت سے بھی ہضم نہیں ہو رہا ہے۔ یہاں یہ ذکر بے معنی نہ ہوگا کہ مغربی بنگال کے ایک اکانومسٹ ڈاکٹر امرتاسین کو نوبل پرائز ملا۔ لیکن دنیا بھر میں ڈاکٹر یونس کا جو مقام ہے، ڈاکٹر سین اس سے بہت پیچھے ہیں۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بھارت کا آندھرا پردیش میں گرامن بنک طرز کا تجربہ ناکام ہو گیا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی مائیکرو اکانومی اور ڈاکٹر محمد یونس کو بدنام کرنے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ ڈاکٹر محمد یونس کی معزولی کو بھی اسی سلسلے کی کڑی سمجھا جاتا ہے۔

ویسے تو بنگلہ دیش میں ڈاکٹر محمد یونس کبھی بھی مقبول شخصیت نہیں رہے۔ ان کے گرامن بنک کو بنگلہ دیش میں باہر کی دنیا کی طرح مقبولیت حاصل نہیں تھی۔ بلکہ گرامن بنک کے بڑھے ہوئے شرح سود اور سود کے حصول میں بے رحمی کا انداز ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتا رہا۔ لیکن اب شیخ حسینہ کا ٹارگٹ بننے کے بعد ڈاکٹر محمد یونس کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کھل کر ڈاکٹر یونس کا ساتھ دے رہی ہے۔ ڈاکٹر محمد یونس کے ایشو نے بنگلہ دیشی قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی اس معاملے کو سلجھانے کے بجائے الجھانے کا باعث بنا ہے۔

☼☼☼

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.