آبا و اجداد کے خواب

جب گزشتہ مہینے ایران کے صدارتی انتخاب کے نتائج کا سرکاری طور پر اعلان کیا گیا تو ترکی محمود احمدی نژاد کوسب سے پہلے مبارک باد دینے والے ممالک میں سے ایک تھا۔ایرانی گلیوں میں مظاہرین پر جبر کے واقعات کے دیکھتے ہوئے، اِس نے امریکااور یورپ کو ورطہ حیر ت میں ڈال دیا۔ حتیٰ کہ اِس نے اُس پرانے سوال کو پھر سے زندہ کردیا کہ کیا ترکی (یورپین یونین کا ممبر بننے کے بعد) مغرب کے ساتھ تعاون سے انکار تو نہیں کر دے گا؟ ترک وزیر خارجہ ’اِحمت داوواولو‘ نے ایک انٹرویو میں شکایت کی ہے کہ ’’لوگ اس کہانی کا ایک رُخ دیکھتے ہیں‘‘ البتہ انہوں نے اس کی تشریح نہیں کی کہ کیسے؟ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ (ایران) کے ساتھ ترکی کے تعلقات مغرب کے لیے مفید بھی ثابت ہوئے ہیں۔ اس کی پس پردہ ثالثی تہران میں قید برطانوی سفارتی عملہ کی حالیہ رہائی کا موجب بنی تھی۔ اور یہ دونوں طرح کام کرسکتا ہے۔ اسی طرح ۲۰۰۷ء میںامریکیوں کے ہاتھوں قید پانچ ایرانی سفارت کار بھی گزشتہ مہینے ترکی کے کہنے پر رہا کردیے گئے تھے۔

جس آسانی کے ساتھ ترکی مختلف دنیائوں کے ساتھ شعبدہ بازی کرتا ہے‘ چاہے وہ عرب ہوں یا یہودی ‘ مسلم ہوں یا یورپی‘ اس کو دیکھتے ہوئے ہیلری کلنٹن نے اِسے ’’اُبھرتی ہوئی عالمی طاقت ‘‘ کہا ہے ۔ ترکی کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات دونوں ملکوں کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔ جنوری میں غزہ پر حملہ کے دوران یہ کتنے عمدہ رہے وہ دونوں کے مضبوط تعلق کو واضح کرتی ہے۔ ژنجیانگ کے یغور وں کو ترک اپنا عزیز سمجھتے ہیں اس لیے ان کے ساتھ (غلط) چینی برتائو پر ان کی چین کے ساتھ بہت زیادہ تلخی رہی۔

یہ سمجھ میں آنے والی بات ہے کہ اُوباما نے بطور صدر اپنا پہلا بیرونِ ملک دورہ ترکی کا کیا ۔ اس کا کچھ کریڈیٹ مسٹر ’داوواولو‘ کو بھی جاتا ہے جنہوں نے مئی میں وزیر خارجہ بننے سے قبل ۷ سال تک رجب طیب ایردوغان کے مشیر برائے خارجہ پالیسی کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اس چالاک سابق اکیڈمک کو ترکی کی اُس سافٹ طاقت کا آرکیٹیکٹ سمجھا جاتا ہے جس نے عملی سیاست کو تندخو بے اعتنائی سے ملا دیا ہے۔ اخلاق آموز رجحان رکھنے والے نیک مسلمان ’داوو اولو‘ کا شمار ترک ریپبلک کی تاریخ کے انتہائی بااثر وزرائے خارجہ میں ہوتا ہے۔

ان کی اپروچ دو ستونوں پر استوار ہے۔ایک یہ کہ پڑوسیوں سے کوئی مسئلہ نہیں‘ ان میں بہت سے یا تو ایذارساں ہیں یا پریشان کُن۔ اور دوسری بنیاد ’’تزویراتی گہرائی‘‘ ہے۔ یہ پڑوسی ممالک جن میںسابق عثمانی نوآبادیاں بلقان‘ جنوبی قفقاز (Caucasus) اور مشرق وسطیٰ کے ممالک شامل ہیں میں سیاسی‘ معاشی اور ثقافتی اثر و رسوخ کے ایک ’ترک زون‘ کے قیام کا مطالبہ کرتا ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز ترکی کو یورپین یونین میں شامل ہونے کے جذبے کی راہ سے نہیں ہٹاتی‘ بلکہ ’’داوواولو‘‘ کے مطابق یہ ممبر بننے کے لیے اس کے ارادے کو وسعت دیتی ہے۔

وہ جرمنی اور فرانس کی طرف سے مخالف واویلے سے لاپرواہ دکھائی دیتے ہیں۔ ’نیکولس سرکوزی‘ اور ’انجیلا مورکل ‘ دونوں ترکی کو ایک مکمل رکن بنانے کے بجائے اِسے ’’مراعات یافتہ شراکت دار‘‘کی حیثیت دلانے کی لابنگ کر رہے ہیں۔ ’داوواولو ‘کے خیال میں یہ صرف اپنے متعلقہ حلقہ انتخاب کے لیے ایسا کررہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہمیں شکایت کرنے اور غصہ ہونے کے بجائے مل کر کام کرنا چاہیے‘‘

ترکی کے نزدیک اس کا مطلب اس انحطاط پذیر اصلاح پرست عمل کا احیا ہے ‘جس سے ۲۰۰۵ء میں یورپی یونین میں ممبر شپ کی بات چیت کا دروازہ کھلا تھا۔ مثال کے طور پر مسٹر داوواولو پرا ُمید ہیں کہ استنبول کے ساتھ جزیرہ ہالکی پر یونانی ارتھوڈاکس (عیسائی) مدرسہ جلد کھول دیا جائے گا۔ لیکن یورپین سفارت کار کہتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ایک چیز بھی ایسی نہیں جس کی وجہ سے ترکی کو قبرص کے معاملہ سے بری الذمہ کیا جا سکے۔ ’داوواولو‘ اتفاق کرتے ہیں کہ یونانی قبرصی قائدین اور ترکوں کے درمیان برسوں پرانے امن مذاکرات کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے ڈیل ہونا ضروری ہے۔ (لیکن) ایسا ممکن بنانے کے لیے یورپی یونین اور امریکا کو یونانی قبرصی قائدین کو سنجیدہ ہونے کے لیے کہنا پڑے گا۔

اس تصفیہ سے ترکی اور یورپی یونین کے مابین تعلقات میں اس ممکنہ رخنہ کو ٹالا جاسکتا ہے جو دسمبر میں آنے کا امکان ہے۔ ویسے تو ترکی یونانی قبرص کے لیے فضائی راستہ اور بندرگاہ کھولنے پر رضامند ہے لیکن وہ ایسا تب تک کرنے سے انکاری ہے جب تک ترکی کے زیر کنٹرول شمالی قبرص میں یورپی یونین کی طرف سے تجارتی پابندیاں نہ ہٹادی جاتیں۔

ہوسکتاہے کہ فرانس اور ترکی کے دیگر دشمن اس کو ترکی کی ممبرشپ کے لیے مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کرانے کا بہانہ بنادیں تاہم ترک قائدین کا خیال ہے کہ یورپ کو ترکی کی زیادہ ضرورت ہے نہ کہ ترکی کو یورپ کی۔یہ توانائی سے مالامال آذربائیجان اور وسطیٰ ایشیاکے علاوہ عراق ( اور آخرکار ایران) سے یورپ کے لیے قدرتی گیس کی ممکنہ تجارتی راہداری (transit route) ہونے کے سبب اہم بن چکا ہے۔ مسٹر’ داوواولو‘ نے فخریہ طور پر حال ہی میںترکی ‘ بلغاریہ ‘ رومانیہ‘ ہنگری اور آسٹریا کے مابین ہونے والے نابوکو (Nabucco) پائپ لائن معاہدے کی طرف اشارہ کیا‘ جس کے تحت گیس اِن ممالک سے آنے کے بعد روس پر یورپ کا انحصار کم ہو جائے گا ۔

تاہم بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ترکی اس کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔اس کے توانائی کا خواب آذربائیجان میں اس کے لسانی کزنوں کے ساتھ مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ان ترکی اتحادیوں کے مابین تعلقات کواپریل میں اس وقت دھچکا لگا جب ترکی نے آرمینیا کے ساتھ سرحد کھولنے اور سفارتی تعلق قائم کرنے کے ڈرافٹ اگریمنٹ سے پردہ اُٹھایا۔ اس جمہوری تبدیلی میں ترکی اس دیرینہ شرط سے بھی دستبردار ہوا جس کے مطابق آرمینیا کو ۹۰ کی دہائی میں Karabakh Nagorno درّے پرآذربائیجان کے ساتھ ہوئی جنگ کے بعد قبضہ کیے گئے علاقوں کو چھوڑنا تھا۔

اس ڈارفٹ ایگریمنٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد سیخ پا آذربائیجان نے فوراًروس کی طرف جانے کی دھمکی دے دی اور جون ۲۰۰۹ء میں روس کے ساتھ ۲۰۱۰ء سے روس کو گیس فروخت کرنے کے معاہدے پر دستخط کیے۔ پس اس کے بعد ترکی نے پھر سے پلٹاکھایا اور طیب ایردوغان نے اعلان کیا کہ آرمینیا کے ساتھ یہ دوستی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہ Karabakh Nagorno سے دستبردار نہ ہو جائے۔ (تاہم) مسٹر ’داوواولو ‘کا اصرار ہے کہ ترکی آرمینیا کے ساتھ اَمن چاہتا ہے۔ لیکن ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ ’’آرمینیا کے ساتھ مفاہمت اپنی آخری ٹانگ پر کھڑی ہے۔‘‘ اس نے ترکی کے سب سے طاقت وراتحادی ا مریکا کے ساتھ ناخوشگواری کو جنم دیا ہے۔آرمینی نژاد امریکی چاہتے ہیں کہ مسٹراوباما انتخابی وعدے کی پاسداری کریں جس کے مطابق اوباما کا اصرار تھا کہ ۱۹۱۵ء میں عثمانی فوجوںکے ہاتھوں ان کے دس لاکھ سے زائد آباواجداد کا قتل ِعام دراصل نسلی کشی تھی۔وعدہ خلافی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسٹر اوباما نے اپریل میں کہا کہ اس مسئلے سے متعلق ان کے خیالات تبدیل نہیں ہوئے تاہم انہوں نے صرف Medz Yeghern کے بارے میں بات کی۔ کیوں کہ وہ G-word کا استعمال کر کے ترکی اور آرمینیا کے درمیان مفاہمت کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں۔

ترکی کا اسٹریٹیجک محل وقوع ایک دفعہ پھر فیصلہ کن بن چکا تھا‘ امریکی فوجوں کے عراق سے انخلا کی صورت میں ترکی‘ عربوں اور کردوں کے درمیان دھندلے قضیے ‘ خصوصاً کِرکوک شہر کے اوپر تصادم کو ٹالنے کی تلاش میں ہے۔ترکی نے ۲۰۰۵ء میں عراقی سُنییو ں پر زور دیا تھا کہ وہ انتخابات کا بائیکاٹ نہ کریں۔ داوو اولو ایک دفعہ پھر اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں کہ عراقی گروپس جنوری ۲۰۱۰ء میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لیں۔وہ کہتے ہیں ’’امریکا کے ساتھ ہمارے ہر سطح پر شاندار تعلقات ہیں‘‘ تاہم ایک مغربی آفیشل کا کہنا ہے کہ ’’جب ترکی اور آرمینیا کی بات آتی ہے تو ترکی ہمیشہ جیت جاتا ہے‘‘۔

(بحوالہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ ۲۵ جولائی ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*