مشرقی پاکستان کی منصوبہ بند پسپائی

میں بنگلہ دیش کے قیام کا سبب بننے والی سازشوں کے بارے میں کچھ زیادہ نہیں کہنا چاہتا۔ بہت سی باتیں سامنے آہی چکی ہیں۔ میرا زور اس نکتے پر ہے کہ سابق مشرقی پاکستان کو ہمیشہ اس کے جائز حقوق سے محروم رکھا گیا اور فیصلہ سازی کے عمل میں بھی سابق مشرقی پاکستان کے لوگوں کو کماحقہ شریک نہیں کیا گیا۔ ۱۹۷۰ء کے انتخابی نتائج کی روشنی میں اگر سب سے بڑی جماعت کو اقتدار دینے کا فیصلہ کرلیا جاتا تو ملک توڑنے کا باعث بننے والے انتخابات ملک کو جوڑے رکھنے کا وسیلہ بن جاتے۔

۱۹۷۰ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی فتح کو صدر یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹو نے ناگواری سے دیکھا کیونکہ شیخ مجیب کو اقتدار سونپنے کی صورت میں صدر کو منصب چھوڑنا پڑتا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اپوزیشن بنچوں پر بیٹھنا پڑتا۔ اور ایسا کرنا ان کی امنگوں کے برعکس ہوتا۔ ان دونوں نے مل کر لاڑکانہ میں ایک منصوبہ تیار کیا جسے اب ’’لاڑکانہ سازش‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا جائے اور شیخ مجیب کو اقتدار سے دور رکھنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے، دھمکایا جائے اور ضرورت پڑنے پر عسکری طاقت بھی استعمال کی جائے۔ اس سازش کا ایک حصہ ’’ایم ایم احمد پلان‘‘ بھی تھا، جس کا بنیادی مقصد مشرقی پاکستان کو کسی حکومت کے بغیر رہنے دینا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جب قومی اسمبلی کا سیشن ڈھاکا میں منعقد کرنے کی تاریخ کا اعلان کیا گیا تو جنرل عمر نے سیاست دانوں کو اس کے بائیکاٹ کے لیے ڈرانا دھمکانا شروع کیا۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ مشرقی پاکستان بین الاقوامی سازشوں کا گڑھ بن چکا ہے، اس لیے اسے چھوڑنا ہی بہتر ہے۔ یہ سازش اس وقت بھرپور طور پر کامیاب ہوگئی جب ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل میں پولینڈ کی قرارداد پھاڑ دی۔

بھارت میں پاکستان کے سفیر سجاد حیدر نے حکومت کو خبردار کیا تھا کہ اگست ۱۹۷۱ء کے معاہدے کی روشنی میں بھارت اور روس مل کر پاکستان کے خلاف مکمل جنگ کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے سرحدوں پر فوج کے اجتماع سے بھی مطلع کردیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان کی چھوٹی سی گیریژن پر قابو پانا بھارت کے لیے کوئی بڑا مسئلہ نہ ہوگا۔ سجاد حیدر کو جواب ملا کہ وہ کچھ زیادہ ہی بدحواس ہو رہے ہیں اور قیاس کے گھوڑے دوڑا رہے ہیں۔ سجاد حیدر نے بھارت کی جنگی تیاریوں سے متعلق رپورٹس بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا تبادلہ ترکی کردیا گیا۔

ایم ایم احمد پلان کے بارے میں مجھے سابق مشرقی پاکستان کے چیف سیکرٹری مظفر حسین نے بتایا تھا۔ ہتھیار ڈالنے کی رسم کے بعد انہیں گورنمنٹ ہاؤس سے نکال کر کنٹونمنٹ پہنچایا گیا تھا۔ شدید غصے کی حالت میں انہوں نے خود کو کوسا اور کہا کہ ایم ایم احمد پلان نافذ کردیا گیا ہے۔ سینئر سیاست دان ظفر احمد انصاری نے مجھ سے ملاقات میں اس بات کا اقرار کیا کہ درجن بھر آپشنز میں سے ایم ایم احمد پلان منتخب کیا گیا تھا۔ ایم ایم احمد پلان کا مقصد صرف یہ تھا کہ یحییٰ خان صدر اور ذوالفقار علی بھٹو وزیراعظم پاکستان کی حیثیت سے کام کرتے رہیں۔

لاڑکانہ سازش کے علاوہ بھی بھٹو اور ان کے رفقا نے کئی منصوبے تیار کیے تھے۔ مثلاً لیفٹیننٹ جنرل گل حسن، ایئرمارشل رحیم خان اور بھٹو کے درمیان گاڑھی چھنتی تھی۔ جنرل گل حسن آرمی چیف اور ایئر مارشل رحیم خان فضائیہ کے سربراہ تھے۔ جب صدر یحییٰ خان نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا تو ایئر چیف مارشل رحیم خان نے ایوان صدر پر سے طیارہ گزارا۔ جنرل گل حسن نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ یہ سب کچھ باہمی مشاورت سے کیا گیا تھا۔ بھٹو نے ٹکا خان کے ساتھ سازباز کی جو ان اکیس جنرلوں اور بریگیڈیئرز میں سے تھے جنہوں نے گل حسن سے سینئر ہونے کے باوجود استعفیٰ نہیں دیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ جنرل ٹکا خان کو آرمی چیف بنانے کا بھی وعدہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے معاملات بہت بگاڑے اور لوگ انہیں ’’قصائی‘‘ کہا کرتے تھے۔ سابق مشرقی پاکستان میں پورا وار پلان بگاڑنے میں جنرل ٹکا خان کا مرکزی کردار تھا۔

۱۹۷۴ء میں بھارت کی قید سے نکل کر پاکستان واپسی پر جب میں نے سابق مشرقی پاکستان کے واقعات سے متعلق رپورٹ تیار کرنا شروع کی تو جنرل ہیڈ کوارٹرز سے مجھے یہ اشارے ملے کہ سازش کے تحت ایسٹرن کمانڈ کو ملک پر قربان کردیا تھا اور اس کے لیے بہت سے افسران کو قربانی کا بکرا بنایا گیا۔ بعد میں جب میں نے جی ایچ کیو سے جڑے ہوئے بہت سے افسران سے بات کی تو اندازہ ہوا کہ ایسٹرن کمانڈ کو واقعی سازش کے تحت شکست سے دوچار کرایا گیا تھا۔ جو کچھ مشرقی پاکستان میں ہوا وہ ہائی کمانڈ کی سازش کا نتیجہ تھا۔ یہ سب کچھ اس قدر واضح تھا کہ جبل پور میں بھارت کے جنرل شاہ بیگ سنگھ نے مجھ سے کہا۔ ’’سازش تیار ہے۔ سارا الزام آپ پر اور آپ کی کمانڈ پر منڈھ دیا جائے گا‘‘۔

یہاں میں ان واقعات کی نشاندہی کرتا چلوں جن سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مشرقی پاکستان کا سقوط ہوا نہیں، کروایا گیا۔

مئی ۱۹۷۱ء

جب مشرقی پاکستان سے باغی مار کھانے کے بعد، پسپا ہوکر بھارت میں داخل ہوگئے تو مجھے بھارت میں داخل ہوکر ان کے خلاف کارروائی کی اجازت نہیں دی گئی۔ دوسری طرف بھارت کے فوجی ہمارے علاقے میں داخل ہوچکے تھے اور وہیں سے ہم پر فائرنگ کر رہے تھے۔ اگر ہماری فوج کو بھارت میں داخل ہوکر کارروائی کی اجازت ملتی تو معاملات درست کرنے اور پاکستان کو متحد رکھنے میں خاصی مدد مل سکتی تھی۔

ستمبر ۱۹۷۱ء

لاڑکانہ سازش یا ایم ایم احمد پلان کا فالو اپ۔ چیف آف اسٹاف کی جانب سے دشمن کی نئی نقل و حرکت اور تعیناتی کے بارے میں بریفنگ۔ ہدایت ملی کہ دشمن کی پیش قدمی روکی جائے اور سرحد پر در آنے کے تمام راستے بند کیے جائیں۔ واضح رہے کہ تحریری احکام دینے سے گریز کیا گیا۔

میں نے عام معافی دینے اور سیاسی عمل (مذاکرات) شروع کرنے سے متعلق جو تجاویز دی تھیں ان پر عمل نہیں کیا گیا۔

اکتوبر ۱۹۷۱ء

چیف آف آرمی اسٹاف نے مشرقی پاکستان کا دورہ کیا۔ میں نے جو اسٹریٹجک پلان تیار کیا تھا اس کی منظوری دی گئی۔ ایک بار پھر اس نکتے پر زور دیا گیا کہ علاقائی سالمیت پر سمجھوتہ نہ کیا جائے کہ ہماری چھوڑی ہوئی زمین پر بنگلہ دیش بن سکتا ہے۔ مجھ سے کہا گیا کہ ملک کے اندرونی علاقوں اور سرحدوں پر آپریشن جاری رکھا جائے۔

بھارت میں پاکستان کے سفیر سجاد حیدر نے بھارت کی طرف سے جنگ مسلط کیے جانے کے بارے میں رپورٹس دینے کا سلسلہ جاری رکھا تو ان کا تبادلہ ترکی کردیا گیا۔

جنرل ہیڈ کوارٹر کی طرف سے حکم ملا کہ باغیوں کے خلاف آپریشن میں تمام ریزروز کو استعمال میں لے آؤں۔ اس حکم نے میری پوزیشن خاصی نازک کردی۔

کمک بھیجنے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر نہیں بھیجی گئی۔ ٹینک کم پڑگئے، توپ خانے کی کمی تھی۔ بہت سے آلات بھی نہیں تھے۔ ایسے میں ہمارے لیے بھارت سے مکمل سطح کی جنگ لڑنا تقریباً ناممکن ہوگیا۔

مشرقی پاکستان کے گورنر مالک نے تجویز دی کہ عوامی لیگ کے جو ارکانِ قومی اسمبلی ملک میں ہیں، انہیں حکومت کا حصہ بنادیا جائے۔ یہ تجویز نہیں مانی گئی۔ ایک تجویز یہ تھی کہ عوامی لیگ کے جو ارکانِ قومی اسمبلی بھارت بھاگ گئے ہیں ان کی نشستوں پر دوبارہ انتخاب کرادیا جائے۔ اس تجویز کو بھی مسترد کردیا گیا۔

۱۵؍ نومبر ۱۹۷۱ء

میجر جنرل جمشید اور میرے چیف آف اسٹاف نے نیول چیف آف اسٹاف سمیت ملٹری ٹاپ براس کو بریفنگ دی۔ انہوں نے درخواست کی کہ مشرقی پاکستان میں ملٹری فارمیشنز کو امن و امان کے لیے نچلی سطح سے شروع کرتے ہوئے آرٹلری، آرمرڈ اور دیگر شعبوں کے لیے تقسیم کیا جائے۔ مگر یہ استدعا تسلیم نہیں کی گئی۔ چیف آف اسٹاف کے فیصلے کے مطابق مشرقی پاکستان میں تعینات فوجیوں کو درپیش مشکلات کا تدارک نہیں کیا گیا، اضافی نفری ملی نہ اسلحہ و آلات۔ اس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کسی بھی اعتبار سے بھارت کی جنگی تیاریوں کا سامنا کرنے کی پوزیشن ہی میں نہ رہی۔

۱۹؍ نومبر ۱۹۷۱ء

اطلاع ملی کہ بھارت عید کے دن جنگ چھیڑنے کی تیاری کر رہا ہے۔ ڈھاکا کی حفاظت کے لیے آٹھ بٹالین اور راولپنڈی کی ۱۱۱؍انفنٹری بریگیڈ اور انجینئرنگ رجمنٹ بھیجنے کا وعدہ کیا جاتا ہے مگر آخری لمحات میں یہ طے کیا جاتا ہے کہ انفنٹری بریگیڈ اور انجینئرنگ رجمنٹ نہیں بھیجی جائے گی۔ وہ صدر یحییٰ خان کے خلاف بغاوت میں استعمال ہوگی۔ اگلے چار دنوں میں صرف چار بٹالین ڈھاکا پہنچیں۔ مزید بٹالین نہ بھیجنے کے فیصلے سے ہمیں آگاہ کردیا گیا۔ ڈھاکا کی حفاظت کے لیے جو فوجی بھیجنے کا وعدہ کیا گیا تھا، وہ کبھی نہیں آئے۔

۲۱ نومبر ۱۹۷۱ء

بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کردیا۔ یہ خبر سننے کے لیے صرف وائس چیف آف جنرل اسٹاف دستیاب تھے۔ چیف آف جنرل اسٹاف جنرل گل حسن لاہور میں عید منا رہے تھے۔

۲۲ نومبر ۱۹۷۱ء

صدر اور چیف آف اسٹاف شکار کے لیے سیالکوٹ کے نزدیک چلے گئے اور جی ایچ کیو میں بریفنگ لینے سے انکار کردیا۔ صدر کے ریمارکس قوم تک پہنچے۔ ’’مشرقی پاکستان کے لیے میں کیا کرسکتا ہوں، سوائے دعا کے‘‘۔

پاکستان پر حملہ ہوچکا ہے مگر صدر نے بھارتی جارحیت رکوانے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلوانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا۔ مغربی محاذ پر بھی کوئی ہلچل دکھائی نہیں دی جبکہ طے یہ ہوا تھا کہ اگر بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تو مغربی محاذ پر بھارت کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

۲۲ نومبر ۱۹۷۱ء تا ۲ دسمبر ۱۹۷۱ء

مشرقی پاکستان کے دفاع کے لیے سیاسی اور سفارتی سطح پر کچھ بھی نہیں کیا جارہا۔ لاہور ایئر پورٹ پر ذوالفقار علی بھٹو نے کہا۔ ’’مشرقی پاکستان پر بھارتی جارحیت کا معاملہ سلامتی کونسل میں لے جانے کی ضرورت نہیں‘‘۔ یہ شاید واحد معاملہ ہے جس میں متاثرہ فریق نے سلامتی کونسل میں جانے سے گریز کی بات کہی۔

۳ دسمبر ۱۹۷۱ء

ایسٹرن کمانڈ کو مطلع کیے بغیر بھارتی ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کردیے گئے۔ ان حملوں سے دشمن کو حیرت ضرور ہوتی ہے مگر خیر وہ چوکنا بھی ہو جاتا ہے۔

۴ دسمبر ۱۹۷۱ء

پولینڈ نے سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی جس میں جنگ بندی اور سیاسی حل پر زور دیا گیا تھا۔ پاکستان نے یہ قرارداد مسترد کردی۔

۵ دسمبر ۱۹۷۱ء

جی ایچ کیو سے پیغام ملا کہ دشمن کے فوجیوں کو اس طرح الجھاکر رکھا جائے کہ وہ جنگ بندی تک مغربی محاذ پر کارروائی کی پوزیشن میں نہیں آسکیں۔ میں نے اس ہدایت کے مطابق دیناج پور، رنگ پور اور کھلنا میں فوج کو پھیلاکر دشمن کو اچھی طرح Engaged رکھا۔ اس کے نتیجے میں راج شاہی سیکٹر میں کارروائی سے متعلق اپنے منصوبے پر میں عمل نہ کرسکا۔

جی ایچ کیو سے پیغام ملا کہ چین کی طرف سے مدد جلد پہنچنے والی ہے۔ یہ محض آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش تھی۔ ہمیں اندازہ تھا کہ کہیں سے کوئی مدد نہیں آئے گی۔

۶ دسمبر ۱۹۷۱ء

ایئر چیف مارشل رحیم فضائیہ کو بھارت کے خلاف استعمال نہیں کر رہے۔ جنرل گل حسن نے کوئی زمینی حملہ نہیں کیا اور پاکستان کے لیے قلعے کی حیثیت رکھنے والے کراچی پر بھارتی بحریہ کے حملے کے باوجود ہماری بحریہ نے بھارتی جنگی جہازوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

۷ دسمبر ۱۹۷۱ء

گورنر ہاؤس سے ایوان صدر کو یہ پیغام بھیجا گیا کہ ایسٹرن کمانڈ کسی بھی وقت مکمل ناکامی سے دوچار ہوسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جیسور سے انخلا کے بعد بریگیڈیئر حیات اور بریگیڈیئر منظور نے دشمن کی دو ڈویژن فوج کو کھلنا اور کشتیہ تک لانے میں کامیابی حاصل کرلی تھی۔ دشمن کی کور II- کو اس کے اہداف سے دور کردیا گیا تھا۔ سلہٹ، بہراب بازار، مینا متی، فریدپور، چاٹگام، چالنا، کھلنا، دیناج پور، رنگ پور، بوگرا، ناتور، راج شاہی اور دوسرے بہت سے علاقوں پر آخر تک پاکستانی فوج کا کنٹرول تھا۔ مغرب میں ہلّی اور دیگر مقامات پر شدید لڑائی جاری رہی۔ ایسا لگتا ہے کہ گورنر ہاؤس سے جان بوجھ کر، فرمان کے ہاتھوں تیار کیے گئے، گمراہ کن پیغامات بھیجے گئے اور یہ تاثر دیا گیا جیسے ایسٹرن کمانڈ کسی بھی وقت شکست سے دوچار ہونے والی ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ ایسٹرن کمانڈ کی کارکردگی پریشان کن نہ تھی۔ ویسٹرن گیریژن میں صورتِ حال زیادہ خراب تھی۔ میرے لیے حیران کن بات یہ ہے کہ جی ایچ کیو اور چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جو کچھ بتایا جارہا تھا اس سے مجھے بھی لاعلم رکھا جارہا تھا۔

۸ دسمبر ۱۹۷۱ء

مجھے یہ گمراہ کن پیغام ملا کہ چین کی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں۔ جنگ کے ماحول میں اس سے سنگین اور سفاک مذاق کی گنجائش شاید ہی نکلے۔ مغربی پاکستان پر کیے جانے والے حملوں کو روکنے میں ناکامی پر یعنی جنگ شروع ہونے کے 18 دن بعد صدر نے ذوالفقار علی بھٹو کو اقوام متحدہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ نیو یارک پہنچنے میں بھٹو کو تین دن لگے اور وہاں پہنچ کر وہ بیمار پڑگئے۔ مگر یہ کیسی بیماری تھی کہ کسی ڈاکٹر نے ان کا چیک اَپ نہیں کیا اور اسی ہوٹل میں قیام کے باوجود بے نظیر بھٹو تک انہیں دیکھنے نہیں گئیں۔

۹ دسمبر ۱۹۷۱ء

فرمان نے تجویز پیش کی کہ ڈھاکا کو کھلا شہر قرار دے دیا جائے۔ یہ تجویز بھی گمراہ کن تھی۔ مقصود یہ تھا کہ شہر کی حفاظت ہمارے بس کی بات نہ رہے، کوئی بھی شہر میں داخل ہو اور پھر میں ایک بھی گولی داغنے کی پوزیشن میں نہ رہوں۔ یہ گویا اس امر کی سازش تھی کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ ایسٹرن کمانڈ انہیں تحفظ فراہم کرنے کے قابل نہیں رہی۔ اس کے نتیجے میں فوج میں بھی بد دِلی پھیلنی تھی۔

گورنر ہاؤس سے ایوان صدر کو بھیجے جانے والے ایک اور پیغام کا مفہوم یہ تھا کہ اقتدار کی منتقلی عمل میں لائی جائے۔ میں اس پیغام سے متفق نہیں ہوا اور آخر تک لڑنے کا عزم ظاہر کیا۔ مگر صدر نے مجھے حکم دیا کہ گورنر کے احکام تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل کروں۔ انہوں نے تمام سیاسی اور عسکری فیصلوں کا اختیار بھی گورنر کو تفویض کردیا۔ یہ بڑی خطرناک بات تھی کیونکہ شیخ مجیب الرحمن اُس وقت مغربی پاکستان میں تھا۔

۱۰؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

گورنر کو اقوام متحدہ سے جنگ بندی کی اپیل، اقتدار کی منتقلی اور مشرقی پاکستان سے فوجیوں کی مغربی پاکستان منتقلی کے سلسلے میں ایک نوٹ پر صدر کی منظوری درکار ہے۔ صدر کی منظوری کے بغیر ہی فرمان نے یہ نوٹ اقوام متحدہ کے متعلقہ حکام کو بھیج دیا، جنہوں نے اِس کا اعلان بھی کردیا۔ فرمان نے فرانس، برطانیہ، امریکا اور سابق سوویت یونین کے قونصل جنرل کو پیغام بھیجا کہ وہ ڈھاکا اور مشرقی پاکستان کو کنٹرول کرلیں۔ ساتھ ہی اقوام متحدہ میں چینی مندوب سے بھی کہا گیا کہ وہ اس عمل میں ساتھ دیں۔ مجھے اور گورنر کو مطلع کیے بغیر فرمان براہِ راست بھارتی کمانڈر انچیف سے بھی رابطے میں تھا۔ سابق سوویت یونین کے ناظم الامور سے ہونے والی بات چیت کے بارے میں مجھے یا گورنر کو نہیں بتایا گیا۔

۱۱؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

چیف آف آرمی اسٹاف نے کہا کہ مجھے گورنر کے احکام کی پابندی کرنی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مجھ سے ہتھیار ڈالنے کو کہا جارہا تھا۔ سابق سوویت یونین کے ناظم الامور نے فرمان کو، جو کمانڈر ہے نہ گورنر، براہِ راست جواب دیا اور اسے قونصلیٹ میں پناہ دے کر مغربی پاکستان منتقل کرنے پر بھی رضامندی ظاہر کردی۔

۱۲؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

لیفٹیننٹ جنرل گل حسن نے ایک اور بے بنیاد اور فرضی تصویر ان الفاظ میں کھینچی۔ ’’شمال کی طرف سے زرد اور جنوب کی طرف سے سفید۔‘‘ یعنی مجھ سے کہا گیا کہ گھبراؤ مت، ۳۶ گھنٹے کی بات ہے۔ شمال کی طرف سے چینی کمک آ رہی ہے اور جنوب کی طرف سے امریکی۔ یہ سفید اور سفاک جھوٹ تھا۔ میں نے کسی بھی مرحلے پر انہیں کسی بھی پیغام میں یہ نہیں کہا کہ لڑائی جاری نہیں رکھی جاسکتی۔ سچ تو یہ ہے کہ مرکزی قیادت کی طرف سے ملنے والے ہر حوصلہ شکن پیغام نے مجھ میں لڑائی جاری رکھنے کا حوصلہ پیدا کیا۔ میں نے جنرل گل حسن سے ٹیلی فونک گفتگو میں صاف کہہ دیا کہ مجھ سے مزید جھوٹ نہ بولیں۔ میں نے آپ سے مدد مانگی ہے نہ مجھے مدد کی ضرورت ہے۔ آپ مغربی محاذ پر تیاری کیجیے کیونکہ وہاں جنگ جیتنی ہے۔ مشرقی محاذ کو ہم خود دیکھ لیں گے۔ اس کے بعد جنرل گل حسن مجھ سے گفتگو سے گریز کرنے لگے۔

میجر جنرل قاضی مجید نے منصوبے کے مطابق ڈھاکا کی طرف پیش قدمی نہیں کی۔

۱۳؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

میں نے جی ایچ کیو کو پیغام بھیجا کہ ڈھاکا میں حتمی لڑائی کی تیاریاں مکمل ہیں۔ ساتھ ہی میں نے یہ پیغام بھی پریس کو جاری کردیا کہ دشمن کے ٹینک میرے جسم پر سے گزر کر ڈھاکا میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اسی رات میں نے یہ پیغام بھی جی ایچ کیو کو بھیجا کہ آخری فوجی کی شہادت تک ہم لڑیں گے۔ مجھے یا گورنر کو بتائے بغیر فرمان نے ہوٹل انٹر کانٹی نینٹل کو انٹر نیشنل سیف زون قرار دینے کی تجویز پیش کی۔

۱۳؍ اور ۱۴؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کی رات

صدر کی طرف ایک اَن کلاسیفائیڈ کھلا پیغام ملا کہ ہتھیار ڈال دیے جائیں۔ میں نے مرکزی قیادت سے کہہ دیا کہ ہم آخر تک لڑنا چاہتے ہیں۔ صدر نے ہتھیار ڈالنے سے متعلق پیغام فرمان کے اس پیغام کی بنیاد پر جاری کیا تھا جس کے مطابق گورنر کا خیال ہے کہ میں (جنرل نیازی) کچھ نہیں جانتا۔ چیف آف آرمی اسٹاف اور پیر زادہ میں سے کوئی بھی دستیاب نہیں جس سے بات کی جائے۔ جنرل گل حسن چیف آف جنرل اسٹاف اور انٹیلی جنس اور سگنلز ڈائریکٹوریٹس کے سربراہ ہیں مگر اس کے باوجود وہ یہ ظاہر کرتے ہیں جیسے انہیں کچھ معلوم ہی نہیں۔ میں ہتھیار ڈالنے سے گریزاں تھا اس لیے گورنر مالک اور ان کی کابینہ نے مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعفیٰ دے دیا۔ دوسری طرف گورنر نے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز پر دستخط سے بھی گریز کیا۔

۱۵؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

پولینڈ نے سابق سوویت یونین کے تعاون سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں قرارداد پیش کی کہ اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو سونپ دیا جائے اور ۷۲ گھنٹوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔ جنرل گل حسن کے پرائیویٹ سیکرٹری بریگیڈیئر جنجوعہ نے میرے چیف آف اسٹاف بریگیڈیئر باقر کو بتایا کہ یہ پیغام آنے ہی والا ہے۔ میں نے جی ایچ کیو کو پیغام بھیج دیا کہ میں لڑائی جاری رکھنا چاہتا ہوں اور آخر تک لڑوں گا۔ جنرل گل حسن اور ایئر چیف مارشل رحیم نے مجھے فون کیا اور کہا کہ جی ایچ کیو کی طرف سے ملنے والے ۱۴؍دسمبر کے پیغام پر عمل کروں کیونکہ مغربی پاکستان خطرے میں ہے۔ فرمان نے اس بات پر زور دیا کہ انڈین کمانڈر انچیف تک پیغام روسیوں کے ذریعے پہنچایا جائے، امریکیوں کے ذریعے نہیں۔ میں نے جنگ بندی اور فوجیوں سمیت تمام محب وطن پاکستانیوں کو تحفظ فراہم کرنے کی تجویز پیش کی۔

۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۱ء

انڈین کمانڈر انچیف نے جنگ بندی کی پیشکش قبول کرلی مگر شرط یہ تھی کہ فوج ہتھیار ڈالے۔ میں نے یہ جواب جی ایچ کیو کو بھجوایا جس نے اسے قبول کرلیا اور ہتھیار ڈالنے کا حکم دیا۔

میں نے صدر کو پیغام بھیجا کہ شیخ مجیب الرحمن کو رہا کرکے پاکستانی فوج اور اس کے وقار کو بچایا جائے۔ جواب آیا کہ مزید کوئی اقدام نہیں ہوگا۔ میں نے صدر سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو وہ دستیاب نہ تھے۔ چیف آف آرمی اسٹاف سے بھی رابطہ نہ ہوسکا۔ دن کے ڈھائی بجے جنرل پیر زادہ اسکواش کھیل رہے تھے اور مجھ سے بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

پولینڈ کی قرارداد منظور کرنے پر ہتھیار ڈالنے کو ترجیح دی گئی۔ ہتھیار ڈالنے پر زور دینے کا بنیادی مقصد انتشار کو نقطۂ عروج پر پہنچانا تھا کیونکہ ایسی صورت میں مشرقی پاکستان میں کوئی حکومت باقی نہ رہتی۔

۱۶؍ دسمبر ۱۹۷۱ء کے بعد

ہتھیار ڈال دیے گئے مگر قوم کے لیے یہ ذلت ناقابلِ برداشت تھی۔ ہتھیار ڈالنے کا شدید ردعمل ہوا۔ جنرل حمید نے جب جی ایچ کیو میں افسران سے خطاب کرنے کی کوشش کی تو جنرل گل حسن کے معاون بریگیڈیئر فضل رازق خان کی قیادت میں کئی افسران اُن پر چلّائے۔ ایئر چیف مارشل جنرل رحیم نے خود ایک طیارہ ایوان صدر پر سے گزارا، تاکہ انہیں مستعفی ہونے پر مجبور کیا جائے۔ یہ تھی وہ بغاوت جو ذوالفقار علی بھٹو، ایئر مارشل رحیم اور جنرل گل حسن نے مل کر تیار کی تھی۔ بھٹو نے تمام جرنیل اور بریگیڈیئر برطرف کردیے، مگر جنرل ٹکّا خان کو رہنے دیا۔ میجر جنرل فرمان کو ٹکّا خان کی معاونت کے لیے رہنے دیا گیا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے فوج کے خلاف پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کا الزام مکمل طور پر ایسٹرن کمانڈ اور مجھ پر تھوپ دیا گیا۔ میں پاکستان میں نہیں ہوں کہ ان الزامات کے جواب دوں اور اپنی کمانڈ کا دفاع کروں۔ جنرل گل حسن اور جنرل ٹکّا خان نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔

۲۰ دسمبر ۱۹۷۱ء

’’یہ جرنیلوں کی رات‘‘ ہے۔ جنرل گل حسن، نا اہلی اور نفسیاتی دباؤ کے باعث مشرقی پاکستان کے محاذ سے واپس بھیجے جانے والے میجر جنرل شوکت رضا، ناقص منصوبہ بندی کے باعث فضائی قوت کو بہتر انداز سے استعمال نہ کرنے اور بھارت کو مغربی محاذ پر فضائی جنگ کے لیے بہتر مواقع فراہم کرنے والے ایئر مارشل رحیم، شاکراللہ درانی اور لیفٹیننٹ جنرل نصیراللہ، جنرل گل حسن کے گھر جمع ہوئے تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ اقتدار کسے سونپنا ہے۔ شاکراللہ درانی چاہتے تھے کہ اقتدار اصغر خان کو دے دیا جائے مگر جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم نے ذوالفقار علی بھٹو کے حق میں رائے دی۔

دوسری طرف صدر یحییٰ، حمید، عمر اور میٹھا بھی یحییٰ کے گھر جمع ہوئے اور اس نکتے پر غور کیا کہ اقتدار کس طور برقرار رکھا جائے۔ جنرل گل حسن کا گروپ صدر یحییٰ سے گن پوائنٹ پر استعفیٰ لینے میں کامیاب رہا۔

۲۱ دسمبر ۱۹۷۱ء

عوام کی نظروں میں گرانے کے لیے میرے، میری کمانڈ اور مجموعی طور پر پوری فوج کے خلاف میڈیا میں زہریلا پروپیگنڈا شروع کردیا گیا۔ میرے خلاف اس قدر پروپیگنڈا کیا گیا کہ لوگ جنرل یحییٰ یا بھٹو کے بجائے مجھے اصل مجرم سمجھنے لگے۔ یہ اس ڈرامے کا آخری ایکٹ تھا جس کا مقصد یہ تھا کہ اصل مجرم یعنی بھٹو پر لوگ متوجہ نہ ہوں۔

جنوری ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۴ء تک

سقوطِ مشرقی پاکستان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا رویہ بہت عجیب و غریب تھا۔ مسز اندرا گاندھی نے شملہ میں مذاکرات کے حوالے سے ذوالفقار علی بھٹو کے لیے انتظامات کی ذمہ داری محمد یونس کو سونپی تھی۔ وہ لکھتے ہیں: ’’بھٹو دوسرے دن تقریباً پھٹ پڑے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہاں جنگی قیدیوں کی رہائی کے لیے نہیں آئے۔ ان فوجیوں کا تعلق جن علاقوں سے ہے، وہ طویل مدت سے برطانوی فوج کو سپاہی فراہم کرتے آئے ہیں۔ اور اگر ایک لاکھ فوجی جان دے بھی دیں تو پاکستان کے لیے کیا فرق پڑے گا؟‘‘

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو شملہ مذاکرات میں جنگی قیدیوں کو چھڑانے کے لیے شریک نہیں ہوئے تھے تو پھر کیا لینے وہاں گئے تھے اور کیا حاصل کیا؟

۱۹۷۲ء کے شملہ معاہدے کے نتیجے میں کشمیر میں سیز فائر لائن کو لائن آف کنٹرول میں تبدیل کردیا گیا۔ بھارتی فوج نے ۱۹۷۱ء کی جنگ میں آزاد کشمیر کی جن چوکیوں پر قبضہ کیا تھا، اُنہیں خالی نہیں کیا گیا۔ اس معاہدے نے کشمیریوں کی جدوجہد کو مقفل کردیا۔ یہ معاہدہ دو ممالک نہیں، دو شخصیات کے درمیان تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور مسز اندرا گاندھی پہلے اکیلے میں ملتے تھے اور بعد میں ساتھیوں کے ساتھ مذاکرات آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف تھے۔ شملہ سے واپسی پر بھٹو کے اپنے قریبی لوگوں نے کہا کہ مسز اندرا گاندھی نے انہیں شیشے میں اُتار لیا ہے۔ بھٹو شملہ سے جنگی قیدیوں کی رہائی کی نوید اور بھارت کی جانب سے آزاد کشمیر میں ساڑھے پانچ ہزار مربع کلو میٹر کا علاقہ خالی کرنے کے وعدے کے بغیر واپس آئے۔

بھٹو اور اندرا گاندھی دونوں بے تاب تھے کہ بنگلہ دیش کو جلد از جلد تسلیم کرلیا جائے تاکہ متحدہ پاکستان کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی جاسکے۔ دونوں اس بات کو یقینی بنانا چاہتے تھے کہ مغربی پاکستان اور سابق مشرقی پاکستان کے ایک ہونے کی گنجائش ختم کردی جائے۔ جب تک پاکستان بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کرتا، اس بات کا امکان تھا کہ دونوں ممالک پھر ایک ہو جاتے۔ بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے کے معاملے میں بھٹو نے جنگی قیدیوں کی رہائی اور واپسی کا انتظار کرنا بھی مناسب نہ سمجھا۔ سلامتی کونسل میں چین نے ویٹو پاور استعمال کیا۔ پاکستان کے باشندے بنگلہ دیش کو علیحدہ ملک کی حیثیت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بھٹو نے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا سربراہ اجلاس بلانے کی منصوبہ بندی کی تاکہ شیخ مجیب الرحمن کو بھی مدعو کیا جاسکے۔ ایسا اسی وقت ممکن تھا جب بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا جاتا۔ مسلم ممالک کے سربراہانِ مملکت و حکومت کے دباؤ ڈالنے پر بنگلہ دیش کو تسلیم کیا گیا اور پھر شیخ مجیب الرحمن نے بھی لاہور میں ۲۲؍ فروری ۱۹۷۴ء کو شروع ہونے والی اسلامی سربراہ کانفرنس میں شرکت کی۔

بھٹو نے جنگی قیدیوں کو واپس لانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ وہ چاہتے تو قیدی بہت پہلے واپس آچکے ہوتے۔ ان کے پاس چار ٹرمپ کارڈ تھے۔ پہلا کارڈ شیخ مجیب الرحمن تھا۔ شیخ مجیب کے بدلے بہتوں کو واپس لایا جاسکتا تھا، مگر اُسے غیر مشروط طور پر جانے دیا گیا۔ دوسرا یہ کہ مغربی پاکستان میں دو لاکھ بنگالی تھے جن میں فوجی افسران، ڈاکٹر، انجینئر اور دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ ان کے بدلے بھی لاکھوں افراد کو بنگلہ دیش سے لایا جاسکتا تھا، مگر اِن سب کو غیر مشروط طور پر جانے دیا گیا۔ تیسرا ٹرمپ کارڈ بھارتی جنگی قیدی تھے۔ ان کے بدلے بھی جنگی قیدی طلب کیے جاسکتے تھے۔ چوتھا ٹرمپ کارڈ فیروز پور ہیڈ ورکس تھا۔ یہ بھارتی ہیڈ ورکس پاکستان کے کنٹرول میں تھا۔ اس ہیڈ ورکس کے ذریعے بھارتی حدود میں وسیع رقبے کو زیر آب لایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں کارڈ بھی استعمال ہی نہیں کیے گئے۔ یہ دونوں کارڈ استعمال کرکے بھارت سے ساڑھے پانچ ہزار مربع کلو میٹر علاقہ بھی واپس لیا جاسکتا تھا۔

بھٹو نے شملہ میں اندرا گاندھی کے ساتھ مل کر طے کیا کہ پاکستانی جنگی قیدی لمبے عرصے تک بھارتی سرزمین پر رکھے جائیں۔ چین نے دھمکی دی کہ اگر جنگی قیدی واپس نہ کیے گئے تو وہ بنگلہ دیش کو اقوام متحدہ کا رکن بنانے کی درخواست ویٹو کردے گا۔ گویا ہم بھٹو صاحب کی وجہ سے نہیں، بلکہ چین کی مہربانی سے وطن واپس آئے۔ روزنامہ ’’ڈان‘‘ کے تجزیہ نگار شمیم اختر نے ۲۷دسمبر ۱۹۹۳ء کو تحریر کیا تھا:

’’یہ بات نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ شیخ مجیب الرحمن پاکستان میں قید تھے۔ ڈھاکا میں ان کی موجودگی یقینی بنائے بغیر بنگلہ دیش کا قیام عمل میں لایا ہی نہیں جاسکتا تھا۔ بھارت کو شیخ مجیب الرحمن کی اشد ضرورت تھی۔ بھٹو چاہتے تو شیخ مجیب الرحمن اور دیگر لاکھوں بنگالیوں کے بدلے بنگلہ دیش سے فوجیوں اور غیر بنگالی شہریوں کی بحفاظت واپسی یقینی بنا سکتے تھے۔ اگر شیخ مجیب الرحمن کو ٹرمپ کارڈ کی حیثیت سے استعمال کیا جاتا تو ایک لاکھ سے زائد فوجیوں اور شہریوں کو بھارت میں طویل مدت تک جنگی قیدی کی حیثیت سے ذلت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ بھٹو چاہتے تھے کہ شیخ مجیب الرحمن غیر مشروط رہائی پاکر بنگلہ دیش جائیں اور زیادہ سے زیادہ مہم جویانہ انداز سے جائیں تاکہ نوزائیدہ ریاست کے معاملات درست ہوسکیں۔‘‘

☼☼☼

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*