4|مصر کا نیا دستور ۲۰۱۲ء

حصہ سوم: سرکاری مقتدرہ

باب اول: قانون سازی کی مقتدرہ

سیکشن ۱: عمومی شقیں

دفعہ۸۲: قانون سازی کی مقتدرہ ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل پر مشتمل ہو گی۔

ہر ایک ادارہ آئین میں طے شدہ متعلقہ اختیارات استعمال کرے گا۔

دفعہ۸۳: کوئی شخص ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل کی بیک وقت رکنیت نہیں رکھ سکے گا۔

نااہلیت کی دیگر صورتیں قانون واضح کرے گا۔

دفعہ۸۴: ماسوائے استثنائی صورتوں کے جن کی وضاحت قانون کرے گا، ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل کے ارکان مکمل طور پر اپنے اداروں سے مخلص رہیں گے، کوئی بھی ملازمت یا عہدہ ان کی واپسی تک قانونی شقوں کے مطابق دستیاب رکھا جائے گا۔

دفعہ۸۵: قانون ساز ادارے کا رکن غیر مشروط طور پر بحیثیت مجموعی پوری آبادی کا نمائندہ ہے۔

دفعہ۸۶: رکن اپنی مدت کے آغاز سے پہلے اپنے متعلقہ ادارے (کونسل) کے سامنے یہ حلف اٹھائے گا: ’’میں خدائے بزرگ و برتر کی قسم کھاتا ہوں کہ جمہوریہ کے نظام کا وفادار رہوں گا، دستور اور قانون کا احترام کروں گا، عوام کے مفادات کی پوری دیکھ بھال کروں گا اور مادرِ وطن کی آزادی اور علاقائی سالمیت کی حفاظت کروں گا‘‘۔

دفعہ۸۷: دونوں ایوانوں میں رکنیت کی توثیق کے حوالے سے Court of Cassation کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ کسی رکن کی رکنیت کو انتخابی نتائج کے حتمی اعلان کے ۳۰ دن کے اندر اندر چیلنج کیا جا سکے گا، جس کے لیے اس کورٹ میں درخواست جمع کرائی جائے گی۔ اس درخواست کی وصولی کے ۶۰ دن کے اندر فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

رکنیت اس تاریخ سے کالعدم قرار پائے گی جس تاریخ کو فیصلہ پارلیمنٹ کو پہنچایا جائے گا۔

دفعہ۸۸: اپنی رکنیت کے پورے عرصے کے دوران قانون ساز ادارے کا کوئی رکن بذات خود یا کسی وساطت سے ریاست کی کوئی املاک خریدے گا، نہ کرائے پر لے گا، خود اپنی املاک کا کوئی جز ریاست کو پٹے پر دے گا، نہ اسے فروخت کرے گا اور نہ ہی ریاست کے ساتھ املاک کا تبادلہ (Barter) کرے گا، نیز وہ فروخت کنندہ، فراہم کنندہ یا ٹھیکے دار کی حیثیت سے ریاست کے ساتھ کوئی کاروباری معاہدہ بھی نہیں کرے گا۔

ارکان اپنے مالی گوشوارے اپنی مدت کے آغاز پر اور اختتام پر اور ہر سال کے اختتام پر بھی، اپنے متعلقہ ادارے کو فراہم کریں گے۔

قانون ساز ادارے کی رکنیت کے دوران ارکان کو کوئی نقد رقم یا تحائف موصول ہوں گے، وہ سرکاری خزانے کی ملکیت ہوں گے۔

مذکورہ بالا تمام ضوابط کی توثیق قانون کرے گا۔

دفعہ۸۹: قانون ساز اداروں کے ارکان، پارلیمان میں اپنے فرائض سے متعلق کسی بھی رائے کے اظہار کی بنیاد پر قابلِ گرفت تصور نہیں ہوں گے۔

دفعہ۹۰: کسی قانون ساز ادارے کے رکن کے خلاف فوجداری کارروائی اس وقت تک نہیں کی جا سکے گی، جب تک ان کے متعلقہ ادارے سے اس کارروائی کی اجازت نہ لے لی جائے، ماسوائے کھلم کھلا جرم کے۔ اگر قانون ساز ادارے کا اجلاس جاری نہ ہو تو یہ اجازت کونسل کا دفتر دے گا اور ایسے کسی اقدام سے ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل کو فوری بعد ہونے والے اجلاس میں آگاہ کیا جائے گا۔

تمام صورتوں میں، اگر کسی رکن پارلیمان کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت کے لیے درخواست پر ۳۰ دن کے اندر جواب نہ دیا جائے تو اتنی تاخیر کو اجازت تصور کیا جائے گا۔

دفعہ۹۱: ارکان کو قانون کی طرف سے طے کردہ اعزازیہ دیا جائے گا۔

دفعہ۹۲: ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل، دونوں کا مقام قاہرہ ہو گا۔

تاہم غیر معمولی حالات میں یہ ادارے صدر جمہوریہ، یا ایوان یا کونسل کے ایک تہائی ارکان کی درخواست پر اپنے اجلاس کسی اور مقام پر منعقد کر سکتے ہیں۔

اس کے سوا کوئی بھی اجلاس غیر قانونی تصور ہو گا اور اس میں منظور کردہ قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔

دفعہ۹۳: ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل، دونوں کے کھلے اجلاس منعقد ہوں گے۔

تاہم صدر جمہوریہ، وزیراعظم یا قانون ساز ادارے کے کم از کم ۲۰؍ ارکان کی درخواست پر بند اجلاس بھی منعقد کیے جا سکیں گے۔ ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل اس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ زیر غور مسئلے پر بحث عام اور کھلے اجلاس میں منعقد ہو یا بند اجلاس میں۔

دفعہ۹۴: ایوان نمائندگان اور شوریٰ کونسل کے عام سالانہ سیشن کے لیے صدر جمہوریہ اکتوبر کے اول جمعرات سے پہلے اجلاس طلب کرے گا۔ اگر وہ اجلاس طلب نہ کرے تو آئین متعلقہ قانون ساز اداروں کو مذکورہ دن پر اجلاس کی اجازت دیتا ہے۔

عام اجلاس کم از کم آٹھ مہینے جاری رکھا جائے گا۔ صدر جمہوریہ قانون ساز اداروں کی اجازت سے ہر سیشن کے اختتام کا اعلان کریں گے۔ ایوان نمائندگان کا اجلاس سالانہ ریاستی بجٹ کی منظوری کے بعد ہی ختم ہو سکے گا۔

دفعہ۹۵: ضرورت پڑنے پر ایوانِ نمائندگان یا شوریٰ کونسل کا غیر معمولی اجلاس بھی طلب کیا جا سکے گا۔ یہ اجلاس صدر جمہوریہ، کابینہ، یا شوریٰ کونسل یا ایوان نمائندگان کے کم از کم ۱۰؍ارکان کے دستخط پر مشتمل درخواست دے کر طلب کیا جا سکتا ہے۔

دفعہ۹۶: ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل کے جس اجلاس میں ان ایوانوں کے ارکان کی اکثریت شریک نہیں ہو گی، اس اجلاس یا اس کی منظور کردہ قراردادوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی۔

جو قراردادیں مخصوص اکثریت کی شرط سے آزاد ہوں گی ان کو حاضر ارکان کی سادہ اکثریت کی بنیاد پر منظور کیا جا سکے گا۔ قرارداد کی حمایت اور مخالفت میں برابر ووٹ آئیں تو زیر غور مسئلے کو مسترد سمجھا جائے گا۔

دفعہ۹۷: ہر کونسل اپنے عمومی سالانہ سیشن کے پہلے اجلاس میں ایک اسپیکر اور دو ڈپٹی اسپیکر منتخب کرے گی۔ ایوان نمائندگان میں ان عہدوں کی مدت ایوان کی پوری دستوری مدت کے برابر ہو گی، شوریٰ کونسل میں ان عہدوں کی مدت کونسل کی دستوری مدت کا نصف ہو گی۔ ان میں سے کوئی عہدہ خالی ہو گا تو شوریٰ کونسل یا ایوان نمائندگان متبادل کا انتخاب کرے گا، متبادل کے عہدے کی مدت اس کے پیش رو کی مدت تک ہو گی۔

تمام صورتوں میں، کسی بھی ایوان کے ایک تہائی ارکان عمومی سالانہ سیشن کے پہلے اجلاس میں اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کے نئے انتخاب کی درخواست کر سکتے ہیں۔

دفعہ۹۸: اگر ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل کا اسپیکر قائم مقام صدر بن جائے تو متعلقہ کونسل کی صدارت وہ ڈپٹی اسپیکر کرے گا جس کی عمر زیادہ ہو گی۔

دفعہ۹۹: ہر کونسل اپنے فرائض اور ان کی انجام دہی کے طریقہ کار کے حوالے سے قواعد و ضوابط خود بنائے گی، ان قواعد و ضوابط کو سرکاری گزٹ میں شائع کرایا جائے گا۔

دفعہ۱۰۰: ہر کونسل اپنا اندرونی نظام چلائے گی، یہ ذمہ داری ہر کونسل کے اسپیکر کی ہو گی۔

مسلح افواج کونسل کے اسپیکر کی درخواست کے سوا قانون ساز ادارے کی حدود میں موجود نہیں ہوا کریں گی۔

دفعہ۱۰۱: کوئی قانون تجویز کرنے کا حق صدر جمہوریہ، کابینہ، اور ایوان نمائندگان کے ہر رکن کو حاصل ہو گا۔

ہر مسودہ قانون کو ایوان نمائندگان کی ایک خصوصی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے گا، جو اس کا مطالعہ کرنے کے بعد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

ایوان نمائندگان کے ارکان کی جانب سے پیش کیے گئے مسودہ قانون کو اس خصوصی کمیٹی کے پاس اس وقت تک نہیں بھیجا جائے گا، جب تک تجاویز کمیٹی (Proposals Committee) مسودہ قانون کی توثیق نہ کر دے اور ایوانِ نمائندگان اسے زیر غور لانے کی منظوری نہ دے دے۔ یہ تجاویز کمیٹی کسی تجویز یا مسودہ قانون کو مسترد کیے جانے کی وجوہات پیش کرنے کی بھی پابند ہو گی۔

کسی رکن کی طرف سے پیش کیا گیا مسودہ قانون اگر ایوان نمائندگان مسترد کر دے تو اس مسودے کو ایوان کی اسی آئینی میعاد کے دوران دوبارہ پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

دفعہ۱۰۲: قانون سازی کا کوئی ادارہ کسی بل کو مشاورت کے بغیر منظور نہیں کر سکے گا۔

ہر کونسل کو ترامیم نافذ کرنے اور موجودہ شقوں یا مجوزہ ترامیم کو توڑنے کا حق ہو گا۔

ایک ایوان میں منظور کردہ بل دوسرے ایوان میں بھیجا جائے گا، دوسرا ایوان اس بل کو ۶۰ دن سے زیادہ مؤخر نہیں کرے گا، ماسوائے اس عرصے کے جب قانون ساز ادارے کی تعطیلات ہوں۔ دونوں کونسلوں سے منظور کردہ بل ہی کو قانون تصور کیا جائے گا۔

دفعہ۱۰۳: دونوں کونسلوں میں قانون سازی پر تنازع کی صورت میں ایک ۲۰ رکنی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی، جس کے لیے ہر کونسل اپنے اپنے دس ارکان منتخب کرے گی اور یہ انتخاب کونسل کی جنرل کمیٹی کی نامزدگی کی بنیاد پر ہو گا۔ تب، مشترکہ کمیٹی متنازع شقوں کا متن تجویز کرے گی۔

یہ تجاویز ہر کونسل کو پیش کی جائیں گی، اگر پھر بھی اتفاق رائے پیدا نہ ہو سکے تو معاملہ حتمی فیصلے کے لیے ایوانِ نمائندگان کے سامنے لایا جائے گا جو دو تہائی اکثریت کی بنیاد پر طے کرے گا۔

دفعہ۱۰۴: ایوانِ نمائندگان ہر نئے منظور کردہ قانون سے صدر جمہوریہ کو مطلع کرے گا تاکہ صدر نئے قانون کو وصولی کے ۱۵ دن کے اندر جاری کر دے۔ اگر صدر جمہوریہ قانون کے مسودے پر اعتراض وارد کرے تو ۳۰ دن کے اندر اسے ایوانِ نمائندگان کو واپس بھیجا جائے گا۔

اگر اس مدت کے اندر مسودہ قانون واپس بھجوایا نہیں جاتا، یا اسے ارکان کی دو تہائی اکثریت پھر سے منظور کر لیتی ہے تو اسے قانون ہی تصور کیا جائے گا اور اسی حیثیت سے اسے مشتہر کر دیا جائے گا۔

اگر ایوان نمائندگان اس مسودہ قانون کو منظور نہ کرے تو اسے اسی سیشن میں فیصلے کی تاریخ کے بعد چار ماہ سے پہلے پیش نہیں کیا جا سکے گا۔

دفعہ۱۰۵: ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل کے ہر رکن کو وزیر اعظم یا اس کے کسی بھی نائب (Deputies) یا مسئلے سے تعلق رکھنے والے وزیر سے سوال کرنے کا حق ہے۔ دوسری طرف انہیں جواب دینا لازمی ہو گا۔

کوئی رکن کسی سوال کو کسی بھی وقت واپس لے سکتا ہے، بعد ازاں اسی سیشن کے دوران اسی سوال کو دوبارہ اٹھایا نہیں جا سکے گا۔

دفعہ۱۰۶: کسی عوامی مسئلے پر بحث کے لیے کسی بھی کونسل کا کوئی رکن وزیر اعظم، یا اس کے کسی نائب یا کسی وزیر کو تجویز دے سکتا ہے۔

دفعہ۱۰۷: ایوان نمائندگان کے ۲۰؍ارکان، یا شوریٰ کونسل کے ۱۰؍ارکان کسی عوامی مسئلے پر بحث کی درخواست دے سکتے ہیں تاکہ اس سلسلے میں حکومت کی پالیسی پر وضاحت حاصل کی جا سکے۔

دفعہ۱۰۸: ایوان نمائندگان یا شوریٰ کونسل کے ہر رکن کو کونسل میں اپنی ذاتی کارکردگی سے متعلق ڈیٹا یا معلومات حاصل کرنے کا حق حاصل ہے، اس سلسلے میں آئین کی دفعہ۴۷ کو زیر غور لایا جائے گا۔

دفعہ۱۰۹: شہری کسی بھی عوامی مسئلے پر تحریری تجاویز کسی کونسل کے پاس جمع کرا سکتے ہیں۔

شہری کسی بھی عوامی مسئلے پر شکایات بھی کونسل کے پاس جمع کرا سکتے ہیں تاکہ متعلقہ وزیر کو بھجوائی جا سکے۔ کونسل کی درخواست کی بنیاد پر وزیر وضاحت پیش کرے گا اور شکایت کنندہ شہری کو اس وضاحت سے مطلع کیا جائے گا۔

دفعہ۱۱۰: وزیر اعظم، اس کے نائبین، وزرا اور ان کے نائبین کونسلوں کے سیشن اور کمیٹیوں کے اجلاس میں شریک ہوا کریں گے۔ کسی کونسل کی جانب سے درخواست کی صورت میں ان کی شرکت لازمی ہو گی۔ انہیں معاونت کے لیے ان کی پسند کے اعلیٰ اہلکار بھی مہیا کیے جائیں گے۔

ان کی درخواست پر انہیں اپنا موقف پیش کرنے دیا جائے گا، وہ بحث کے دوران متعلقہ مسائل پر سوالات کا جواب دیں گے، تاہم ووٹوں کی گنتی میں ان کا ووٹ نہیں گنا جائے گا۔

(ترجمہ: منصور احمد)

☼☼☼

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*