مصری آئین میں مذہبی کردار کی بحث طول پکڑ گئی!

مصر اور کئی دوسرے ممالک میں آئین تیار کرنے والوں کو مذہب کے کردار کے حوالے سے خاصی مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ مصر کا نیا آئین مرتب کرنے والوں کو حال ہی میں اُس وقت شدید مشکلات پیش آئیں جب منحرف عیسائیوں نے مطالبہ کیا کہ آئین میں صرف مسلمانوں کو ذہن نشین نہ رکھا جائے بلکہ عیسائیوں کے مفادات کا بھی خیال رکھا جائے۔ جو لوگ شریعت کو ہاتھ کاٹنے اور گردن اُڑانے کا معاملہ گردانتے ہیں، اُن کے لیے مصری (قبطی) عیسائیوں کا یہ مطالبہ خاصا عجیب تھا۔ مذہبی قوانین اور قواعد کو صورتِ حال کے مطابق ڈھالنا خاصا پیچیدہ عمل ہے۔ آئین مرتب کرنے والوں کو صرف مصر میں نہیں بلکہ تیونس، سوڈان اور اب لیبیا میں بھی اِس حوالے سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

مصر میں مرکزی دھارے کے عیسائیوں نے آئین مرتب کرنے والوں سے عیسائیوں کے مفادات کا خیال رکھنے سے متعلق درخواست کرنے والے منحرف عیسائیوں کی بظاہر حمایت نہیں کی۔ بات یہ ہے کہ قبطی عیسائیوں کے مرکزی دارالافتاء نے بھی طلاق کو حلال قرار دیا ہے۔ قبطی اور دیگر عیسائی چاہتے ہیں کہ طلاق کو جائز قرار دینے والے اسلامی شریعت پر مبنی بیشتر قوانین قبول کرلیے جائیں کیونکہ وہ بظاہر عیسائی عقائد سے بھی متصادم نہیں۔ دوسری طرف مسلمان چاہتے ہیں کہ شریعت کو ریاست کے تمام قوانین کا منبع تسلیم کیا جائے اور یہ کہ ان قوانین پر عمل سب کے لیے لازم ہو۔ وہ مصر کے نئے آئین کو خوابوں کی اُس جنت کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں، جو اسلامی قوانین پر عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مصری آئین میں شریعت کے بیان کردہ قوانین کو کسی بھی تبدیلی کے بغیر شامل کرنے کے حامی تیزی سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ قاہرہ میں ہزار سال سے علم کی دولت بانٹنے والے ادارے جامعہ ازہر نے بھی کہا ہے کہ شرعی قوانین کو کسی بھی تبدیلی کے بغیر اپنانے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ قوانین جامع ترین اور ابدی نوعیت کے ہونے کے ساتھ ساتھ تمام مسلمانوں کے اتفاق رائے پر مبنی ہیں۔ اسلامی اسکالر شرعی قوانین کی تشریح کے حوالے سے اختلافِ رائے کا اظہار کرتے رہے ہیں جبکہ آئین میں بیان کردہ اصولوں کی زبان طے شدہ اور متفق علیہ ہونی چاہے۔

جامعہ ازہر نے عام انتخابات میں پچیس فیصد ووٹ لینے والے سلفیوں کو بھی شریعت کی تشریح سے روک دیا ہے اور مصر میں شریعت کی تشریح کرنے والی واحد اتھارٹی کی حیثیت سے خود کو آگے لانے کی کوشش کی ہے۔ سیکولر عناصر کو یہ خوف لاحق ہے کہ جامعہ ازہر کا موجودہ، بظاہر تھوڑا سا لبرل انداز، کہیں بعد میں تبدیل نہ ہو جائے اور ایرانی انداز کی ملائیت پر مبنی حکومت قائم نہ کردی جائے! جامعہ ازہر کے اپنے اسکالر تسلیم کرتے ہیں کہ جامعہ اسلامی سُنّی فقہ کے چار مکاتب فکر میں سے کسی کو بھی قبول کرلیتی ہے یعنی کسی ایک کو ترک کرنے میں عار محسوس نہیں کرتی۔ آئین کی تشکیل کے عمل میں شریک جامعہ ازہر کے ایک اسکالر کی رائے یہ ہے کہ شرعی قوانین کی تشریح کا فریضہ اسکالرز کا نہیں، عدالت کا ہے۔

سلفیوں کا کہنا ہے کہ جامعہ ازہر کے اسکالر حسنی مبارک دورِ حکومت کی باقیات ہیں۔ اخوان، جو اَب حکومت کا غالب حصہ ہے، مصالحت پر زیادہ یقین رکھتی ہے۔ اخوان المسلمون کے بہت سے ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں تحمل سے کام لینا ہوگا کیونکہ ابھی حالات اِتنے راسخ نہیں کہ شریعت کے سخت تر قوانین نافذ کیے جاسکیں۔ بہتوں کا یہ خیال بھی ہے کہ شریعت قوانین کے مجموعے سے کہیں زیادہ روایات کا مجموعہ ہے، اس لیے اس کی تشریح کچھ زیادہ معنی نہیں رکھتی۔ بعض علما کا یہ بھی کہنا ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں چند شرعی قوانین نافذ تو رہے ہیں مگر سیکولر عناصر کی حمایت اور سرپرستی کے ساتھ۔

ایسا صرف مصر میں نہیں ہوا کہ تنگ نظری اور وسیع النظری پر مبنی مکاتب فکر کے درمیان لڑائی آئین کی تیاری کے میدان تک جا پہنچی ہو۔ سوڈان میں بھی سلفیوں کا یہی معاملہ ہے۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر نئے آئین میں شریعت کے متعین کردہ اصول اور قوانین شامل نہیں کیے گئے تو صدر عمرالبشیر کے خلاف جہاد شروع کردیا جائے گا۔ شمالی مالی پر متصرف جہادیوں نے اسلامی قوانین پورے ملک میں نافذ کیے جانے تک مرکزی حکومت سے بات چیت سے انکار کردیا ہے۔

تیونس کا معاملہ خاصا مختلف ہے۔ اسلامی اقدار کی علمبردار حکمراں النہضہ پارٹی نے سیکولر عناصر کے دباؤ کے پیش نظر آئین میں شریعت کا کوئی بھی حوالہ شامل کرنے سے گریز کی راہ اپنائی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پارٹی نے آئین میں دیگر ’’اسلامی عناصر‘‘ شامل کیے ہیں۔ یہ معاملہ خاصا متنازع ثابت ہوا ہے۔ واضح تعبیر و تشریح کے بغیر چند ایسے الفاظ شامل کیے گئے ہیں جو معاملات کو پیچیدہ بنا رہے ہیں۔ مثلاً تقدس کے حامل کسی بھی مقام یا شخصیت پر حملے کو جرم قرار دیا گیا ہے مگر یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ مقدس سے کیا مراد ہے۔ آئین میں مذہب کی آزادی تو شامل ہے مگر ضمیر کی آزادی پر قدغن ہے اور یہ کہہ دیا گیا ہے کہ دہریت یا خدا کے وجود سے انکار غیر قانونی ہے۔

یہ کیس مصر میں زیادہ واضح طور پر سامنے آیا ہے، جہاں پولیس نے فیس بک پر مذہب مخالف ریمارکس پوسٹ کرنے پر انسانی حقوق کے سرگرم کارکن البرٹ سابر کو گرفتار کرلیا ہے۔ سوہاگ کے علاقے میں ایک قبطی عیسائی ٹیچر بشوئے کمال (Bishoy Kamel) کو پولیس نے انٹرنیٹ پر توہین آمیز خاکے جاری کرنے اور صدر محمد مرسی کی توہین کے جرم میں چھ سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ۲؍اکتوبر کو قاہرہ کے جنوب میں بنی سیف کے مقام پر نو اور دس سال کے دو عیسائی بچوں کو قرآن کے صفحات کی توہین کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

عیسائیوںکے خلاف اقدامات سے مصر میں انقلاب سے قبل کی صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے، اور آئین میں توہین رسالت کے حوالے سے دفعات کا شامل کیا جانا اس امر کا غماز ہے کہ خدا کی وحدانیت برقرار رکھنے کے نام پر ایسے ہی امتیازی نوعیت کے مزید اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔ مگر یہ سب تب ہوگا جب آئین کی تشکیل پر مامور اسمبلی برقرار رہ پائے گی۔ گزشتہ موسم سرما میں تشکیل پانے والی اسمبلی جون میں غیر قانونی قرار دے دی گئی تھی۔ یہ الزام تواتر سے لگایا جاتا رہا ہے کہ آئین ساز اسمبلی میں پورے مصر سے ہر طبقے اور مکتب فکر کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی۔ ایک عدالت جلد ہی اس اسمبلی کی میعاد ختم کرنے کا اعلان کرنے والی ہے۔ مگر خیر، اسلامی عناصر تو اپنے مقاصد میں کامیاب دکھائی دے رہے ہیں۔

(“Egypt’s Constitution – An Endless Debate Over Religion’s Role”… “The Economist”. October 6th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*