مصر کی خارجہ پالیسی۔۔۔ آزاد ہے یا نہیں؟

مصر کے سابق صدر انور سادات کا طریق کار یہ تھا کہ ’’اشارہ تو بائیں مڑنے کا دو اور مڑ جاؤ دائیں طرف‘‘۔ انہوں نے سابق سویت یونین سے ہم نوائی کا اشارہ دیا اور دنیا یہ سمجھتی رہی کہ مصر اب سوویت کیمپ میں چلا جائے گا مگر ہوا اس کے برعکس، یعنی انور سادات نے اپنے ملک کو امریکا اور اسرائیل کی آغوش میں دے دیا۔ اب ایسا لگتا ہے کہ مصر کے نئے صدر محمد مرسی بھی اِسی راہ پر گامزن ہیں۔ انہوں نے طویل مدت سے امریکا کے حلیف چلے آ رہے اپنے ملک کو اچانک چین کی طرف موڑ دیا ہے۔ صدر کا منصب سنبھالنے کے بعد انہوں نے چین کا دورہ کرکے یہ اشارہ دے دیا ہے کہ وہ ہر معاملے میں امریکی پالیسیوں کو احترام کی نظر سے دیکھنے کے لیے تیار نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے غیر جانبدار تحریک کی سربراہ کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے ایران کا بھی دورہ کرلیا۔

محمد مرسی مصر سے امتیازی سلوک پر امریکا اور اسرائیل کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ اسرائیل کو صاف ستھرا قرار دینے اور مسلمانوں کو تمام برائیوں کا مآخذ ٹھہرانے کی امریکی پالیسی کو انہوں نے ہمیشہ غلط قرار دیا ہے۔ اب مصر کو اندازہ ہے کہ امریکا زیادہ امداد دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ سفارتی سطح پر علاقائی معاملات میں اس کی حیثیت کمزور پڑ رہی ہے۔ دوسری طرف مصر کی فوج بھی امریکا نواز رہی ہے جس نے جمہوریت کو پنپنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ ایسے میں انہوں نے چند وزرا اور کاروباری شخصیات کے ساتھ چین کا دورہ کرکے یہ جتا دیا ہے کہ نیا مصر ہر معاملے میں امریکا کی طرف دیکھنے کا روادار نہیں۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محمد مرسی امریکا پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہوں۔ انہوں نے کئی امریکی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ امریکا میں صدارتی انتخابات سے قبل وہ واشنگٹن کا دورہ کرکے صدر براک اوباما کی حمایت کا اشارہ دیں۔ مصر کو آئی ایم ایف سے ۴؍ ارب ۸۰ کروڑ ڈالر کا قرضہ بھی درکار ہے، جس کے لیے بات چیت جاری ہے۔ چین اور ایران کا دورہ اس قرضے کے حصول میں فیصلہ کن امریکی کردار کی راہ بھی ہموار کرسکتا ہے۔

چین اور مصر کے درمیان اقتصادی روابط تیزی سے پنپ رہے ہیں۔ گزشتہ برس دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم ۸؍ ارب ڈالر رہا۔ مصر کے لیے اب مغربی حلیفوں سے زائد امداد حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ ایسے میں چین سے بہتر اقتصادی روابط مصری معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں زیادہ معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ چین بھی اس بات کو سمجھتا ہے کہ مصر کو اس کی ضرورت ہے۔ وہ اپنا کردار عمدگی سے ادا کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہا ہے۔ محمد مرسی کا پہلے غیر ملکی دورے پر چین جانا اس بات کا اشارہ بھی تھا کہ چینی قیادت کو عرب دنیا میں بیداری کی لہر سے پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ حسنی مبارک کا اقتدار ختم کرنے اور جمہوریت کی طرف رواں ہونے کے حوالے سے بھی مصر کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ڈیڑھ برس کے دوران اس کی معیشت خاصی متزلزل رہی ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے اور بیرونی ادائیگیوں کے معاملے میں مصری معیشت پر دباؤ بڑھا ہے۔ ایسے میں اُس کے لیے نئے اور طاقتور شراکت دار تلاش کرنا لازم ہوگیا ہے۔

مصری صدر کا ایران کا دورہ مزید متنازع ہے۔ ایران اور مصر کے تعلقات تیس سال قبل ختم ہوئے تھے جب ایران کے دارالحکومت میں ایک سڑک کو انور سادات کے قاتل سے موسوم کیا گیا تھا۔ اخوان المسلمون بھی عرب دنیا میں اپنے مذہبی عقائد کے پرچار اور شام میں حافظ الاسد اور بشار الاسد کی حکومت کی حمایت کرنے پر ایرانی قیادت پر شدید تنقید کرتی رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ محمد مرسی بھی ۲۰۰۹ء کے اس گرین انقلاب کی پیداوار ہیں جسے ایرانی قیادت نے سختی سے کچل دیا تھا۔

ایران کے مختصر دورے سے محمد مرسی نے یہ پیغام دیا کہ اب شام میں بشار الاسد کی حکومت کو ختم ہو ہی جانا چاہیے۔ انہیں اندازہ ہے کہ مصر کو ایران کی جس قدر ضرورت ہے اس سے کہیں زیادہ ایران کو مصر کی ضرورت ہے۔

صدر مرسی جو کچھ کر رہے ہیں وہ بظاہر ملک میں ووٹروں کو خوش اور مطمئن کرنے کے لیے ہے۔ انہیں اندازہ ہے کہ سابق حکومت سے تعلق رکھنے والی تمام شخصیات سے تعلق ختم کرنا ہی بہترین آپشن ہے۔ حسنی مبارک کے دور میں ہر معاملے میں امریکی اثر و رسوخ زیادہ تھا۔ اب صدر مرسی اِسے ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کو یہ تاثر ملے کہ سابق دور کی کسی بھی نشانی کو برقرار نہیں رکھا جائے گا۔ انہوں نے اپنے بیانات میں بھی صاف کہا ہے کہ ’’جو کچھ وہ کر رہے ہیں وہ کسی کے خلاف نہیں بلکہ ملک و قوم کے لیے ہے‘‘۔ وہ سیدھا بولنا اور سیدھا چلنا چاہتے ہیں۔

(“Egypt’s Foreign Policy Independent or Not?” “The Economist”. September 1st, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*