ال نینو کی پیدا کردہ خشک سالی حشرات میں اضافے کا سبب!

اسمتھ سونین ٹروپیکل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (STRI) کے محققین کے ایک جائزے کے مطابق ۹۸۔۱۹۹۷ء میں جنوبی حصوں میں ال نینو طوفان سے ہونے والی تبدیلیوں (ENSO) کے بعد خشک سالی پیدا ہونے سے تتلی نما حشرات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات ۱۵ اکتوبر کو STRI کی ایک پریس ریلیز میں کہی گئی ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق یہ طوفان زیادہ آنے اور سبزی خور حشرات میں بار بار اضافہ ہونے سے جنگلی حیاتیاتی ساخت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ یہ جائزہ رپورٹ‘ جریدے ٹروپیکل ایکولوجی کے اکتوبر کے شمارے میں شائع کی گئی ہے۔

پانامہ میں بحرالکاہل کے ساحل کے قریب نشیبی جنگلات میں تتلی نما حشرات کے لاروے اس وقت معمول سے ۲۵۰ فیصد زیادہ نباتات ہڑپ کر گئے جب محققین‘ سبزی خور حشرات اور ۲۰ اقسام کے درختوں کے پتوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے آزمائشی منصوبہ شروع کر رہے تھے۔

STRI کے سینئر محقق‘ سن شائن وین بائیل (Sunshine Van Bael) نے کہا ’’یہ تبدیلی غیرمعمولی ہے کیونکہ نباتات کو درجن بھر حشرات نے نقصان پہنچایا ہے اور یہ تبدیلی علاقے میں انتہائی شدید ال نینو طوفان آنے کے بعد رونما ہوئی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ استوائی علاقوں میں اس طرح کی تبدیلیاں کس قدر عام ہیں کیونکہ حال ہی میں لوگوں نے ایسے واقعات کو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک کرنا شروع کر دیا ہے‘‘۔

موسمیاتی ماہرین کی پیش گوئی کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا رہا تو ENSO واقعات عام ہو جائیں گے۔

وین بائیل نے خبردار کیا ’’یہ بات زیادہ واضح ہو رہی ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کی ان پیش گوئیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان نظاموں کے گہرے مشاہدے سے ہمیں فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں یا انسانی بیماریوں کا سبب بننے والے جرثوموں کے پھیلنے کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں مدد ملے گی۔

اسمتھ سونین انسٹی ٹیوٹ کی پریس ریلیز کا متن درج ذیل ہے:

پانامہ میں ال نینو سے ہونے والی خشک سالی کے بعد سبزی خور حشرات میں اضافہ۔

سبزی خور کیڑے مکوڑے تمام جنگلات کے ماحولیاتی نظاموں میں پائے جاتے ہیں لیکن بعض اوقات ان کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو جاتا ہے جس سے درختوں کے پتوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچتا ہے۔ ایک جریدے ٹروپیکل ایکولوجی کے اکتوبر کے شمارے میں STRI کے محققین نے کہا ہے کہ ۹۸۔۱۹۹۷ء میں جنوبی حصوں میں ال نینو طوفان سے ہونے والی تبدیلیوں (ENSO) کے بعد خشک سالی پیدا ہونے سے پانامہ میں بحرالکاہل کے ساحل کے قریب نشیبی جنگلات میں تتلی نما حشرات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ طوفان زیادہ آنے اور سبزی خور حشرات میں بار بار اضافہ ہونے سے جنگلی حیاتیاتی ساخت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

STRI کے سائنس دان سن شائن وین بائیل نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’اگرچہ ہم STRI کے کینوپی کرین نظام کے ذریعے حشرات الارض کی آبادیوں پر باقاعدہ نگاہ رکھے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس اچانک اضافے کے بارے میں کرین آپریٹر نے اس وقت بتایا جب اس کی پارک کی گئی کار اوپر سے گرنے والے حشرات سے بھر گئی۔

پانامہ کے شہر میٹرو پولیٹن پارک میں محققین جب ایک ۴۲ میٹر بلند تعمیراتی کرین کے جھولنے میں سبزی خور حشرات اور ۲۰ اقسام کے درختوں کے پتوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینے کے لیے آزمائشی منصوبہ شروع کر رہے تھے تو اس وقت تتلی نما حشرات کے لاروے معمول سے ۲۵۰ فیصد زیادہ نباتات ہڑپ کر گئے۔ اس قسم کی کرنیں‘ پانامہ میں دو اور دنیا بھر میں نو ہیں۔ ان کے ذریعے سائنسدان درختوں کی ان چوٹیوں تک بلند ہو کر‘ جن تک پہلے رسائی ناممکن تھی‘ جنگلات میں رونما ہونے والی تبدیلیوں اور مختلف قسم کے حیوانات اور نباتات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔

STRI کے سائنسدان ڈاکٹر اینیٹ آئیلو (Annette Aiello) نے بحرالکاہل کے پانچ دیگر ساحلی علاقوں میں بھی کم پیمانے پر حشرات میں اضافہ نوٹ کیا ہے۔ اگر یہ اثرات پورے ملک میں پھیلے ہیں تو کولوراڈو کے جزیرے بیرو (Barro) میں STRI کے تحقیقاتی اسٹیسن اور پانامہ میں بحرالکاہل کے ساحل کے قریب شرمن کینوپی کرین پر ماہرین حشرات الارض سے کہا گیا ہے کہ وہ تتلیوں اور تتلی نما کیڑے کے لاروے میں اضافے پر نظر رکھیں۔ تاہم ان علاقوں میں بڑی تتلیوں یا تتلی نما کیڑوں کی تعداد خاصی ہے۔ بحرالکاہل کے ساحلی علاقوں میں اس اچانک اضافے کی وجہ کچھ بھی ہو لیکن اس قسم کے اثرات ان علاقوں میں مرتب نہیں ہوئے جہاں بارشوں میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی۔

وین بائیل نے کہا ’’یہ تبدیلی غیرمعمولی ہے کیونکہ درجن بھر حشرات کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا ہے اور علاقے میں ایک انتہائی شدید ال نینو طوفان آنے کے بعد پیدا ہونے والی خشک سالی کے بعد عمل میں آئی ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ استوائی علاقوں میں اس طرح کی تبدیلیاں کس قدر عام ہیں‘ کیونکہ حال ہی میں لوگوں نے ایسے واقعات کو عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے منسلک کرنا شروع کر دیا ہے‘‘۔

حشرات میں اچانک اضافہ کیوں ہوا؟ امکان غالب ہے کہ خشک سالی سے کیٹرپلرز (Caterpillars) کے فطری دشمن اپنے کام سے غافل ہو گئے‘ تاہم اصل وجہ راز ہی رہے گی۔ ۲۰۰۳ء میں درمیانے درجے کا ال نینو طوفان آنے کے بعد ماہرین کی ٹیم نے حشرات کی تعداد کا پھر جائزہ لیا لیکن بڑے پیمانے پر کوئی اضافہ نظر نہیں آیا۔

خیال کیا جاتا ہے کہ خشک سالی کے اثرات کی وجہ سے صنوبر کے درختوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑوں اور تتلی نما حشرات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ تاہم ایسے اثرات اکثر و بیشتر ۱۰ برس تک برقرار رہتے ہیں۔ پانامہ میں کرم خور پرندوں‘ طفیلی مکھیوں اور بھڑوں کے علاوہ کیٹرپلر کو لگنے والی بیماریوں سے ۵ سے ۶ ہفتے تک کی یہ کم مدتی تبدیلی رک گئی۔

ماہرینِ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے سے ENSO تبدیلیاں عام ہو جائیں گی۔ کیونکہ ان تبدیلیوں کے باعث سبزی خور حشرات نے بعض زیادہ سخت اقسام کے درختوں پر حملہ کیا ہے اس لیے سبزی خور کیڑوں مکوڑوں میں بار بار اضافے سے جنگلات کی حیاتیاتی ساخت میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ ٹروپیکل ایکولوجی کے حالیہ شمارے میں بورنیو (Borneo) کے ماہرین الارض نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ۱۹۹۸ء میں ENSO تبدیلیوں کے باعث حشرات میں اسی طرح اضافہ ہوا تھا۔

وین بائیل نے کہا ’’یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں کی پیش گوئیوں پر توجہ دینی چاہیے۔ ان نظاموں کے گہرے مشاہدے سے ہمیں فصلوں کو نقصان پہنچانے والے کیڑے مکوڑوں یا انسانی بیماریوں کا سبب بننے والے جرثوموں کے پھیلنے کے بارے میں پیش گوئی کرنے میں مدد ملے گی‘‘۔

(بحوالہ: ’’خبر و نظر‘‘۔ امریکی شعبہ تعلقاتِ عامہ۔ اسلام آباد)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.