ماہر آثارِ قدیمہ مارک کینوئر سے خصوصی گفتگو

ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر امریکا میں یونیورسٹی آف وسکونسن، میڈیسن میں علم البشریات کے استاد اور ہڑپہ آرکیالوجیکل ریسرچ پراجیکٹ کے شریک ڈائریکٹر ہیں۔ ڈاکٹر کینوئر انڈیا میں پیدا ہوئے اور دو عشروں سے زیادہ عرصہ سے برصغیر میں آثارِ قدیمہ کی کھدائی میں مصروف ہیں۔ انھوں نے متعدد کتابیں اور مضامین تصنیف کی ہیں اور سندھ کی قدیم تہذیب پر عالمی سطح کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں۔وہ کئی جنوب ایشیائی زبانیں روانی سے بولتے ہیں اور ۱۹۷۴ء سے پاک و ہند میں متعدد آثارِ قدیمہ اور نسلی آبادیوں کی تحقیق کے منصوبوں میں شریک ہیں۔ ڈاکٹر جوناتھن مارک کینوئر جو امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پاکستان اسٹڈیز کے سربراہ بھی ہیں، نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک کانفرنس میں شرکت کی۔ ’’خبر و نظر‘‘ نے ان کی اسلام آباد میں موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے تفصیلی بات چیت کی جس کے چیدہ چیدہ اقتباسات نذرِ قارئین ہیں۔


سوال: ڈاکٹر مارک کینوئر آپ ہمیں ابتدائی زندگی کے بارے میں کچھ بتائیے۔ آپ کہاں پیدا ہوئے اور کہاں سے تعلیم حاصل کی؟

جواب: میں ہندوستان میں پیدا ہوا۔ ۱۸ سال ہندوستان میں رہا۔ آسام میں میرے والد مشنری ڈاکٹر تھے۔ میں بچپن میں بنگلہ بولتا تھا۔ اب ہندی اور اردو بھی بول لیتا ہوں۔ ابتدائی تعلیم میوسوری میں ووڈاسٹاک اسکول سے حاصل کی۔ گریجویشن کے بعد میں امریکا چلا گیا وہاں پر آثارِ قدیمہ کی تعلیم حاصل کی۔ پہلے شکاگو میں Wheaton College اور بعد ازاں کیلیفورنیا میں Berkely میں اکتسابِ علم کیا۔ وہاں سے ڈاکٹر جارج ایف ڈیلز کی زیر نگرانی میں آرکیالوجی میں ایم۔ اے اور پی ایچ ڈی کی جو ایک ممتاز ماہر آثارِ قدیمہ ہیں اور پاکستان میں کام کر رہے ہیں۔

سوال: AIPS کانفرنس کے بارے میں کچھ بتائیں گے کہ اس کے انعقاد کا کیا مقصد ہے؟

جواب: AIPS کانفرنس ایک تحقیقی ادارہ ہے جس میں امریکی اسکالرز اور پاکستانی ماہرین اپنے تحقیقی کاموں اور خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ امریکا کے ماہرین اسکالر شپ پر یہاں آتے ہیں اور پاکستان کے اسکالرز امریکا جاتے ہیں۔ اس طرح ہمارے اسٹوڈنٹ پاکستان اور اس کے معاشرہ اور سیاست کے بارے میں سیکھتے ہیں۔

سوال: AIPS کانفرنس کا انتظام و انصرام کس طرح کیا جاتا ہے اور اس کے لیے مالی اعانت کون کرتا ہے؟

جواب: امریکی اور پاکستانی حکومت کے درمیان ۱۹۷۳ء میں ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ تب سے ہمیں تعلیمی تبادلوں کے لیے مالی امداد مل رہی ہے۔ تاہم کوئی سرکاری اہلکار ان پروگراموں کے بارے میں فیصلہ کے عمل میں شامل نہیں ہوتا یہ کام ایگزیکٹو کمیٹی کرتی ہے۔ ہم عام طورپر یہاں کانفرنس منعقد کرتے اور ماہرین کو یہاں سے امریکا بھی لے جاتے اور وہاں سے بھی لوگ یہاں لے آتے ہیں۔ ہم وزارت تعلیم سے تجاویز لیتے ہیں۔ امریکا کے لوگوں اور طالب علموں کو پاکستان کے بارے میں علم نہیں ہے۔ وہ یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کی تہذیب بہت قدیم ہے۔ ہم امریکی ادارہ برائے پاکستان کے ذریعے امریکا میں پاکستان کے بہتر امیج کو متعارف کرا رہے ہیں۔

سوال: آپ نے پاکستان اور سندھ کے حوالے سے بہت کام کیا۔ آپ کو یہاں تہذیب پر ریسریچ کا خیال کس طرح آیا؟

جواب: جب میں انڈیا سے امریکا گیا تھا تو میرے ایک استاد تھے ڈاکٹر ڈیلز۔ وہ ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتے تھے انھوں نے مجھے کام کرنے کی تلقین کی۔ سمندر کے کنارے ایک چھوٹا سا قصبہ تھا بالاکوٹ سونمیانی کے قریب جو کراچی کے قریب بھی ہے۔ میں وہاں آثار قدیمہ کی کھدائی کرنے کے لیے ان کے ساتھ آیا تھا۔ جب میں کھدائی کر رہا تھا تو آہستہ آہستہ وادی سندھ کی تہذیب پر دلچسپی پیدا ہو گئی۔ پروفیسر ڈاکٹر جارج ایف ڈیلز موئن جو داڑو میں ۱۹۶۴ء سے کھدائی کر رہے تھے۔ لیکن یہ کام مختلف وجوہات کی بنا پر مکمل نہیں ہو سکتا تھا اور علاقہ کی بالکل نچلی سطح تک نہیں پہنچا جا سکتا تھا کیونکہ وہاں سیم تھی۔ انھوں نے کھدائی بند کر دی تھی۔ تب محکمہ آثار قدیمہ نے ڈاکٹر ڈیلز اور مجھے ہڑپہ آنے کی دعوت دی کیونکہ ہڑپہ کے بارے میں بہت کم معلومات تھیں اور ۱۹۳۵ء سے وہاں کوئی بڑی کھدائی نہیں ہوئی تھی۔ ۱۹۸۶ء سے ہم ہڑپہ میں کھدائی کر رہے ہیں۔

سوال: سندھ کے حوالے سے آ پ نے جو ریسرچ کی اس حوالے سے بتائیں کہ سندھ میں اب تک کونسی تہذیبیں اور زبانیں قائم ہیں؟

جواب: سب سے پہلے تو میں کہوں گا کہ ہم قدیم زمانے کی زبانوں کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ ہم وادی سندھ کی تہذیب کی تحریر ابھی تک پڑھ نہیں سکتے۔ یہ پتھر اور مٹی کے برتنوں پر لکھی ہوئی ہے لیکن پڑھی نہیں جاسکتی۔ اس تہذیب کی زبان غرق ہو گئی ہے اسی لیے ہم ہڑپہ میں کھدائی کر رہے ہیں۔ ہمیں یہ امید ہے کہ وہاں پر کوئی ایسی تختیاں یا پتھر ملیں گے جیسا کہ Rosetta Stone جس پر کچھ کندہ ہو گا تو ہم اس کا ترجمہ کریں گے۔ ابھی تک ہڑپہ میں ہمیں کچھ نہیں ملا۔ ایسا لگتا ہے اہل ہڑپہ نے کبھی کسی کو اپنی زبان نہیں سکھائی۔ ہڑپہ میں مَیں ابھی بھی ایک مہر کے کارخانے کی کھدائی کر رہا ہوں اور ان مہروں کے اندر تحریر بھی ملی تو ہم ان کی زبان کے متعلق کچھ جان سکیں گے۔

سوال: کیا آپ آثار قدیمہ کے حوالے سے پاکستانی یونیورسٹیوں میں نصاب سے مطمئن ہیں یا اس میں بہتری کی ضرورت ہے؟

جواب: میں ایک کورس پڑھاتا ہوں امریکا میں ’’وادی سندھ کی تہذیب‘‘ اس میں ۲۵ لیکچر ہوتے ہیں۔ اس میں آثارِ قدیمہ کے علم کی ابتدا کے متعلق پڑھایا جاتا ہے۔ دراصل آثارِ قدیمہ سامراجی دور کی پیداوار ہے۔ یہاں پر برطانوی دور سے پہلے آثارِ قدیمہ کا علم ہی نہیں تھا۔ انھوں نے یہاں اس علم کی داغ بیل ڈالی۔ یہ کام حکمران کر سکتے تھے کیونکہ انھیں یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ جن پر وہ حکومت کر رہے ہیں وہ کیسے لوگ ہیں۔ اب اس مضمون میں قوم پرستی کا عنصر شامل ہو گیا ہے۔ پاکستان میں بہت پرانی تہذیبیں ہیں۔ یہ بھی لوگ کہتے ہیں کہ چین میں سب سے زیادہ آثار قدیمہ ہیں امریکا میں بھی ہیں۔ مگر پاکستان میں آثار قدیمہ کی تعلیم میں کوئی دلچسپی نہیں لیتا لیکن مجھے یہ امید ہے کہ ہماری کھدائی اور پاکستانی لوگوں اور طالب علموں کو جو تربیت دے رہے ہیں تو اسکی وجہ سے تمام یونیورسٹیوں میں یہ مضمون متعارف کرایا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ میری نئی کتاب (جو وادی سندھ کے بارے میں ہے ) ہر یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کی جانی چاہیے۔ میں نے بچوں کے لیے بھی کلرنگ کتاب تحریر کی ہے تاکہ وہ اس مضمون میں دلچسپی لیں۔

سوال: آپ کی گفتگو سے یوں لگتا ہے کہ آثار قدیمہ سامراجی دور کی پیداوار ہے کیا یہ بات درست ہے ؟

جواب: دنیا بھر میں آثار قدیمہ کی تعلیم سامراجی دور کی پیداوار ہے۔ اس سے پہلے آثار قدیمہ نہیں تھا جب انگریز یہاں آیا۔ فرانسیسی مصر گئے تھے تو وہاں کے رئیس لوگ گھوم پھر کر بڑے بڑے کھنڈرات سے کوئی سکہ یا کوئی مورتی نکال لیتے تھے اور اسے اپنے ڈرائنگ روم کی زینت بنا لیتے تھے۔ پھر ان کو ان خزانوں کی اہمیت اور قدر و قیمت کا پتا چلا۔ اس طرح آثار قدیمہ کے علم کا آغاز ہوا۔ آہستہ آہستہ لوگوں نے سوچا کہ دیکھو یہاں پر انگلینڈ میں ہمارے پاس اتنے پتھر ہیں اور وہ پتھر انڈیا میں بھی مل سکتے ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ پہلے تو لوگ سمجھ رہے تھے کہ یورپ تہذبیوں کامرکز ہے لیکن بعد میں ان کو پتا چلا کہ ایسا نہیں ہے۔ یورپ تیسری صدی قبل مسیح کے دوران ایک غیر ترقی یافتہ خطہ تھا اور سندھ، نیل، دجلہ، فرات اور زرد دریا کی وادیاں تہذیبوں کا حقیقی مرکز تھیں۔ جب نئی دنیا دریافت ہوئی تو یہ علم امریکا اور جنوبی امریکا منتقل ہو گیا۔ ان براعظموں کی اپنی تہذیبیں تھیں۔ اس لیے یہ بہت اہم مضمون ہے۔

سوال: آپ پاکستان میں طویل عرصے سے رہ رہے ہیں۔ پاکستان کی کیا چیز آپ کو سب سے زیادہ اچھی لگی؟

جواب: میں پاکستان کو اپنا گھر سمجھتا ہوں اس کی ہر چیز پسند کرتا ہوں۔ جو گرد ہے، جو گرمی ہے میں پسند کر تا ہوں اور یہ ملتان کا جو شہر ہے گرد، گرمی، گورستان یہ سب میں پسند کرتا ہوں۔ پاکستان کے لوگ بہت مہمان نواز ہیں۔ یہاں پر آپ ہر گھر میں جا سکتے ہیں، کسی کے گھر ٹھہر سکتے ہیں، کھانا بھی کھا سکتے ہیں۔ ہر ایک آپ کا خیر مقدم کر ے گا، مجھے یہ خوبی پسند ہے میں کھانے میں دال روٹی اور سبزیاں پسند کرتا ہوں۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’خبر و نظر‘‘ اسلام آباد۔ شمارہ: اپریل ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*