رو بہ زوال معاشرہ

ہمارا معاشرہ روبہ زوال ہورہاہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ ہم پہلے کے مقابلے میں اقتصادی یا تعلیمی لحاظ سے پس ماندہ ہیں۔ اس کا واحد سبب یہ ہے کہ ہم اقدار سے دور ہورہے ہیں اور تمدنی سطح پر ہم ایسی روایات اپنارہے ہیں جن کا ہمارے آس پاس سے کوئی واسطہ یا تعلق نہیں۔ اقدار سے دوری اصولاً اس بے اصول، بے رخ اور رنگ بدلتی سیاست کا نتیجہ ہے، جس کو عام لوگوںکے توسط سے عوام نے اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیاہے۔

ہم جب اپنے اقتصادی یا تعلیمی منظرنامے کو دیکھتے ہیں توکاغذی اعداد و شمارکے حوالے ہی سے نہیں بلکہ واقعتا لگتاہے کہ صورتحال آج سے پچاس برس پہلے کے مقابلہ میں بہترہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرے میں جس طرف نظر دوڑایئے انتشار اور اضطراب پھیلا ہوا محسوس ہوتاہے؟ ہماری ناقص رائے میں اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ تعلیم میں اقدار پرستی کی تعلیم شامل نہیں اور اقتصادیات میں وسائل کی پاکیزگی کا تصورعنقاہے۔ ایسا کیوںہے۔ اس کے لیے مروجہ سیاسیات اور سیاسیوں (سیاستدانوں) کے کردارکا تجزیہ کرنا بے حد اہم ہے۔

استشینات کے امکان کو تسلیم کرتے ہوئے ہم یہ بات بلاخوفِ تردید کہہ سکتے ہیںکہ سیاستدانوں نے اپنے قول و فعل کے تضادات کو اصول بناکر وہ اعتبار بخشاکہ ان کے قول پر نہ ان کے فعل پر کسی کو اعتبار و اعتماد رہا۔ لوگوںنے صرف یہ دیکھا کہ ان ہی جیسا غریب اور پسماندہ ایک آدمی،کچھ برسوں میں لاکھ پتی بن گیا اور اقتدار و اختیار کے سرچشموںسے ایسا سیراب ہوا کہ اس کی جنم جنم کی پیاس بجھ گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہر کسی نے، چاہے وہ سیاست کے الف بے سے بھی ناواقف کیوں نہ تھا، سیاست کو ایک پیشے کے طور پر اختیار کرلیا اور پھر آگے بڑھنے کی دھن اور اوپر اٹھنے کے جنون میں اس نے اصول و اقدار کو روندنے میں نہ کوئی قباحت محسوس کی نہ کوئی شرم۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ یہ روگ اکثر پڑھے لکھے لوگوں کو بھی لگ گیا۔ انہوںنے یہ سوچ کر کہ جب ان پڑھ لوگ بڑے بڑے مناصب سنبھال سکتے ہیں، تو وہ کیوں ایسے منصب حاصل کرنے میں پیچھے رہیں۔ ان کا ایسا سوچنا فی نفسہٖ غلط بھی نہیں تھا۔ مگر انہوں نے اس سفر میںاپنے علم اور خواندگی کو راہبرنہیں بنایا،بلکہ انہیں اپنے ان پڑھ پیشرئوںکے نقش قدم پر چلنے میں زیادہ منفعت اور سہولت نظر آئی۔ وہی جسے کل تک ان پڑھ لوگوںکا معاملہ اور ماجرا سمجھاجاتا تھا۔ وہی پڑھے لکھے لوگوںنے اصول کے طور پر اپنایا۔ نتیجہ معاشرہ بے راہ رو اور بے اصول بن گیا۔ جس کے نقصان دہ اثرات کچھ تو ظاہر ہورہے ہیں اور کچھ آگے چل کر ظاہر ہوجائیںگے۔اضطراب، تشویش، تردد، بے چینی اور بے یقینی کے منظر نامے افق در افق مرتب ہورہے ہیں اور غضب یہ ہے کہ ہر شخص شتر مرغ کی طرح ریت میں سر رکھ کر خود کو یہ تسلی دیتا ہے کہ وہ محفوظ ہے۔ اس کو کسی نے دیکھا نہیں اور اس نے کچھ دیکھا نہیں۔

افلاس ایک علت ہے، اس میں دوائیں نہیں ہوسکتی۔ افلاس جسمانی سطح پر ہو تو اسے دور کرنے کی سبیل اور راہ نکالی جاسکتی ہے۔ مگر ذہنی افلاس کا کوئی مداوا نہیں۔ اگر پڑھنے لکھنے کے باوجود کوئی شخص ذہنی سطح پر مفلس رہے تو بدقسمتی سے یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ کچھ قسم کے کینسروںکا علاج ممکن ہے۔ مگر ذہنی افلاس کے کینسر میںمبتلا مریض کا کوئی علاج ممکن نہیں۔ ایسا مفلس اپنے ذہن کے درد میں مبتلا ہونے کے سبب دن رات کف در دہن رہتا ہے اور اپنے افلاس کی علت چھپانے میں ناکام رہ کر وہ اپنی شناخت ایک منفی انسان اور ذہنی بیمار ْکے طور پر کروانے سے اپنے درد میں کچھ راحت محسوس کرتاہے۔ یہ ذہنی مفلس ہمارے معاشرے کے بُلیز (Bullies) ہیں۔ یہ کسی کو گالی دینے، کسی کی دستار اتارنے اور آسمان پر تھوکنے کی حرکتوں سے سکون پاتے ہیں۔ اس عمل میں وہ خود کو ہی مسمار کرتے ہیں۔ مگر معاشرے میںایسی روایات کے فروغ کا عمل بھی انگیخت کرتے ہیں جو کسی لحاظ سے مثبت نہیںہوتیں۔ ایسے پڑھے لکھے ذہنی کینسر کے مریض اوباشوں، آوارہ مزاجوںاوربدمعاشوںکے راہبر اور رہنما ہوجاتے ہیں۔ یہ گروہ ہمارے معاشرے کا ایک حصہ بن گیا ہے۔ ہر چند کہ یہ اس کا بدنما داغ بھی ہے اورمعاشرے میں بے سکون اور اضطراب پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔

ہمارے معاشرے کا ایک اور گروہ نودولتیوںکا ہے۔ ان نو دولتیوں نے پیسہ کیسے کمایا، اس سے ہمیں مطلب نہیں۔ مگر انہوں نے پیسہ خرچ کیسے کیا، اس سے یقینا ہمیں بحث ہے۔ ایک نودولتیے نے اپنے رشتہ دار کے یہاں اس کے گائے کے بچھڑا جننے پر سونے کے کئی سکے مبارکبادی کے طو ر پر بھیجے۔ ایک نے ’’برفِ نوافتادہ‘‘ کے موقعہ پر ہریسہ زعفران کی ایک دیگ کی گردن میں سونے کے سکوںکی مالا ڈال کر دیگ کو اپنے داماد کے گھر بھیج دیا۔ کتنی مثالیں پیش کریں۔ صرف یہی دو مثالیں ہوئیں، جب بھی کم نہیں تھیں۔ لوگوں کو ان نو دولتیوں کی بیہودہ حرکتوں سے جائز اور ناجائز طور پر روپیہ کمانے کی تحریک و تشویق ملی۔ نتیجہ ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور تخسر المیزان کی صورت میں برآمد ہوا۔ ہمارے جنگل تباہ ہوئے۔ بیدزاروں کو تہس نہس کیا گیا، چنار بیخ و بن سے اکھڑ گئے، زرعی زمینوںکو اینٹ گارے کے میدانوں میں تبدیل کردیا، پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں مسطح کرنے کا عمل جاری ہے۔ دُل، آنچار، ڈلر مانسبل کی جھیلوںکومکانوں سے برآمد ہونے والے بول و بزارمیں تبدیل ہورہے ہیں۔مگر یہ لوگ خوش ہیں کہ انہیں روپیہ مل رہاہے۔ ان کے پاس گاڑیاںہیں، عمارتیںہیں‘ عیش و عشرت کے سامان ہیں۔ وہ ’’بابربہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کی راہ پر اندھوںکی طرح دوڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی دھن میں ایک دوسرے کو قتل بھی کردیتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کا سب سے قابل اعتراض طبقہ وہ ہے جو یہ سب دیکھ رہاہے او راس طرح برداشت کررہاہے جیسے نہ اس کے پاس سوچنے کے لیے وقت ہے اور نہ عمل کرنے کے لیے ہمت موجود ہے۔ یہ طبقہ جسے عام اصطلاح میں دانشور کہاجاتاہے، یہ جانتاہے کہ بے اصول سیاستدانوں، نودولیتوں، چندنام نہاد پڑھے لکھے ذہنی افلاس کے کینسر میںمبتلا مریضوں اور اقدارِ عالیہ کی پاسداری کی ضرورت سے نابلد لوگوںکی سرگرمیوں اور کارناموں کے عمل میں وہ خود بھی محفوظ نہیں۔ مگر یہ طبقہ ایسی چپ سادھے بیٹھا ہے جیسے اسے سانپ سونگھ گیاہو۔ اس طبقے کی بے عملی نے اسے معاشرے کے لیے تقریباً ناقابل قبول بنادیا ہے او راس میں معاشرے کی بہتری کے لیے کچھ نہ کہے، کچھ نہ کرے تو معاشرے پر اسے عزت و تکریم لینے کی ذمہ داری کیسے عائد کی جاسکتی ہے۔

کیا کوئی سن رہاہے، کیا کوئی کچھ سوچ رہاہے۔
ہے میرے سامنے اک فصل بھرا کھیت،مگر
سائے کچھ ہوتے شجر دار، کہاں سے آئیں

(بشکریہ: کشمیری ہفت روزہ ’’خبر و نظر‘‘۔ سری نگر)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*