فرنانڈس کی جامہ تلاشی اور ایک بھارتی اخبار کا ردِعمل

بھارت میں کون ہے جو محسوس نہ کر رہا ہو کہ جارج فرنانڈس ہوس اقتدار کا بھگتان بھگت رہے ہیں اور کئی پریشانیوں میں کل بھی مبتلا تھے‘ آج بھی ہیں لیکن خود جارج فرنانڈس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے۔ اگر وہ اپنی ہزیمت اور مسلسل ہونے والی سبکی کو محسوس کرتے تو کم از کم اس عمر میں سیاست سے دست کش ہو جاتے اور چین کی بنسی بجاتے۔ لیکن نجانے کیوں دیگر لیڈروں کی طرح وہ بھی یہ باور کرانے پر تلے ہوئے ہیں کہ سیاستدان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔ تہلکہ ڈاٹ کام کے الزامات اور اس کے بعد تابوت گھپلے کی وجہ سے بحیثیت سیاستداں‘ ان کی شبیہہ کا بری طرح مجروح ہونا دو ایسے زخم تھے جو کسی غیرت مند سیاستداں کے سیاست سے کنارہ کش ہو جانے کے لیے کافی تھے۔ لیکن جارج فرنانڈس نے جو سوشلسٹ لیڈر کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور اپنے کیریئر کے اختتام سے قبل فرقہ پرستوں کی گود میں جا بیٹھے اور اب بھی اُسی گود کو گوشۂ عافیت تصور کرتے ہیں‘ کسی واقعے سے قطعاً کوئی عبرت حاصل نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ اب نئے واقعات اُن کی غیرت کو للکار رہے ہیں۔ تازہ قصہ یہ ہے کہ امریکا کے سابق ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ اسٹروب ٹالبوٹ نے اپنی کتاب “Engaging India: Diplomacy, Democracy and Bomb” میں فرنانڈس کے بارے میں لکھا ہے کہ ہندوستان کے وزیرِ دفاع کی حیثیت سے دو مرتبہ ان کا دورۂ امریکا خاصا تلخ ثابت ہوا۔ وہ اس لیے کہ پہلی مرتبہ واشنگٹن کے ایئرپورٹ پر اور دوسری مرتبہ نیو یارک ہوائی اڈے پر سکیورٹی کے مقصد سے انہیں لباس اتارنے پر مجبور کیا گیا۔ تالبوٹ کا کہنا ہے کہ ان دو واقعات کے بارے میں خود فرنانڈس نے انہیں بتایا۔ مختلف حوالوں سے ٹالبوٹ کی متذکرہ کتاب کے جو اقتباسات ہماری نظر سے گزرے ہیں‘ ان میں سابق ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ کا لہجہ تاسف آمیز نہیں ہے بلکہ انہوں نے شاید محظوظ ہوتے ہوئے یہ تک بیان کیا کہ ’’جب ہمارا وفد فرنانڈس کو الوداع کہنے کے مقصد سے واشنگٹن ایئرپورٹ پہنچا تو ہمارے ایک ساتھی نے معصومانہ انداز میں فرنانڈس سے پوچھ لیا کہ آپ دوبارہ واشنگٹن کب آئیں گے؟‘‘ (بے لباس ہونے کے لیے!) بحوالہ پی ٹی آئی رپورٹ ۱۰ جولائی ۲۰۰۴ء۔

جارج فرنانڈس کے مختلف گھپلوں میں ملوث ہونے کے الزامات کو تھوڑی دیر کے لیے فراموش بھی کیا جاسکتا ہے لیکن امریکا میں پیش آنے والے ان دو واقعات کو کسی صورت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کانگریس اور بائیں محاذ کی پارٹیوں کا احتجاج سوفیصد درست ہے۔ فرنانڈس کو چاہیے تھا کہ وہ ان واقعات کے خلاف امریکا ہی میں صداے احتجاج بلند کرتے اور اگر وہ کسی وجہ سے یہ نہیں کر پائے تو ہندوستان آکر سفارتی سطح پر اس کا سخت نوٹس لینا چاہیے تھا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا بلکہ پہلے واقعے کے دو سال بعد اور دوسرے واقعے کے ایک سال بعد ہندوستان کے عوام کو اس مذموم واقعے کی اطلاع ملی۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تالبوٹ ان واقعات کا ذکر نہ کرتے تو ہندوستانی عوام کو کبھی معلوم ہی نہ ہوتا کہ امریکی انتظامیہ ہمارے کسی وی آئی پی نمائندے کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے؟ اس سلسلے میں یہ سوال بھی ذہن میں اُبھرتا ہے کہ جب ایک مرتبہ اس قسم کا واقعہ رونما ہو چکا تھا تو اسی ملک کے لیے دوسری مرتبہ عازمِ سفر ہونے سے پہلے جارج فرنانڈس نے کیوں حکومتِ امریکا سے اس بات کی ضمانت نہیں لے لی کہ اب ان کے ساتھ ایسی کوئی حرکت نہیں کی جائے گی؟ اسی طرح کانگریس اور بائیں محاذ کی جانب سے اٹھائے جانے والے اس سوال کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ این ڈی اے کی حکومت نے اس ضمن میں خاموشی کیوں اختیار کر رکھی تھی؟ فرنانڈس کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو اس ذلت آمیز سلوک کی تفصیل بتا دی تھی لیکن واجپائی نے بھی اسے نظرانداز کر دیا۔ ’’دیش کے ہِت (مفاد)‘ دیش کے گورو (افتخار) اور دیش کے آتم مان (عزتِ نفس)‘‘ کے بارے میں لمبی چوڑی تقریریں کرنے والے بھارتیہ جنتا پارٹی کے علمبرداروں نے آخر ان واقعات کو برداشت کیسے کیا؟ فرنانڈس جیسے دوست کے لیے اگر غیرت نہیں جاگی تھی تو کم از کم ملک کے وزیرِ دفاع کے بارے میں تو کوئی جذبہ جاگتا!

سچ پوچھیے تو فرنانڈس نے خاموش رہ کر اور این ڈی اے نے ’’اہم ہندوستانی نمائندے‘‘ کے ساتھ ہونے والے نازیبا سلوک کے خلاف کوئی احتجاج نہ کر کے بھارت کے ایک ارب سے زائد ہندوستانیوں کو عجیب و غریب قسم کی ذلت سے دوچار کیا ہے۔ این ڈی اے کو اس ضمن میں بھی معاف نہیں کیا جاسکتا۔

(اداریہ روزنامہ ’’انقلاب‘‘۔ ممبئی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*