گیس پائپ لائن۔۔۔ پاکستان پر امریکا کا دباؤ

پاکستان کے راستے ایرانی گیس پائپ لائن کی ہندوستان تک رسائی کے پروجیکٹ پر ہندوستان اور ایران کے درمیان مذاکرات کی شروعات ہی میں پاکستان نے اپنی طرف سے اس پروجیکٹ میں تعاون کرنے کی رضاکارانہ پیشکش کی تھی اور جنرل مشرف نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ اس پروجیکٹ میں پاکستان کی شمولیت کے بغیر اس کی تکمیل نہیں ہو سکے گی۔ اس وقت تک امریکا کو شاید اس پروجیکٹ کی اہمیت اور اس کے اس علاقہ کی اقتصادیات اور حقیقی ترقی پر پڑنے والے اثرات کا اندازہ نہیں تھا۔ لیکن اب جبکہ امریکا کو پتا چل چکا ہے کہ اس پروجیکٹ کی وجہ سے اس خطہ کی توانائی کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہو جائے گا۔ پاکستان اور چین کو بھی اس پروجیکٹ سے استفادہ کا موقع ملے گا۔ خصوصاً چین توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور کھپت سے شدید حیران و پریشان ہے۔ چین کی صنعتی اور اقتصادی ترقی پیٹرول اور گیس پر بڑی حد تک منحصر ہے۔ امریکا‘ پاکستان پر اس پروجیکٹ کو ختم کرنے کے لیے شدید دبائو ڈال رہا ہے اور شاید وہ ہندوستان پر بھی دبائو ڈالنے کی کوشش کرے۔ ہندوستان کو امریکا کی خفگی‘ ناراضگی یا دھمکیوں پر ہرگز توجہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آج کے ترقی پزیر دور میں جبکہ توانائی کے متبادل وسائل مفقود ہیں‘ اس قسم کے معاملات کو قومی مفاد اور وقار کے تناظر میں دیکھنا چاہیے۔ ہندوستان ایک وسیع و عریض‘ کثیر آبادی والا آزاد ملک ہے۔ اس کی اپنی عظمت رفتہ کی ایک شان ہے جبکہ امریکا کو دریافت ہوئے صرف دو سو سال کا عرصہ ہوا ہے اور اس میں تہذیب و تمدن کے فروغ کی کہانی تو اور بھی مختصر ہے۔ اس لیے اسے ہندوستان جیسے ملک پر دبائو ڈالنے اور اسے بلیک میل کرنے کی شاید جرأت نہ ہو لیکن پاکستان ضرور امریکا کی ترغیبات و تحریصات اور دھمکیوں کے پیشِ نظر سپرانداز ہو سکتا ہے۔ لیکن پاکستان کو یہ بات گرہ میں باندھ لینی چاہیے کہ کسی بھی ملک کا وقار اور اس کا اقتدارِ اعلیٰ اور اس کی قومی حمیت ہی اس ملک کو عظیم الشان آزاد ملک بناتی ہے۔ امریکا نے ایران کے اس عظیم پروجیکٹ کو نیوکلیئر پروگرام سے مربوط کر کے اپنے خودغرضانہ اور عیارانہ تحفظات کا اظہار کیا ہے جن کو خاطر میں نہیں لانا چاہیے۔ امریکا نے عالمی تجارتی تنظیم آئی ایم ایف اور عالمی بینک کا استحصال کر کے جس طرح غریب‘ پسماندہ اور کم ترقی یافتہ ممالک کو اپنے حلقہ اثر میں جکڑ رکھا ہے‘ اسی طرح اس نے خلیج کے توانائی کے وافر ذخائر کو بھی ڈرا دھمکا کر اپنے قبضہ میں کر لیا ہے۔ خلیج کا کوئی بھی ملک اپنی مرضی سے دنیا کے کسی بھی ملک کو پیٹرول یا گیس فروخت نہیں کر سکتا۔ اوپیک پر امریکا کی آہنی گرفت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔ برازیل‘ ارجنٹینا اور کیوبا جیسے ممالک کی مخالفت سے امریکا کا کوئی نقصان ہونے والا نہیں ہے۔ وسطی امریکا اور لاطینی امریکا اور خلیج میں بہت ہی کم ممالک امریکا کے استبداد اور جبر کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ ایران کے علاوہ دنیا اور خلیج میں بہت ہی کم ممالک امریکا کے استبداد اور جبر کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ امریکا کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی بھی ملک سے یہ کہے کہ وہ اپنے قدرتی وسائل کو کس طرح استعمال کرے؟ ایران کے توانائی پروجیکٹ کے خاتمے کے بعد بہت ممکن ہے کہ امریکا‘ بنگلہ دیش کو اپنے گیس کے ذخائر اس کی مرضی کے مطابق عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے پر مجبور کر دے کیونکہ بنگلہ دیش نے امریکا کے سابق صدر بل کلنٹن کے بنگلہ دیش کے دورے کے باوجود بھی گیس کی فروخت کے معاملے میں کوئی گفتگو کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور اس طرح کلنٹن کا بنگلہ دیش کا دورہ ناکام ہو گیا تھا۔ ۱۱ ستمبر کے بعد امریکا کے جارحانہ رویہ میں سختی اور آمرانہ پن آگیا ہے۔ پیش بندی حملوں کے بدترین اور غیرانسانی نظریہ نے اسے ساری دنیا کی تباہی و بربادی کا پروانہ دے دیا ہے۔ امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ نے امریکی قانون بابت سال ۱۹۹۶ء کے حوالے سے لیبیا اور ایران کے خلاف امریکی تجارتی تحدیدات کے حوالے سے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اس پروجیکٹ میں تعاون کر کے امریکی امداد سے محروم ہو جائے گا۔ اسے اس پروجیکٹ کے بجائے خلیج یا وسطی ایشیا کے کسی ملک سے پیٹرول کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔

پاکستان کو امریکا کی سب سے زیادہ امداد وصول کرنے والے ممالک میں اسرائیل اور مصر کے بعد شمار کیا جاتا ہے۔ پاکستان کو سال ۲۰۰۲ء کے بعد سے امریکا ہر سال ایک بلین ڈالر کی امداد دے رہا ہے اور اس امداد کا مقصد خود افغانستان اور پاکستان سے متصل علاقوں میں امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔ امداد کے بند ہو جانے سے جہاں امریکی مفادات پر ضرب پڑے گی وہیں پاکستان کو بھی اپنے دفاعی انٹیلی جنس نیٹ ورک اور فوجیوں کی تعیناتی کے مصارف میں زبردست کمی کرنی پڑے گی‘ جس کا پاکستان متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ جنرل پرویز مشرف نے غیردانشمندانہ فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کو نہ صرف اندرونِ ملک بری طرح غیرضروری اور خطرناک معاملوں میں الجھا لیا ہے بلکہ افغانستان کی آگ میں بھی اپنی انگلیاں جلا ڈالی ہیں۔ کنڈولیزا نے پاکستان کو دھمکی دی ہے کہ امریکی کانگریس‘ میڈیا اور تعلیمی حلقوں میں اس پروجیکٹ کی مخالفت کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان اگر امریکا کی بات نہ مانے تو پاکستان کے خلاف امریکا کھلے اور پوشیدہ ہر وسیلے کو استعمال کرے گا۔ ہو سکتا ہے کہ پاکستان کے ماحولیات کے گروپ اور اس علاقہ کے زمینداروں کو پاکستان کے خلاف کھڑا کر دیا جائے۔ ہندوستان کے وزیرِ پیٹرولیم منی شنکر ایرکی گذشتہ ہفتہ اسلام آباد میں پرویز مشرف‘ وزیر خارجہ پاکستان خورشید قصوری اور پاکستان کے وزیر پیٹرولیم وزیر امان اﷲ خان جدون سے ملاقات میں پائپ لائن پروجیکٹ کے قیام کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ امریکا کی مداخلت کی وجہ سے نئی صورت حال کے پیدا ہو جانے کے سبب شاید یہ گروپ تشکیل نہ پاسکے۔ ایران کے اس ۲۶۰۰ کلو میٹر طویل پروجیکٹ کے سلسلے میں قطعی فیصلہ شاید دو ہفتہ کے اندر منظر عام پر آجائے مگر پاکستان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ امریکا نے ہر مصیبت کے موقع پر اس کا دامن چھوڑ دیا ہے۔ پاکستان کی مخالفانہ یا موافقانہ حکمتِ عملی اس علاقہ میں اس کے مقام کا تعین کرے گی اور پاکستان کے ہندوستان‘ چین اور ایران سے تجارتی‘ صنعتی اور ثقافتی تعلقات کی سمت بھی اس سے متعین ہو گی۔ جنوبی ایشیا کے اس خطہ کی خوشحالی کے لیے اس پروجیکٹ کا شرمندۂ تعبیر ہونا ضروری ہے اور وقت آگیا ہے کہ پاکستان خود اپنے طور پر عالمی معاملات اور داخلی معاملات میں فیصلہ کرنے کی خوداعتمادی کا مظاہرہ کرے۔

(اداریہ ’’المنصف‘‘۔ حیدرآباد دکن)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*