عالمگیریت: رحمت یا زحمت؟

دنیا بڑی تیزی سے عالمگیریت کے حصار میں محدود ہوتی جارہی ہے۔ سب کچھ ایک لڑی میں پرویا جارہا ہے۔ جلد یا بدیر ہر ملک کے تمام معاشی معاملات اس لڑی کا حصہ بن کر رہیں گے۔ دنیا بھر میں ایسی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جن کے بارے میں ابھی کل تک سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ عالمگیریت کے خلاف اور حق میں بولنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ دانشوروں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو اس خیال کا حامل ہے کہ دنیا میں جو کچھ اب ہو رہا ہے وہ فطری ہے اور روکا نہیں جاسکتا۔

لیسٹر تھرو نے اپنی کتاب ’’فورچیون فیورز دی بولڈ‘‘ میں لکھا ہے کہ دنیا کے تمام معاملات کو عالمگیریت کے نام پر ایک لڑی میں پرونے کا عمل تاریخی مینار بابل کی تعمیر جیسا معاملہ ہے۔ قدیم عراق میں بابل کے رہنے والوں نے ایک ایسا مینار بنانے کی کوشش کی تھی جو جنت کو چھوتا ہو! یہ منصوبہ اختلافات کی نذر ہوا اور ہم جنت تک پہنچانے والی ایک عظیم عمارت سے محروم ہوگئے!

عالمی معیشت کا دور کچھ ہی برسوں کی بات ہے۔ انفرادی یا ریاستی معیشتیں عالمی معیشت کا حصہ ہوں گی اور اس کے بغیر کام نہیں کرسکیں گی۔ مشکل صرف یہ ہے کہ معاشی مینار بابل کسی واضح منصوبے کے بغیر تعمیر کیا جارہا ہے۔ کوئی واضح نقشہ سامنے نہیں۔ اور حکومتوں کا اندازہ بھی نہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ عالمگیر معیشت نجی شعبے کے ہاتھ میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ قومی (انفرادی یا ریاستی) حکومتیں عالمگیریت کے حق میں نہیں کیونکہ اس صورت میں ان کے اختیارات اور اثرات محدود ہوکر رہ جاتے ہیں۔ عالمگیریت کے فروغ نے قومی حکومتوں کو بیشتر معاشی امور کنٹرول کرنے کے معاملے میں خاصا بے اختیار کردیا ہے۔ جو ادارے مل کر عالمگیر معیشت کی عمارت تیار کر رہے ہیں وہ اپنے انفرادی کردار کے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتے۔ کوئی باضابطہ نظام اور منصوبہ نہ ہونے کے باعث کسی کو اندازہ نہیں کہ دراصل ہو کیا رہا ہے۔ جو لوگ آزاد منڈی کی معیشت پر یقین رکھتے ہیں انہیں اداروں اور سرکاری اقدامات کے بارے میں سوچنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ مارکیٹ کے حالات کے مطابق جو کچھ ضروری ہوگا وہ ہوکر رہے گا۔ دنیا بھر میں جو کچھ بھی مارکیٹ کے حالات کے تقاضے ہیں انہی کے مطابق کام ہو رہے ہیں۔ عالمگیر معیشت کو معرض وجود میں لانے والے مختلف ثقافتوں سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف زبانیں بولتے ہیں۔

عالمگیر معیشت کے حق میں اور اس کے خلاف بولنے والوں کے بیانات میں تضادات پائے جاتے ہیں۔ اب تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جو بین الاقوامی معیشت ابھر رہی ہے وہ دنیا کے فائدے میں ہے یا اسے صرف نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس معیشت کے معمار ہر مذہب، خطے، ثقافت اور نسل سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے اختلاف رائے کا ابھرنا فطری امر ہے۔ عالمگیریت میں تنوع کا پایا جانا ناگزیر ہے۔ اسے رحمت اور زحمت سمجھنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ ماہرین کے نزدیک عالمگیریت میں سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اس میں کوئی بھی بات یقینی نہیں۔ یہ عمارات چونکہ کسی نقشے اور اصولوں کے بغیر قائم کی جارہی ہے اس لیے کسی بھی وقت گرسکتی ہے۔ دنیا کے تمام معاشی معاملات کو ایک لڑی میں پرونا درست ہے یا نہیں؟ کیا ہم کسی معاشی جنت کی طرف بڑھ رہے ہیں؟ یا کوئی معاشی جہنم ہمارا منتظر ہے؟

عالمگیریت کے حوالے سے اضطراب فطری امر ہے۔ دنیا بھر میں عالمگیریت کے خلاف مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ عالمی تجارتی تنظیم، عالمی بینک، عالمی مالیاتی فنڈ اور دوسرے عالمی مالیاتی اداروں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی کمی نہیں۔ عالمگیریت کے خلاف مظاہرے کرنے والوں کی تعداد خاصی کم ہے، مگر سچ یہ ہے کہ کل کو دنیا کے نصف اخبارات یہ سرخی لگائیں کہ عالمگیریت کا خاتمہ ہوگیا تو دنیا کی نصف آبادی سکون کا سانس لے گی۔ عالمگیریت کے خلاف عالمی رائے عامہ تیار ہوچکی ہے۔ رائے عامہ کے مختلف جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا بھر میں بیس فیصد سے بھی کم افراد یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کا نظام بہتر ڈھنگ سے چل رہا ہے! جب عالمی معاشی اور مالیاتی نظام سے اختلاف رکھنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے تو اسے خطرہ کیوں لاحق دکھائی نہیں دیتا؟ اس سوال کا جواب اس کے سوا کچھ نہیں کہ حکومتیں اس معاملے میں یکسر بے بس ہیں کیونکہ فیصلے ان کے ہاتھ میں ہیں ہی نہیں۔

عالمگیریت کے حوالے سے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کسی بھی گڑبڑ کی صورت میں تفتیش کرنے والوں کو ابتدائی مراحل میں یہ بھی معلوم نہیں ہو پاتا کہ ہوا کیا ہے۔ کسی بھی مالیاتی اسکینڈل کے اسباب جاننے کے لیے کسی ایک فیکٹر یا چند فیکٹرز کے بارے میں غور کیا جاتا ہے۔ بہت کچھ الجھا ہوا ہے۔ اصل مسئلہ سچ کی سوئی کو جھوٹ کے بھوسے میں تلاش کرنا ہے۔ عالمگیریت کو مکمل طور پر اپنانا یا مکمل طور پر مسترد کرنا غلط ہوگا کیونکہ اس صورت میں بہت کچھ دائو پر لگ جائے گا۔ بہتر یہی ہے کہ عالمگیریت کے مثبت پہلوئوں کو اپنالیا جائے اور جن باتوں سے نقصان پہنچا ہے یا پہنچنے کا خدشہ ہے انہیں ترک کردیا جائے۔ عالمی معیشت کو جس نظام کے تحت چلایا جارہا ہے اس کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ دیکھتے ہی دیکھتے بگڑتا چلا جاتا ہے اور کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا ہوا ہے اور کیا ہونے والا ہے۔ اس نظام میں نادیدہ قوتیں زیادہ ہیں۔ ان قوتوں کو کنٹرول کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

عالمگیریت میں انسانی پہلو کو اب تک نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس روش پر مزید سفر ممکن نہیں۔ دنیا بھر کے اربوں انسانوں کی زندگی اور موت کا معاملہ عالمگیریت سے جڑا ہوا ہے۔ حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کو اب سوچنا ہوگا کہ عالمگیر معاشی نظام کو کس طور کنٹرول کیا جائے کہ اس سے محروم طبقات کو بھی کچھ فائدہ پہنچے۔ کسی بھی بین الاقوامی نظام کو بے لگام گھوڑے کی مانند آزاد نہیں چھوڑا جاسکتا۔ جن اقوام کو عالمگیریت سے کچھ نہیں ملا وہ اسے یکسر مسترد کرنے کے حق میں ہیں۔ جن ممالک اور طبقات کو اس نظام سے فائدہ پہنچا ہے وہ اسے ترک کرنے کے لیے کسی بھی صورت تیار نہیں۔ عالمگیریت کو بیک جنبش قلم مسترد کرنا کئی معیشتوں کے لیے موت کا پروانہ ثابت ہوگا۔ دنیا جس ڈگر پر چل رہی ہے وہ اگر غلط بھی ہے تو اسے یکسر مسترد نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاملے میں بہت سے پہلوئوں پر غور کرکے معاملات کو سمجھنا پڑتا ہے۔ عالمگیریت کا معاملہ اس لیے زیادہ پیچیدہ ہے کہ اس کے تمام پہلوئوں پر سب کی نظر نہیں۔ سبھی اس میں اپنی ضرورت کے مطابق دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ کثیر القومی معاملہ ہے، دنیا کے تمام خطے اس میں شریک (یا ملوث) ہیں۔ عالمگیریت زیادہ آپشنز نہیں دیتی۔ اس میں فیصلے بروقت اور زیادہ کرنا پڑتے ہیں۔ بہت سے ممالک کے لیے عالمگیریت میں بظاہر کوئی آپشن ہے ہی نہیں۔ انہیں دوسروں کے فیصلے قبول کرنا پڑتے ہیں۔ یہ صورت حال انہیں ہر معاملے میں خسارے سے دوچار کر رہی ہے۔ بعض فیصلے دور رس نتائج کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کے اثرات پرت در پرت ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔

عالمی معیشت جن خطوط پر استوار ہوتی جارہی ہے ان کے پیش نظر پچاس سال کوئی بھی پورے یقین سے نہیں بتا پائے گا کہ وہ کس ملک کی معیشت کے لیے کام کر رہا ہے کیونکہ سب کچھ عالمگیر معیشت کا حصہ ہوگا اور سب اس کیلئے کام کر رہے ہوں گے۔ اگر ہمیں ایک عالمگیر نظام کا حصہ بننا ہی ہے تو کیوں نہ اس معاملے کو خوش دلی سے اور سکون کے ساتھ اپنایا جائے؟ اس صورت میں ہم اپنے بیشتر معاملات کو متوازن رکھنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔

(تلخیص: ایم ابراہیم خان)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.