وحدت و اتحاد ایک عظیم نعمتِ الٰہی

تمام تعریفیں اس خداے وحدہ لاشریک کے لیے مخصوص ہیں جو اس کائنات کا خالق و مالک ہے۔ جس نے اپنی مخلوقات کی فلاح و بہبود کو نگاہ میں رکھتے ہوئے زمین و آسمان کو زیورِ وجود سے آراستہ کیا اور اس دنیا کو مختلف النوع نعمتوں سے مالا مال کر دیا۔ جس نے اپنے برگزیدہ بندوں کو اپنا پیغمبر و رسول بنا کر اس دنیا میں بھیجا تاکہ وہ بنی نوع انسان کی ہدایت و رہنمائی کا کام انجام دیں اور لوگوں کو ہر طرح کی گمراہیوں سے بچتے ہوئے اس راہ پر چلنے کا درس دیں جو صراطِ مستقیم ہے اور جس پر گامزن رہنے والے عظیم الٰہی نعمتوں کے حقدار ہوتے ہیں۔ واضح رہے کہ راہِ حق کی طرف ہدایت و رہنمائی کرنے والے برگزیدہ بندگانِ خدا کو ہی پیغمبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ خداوندِ عالم کے ان منتخب بندوں کی زندگی دنیاے بشریت کے لیے اسوۂ حسنہ اور الٰہی فیوض و ہدایات و احکام کا ایسا مفید و گہرا چشمہ ہے جو کبھی خشک ہونے والا نہیں ہے۔ ان لوگوں کی زندگی نورِ خداوندی کا ایسا مرکز ہے جہاں تاریکی کا گزر نہیں اور مکر و فریب کی تاریکیوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں زندگی بسر کرنے والے لوگ اگر سیرت نبویؐ کو اپنے لیے نمونۂ عمل بنا لیں تو ان کی زندگی بھی غیرمعمولی نور سے منور و مالا مال ہو جائے۔ اگر خداوندِ عالم نے ان نمونۂ روزگار شخصیتوں کو اس دنیا میں نہ بھیجا ہوتا تو پوری کائنات پر ظلم و بربریت اور غیرمعمولی تاریکی و گمراہی کا بول بالا ہوتا اور کسی فردِ واحد میں بھی اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہ ظالم کو ظالم کے نام سے خطاب کرتا۔ بہرحال خداوندِ عالم نے بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے انبیا علیہم السلام بھیجے اور انہیں الٰہی احکامات پر مشتمل صحیفہ و مقدس کتاب بھی عطا کی تاکہ ان صحیفوں میں مذکور الٰہی احکامات کی پیروی ہو سکے اور لوگ ہر طرح کے مفاسد سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے ایسی زندگی بسر کر سکیں جو فقط اس دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی ان کی نجات کا باعث ہو۔

تاریخ شاہد ہے کہ خداوندِ عالم نے حضرت محمدؐ بن عبداﷲ کو اپنا آخری ہادی و رہبر بنا کر اس دنیا میں اس وقت بھیجا جب ہر طرف غیرمعمولی تاریکی چھائی ہوئی تھی اور دنیاے بشریت غیرمعمولی گمراہی کے دلدل میں پھنسی ہوئی تھی اور پیغمبرِ اکرمؐ مقدس کتاب قرآن اور اپنے اہلبیت اطہاز کے مثالی اعمال کے ذریعہ راہِ نجات کی نشاندہی کرنی تھی کیونکہ اس کائنات کی خلقت کا سبب انہی کی ذات تھی چنانچہ اکثر مقامات پر واضح لفظوں میں یہ ارشادِ الٰہی دیکھنے کو ملتا ہے کہ ’’اے پیغمبر اگر تمہاری خلقت مقصود نہ ہوتی تو ہم نے اس دنیا کو ہر گز خلق نہ کیا ہوتا‘‘۔ بہرحال پیغمبرِ اکرمؐ عظیم الٰہی مشن کے ساتھ اس دنیا میں تشریف لائے۔ وہ اس دنیا میں جو کام انجام دینا چاہتے تھے وہ آسان نہ تھا۔ دنیا پر ظلم و طاقت کی حکمرانی تھی۔ لاقانونیت نے قانون کا درجہ حاصل کر لیا تھا اور خداوندِ عالم کی حقیر و بے جان مخلوق یعنی سوکھی ہوئی لکڑی اور پتھروں کو خدا کا نام دے دیا گیا۔ واضح رہے کہ فقط عرب معاشرہ میں خانہ کعبہ میں موجود ایسے ۳۶۰ سے زائد خدائوں کی موجودگی میں صرف ایک خدا کی عبادت کی طرف لوگوں کو مدعو کرنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جیسے ہی پیغمبر نے ’’قولوا لا الہ الا اﷲ وتفلحوا‘‘ کی آواز بلند کی‘ اس زمانے کی بڑی طاقتوں کے غلاموں نے اپنے خود ساختہ خدائوں کے دفاع کی خاطر ان پر ظالمانہ حملوں کی بھرمار کر دی لیکن پیغمبرؐ نے صبر و شکر کے ساتھ اپنا تبلیغی مشن جاری رکھا اور دفاعی سرگرمیوں کے سایہ میں لوگوں تک الٰہی پیغامات کو پہنچاتے رہے اور لوگوں کو ان کے حقیقی مقصدِ حیات کی طرف متوجہ کرتے رہے۔ انسانی سماج میں موجود قوم و قبیلہ اور نسل و رنگ کو جماعتوں کی شناخت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ہر شخص کو اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہنے کی ہدایت کرتے رہے اور لوگوں کو یہ باور کراتے رہے کہ مختلف نسلوں اور قبیلوں کی موجودگی کا مقصد باہمی شناخت کو قائم رکھنا ہے۔ اس کو باعثِ اختلاف و بغض و عداوت مت بنائو۔ نسلی یا قومی اعتبار سے کسی کو کسی پر کوئی فضیلت نہیں حاصل ہوا کرتی بلکہ فضیلت حاصل کرنے کا واحد ذریعہ تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ تلوار و اقتدار پر اپنی پکڑ مضبوط رکھنے کا نام اسلام نہیں ہے بلکہ اپنی جملہ خواہشات کے ساتھ بارگاہِ خداوندی میں سرتسلیم خم کر دینے کا نام اسلام ہے۔ اسلام کو جغرافیائی‘ نسلی‘ قومی‘ تمدنی اور لسانی حدود کے دائرہ میں محدود کرنا فعل عبث اور مکمل نادانی ہے۔ اسلام تو ایک آفاقی پیغام کا نام ہے۔ یہ دنیا کی تمام قوموں اور برادریوں کے درمیان اتحاد کے ذریعہ ایک عظیم عالمی اسلامی برادری کی تشکیل کا خواہاں ہے‘ فقط مسلمانوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا ہی اس کا آخری مقصد نہیں ہے بلکہ اتحاد بین المسلمین تو عالمی انسانی برادری کے درمیان آفاقی اتحاد کی پہلی کڑی ہے۔ اسلام کی مقدس کتاب قران مجید صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ پوری دنیاے بشریت کی ہدایت کے منصوبے کے ساتھ نازل ہوئی ہے اور اس کتاب نے جس خدا کو معبود و مسجود قرار دیا ہے‘ وہ صرف مسلمانوں کا خدا نہیں بلکہ رب العالمین ہے اور اس نے اپنے آخری ہادی و رہبر کو رحمت للعالمین بنا کر بھیجا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب تک بقیدِ حیات رہے تمام مخلوقاتِ خداوندی کے لیے مجسمۂ رحمت رہے اور ان کے بعد ان کی اہلیبیت اطہار اور باوفا اصحاب ان کی تعلیمات کو مشعلِ ہدایت بنائے رہے۔

انہیں حقائق کو نگاہ میں رکھتے ہوئے بیسویں صدی کی مایہ ناز شخصیت امام خمینیؒ نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد پیغمبر عظیم الشان حضرت محمدؐ کی ولادت باسعادت کی سالگرہ کے موقع پر ہفتۂ وحدت کی تشکیل کی سفارش کی تھی تاکہ موجودہ دنیا کو پیغمبرِ اسلامؐ کی تعلیمات سے آشنا کیا جاسکے اور لوگوں کو یہ بتایا جاسکے کہ اسلام امن و سلامتی کا پیغامبر ہے۔ یہ ظالموں اور دشمنوں کے خلاف ہی نہیں بلکہ خود اپنے نفس کے خلاف جہاد کا درس دیتا ہے اور جہاد نفس کو جہادِ اکبر کا درجہ عطا کرتا ہے۔ جہادِ اکبر میں کامیابی حاصل کرنے والے لوگوں کو عالمی اسلامی کانگریس یعنی حج کے موقع پر اپنے گھر کی طرف مدعو کرتا ہے اور ’’لبیک‘ اللھم لبیک‘‘ کا نعرہ لگاتے ہوئے ایک ہی رنگ و روپ کے حامل یہ عربی‘ ایرانی‘ ہندی‘ چینی‘ امریکی‘ ایشیائی اور یورپی مسلمان اس عالمی انسانی اور اسلامی برادری کی ہلکی سی جھلک پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو پیغمبرِ اسلامؐ کے الٰہی مشن کا بنیادی مقصد تھا اور یہ وحدت و اتحاد ہی درحقیقت عظیم الٰہی نعمت ہے جس کی کمی کی وجہ سے آج دنیاے بشریت تباہی کے دہانے تک پہنچ گئی ہے۔

درحقیقت موجودہ صدی کو اسلامی تعلیمات کی سخت ضرورت ہے۔ دنیا اسلامی تعلیمات کی پیاسی ہے اور خود کو امتِ محمدی سے وابستہ سمجھنے والے ہر مسلمان کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ اپنے قول و عمل کے ذریعہ دنیا کو امن و سلامتی اور اخوت و برادری کا پیغام دے اور موجودہ اسلام دشمن پروپیگنڈوں کے مقابلے میں حقیقی اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرنے میں ہمہ تن سرگرم رہے اور اس راہ میں ہر ممکن قربانی پیش کرنے میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہ کرے۔ مکمل خود اعتمادی اور خداوندِ عالم کی لازوال طاقت پر بھروسہ کرتے ہوئے لوگوں کو حق و صداقت کی طرف متوجہ رکھنا ہی ’’حقیقی راہِ اسلام‘‘ ہے اور خداوندِ عالم ہم لوگوں کو اس راہ پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

(بشکریہ: سہ ماہی ’’راہِ اسلام‘‘۔ نئی دہلی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*