حماس کا مسلح جہاد جاری رہے گا!

حماس کے شعبہ سیاسی امور کے سربراہ خالد مشعل دمشق میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ انتخاب میں حماس کی تاریخی کامیابی کے بعد ایک جرمن اخبار نے ان سے تفصیلی انٹرویو لیا جس میں خالد مشعل نے حماس کی انتخابی کامیابی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر گفتگو کی۔ اس انٹرویو کو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔


سوال: آپ ایک دہشت گرد تنظیم کے لیڈر ہیں‘ کیا آپ نے کسی اسرائیلی کو خود بھی ہلاک کیا ہے؟

جواب: ہماری تحریک دہشت گرد نہیں‘ بلکہ ہم ایک قومی مزاحمتی تحریک سے تعلق رکھتے ہیں‘ بیرونی قبضے کے خلاف مزاحمت ہمارا حق ہے‘ اب انتخابی کامیابی نے ہماری تحریک کے جائز ہونے کی بھی تصدیق کردی ہے۔ واضح رہے کہ حماس کسی کو ہلاک نہیں کرتی‘ یہ صرف مزاحمت کرتی ہے‘ ہلاک کرنے اور مزاحمت کرنے میں نمایاں فرق ہے۔

سوال: آپ کی دہشت گردی کا شکار ہونے والے اس فرق کو تسلیم نہیں کرتے ‘ بہرحال اب فلسطینی علاقوں میں کیا ہوگا‘ حماس حکومت کرنا چاہتی ہے‘ کیا آپ کی تنظیم خود کو ایک حکومتی پارٹی میں ڈھالنے کو تیار ہے یا پھر جدوجہد جاری رکھے گی جس کو مغرب کے حلقے دہشت گردی کی تحریک قرار دیتے ہیں؟

جواب: حماس حکومتی ذمہ داریاں سنبھالنے کو تیار ہے‘ وہ پارلیمنٹ کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔ ہم اپنے لوگوں کے لیے نئی اصلاحات لائیں گے‘ کرپشن کے خلاف کام کریں گے‘ جمہوری بنیادوں پر مبنی سیاسی ڈھانچے کو مضبوط بنائیں گے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ مزاحمت بھی جاری رکھیں گے اور یہ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ہماری سرزمین سے قبضہ ختم نہیں ہوجاتا۔

سوال: کس طرح؟

جواب: مزاحمت کا ہر طریقہ ہم استعمال کریں گے‘ جب تک بین الاقوامی برادری اسرائیل پر دبائو ڈال کر اسے ہمارے علاقے خالی کرانے پر مجبور نہیں کرتی‘ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ مجھے حیرت ہے کہ یورپین اس کو کس طرح سوچتے اور سمجھتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان یورپین نے خود کو کس طرح آزاد کرایاتھا۔ امریکا نے خود آزادی کے لیے جنگ کس طرح لڑی‘ مزاحمت ایک جائز قدم ہے۔

سوال: اب حماس حکومت کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے‘ ساتھ ہی اس کے القسام بریگیڈ کو خود کش اور راکٹ حملوں کی اجازت بھی ہے‘ کیا یہ سب کچھ ایک ساتھ ممکن ہے؟

جواب: مزاحمت مختلف شکلوں اور طریقوں سے کی جاسکتی ہے۔ اگر اسرائیل فلسطینی شہریوں کے خلاف جارحیت بند کر دے تو ہم بھی اسرائیلی شہریوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے۔ جیسے ہی اسرائیل کے اپاچی ہیلی کاپٹر فلسطینیوں کے گھروں ‘ گاڑیوں اور لوگوں کو ہدف بنانے کا عمل ختم کر دیں گے‘ ہم بھی اسرائیل کے خلاف راکٹ حملے بند کردیں گے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ دونوں ممالک حالت جنگ میں ہیں ‘ اس لیے کہ ہم ایک ملک نہیں‘ ہمارے ہتھیار بھی کمزور ہیں‘ اسرائیلیوں کے پاس ہم سے بہتر ہتھیار اور اسلحہ موجود ہے۔

سوال: اور شاید اس کا سبب یہ ہے کہ حماس فوجی فتح حاصل نہیں کرسکتی؟

جواب: ہم نے ابھی غزہ کی لڑائی میں کامیابی حاصل کی۔

سوال: آپ نے انتخابات سے قبل سیز فائر کا اعلان کیا تھا‘ کیا آپ اس پر عملدرآمد کریں گے؟

جواب: ہمارا تجربہ خوشگوار نہیں رہا۔ ہم نے ۲۰۰۳ء میں بھی سیز فائر کا اعلان کیا تھا لیکن اسرائیل نے اس کا احترام نہیں کیا۔ ایسا ہی اس سے قبل کے سال میں بھی ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ اب بھی نو ہزار فلسطینی اسرائیل کی جیلوں میں بند ہیں۔ اسرائیل اپنی دیوار اب بھی تعمیر کر رہا ہے۔ اسرائیل اب بھی فلسطینیوں کی جائیدادوں پر قبضہ کرکے وہاں یہودیوں کو لاکر بسا رہا ہے ‘جب کہ یروشلم کو مغربی کنارے سے بھی کاٹ دیا گیا ہے۔

سوال: کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ حماس حملے اور تشدد کا سلسلہ جاری رکھے گی؟

جواب: ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق کا احترام کرے‘ اپنی جارحیت ختم کرے اور اپنی فوجوں کو واپس بلالے‘ اس کے بعدہم طویل المیعاد سیز فائر کے لیے مذاکرات کریں گے۔

سوال: اسرائیل کو کہاں سے فوجیں واپس بلانی چاہئیں؟

جواب: آپ یقینا جانتے ہوں گے کہ ہمارے روحانی رہنما شیخ احمد یاسین نے مارچ۲۰۰۴ء میں اپنی شہادت سے قبل اعلان کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طویل المیعاد سیز فائر کے لیے تیار ہیں‘ اگر وہ مغربی کنارے اور غزہ سے اپنی فوجیں واپس بلائے اور ۱۹۶۷ء کی پوزیشن پر لے جائے‘ لیکن اسرائیل نے اس کو تسلیم نہ کیا۔ سعودی عرب نے ۲۰۰۲ء کی بیروت کانفرنس میں بھی اس تجویز کو پیش کیا لیکن اسرائیل سمیت امریکا اور بین الاقوامی برادری نے اس پر بھی زبان نہ کھولی۔

سوال: یورپ اب حماس پر مختلف پابندیاں عائد کررہا ہے‘ وہ حماس سے کہہ رہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرلے‘ اوسلو معاہدے کو قبول کرے‘ اس پر آپ کا کیا ردعمل ہے‘ کیا آپ ایک نیا سفر شروع کرنے کے لیے تیار ہیں؟

جواب: نہیں‘ یقینا نہیں! فلسطینی عوام حماس کے مقاصد اور حکمت عملیوں سے اچھی طرح آگاہ ہیں‘ اسی لیے انہوں نے ہمیں ووٹ دیا۔ ہم کہتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری کو ہم سے بات چیت کرنی چاہیے۔ بین الاقوامی برادری جمہوری اصولوں کا احترام کرتی ہے‘ اس لیے اسے فلسطینی انتخابات کے نتائج کو بھی تسلیم کرنا چاہیے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں مختلف نظریات کی سیاسی قیادتیں ہیں‘ عالمی برادری نے ان سے تعاون سے پہلے کوئی شرط عائد نہیں کی۔ ہمیں حقیقت پسند ہونا پڑے گا‘ اس کے ساتھ ہی ہم فلسطینی عوام کے حقوق کے ساتھ کسی کو دغا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

سوال: کیا آپ ۱۹۹۳ء کا اوسلو معاہدہ تسلیم کرتے ہیں جس میں اسرائیل کو تسلیم کیا گیا ہے؟

جواب: میں اس معاہدے پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا‘ اس لیے کہ اس معاہدے کا مقصد فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ نہیں تھا۔ جس طرح ہمارا خیال تھا کہ یہ معاہدہ ناکام ہوگا ‘ وہی ہوا ‘ لیکن اس کے باوجود ہم معاہدات کی حقیقت کو بھی مانتے ہیں۔

سوال: یہ بھی تو حقیقت ہے کہ حماس یورپ سے آنے والی مالی امداد پر انحصار کرتی ہے؟

جواب: ہمیں حقیقت کا اعتراف کرنا چاہیے‘ فلسطینی عوام نے ہمیں بغیر کسی شرط کے منتخب کیا ہے‘ لیکن عالمی برادری اب شرائط کیوں لگا رہی ہے۔

سوال: حماس کو ووٹ ملنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ الفتح کے قائدین بوڑھے اور کرپٹ ہوگئے ہیں‘ آپ کو ووٹ دے کر فلسطینی عوام نے ایک بہتر حکومت کی خواہش کا اظہار کیا ہے؟

جواب: ماضی میں عالمی برادری کی مالی معاونت امن و امان کی ضروریات اور فلسطینی اتھارٹی کے انتظامی معاملات کے لیے ہوتی تھی‘ اس کا فائدہ بااثر کرپٹ افراد کو ضرور ہوا‘ لیکن فلسطینی عوام کو قطعاً نہیں۔ حماس اس پوزیشن میں ہے کہ وہ اس رقم کو فلسطینی عوام کے فلاح و بہبود پر خرچ کرسکے اور اس سچائی سے امریکا اور یورپ بھی آگاہ ہے۔ لیکن ہم اس بات کے خلاف ہیں کہ اس رقم کو فلسطینیوں کے حقوق کے خلاف استعمال کریں۔ عالمی برادری نے اسرائیل کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ ہمیں قتل کرے‘ ہمیں گرفتار اور بے گھر کرے۔ اب اگر وہ ہماری مالی مدد سے بھی ہاتھ کھینچ لیتا ہے تو ہمارے لوگوں سے اس کا رابطہ بالکل ختم ہوجائے گا۔

سوال: اس بات کے خاصے شواہد موجود ہیں کہ آپ اس رقم کو اسرائیل کے خلاف اپنی جدوجہد کے لیے استعمال کریں گے؟

جواب: یقینا نہیں۔ امریکا‘ یورپ اور بین الاقوامی برادری کو خود اس رقم کے استعمال کی مانیٹرنگ کا طریقہ کار طے کرنا چاہیے۔ ہمارے فلاحی کام اور ہماری کمیونل حکومتوں کی کارکردگی اس کی بہترین مثال ہے۔ یہاں تک کہ خود امریکی رپورٹوں میں یہ کہا گیا ہے کہ حماس کے زیر اہتمام منصوبوں میں کرپشن کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ اگر عالمی برادری فلسطینیوں کی مالی مدد کو ختم کرے گی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حماس کو نہیں فلسطینی عوام کو سزا دینا چاہتی ہے۔ ہوسکتا ہے مغرب اپنی ذمے داریوں سے ہاتھ کھینچ لے لیکن اسلامی دنیا اور عرب ممالک ایسانہیں کریں گے۔

سوال: مثال کے طور پر ایران نے مالی مدد کی پیشکش کردی ہے‘ کیا یہ پیش کش مناسب وقت پر سامنے آئی ہے؟

جواب: صرف ایران نہیں‘ تمام عرب اور اسلامی ممالک نے اس خواہش کا اظہار کیا ہے اور اسی وجہ سے یورپ اور امریکا ہماری مالی مدد کو ختم نہیں کرسکتے وہ فلسطینیوں سے اپنے رابطوں کو ختم نہیں کریں گے۔

سوال: آپ ایران سے کس قدر قریب ہیں‘ آپ کیا ایرانی صدر کے ان خیالات سے متفق ہیں کہ Holocaust ایک مبالغہ ہے او ریہ کہ اس کے ملک کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کا پورا پور ا حق ہے؟

جواب: ایران کا کہنا ہے کہ اسے ایٹمی توانائی کی ضرورت ہے اور یہ کسی بھی معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ‘ لیکن عالمی برادری ایران پر الزام لگارہی ہے کہ اس کے عزائم کچھ اور ہیں دراصل امریکا سمیت عالمی برادری کی سوچ اوراپروچ دوغلی ہے۔ اگر آپ ایران کے ایٹمی پروگرام کو خطرہ سمجھتے ہیں تو پھر آپ کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسرائیل بھی اپنا ایٹمی پروگرام روک دے‘ وہ بھی تو خطرہ ہے۔ جہاں تک قتل عام (Holocaust) کا تعلق ہے تو اس سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ یہودیوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوئی ہے۔ اس کے باوجود ضرورت اس بات کی ہے کہ اس واقعے کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا جائے اور قتل عام کے سکوپ کو معلوم کیا جائے۔

سوال: آپ فلسطینی اتھارٹی کے سارے علاقے میں ایک اسلامی ریاست کا قیام کیوں چاہتے ہیں؟

جواب: ہم ایک آزاد فلسطینی ریاست چاہتے ہیں‘ جس پر کسی کا قبضہ نہ ہو۔ ہم مکمل خودمختاری چاہتے ہیں۔ یہ ہم فلسطینی عوام پر چھوڑ دیتے ہیں کہ وہ فیصلہ کریں کہ ان کی ریاست میں کس طرح کا نظام ہو‘ یہ واضح ہو کہ اس خطے کے لوگوں کی عرب اسلامی تاریخ اور کلچر ہے ۔ ایسے ہی جیسے یورپ میں عیسائیت کی جڑیں ہیں۔ اسلام صبر و برداشت کا مذہب ہے جو دوسرے مذاہب کے وجود کو بھی تسلیم کرتا ہے۔ عیسائیوں کے فلسطین میں یروشلم‘ بیت اللحم اور بزرباہ جیسے مقدس مقامات ہیں‘ ان کی عیسائیوں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی تکریم کرتے ہیں۔

سوال: حماس کا اسلام لبرل دکھائی نہیں دیتا؟

جواب: جس اسلام کا ہم پرچار کرتے ہیں وہ کھلا ڈھلا اور صبر و برداشت کا حامل ہے اور یہ جبر و نفرت سے پاک ہے۔ ہم ایک ایسے اسلامی معاشرے کے قیام کے داعی ہیں جہاں مذہبی جبر نہ ہو۔ کسی کو زبردستی مسجد بھیجا جائے نہ سکارف پہنایا جائے۔

سوال: فلسطین کی خود مختار اتھارٹی کا کیا ہوگا؟ کیا محمود عباس اپنے عہدے پر برقرار رہ سکیں گے؟

جواب: ہم محمود عباس کا احترام کرتے ہیں‘ انہوں نے انتخابات کا انعقاد بڑے احسن طریقے سے کیا‘ ہم ان کے ساتھ الفتح سے بڑھ کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سوال: کیا الفتح اور حماس مل کر حکومت بناسکتے ہیں؟

جواب: ہم الفتح کو حکومت میں شمولیت کی دعوت دیں گے‘ ہم چاہیں گے کہ مسلمان اور عیسائی مرد و خواتین اس عمل میں شریک ہوں۔ ہماری خواہش ہے کہ حکومت ماہرین اور ٹیکنو کریٹس پر مبنی ہو تاکہ ہم فلسطینی مفادات کے حصول کی منزل پاسکیں۔

سوال: سیکورٹی فورسز کو کون کنٹرول کرے گا؟

جواب: الفتح کی خود مختار اتھارٹی اس وقت سیکورٹی فورسز کی ذمے داریاں حکومت سے صدر کو منتقل کررہی ہے لیکن یہ کھیل ہم نے کھیلنے سے انکار کردیا ہے۔ حکومت سیکورٹی کی ذمہ دار ہے‘ اس کے علاوہ وہ سیاسی اور معاشی فیصلے بھی کرتی ہے‘ ہم عباس سے اس معاملے پر بات کریں گے۔

سوال: اسلامی جہاد‘ الاقصیٰ بریگیڈ اور دیگر عسکری تنظیموں کو کون کنٹرول کرے گا؟

جواب: ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ انہیں قومی منصوبوں میں شامل کریں‘ وہ اس طرح کریں گے جس طرح خود مختار اتھارٹی یا حکومت تجویز کرے گی‘ لیکن ہمارے دوسرے نظریات رکھنے والے بھائی بھی ہیں ان سے بھی معاملات طے کریں گے۔

سوال: کیا آپ نہیں سمجھتے کہ فلسطینی قتل و غارت سے تنگ آچکے ہیں؟

جواب: ہمارے لوگ اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک ہماری سرزمین پر دوسروں کا قبضہ ہے۔ قبضہ اور جارحیت کے ردعمل میں تھکاوٹ نہیں مزید توانائی پیدا ہوتی ہے۔ یہ آزادی کے لیے لڑنے والے ہر شخص کا خاصہ ہے۔

سوال: آپ برسوں سے دمشق میں مقیم ہیں واپسی کب ہوگی؟

جواب: مناسب وقت پر۔

سوال: جب آپ اسرائیل کی ہٹ لسٹ پر نہیں ہوں گے؟

جواب: دھمکیاں جاری ہیں ‘ انتخابات کے بعد بھی۔

سوال: آپ کے سات بچے ہیں۔ تین بیٹیاں ‘ چار بیٹے۔ کیا آپ اپنے ایک بیٹے کو اسرائیل کے خلاف لڑنے کے لیے بھیجیں گے؟

جواب: اوہ… مجھے فلسطین کے ہر بچے سے اتنا ہی پیار ہے ‘ جتنا اپنے بچوں سے ہے۔ جو اصول فلسطینی بچوں پر لاگو ہوتا ہے وہی میرے بچوں پر بھی ہوتا ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ ہمارا کوئی بچہ مارا جائے۔

(بشکریہ: پندرہ روزہ ’’جہادِ کشمیر‘‘۔ شمارہ۔ ۱۶ فروری ۲۰۰۶ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*