نذرانۂ عقیدت بہ حضور رسالت مآب ﷺ

جوش ملیح آبادی ذات کے آفریدی پٹھان تھے۔ اُن کے اجداد درہ خیبر سے نکل کر حملہ آوروں کے ساتھ انڈیا جاکر آباد ہو گئے۔ جوش کا وطن اس نسبت سے لکھنؤ سے تیرہ میل کی مسافت پر تھا۔ جوش کا شمار اردو کے بڑے شعرا میں ہوتا ہے اور ان کو شاعرِ انقلاب کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جوش نے اپنے بارے میں خود لکھا ہے کہ:

’’میرے راسخ العقیدہ باپ کو جب یہ خبر پہنچی کہ میں بعض ’’مُسلَّمات‘‘ کا مذاق اڑاتا ہوں تو انہوں نے میرے منہ پر تھپڑ مار کر فرمایا تھا کہ مجھے خوف پیدا ہو گیا ہے کہ تو آگے چل کر گمراہ ہو جائے گا (اﷲ کا لاکھ لاکھ شکر کہ میرے باپ کا خیال درست نکلا اور میں گمراہ ہو گیا)۔

ایک جری انسان کی مانند میں بآوازِ بلند یہ اعلان کرتا ہوں کہ۔۔۔ جو مجھ کو مومن سمجھ رہا ہے وہ اپنے حسنِ ظن سے دست بردار ہو جائے۔۔۔ میں کافر باﷲ اور مومن بالانسان ہوں۔

میں اقرار اور انکار کے دو کروں کے بیچوں بیچ بیٹھا ہوا ہوں۔ نظام سماوی کو دیکھتا ہوں تو کہیں کوئی خلا نظر نہیں آتا۔ دل اقرار کرنے لگتا ہے اور نظامِ ارضی کو دیکھتا ہوں تو اُس میں کروڑوں خلا نظر آتے ہیں اور دل انکار پر مصر ہو جاتا ہے‘‘۔ (یادوں کی بارات)

رسول اﷲﷺ کی تعریف میں جوش کا قلم ملاحظہ فرمائیے۔ الفاظ جوش جیسے صاحبِ کمال کے ہوں اور مدح محمدﷺ جیسے اکمل و اجمل کی۔ سبحان اﷲ! پڑھیے اور لطف اٹھائیے۔

آنحضرﷺت کے بارے میں اکثر یہ سوچتا رہتا ہوں کہ عرب کی سی جہالت کی راج دھانی میں اور وہ بھی آج سے کچھ اوپر چودہ سو برس پیشتر ان کا پیدا ہو جانا اور کسی ایک متنفس کی شاگردی کیے بغیر جہاں استاد کا مرتبہ حاصل کر لینا‘ روزگار کا ایک ایسا معجزہ عظیم ہے کہ انسانی تاریخ انگشتِ حیرت کو اپنے دانتوں کے نیچے سے آج کے دن تک نکال نہیں سکی ہے۔ وہ پیدائشی عالم اور پیدائشی مفکر اور نظری نہیں‘ عملی مفکر تھے۔

انہوں نے جاہلوں کے درمیان حقائق کو آشکار کر کے سقراط کے مانند زہر کا پیالا نہیں پیا اور حقائق کو دلنشیں لباس پہنا کر چشمۂ حیواں پر قبضہ کر لیا۔

سقراط نے اپنی قوم کی ذہنی سطح سے بلند ہو کر زبان کھولی‘ اس کو ہمیشہ کے واسطے خاموش کر دیا گیا۔ محمدﷺ نے اپنی قوم کی ذہنی سطح پر قدم رکھ کر بات کی اور وہ بات اذان بن کر اس دنیا میں اب تک گونج رہی ہے۔ محمدﷺ کو ایسی حیرت ناک بصیرت حاصل تھی کہ وہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں کی لرزشِ مژگاں سے ان کے دلوں کی پرتیں شمار کر لیتے اور ان کے انفاس کی درازی و کوتاہی پر نظر جما کر ان کے جذبات و خیالات کا عرض و طول ناپ لیا کرتے تھے۔

وہ ایک طرف تو اپنی قوم کے تمام مکروہات و مرغوبات کے زبردست نباض تھے اور دوسری طرف وہ نوعِ انسانی کی اس کمزوری کو بھی پاگئے تھے کہ یہ سود و زیاں کی زنجیروں میں جکڑا ہوا خودپرست حیوان‘ صرف تخویف و تحریص کی وساطت سے راہِ راست پر لایا جاسکتا ہے۔

اور اسی لیے وہ دوزخ کے انگاروں اور حوروں کے رخساروں کو دمکا کر اپنی قوم کو راہِ راست پر لے آئے۔ انہوں نے ایک مصلح عملی حکیم کے مانند‘ یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اپنی تقریروں میں ایسی فلسفیانہ موشگافی‘ ایسی منطقی پردہ دری اور ایسی حقائق کشا برہنہ گفتاری سے کام نہیں لیں گے‘ جس سے ایک صحرا نشیں قوم کی فعالیت میں فرق پڑ سکتا ہے۔

اور اسی دانش مندانہ فیصلے کی بنا پر انہوں نے کاروانِ خیال کی نقل و حرکت کے واسطے ایک وجدانی شاہراہ تراش لی اور اس کے دونوں طرف روایات‘ کنایات‘ اشارات‘ تمثیلات اور تشبیہات کے درخت اس قدر پیوستگی کے ساتھ نصب فرمائے کہ منطق کی شعلہ بار دھوپ‘ اس شاہ راہ کے مسافروں کو جھلسا نہ سکے اور تمام قافلے بے روک ٹوک چلتے رہیں۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے کلمات کی کھنک‘ ان کے لہجے کی لچک اور ان کے پراسرار الفاظ کی دھنک کے نیچے‘ اس شاہراہ سے لاکھوں قافلے اب تک گزرتے نظر آرہے ہیں اور محمدﷺ کا دل کروڑوں انسانوں کے سینوں میں آج بھی دھڑک رہا ہے۔

اور پھر دنیا کی سب سے زیادہ انوکھی بات یہ ہے کہ موت کے بھیانک میدان میں حوروں کے خیمے نصب کر کے انہوں نے عربوں کے خون میں وہ حرارت پیدا کر دی کہ مٹھی بھر آدمیوں نے دیکھتے ہی دیکھتے آدھی دنیا کو مسخر کر کے اپنے خاک نشیں کملی والے تاج دار کے قدموں پر لاکر ڈال دیا۔

اے غلاموں کو مقامِ فرزندی تک لانے والے! اے قاتلوں کو مسیحائی کے گُر سکھانے والے! اے انگاروں میں پھول کھلانے والے! اے خوف و حزن کو علامتِ کفر بتانے والے! اور اے رگ ہائے ذرّات میں نظامِ شمسی کا لہو دوڑانے والے!

اے وحشیوں کو بردباری‘ اے زلزلوں کو تمکین شعاری اور اے عزائم انسانی کو آفاق شکاری عطا فرمانے والے! اے لاوارثوں کے وارث! اے بے آسرائوں کے سہارے! اے یتیموں کے باپ! اور اے بیوائوں کے سہاگ! اے حرف ناشناس معلم! اے سفر نہ کردہ سیاح! اے فاقہ کش رزاق! اے خلق کی برہانِ عظیم! اے اُمی حکیم! اے خدیو اقلیم‘ حبل المتین! اے اولادِ آدم کی فتح مبین! اے ناموسِ ماء وطین! اور رحمۃ للعالمین! روحِ کائنات کا سجدۂ تعظیمی قبول فرما۔

مرسلہ: ضیغم حسن۔۔۔ لیکچرار۔ شعبۂ حیوانیات‘ پشاور یونیورسٹی
(بحوالہ: جوش ملیح آبادی کی کتاب ’’یادوں کی بارات‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*