ہیلری کلنٹن اور ہنری کسنجر آمنے سامنے

ہنری کسنجر سے کون واقف نہیں۔ وہ امریکی وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ عملی سیاست سے کنارہ کش ہونے کے بعد ہنری کسنجر نے تجزیہ نگار کی حیثیت سے شہرت پائی۔ وہ آج بھی مختلف اخبارات اور جرائد کے لیے تجزیے تحریر کر رہے ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں پڑھنے اور سننے والوں کی خاصی بڑی تعداد ہے۔ ہیلری کلنٹن خاتون اول رہ چکی ہیں۔ اب وہ امریکی وزیر خارجہ ہیں۔ وزارت خارجہ میں اہم ذمہ داریاں کیا کیا ہوتی ہیں، ترجیحات کا تعین کس طرح ہوتا ہے، امریکی صدور کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کسی بھی جنگ کو کس طور سمیٹا جاتا ہے، ان امور پر ہنری کسنجر اور ہیلری کلنٹن نے امریکی جریدے نیوز ویک سے جو گفتگو کی ہے وہ ہم آپ کے لیے پیش کر رہے ہیں۔


میچم (نیوز ویک): وزیر خارجہ بننے کے بعد آپ کو کس چیز نے سب سے زیادہ حیرت زدہ کیا ہے؟

ہیلری کلنٹن: کام کی نوعیت اور شدت دیکھ کر مجھے زیادہ حیرت ہوئی ہے۔ وزارت خارجہ میں آکر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ ایک الگ دنیا ہے۔ بیشتر معاملات میں امریکا کی ذمہ داریاں غیر معمولی نوعیت کی ہیں۔ امریکا کو دو طرفہ یا ہمہ جہت معاملات سے کہیں بڑھ کر بین الاقوامی نوعیت کے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مجھے روزانہ ۲۴ گھنٹے اور ہفتے کے ساتوں دن کام کرنا پڑتا ہے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اپنے آپ کو مثبت رکھنا پڑتا ہے۔ ہر معاملے میں رد عمل سے کہیں بڑھ کر عمل نواز سوچ اپنانی پڑتی ہے۔ ایسا نہ ہو تو میں ان باکس ٹائپ کی وزیر خارجہ ہوکر رہ جاؤں۔ میں ہر وقت ڈیوٹی پر ہوتی ہوں۔ میں کہیں جاتی ہوں تو مصروفیت بڑھ جاتی ہے۔ مگر ملک میں ہوتی ہوں تب بھی کچھ آرام نہیں مل پاتا۔

ہنری کسنجر: میں اس صورت حال کا آسانی سے ان حالات سے موازنہ کرسکتا ہوں جن کا مجھے سامنا رہا۔ وزیر خارجہ بننے سے قبل میں قومی سلامتی کا مشیر تھا۔ جو سنگین معاملات ایوان صدر تک آتے تھے ان پر بھی میری نظر رہتی تھی اور جو معاملات وزارت خارجہ تک پہنچتے تھے ان سے بھی غافل نہیں رہتا تھا۔ ایوان صدر تک پہنچنے والے معاملات عام طور پر اسٹریٹجک نوعیت کے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب وزیر خارجہ کو بہت حد تک تمام ممالک سے رابطہ رکھنا ہوتا ہے۔ امریکا کو بہت سے ممالک سے متحرک تعلقات استوار رکھنے پڑے ہیں۔ یہ کام وزیر خارجہ کا ہے۔ مطلب یہ کہ یومیہ بنیاد پر فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ کس کے مسائل پر توجہ نہ دے کر آپ اس کی توہین کا ارادہ رکھتے ہیں! (ہیلری ہنس پڑتی ہیں) اور کوئی طریقہ نہیں ہے۔ وزیر خارجہ کو ہفتے کے ساتوں دن اور چوبیس گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی امور کو طے کرنے میں سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہنگامی اور اہم معاملات میں فرق کا شعور پیدا کرنا پڑتا ہے۔ ہنگامی نوعیت کے معاملات سے نمٹنے میں کہیں اہم امور کو نظر انداز نہ کردیا جائے۔

وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایک اور بڑے چیلنج کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وزارت خارجہ میں اسٹاف انتہائی قابل ہوتا ہے۔ اور ان میں بیشتر انفرادی (منفرد) خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان سے کام لینا کچھ آسان کام نہیں۔ وزارت خارجہ میں کام کرنے والے بیشتر افسران انفرادی حیثیت میں بھی بہت بلند ہوتے ہیں‘ اس لیے اس بات کا خاص خیال رکھنا پڑتا ہے۔

ہیلری کلنٹن: ہونہہ۔ (جی ہاں!)

ہنری کسنجر: ان تمام افسران کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے کام کرنے پر آمادہ کرنا خاصا مشکل کام ہے۔

٭ ہیلری کلنٹن: واقعی ایسا ہے۔ دفتر خارجہ کے افسران سے ڈیلنگ بڑا درد سر ہے۔

ہنری کسنجر: وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہونے سے قبل میں نے امریکی ایوان صدر میں چار سال گزارے تھے مگر اس دوران مجھے اندازہ ہی نہ ہوسکا کہ وزیر خارجہ کو کن کن معاملات سے نمٹنا پڑتا ہے اور اسے کن کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ سب تو اس وقت معلوم ہوا کہ جب میں دفتر خارجہ کی عمارت میں ساتویں منزل پر پہنچا۔

ہیلری کلنٹن: جو کچھ ہنری نے کہا اس میں اتنا اضافہ میں ضرور کروں گی کہ جو کچھ ہنگامی نوعیت کا (یعنی انتہائی اہم) اور اہم ہے اس سے ہٹ کر ہمیں طویل المیعاد اہداف پر بھی نظر رکھنی پڑتی ہے تاکہ اندازہ ہوسکے کہ اگلے برس یا اس سے اگلے برس کون سا معاملہ تیزی سے اہمیت حاصل کرکے ابھر سکتا ہے؟ اور اس کے لیے غیر معمولی مہارتوں کا حامل ہونا ناگزیر ہے۔ میں اپنے ساتھیوں سے پوچھتی رہتی ہوں کی توانائی کے حصول میں کسی بھی رکاوٹ کو پیدا ہونے سے روکنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں کہ اس معاملے میں یورپ سے کس طرح ہم آہنگی کی توقع رکھی جاسکتی ہے اور کس طرح یورپی یونین کے ذریعے یکساں پالیسی کا حصول یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ میں یہ بھی پوچھتی ہوں کہ خوراک کی رسد کو یقینی بنائے رکھنے کے لیے ہم کیا کر رہے ہیں۔ گزشتہ برس خوراک کے معاملے پر ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی۔ ایک طرف جغرافیائی سطح پر تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ اور دوسری جانب بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا سلسلہ بھی جاری ہے جس کے نتیجے میں معاشرے تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ خوراک کی رسد کو یقینی بنانے کا معاملہ ایک بڑے اور اہم ایشو کی حیثیت سے ابھر رہا ہے۔ ہم صحت عامہ کو لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟ بحیرہ منجمد کا معاملہ ایسا ہے جو اب تک ہیڈ لائنز میں نہیں تاہم ہم نے اس پر متوجہ ہونا شروع کیا ہے۔ موسمیاتی تغیرات کے باعث برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔ یہ عمل بہت سے سمندروں میں تیز رفتار تبدیلیوں کا باعث بن رہا ہے۔ روس کہتا ہے کہ وہ اگلے سال قطب شمالی پر اپنا پرچم گاڑنا چاہتا ہے۔ کینیڈا کا کہنا ہے کہ اچھا ہے کہ روس والے ایسا نہ کریں۔ قطبین کی برف کے تیزی سے پگھلنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاہم اب ایسا بھی نہیں ہے کہ اس پر کوئی رپورٹر مجھ سے رابطہ کرے یا ایوان صدر میں مجھے اس حوالے سے سوالوں کے جواب دینے پڑیں۔

مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ معاملات خاصے پیچیدہ ہیں۔ فوری، اہم اور طویل المیعاد کے حوالے سے سوچنا پڑتا ہے، ترجیحات کا تعین کرنا پڑتا ہے۔

نیوز ویک: وزیر خارجہ اور صدر کے درمیان تعلق کس حد تک اہمیت رکھتا ہے؟

ہیلری کلنٹن: یہ تعلق بہت اہم ہے۔ سب سے پہلے تو پالیسی ترتیب دینے کے حوالے سے اور اس کے بعد مشاورت کی سطح پر۔ جب کسی معاملے میں مذاکرات کے بعد حتمی فیصلے کیے جارہے ہوتے ہیں تب صدر اور وزیر خارجہ کے درمیان تعلق غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ میں اپنی اور سابق وزرائے خارجہ کی طرف سے یہ کہوں گی کہ صدر اور وزیر خارجہ کا تعلق بہت اہم ہے اور اس پر بھرپور توجہ دی جانی چاہیے۔ میں جیمز جونز (قومی سلامتی کے مشیر) اور رابرٹ گیٹس (وزیر دفاع) کے ساتھ بھی پوری توجہ سے کام کرتی ہوں۔ مگر یہ پورا معاملہ گلنی کا سا ہوتا ہے۔ حقیقی اور اہم فیصلے وائٹ ہاؤس ہی میں ہوتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ وزیر خارجہ نے صدر سے کچھ کہا اور انہوں نے فوری طور پر کوئی فیصلہ کرلیا۔ انہیں قائل کرنا پڑتا ہے، تمام معاملات سمجھانے پڑتے ہیں، سیاق و سباق سے ہٹ کر کیے جانے والے کوئی بھی فیصلے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔ میں ہفتے میں ایک مرتبہ صدر سے ون آن ون ملاقات کرتی ہوں مگر ان سے دوسری میٹنگز میں بھی ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

ہنری کسنجر: میں بھی اس امر سے اتفاق کرتا ہوں کہ صدر اور وزیر خارجہ کے درمیان تعلق بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ دفتر خارجہ اس بات پر مصر رہتا ہے کہ اسے خارجہ پالیسی پر پوری طرح عمل کرنا چاہیے۔ یہ طریقہ میرے نزدیک اچھا نہیں۔ جب کسی بات پر اصرار کیا جاتا ہے تو اس کا مفہوم صرف یہ ہے کہ بیورو کریٹک سطح پر جنگ میں ہار ہوگئی ہے۔ جب صدر واشنگٹن میں ہوتے تھے تو میں ان سے روز ملتا تھا کیونکہ میرا خیال تھا کہ مختلف اہم معاملات پر ہماری رائے اور خیالات میں ہم آہنگی ناگزیر تھی۔ میں نے جن دو صدور کے ساتھ کام کیا ان سے میرا تعلق قریبی نوعیت کا تھا۔ امریکی وزرائے خارجہ کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو یہ تعلق خصوصی لگتا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر صدر اور وزیر خارجہ کے درمیان تعلق قریبی نہیں ہے تو پھر وہ کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

ہیلری کلنٹن: مجھے اس وقت جو سب سے مشکل مرحلہ لگتا ہے وہ غیر معمولی سفر ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹیلی مواصلات کا دور ہے۔ اب سفر کرنے اور کسی بھی میٹنگ میں خود بہ نفس نفیس شریک ہونے کی ضرورت نہیں۔ سچ یہ ہے کہ کسی بھی معاملے میں بات اسی وقت بنتی ہے جب آپ وہاں بہ نفس نفیس موجود ہوں۔ لوگ موجود رہنے کی اہمیت کو آج بھی نظر انداز نہیں کرتے۔

ہنری کسنجر: ایسا اس لیے ہے کہ جب آپ خود کہیں موجود ہوں تو بہتر طور بتا سکتے ہیں کہ کیا سوچا جارہا ہے۔ تمام باتیں الیکٹرانک پیغامات کے ذریعے بتائی اور سمجھائی نہیں جاسکتیں۔

ہیلری کلنٹن: اس میں کوئی شک نہیں اور پھر میڈیا بھی کچھ کا کچھ بنا دیتا ہے۔ میڈیا میں بیان کی جانے والی بہت سی باتیں فیصلہ سازی کے عمل میں کہیں بھی نہیں پائی جاتیں۔ دنیا بھر میں لوگ میڈیا کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔ کہیں بھی جانا، دوسروں کی بات سننا، اپنی بات بیان کرنا، وضاحت پیش کرنا اور مطمئن کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ میں یہ کام کر رہی ہوں اس لیے مجھے مشکلات کا اندازہ ہے۔ صدر کا اعتماد حاصل ہو تو کام بہت آسان ہو جاتا ہے۔ مشاورت کے بعد کہیں جانا اور پالیسی کے مطابق بات کرنا قدرے معمول کا سا کام لگتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ملک اپنے مفادات کی روشنی ہی میں اہم فیصلے کرتا ہے مگر جب آپ محنت کریں اور مختلف معاملات کی توضیح کریں تو قومی مفادات کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ممکن ہو جاتا ہے۔ ایسے میں مشترکہ گراؤنڈ تلاش کرنا مشکل نہیں رہتا۔ اگر کسی سے ذاتی سطح پر تعلق قائم ہو جائے اور وہ آپ پر بھروسہ کرے تو بہت سی مشکلات دور ہو جاتی ہیں اور وہ آپ کی بات پر یقین کرتے ہوئے اسے درست تسلیم کرنے میں دیر نہیں لگاتا۔ قائدین اور ریاستوں کے درمیان تعلقات میں افہام و تفہیم کی بہت اہمیت ہے۔ اس سے غلط فہمیاں دور کرنے میں مدد ملتی ہیں۔ دوسروں کے نقطہ نظر کو نظر انداز نہ کرنے کی بھی اہمیت کم نہیں۔

ہنری کسنجر: بین الریاستی تعلقات کو سمجھنے میں خاصی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بارہا ایسا ہوتا ہے کہ کسی ملک کا مفاد بہت واضح طور پر سامنے نہیں آتا اور ہمیں معاملات اپنی فہم کے مطابق سمجھنا پڑتا ہے۔ بین الریاستی معاملات میں کسی بھی دوسری چیز سے پہلے اعتماد پیدا کرنا پڑتا ہے تاکہ جب مذاکرات ہوں یا کوئی بحران ابھرے تو آپ کی بات کو سمجھنا آسان ہو۔ وزیر خارجہ کے لیے ایک بڑی مشکل یہ بھی ہوتی ہے کہ جب وہ سفر کرتا ہے تو پریس والے ساتھ ہوتے ہیں۔ وہ فوری نتائج چاہتے ہیں کیونکہ فوری نتائج ہی سے ان کا دورہ کسی مفہوم سے آشنا دکھائی دیتا ہے۔ آپ کے لیے کبھی کبھی بہترین نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو اور اگلی ملاقات کے لیے بھرپور اعتماد کی فضا قائم رہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ آپ کا بھی ایسا ہی تجربہ ہے یا نہیں۔

ہیلری کلنٹن: میرا بھی کچھ ایسا ہی تجربہ ہے۔

نیوز ویک: جب آپ دفتر میں ہوں یا سفر کر رہے ہوں تب کیا نظریہ کام کر رہا ہوتا ہے؟

ہیلری کلنٹن: خارجہ پالیسی کے نظریے کے معاملے میں تو ہنری ماہر کا درجہ رکھتے ہیں۔ میں تو ماضی کے تجربات اور تاریخ سے سبق سیکھتی ہوں۔ چند ایک اصول ایسے ہیں جن کا خیال رکھنے کی صورت میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے الگ اپروچ درکار ہوتی ہے۔ کسی بھی موقع کو شناخت کرنے کے لیے تخلیقی جوہر کا ہونا بنیادی شرط ہے۔ حالات کے مطابق درست ریسپانس ہی معاملات کو درست کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جو کچھ ہم سمجھ پاتے ہیں پھر وہی نظریاتی ڈھانچے یا سانچے کے مطابق تبدیل ہوکر موزوں شکل اختیار کرتا ہے!

ہنری کسنجر: میں نے پروفیشنل کیریئر کا آغاز پروفیسر کی حیثیت سے کیا تھا اس لیے مجھے نظریات اور نظریاتی ڈھانچوں کا زیادہ خیال رہتا تھا۔ مگر خیر پروفیسرز کو بھی اپنے نظریات عملی زندگی اور حقائق کے مطابق تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ لوگ اس بات کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے کسی بھی مسئلے کو حل کرنا قدرے آسان ہوتا ہے۔ صرف لکھنا ہی تو ہوتا ہے۔ وزیر خارجہ کی حیثیت سے کام کرنے والوں کو اندازہ ہوتا ہے کہ کوئی بھی مسئلہ چٹکی بجاتے ہی حل نہیں ہو جاتا بلکہ بتدریج آگے بڑھنا پڑتا ہے۔

نیوز ویک: آپ دونوں کو وزیر خارجہ کی حیثیت سے ایسا زمانہ ملا جب ملک حالت جنگ میں تھا اور ہے۔ جنگ کی صورت حال سفارت کاری میں کس نوعیت کی پیچیدگیاں پیدا کرتی ہے؟

ہیلری کلنٹن: میں صرف ایک سال کے تجربے کی بنیاد ہی پر کچھ بتاسکتی ہوں جس کے دوران صدر اوباما کو وراثت میں ملنے والی جنگوں کے بارے میں ایسے فیصلے کرنے پڑے جو دراصل ان کے نہیں تھے بلکہ انہوں نے ان فیصلوں کا صرف اعلان کیا۔ میں انہیں اس بات کے مارکس ضرور دوں گی کہ انہوں نے کچھ وقت لیا، چند اہم فیصلے کیے تاکہ بہتر انداز سے کام کرنے کے قابل ہوسکیں۔ صدر اوباما نے جو کچھ کیا ہے اس کی بنیاد ہی پر ہم آج سخت سوال پوچھنے کی پوزیشن میں بھی ہیں۔ عراق میں جنگ کی بساط لپیٹی جارہی ہے۔ وہاں سے فوجی بھی بڑی تعداد میں واپس آئیں گے تاہم دفتر خارجہ اور بین الاقوام ترقی کے امریکی ادارے یو ایس ایڈ کی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوجائے گا۔ میں اس کی ایک واضح مثال پیش کرتی ہوں۔ عراق میں امریکی فوج مقامی پولیس کو تربیت دے رہی ہے۔ ان کے پاس افراد ی قوت کی کمی ہے نہ مالی وسائل کی۔ پولیس کے لیے فنڈز کی فراہمی کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رکھنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ عراق کے حوالے سے مجھے بھی ذمہ داری سنبھالنی ہے۔ یہ کوئی آسان کام نہیں۔

افغانستان میں ہم سب ایک طویل عمل کا حصہ تھے جس کا مقصد یہ طے کرنا تھا کہ مل کر کام کس طورکرنا ہے۔ عسکری اور غیر عسکری دونوں سطحوں پر یہ متفقہ رائے پائی جاتی تھی کہ صرف طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے۔ یہ نتیجہ فطری سا ہے مگر اس کی کوکھ سے کئی ایسے سوالات جنم لیتے ہیں جن کے جواب دفتر خارجہ اور یو ایس ایڈ کو دینے پڑتے ہیں۔ محکمہ دفاع میں رہتے ہوئے فنڈز کا حصول کوئی مسئلہ نہیں۔ دفتر خارجہ اور یو ایس ایڈ میں فرائض کی انجام دہی کے دوران کسی بھی معاملے میں فنڈز کا حصول درد سر سے کم نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بجٹ آپ کے لیے مختص کیا گیا ہے اس کا ایک بڑا حصہ افغانستان اور عراق کے لیے مختص ہوکر رہ جاتا ہے۔ دوسری جانب پاکستان میں سویلین سیٹ اپ کی مدد کے لیے بھی فنڈز مختص کرنے کا معاملہ ہے۔ امریکی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ بجٹ کے حوالے سے حکومت مشکلات محسوس کر رہی ہے۔ ایسے میں فنڈز کا حصول آسان نہیں۔ جنگ کی صورت حال اسی نوعیت کا دباؤ پیدا کرتی ہے، جب ہمارے نوجوان یونیفارم میں میدان جنگ کا رخ کرتے ہیں تو سویلینز کو بھی ان کا ساتھ دینا پڑتا ہے۔ اگر امریکا طے کرلے کہ جنگ کے بعد افغانستان کے زرعی شعبے کو مستحکم کرنے میں مدد کی جائے گی تو جنگ کے ختم ہوتے ہی امریکی زرعی ماہر وہاں دکھائی دے گا۔ ایسی صورت حال میں کام تھوڑا سا پیچیدہ ہو جاتا ہے اور ذمہ داری بڑھ جاتی ہے۔

ہنری کسنجر: امریکا نے حالت جنگ میں جو تیس چالیس سال گزارے ہیں ان حالات کے تجزیے اور ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ امریکا کے لیے ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جب جنگ اپنے ہی وطن میں متنازع ٹھہرتی ہے۔ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس بات کو یقینی بنائیں کہ طریق کار خواہ کچھ ہو، جنگ کی حیثیت متنازع نہ ہو پائے۔ ہمیں اس مفروضے کے ساتھ کام شروع کرنا پڑے گا کہ جو انتظامیہ جنگ شروع کرتی ہے وہی اسے ختم بھی کرنا چاہتی ہے۔

ہیلری کلنٹن: بالکل ٹھیک۔

ہنری کسنجر: جنگ میں حکومتِ وقت کا سب کچھ اور دوسروں سے کہیں زیادہ داؤ پر لگا ہوتا ہے۔ ویت نام، عراق اور دیگر بہت سی مثالوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی کبھی محض جنگ روک دینا ہی سب سے بڑا مقصد ہوتا ہے اور اسے افواج واپس بلانے پر بھی محمول کرلیا جاتا ہے۔ لوگ ایگزٹ اسٹریٹجی وضع کرتے رہتے ہیں۔ بہترین ایگزٹ اسٹریٹجی تو یہ ہے کہ آپ جنگ کے میدان سے فاتح کی حیثیت میں واپس آئیں۔ سفارت کاری بھی جنگ سے باہر آنے کا اچھا طریقہ ہے۔ اگر آپ جنگ سے باہر آنے کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ افواج کو واپس بلالیا جائے تو پھر آپ نے سیاسی مقاصد اور اہداف کو یقیناً نظر انداز کردیا ہے۔ ان حالات میں آپ کی پوزیشن ایسی ہو جاتی ہے کہ افواج واپس بلانے پر شدید نکتہ چینی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انتظامیہ کے بارے میں میرا نقطہ نظر یہی ہے، چاہے تمام امور پر مجھے اتفاق ہو یا نہ ہو۔ ہیلری نے جس دوسرے نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا تعلق سویلین انتظامیہ سے ہے اور جنگ کو بالآخر ایک اور یعنی تیسرے نکتے کی بھی راہ ہموار کرنی پڑتی ہے۔ اور یہ ہے سفارت کاری سے پیدا ہونے والے نتائج۔ جنگ کی کوکھ سے جو کچھ بھی برآمد ہو اسے قبول کرنا پڑتا ہے۔ افغانستان کی جنگ کا جو بھی نتیجہ برآمد ہو اسے لازمی طور پر قبول کرنا پڑے گا۔ اس کے لیے ایک بین الاقوامی لیگل فریم ورک بھی بنانا پڑے گا۔ وزیر خارجہ کے لیے یہ بہت بڑا چیلنج ہے۔ جس قدر بھی بحث ہو وہ اس فریم ورک کے تحت ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اوباما انتظامیہ افغان جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتی ہے۔ اور کیوں نہ چاہے؟

نیوز ویک: عوام کے ذہن ایک تصور یہ بھی ہے کہ پہلے سفارت کاری ہوگی اور اس کے بعد طاقت کے استعمال تک نوبت پہنچے گی۔ افغانستان اور عراق میں لڑی جانے والی جنگ اور اس کے ساتھ ساتھ ایران سے بہتر طور پر نمٹنے کے بارے میں آپ ووٹرز کو کیا پیغام دینا پسند کریں گی؟

ہیلری کلنٹن: ووٹرز پر یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہم افغانستان میں فوج ضرور بھیجیں گے تاہم ساتھ ساتھ سفارت کاری کو بھی آزمایا جاتا رہے گا۔ افغان عوام کو مختلف بنیادی خدمات کی فراہمی جاری رہے گی تاکہ طالبان کے اثرات کم کرنے میں خاطر خواہ مدد مل سکے۔ تمام معاملات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔

ہنری کسنجر: جب کوئی سفارتی فورم قائم کیا جاتا ہے تو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ فریق ثانی کوئی بھی نتیجہ چند ایک فوائد اور بہت سے نقصانات کے تقابل کے بعد ہی اپنائے گا۔ مذاکرات کار کی اہلیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی کمزور اور نا اہل مذاکرات کار یہ کہنا شروع کردے کہ وہ اصولوں پر سمجھوتے کے لیے تیار ہے۔ اصولوں پر سمجھوتے کے لیے رضامند ہونے کا صرف تاثر دیجئے اور پھر دیکھیے کہ کس طرح ڈیڈ لائنز کھنچی چلی آتی ہیں! شمالی کوریا کے معاملے میں ہمیں ایسے ہی چیلنج کا سامنا ہے۔ دس سال تک شمالی کوریا نے ہماری بات ماننے سے انکار کیا ہے۔ سفارت کاری، دفتر خارجہ اور دیگر سیاسی سرگرمیوں کو باہم مربوط ہونا چاہیے۔ ہمارے بارے میں کوئی بھی تاثر ہمارے مذاکرات کاروں کے ذریعے ملنا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس اعتبار سے ہیلری کلنٹن کے کرنے کے لیے بہت کچھ ہے۔

ہیلری کلنٹن: ٹھیک ہے مگر یہ معاملہ تنہا چلنے سے کہیں زیادہ محض کنڈکٹ کرنے والے کا ہے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’نیوز ویک‘‘۔ ۴ جنوری ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*