زمین‘ کرۂ انسانی اور ان کے نشوونما کی تاریخ

تکافومی مٹسوئی نے زمین کی ابتدا اور اس کی نشوونما کی تاریخ سے متعلق اپنے فلسفے کی بنیاد پر لوگوں کی توجہات اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ ان کا یہ فلسفہ ۱۹۸۶ء میں معاصر “Nature” میں شائع ہوا تھا۔ ان کی حالیہ کوششیں سائنس اور فلسفہ کے شعبوں کو متحد کرنے کے حوالے سے ہے۔ یہ ٹوکیو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں اور ان کا خاص مضمون Comparative Planetology ہے۔

Interview from Takafumi Matsui by Hisashi Kondo


ہساشی: زمین کئی ارب سال پرانی ہے‘ Planetology جس میں آپ کی اسپیشلائزیشن ہے‘ کے تقابل و تناظر میں ہم آج کس قسم کے دور میں زندہ ہیں؟

تکافومی: جدید دور کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ انسانی وجود خلا سے اب قابلِ دید ہے۔ ہم خود اس کا مشاہدہ کر سکتے ہیں اُن سٹیلائٹ تصاویر کے ذریعہ جو خلا سے ہمارے پلینٹ کی اتاری گئی ہیں۔ زمین کے اس حصے میں جس پر سورج کی روشنی پڑتی ہے یعنی دن کی روشنی میں انسانی وجود کا واضح مشاہدہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال زمین کے تاریک حصے میں چمکتی ہوئی روشنیوں کا سمندر نظر آتا ہے۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ نوعِ انسانی ان عناصر میں کی ایک ہے جس سے وہ چیز تشکیل پاتی ہے جسے زمینی نظام (Earth System) کہا جاتا ہے اور یہ کہ ہم نے اپنا ’’انسانی کرہ‘‘ (Human Sphere) تخلیق کیا ہے جو اس نظام پر اثرانداز ہوتا ہے۔ چنانچہ زمین کی تاریخ کے سیاق میں مَیں یہ کہوں گا کہ جدید دور ایک ایسا دور ہے جہاں نیا انسانی کرہ سامنے آیا ہے جس نے زمینی نظام کی بناوٹ کو بہت حد تک تبدیل کر دیا ہے۔

ہساشی: زمینی نظام اور کن دوسرے عناصر کا مجموعہ ہے؟

تکافومی: بہت سے طبیعاتی عناصر ہیں جو زمین کو ایک سیارہ کی شکل دیتے ہیں۔ ان میں پہلا مقناطیسی دائرہ ہے پھر پلازمہ دائرہ جہاں آئنائزڈ (منفی و مثبت) ذرے جمع ہوتے ہیں پھر اس کے بعد فضا ہے جو مختلف گیسوں کا مجموعہ ہے‘ پھر Hydrosphere ہے جو براعظمی (Continental) و سمندری (Oceanic) خولوں (Crusts) پر مشتمل ہے۔ ان براعظمی خولوں کے اوپر مٹیاں ہیں جہاں پودے اُگتے ہیں اور دوسرے جاندار نشوونما پاتے ہیں۔ زمینی نظام کی یہ بیرونی تہیں حیاتی کرہ (Biosphere) کہلاتی ہیں۔ اس لیے کہ سمندروں میں زندگی پائی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ بھی حیاتی کرہ کے جزو کو تشکیل دیتے ہیں۔ براعظمی اور بحری خولوں کے نیچے ہمیں ایک چادر (Mantle) کی دریافت ہوئی پھر ہمیں اس کے نیچے مغز یا مرکز (Core) کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ سب ملکر مجموعی طور سے ایک ’’زمینی نظام‘‘ تشکیل دیتے ہیں۔ مزید سمجھنے کے لیے زمینی نظام کو مختلف صندوقوں (Boxes) کا ایک سلسلہ قرار دیا جاسکتا ہے جہاں ایٹماسفیئر‘ ہائیڈرواسفیئر‘ کرسٹ اور بایو اسفیئر وغیرہ سب الگ الگ ایک صندوق ہیں۔ صندوقوں کے مابین انرجی اور مٹیریلز کے ذریعہ تعلقات کو نشوونما دیا جاسکتا ہے‘ ایک مجموعی اور واحد نظام ’’زمینی نظام‘‘ کے تحت ہم اپنے زمانۂ حال میں ایک صندوق کا اور اضافہ کر سکتے ہیں اور وہ انسانی کرہ (Human Sphere) ہے۔

ہساشی: یہ تازہ ترین تبدیلی کب واقع ہوئی؟

تکافومی: نوعِ انسانی اپنے آغاز کا ستر لاکھ سال پہلے پتا لگا سکتی ہے لیکن اس کا آغاز انسانی کرہ کے آغاز کا زمانہ نہیں ہے۔ ابتدائی انسان شکاریوں کے طرزِ زندگی کے حامل تھے جو کہ بن مانس سے مختلف تھے۔ لیکن نوعِ انسانی کا ظہور حیاتی کرہ کے اندر ایک نئی مخلوق کی ابتدا تھی۔ زمینی نظام پر اس کا کوئی اثر نہیں تھا۔ دوسرے جانور بھی شکار کرتے ہیں اور اجتماع کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ مخصوص طریقۂ زندگی انسانوں کو کسی خصوصی مقام کا حامل قرار نہیں دیتا تھا۔ تبدیلی اس وقت رونما ہوئی جب انسان نے لائیو اسٹاک کی فارمنگ کا آغاز کیا اور درختوں کو کاٹنے لگے تاکہ کاشت کاری کے لیے زمین مہیا کی جاسکے۔ ان سرگرمیوں سے زمینی نظام میں انرجی اور مٹیریلز کا بہائو متاثر ہوا۔ کاشت کی ہوئی زمین اور جنگلات عظیم فرق کے ساتھ شمسی توانائی منعکس کرتے تھے۔ جنگل کے علاقوں کو کاشت کی زمین میں تبدیل کر کے انسان نے شمسی توانائی کا بہائو تبدیل کر دیا۔ جب جنگلوں میں بارش ہوئی تھی تو بارش کا پانی یہاں کافی دیر تک ٹھہرتا تھا اور یہ بتدریج زمین کے اندر جذب ہوتا تھا جو کہ زیرِ زمین آبی ذخائر کا ذریعہ ثابت ہوتا تھا۔ جب کاشت کی زمین پر بارش ہونے لگی تو یہ اپنے ساتھ زمین کی اوپری سطح کی مٹی لے کر بہہ جاتی۔ درختوں کا گرایا جانا اور کاشت کی زمین کا تیار کیا جانا سبب بنانا اس بات کا کہ مٹیریل اور انرجی کا بہائو یکسر تبدیل ہو جائے۔ اس کے نتیجے میں زمینی نظام کے ترکیبی عناصر کے مابین روابط و تعلقات میں بھی تبدیلی آئی۔ بنیادی تبدیلی اس وقت آئی جب تقریباً دس ہزار سال قبل انسان نے کاشت کاری اور لائیو اسٹاک کا کام شروع کیا۔ یہیں سے انسانی کرہ (Human Sphere) کا حقیقی آغاز ہوا۔

ہساشی: اس کے بعد سے کیا تبدیلی آئی ہے؟

تکافومی: ان قوتوں پر غور کرتے ہوئے جو زمینی نظام کو چلاتے ہیں ہم انسانی کرہ کے نشوونما کو دو مراحل میں تقسیم کر سکتے ہیں۔ پہلا مرحلہ وہ جبکہ انسانی کرہ سورج سے خارج ہونے والی انرجی اور مٹیریلز پر منحصر تھا۔ انسانی کرہ اس وقت ترقی کر گیا جب کاشت کاری اور لائیو اسٹاک فارمنگ نے انرجی اور مٹیریلز کے بہائو کو تبدیل کر دیا۔ لیکن اصلاً ہوا یہ کہ انرجی اور مٹیریلز کے بہائو کا وہ حصہ انسانی کرہ کی جانب منتقل ہو گیا جو اس کی برقراری کا سبب بنا۔ انسانی کرہ نے زمینی نظام کے انرجی اور مٹیریلز کے بہائو کو استعمال میں لیا‘ نظام میں کوئی بڑی تبدیلی لائے بغیر ہی۔ اس کی ایک اچھی مثال جاپان میں دیکھی جاسکتی ہے جو ایڈو دور (۱۸۶۸۔۱۶۰۳) کی ہے۔ کاشت کی صنعتوں نے کھانے اور توانائی کے ذرائع فراہم کیے۔ سالانہ فصل سال کی شمسی توانائی اور بارش کا نتیجہ ہوا کرتی تھی۔ حرکت کے لیے توانائی کا ذریعہ انسانی قوت گھوڑے کی قوت ہوا کرتی تھی۔ انسانی کرہ کے اس مرحلے پر زمینی نظام کے اندر انرجی اور مٹیریلز کا سالانہ بہائو متعین (Fixed) رہا۔ اس بہائو کا ایک حصہ انسانی کرہ کی طرف منتقل ہو گیا‘ اسے اسی سائز پر باقی رکھتے ہوئے زمینی نظام کے اندر اس بہائو نے انسانی کرہ کا سائز متعین کیا اور سیارے کے نظام پر بحیثیتِ مجموعی اس کا اثر بہت تھوڑا تھا۔ انسانی کرہ کی ترقی کا اگلا مرحلہ یہ تھا کہ اب اس کا انحصار انرجی اور مٹیریلز کے فطری بہائو پر نہیں بلکہ ان کی ذخیرہ اندوزی پر تھا۔ انسان نے ان قوتوں پر کنٹرول حاصل کر لیا تھا جو کرۂ انسانی کو حرکت دیا کرتے تھے اور اس طریقے سے انرجی اور مٹیریلز کے بہائو پر بھی اس نے کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس مرحلے پر انسان نے زمینی نظام پر اپنا روز افزوں اثر ڈالنے کا آغاز کیا۔ یہ مرحلہ اپنے عروج کو پہنچ گیا جب صنعتی تہذیب ایک صنعتی انقلاب کے نتیجے میں پیدا ہوئی جو کہ انرجی اور پاور کا انقلاب تھا۔ جیمس واٹ کے اسٹیم انجن دریافت کرنے کے بعد زیرِ زمین ایندھن مثلاً کوئلہ اور تیل انسانی کرہ کو حرکت میں لانے والی قوت قرار پائی۔ زیرِ زمین ایندھن (Fossil Fuels) توانائی کے ذخائر ہیں جو ایک طویل مدت کے دوران تشکیل پاتے ہیں۔ زیرِ زمین ایندھن کو استعمال کر کے انسان نے زمین کے دوسرے حصوں سے اسٹاک کشید کر کے جمع کیا اور انہیں بڑی مقدار میں انسانی کرہ پر لایا۔ یہ وہ طریقہ تھا جسے اپنا کر انسان نے انسانی کرہ کے اندر قوتِ محرکہ (Driving Force) پر کنٹرول حاصل کیا اور یوں وہ اس لائق ہو سکا کہ زمینی نظام کے اندر وہ انرجی اور مٹیریل کے بہائو کو بڑی حد تک تبدیل کر سکے۔ اس نے موثر طور پر پورے پلینٹ کو تبدیل کر دیا۔ جوں ہی انسانی کرہ اسٹاک پر انحصار کی جانب بڑھا مٹیریلز کی سرکولیشن زمین پر تیز ہو گئی۔ اس سے قبل مٹیریلز Tectonic Plates کی حرکتوں کے ذریعہ یا گِھس جانے کے عمل (Erosion) یا ندی یا سمندر کے ذریعہ ادھر لے جایا جاتا تھا۔ لیکن جب مال برداری کا کام کارگو شپ کے ذریعہ ہونے لگا تو زمینی نظام کے اندر سامان کی گردش کی مقدار اور رفتار بھی یکدم سے تبدیل ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گردش پر کنٹرول کے ساتھ ہی انسان کو مکمل آزادی مل گئی کہ وہ اپنی مرضی سے انرجی اور مٹیریلز کو انسانی کرہ میں لاسکے۔ ان دونوں مراحل کا اہم فرق یہ ہے کہ دوسرے مرحلے میں انسان دوسرے کروں کے اسٹاک پر قابو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا جس کی وجہ سے انرجی اور مٹیریلز کا بہاء انسانی کرہ میں تیز ہو گیا۔ اس نے انسان کو اپنا حجم پھیلنے پر بھی اپنے آپ کو باقی رکھنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ یہی انسانی کرہ کی موجودہ صورتِ حال ہے۔

ہساشی: انسانی کرہ کس رفتار سے پھیلا ہے؟

تکافومی: انسانی کرہ کے حجم کو ناپنے کے بہت سارے طریقے ہیں۔ ایک طریقہ تو وزن کی شکل میں سوچنا ہے۔ ہم انسانی کرہ کے وزن کا اندازہ زمین کی کل آبادی کو ایک آدمی کے اوسط وزن سے ضرب دے کر لگا سکتے ہیں۔ زمین کی آبادی بیسویں صدی کے آغاز میں ڈیڑھ ارب تھی لیکن اس وقت یہ ۶ ارب ہے۔ آبادی سو سالوں میں چار گنا ہو گئی ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ نصف صدی میں آبادی دوگنی ہو گئی۔ اگر ہم اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو انسانی کرہ کا وزن زمین کے اس کل وزن کے برابر ہو جائے گا جو ۲۰۰۰ سال کے عرصے میں اس کا رہا ہے۔ یہ صورتحال یقینی طور سے بالکل ناقابلِ برداشت ہے۔ زمینی نظام کے دوسرے علاقے وقت کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں جیسا کہ مٹیریلز Erosion اور Tetonic Movements کے ذریعہ آگے بڑھتے ہیں۔ میرا اندازہ یہ ہے کہ زمینی نظام کے کسی دوسرے کرہ کو تبدیل ہونے میں ایک لاکھ سال کا عرصہ لگے جبکہ اتنی ہی تبدیلی بیسویں صدی کے دوران زمینی کرہ میں ایک سال کے اندر آئی۔ انسانی کرہ دس ہزار سال سے موجود ہے۔ اس عرصے میں اس نے زمینی نظام پر بہت بڑے پیمانے پر اپنا اثر ڈالا ہے۔ جبکہ Hydrosphere اور Biosphere کو زمینی نظام پر اس حد تک اثر انداز ہونے میں اربوں سال کا عرصہ لگے گا۔

ہساشی: کیا زمین اُن دبائو کو سہارا دے سکتی ہے جو نظام پر مسلط ہوتے ہیں؟

تکافومی: ہم ایسا تاثر رکھ سکتے ہیں کہ پورا سیارہ تباہ ہو جائے گا اگر ہم اس کی حفاظت نہیں کریں گے؟ لیکن معاملہ حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔ اگر ہم سطح زمین پر ماحولیات کی تباہی کا سامان کرتے ہیں تو اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ ہم زمین پر زندہ نہیں رہیں گے‘ مر جائیں گے۔ اگرچہ بالآخر زمینی ماحول صحیح حالت پر واپس آجائے گا۔ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ڈائنا سور کے ناپید ہونے میں یہی کچھ ہوا۔ ڈائنا سورس نے ماحول کو آلودہ نہیں کیا۔ ان کا خاتمہ اس وجہ سے ہوا کہ بھاری مقدار میں شہابیے (Meteorites) گرے جس نے ڈرامائی طور پر ماحول کو تبدیل کر دیا۔ یہ تبدیلی اس تبدیلی سے کہیں زیادہ سنگین نوعیت کی ہے جس کا مشاہدہ ہم آج کی ماحولیات میں کر رہے ہیں۔ لاکھوں سال بعد زمین اس تبدیلی کو جذب کر گئی جو میٹورائٹس کے اثرانداز ہونے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ زمین میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی ٹھیک حالت پر واپس آجائے۔ زمینی کرہ کا وجود ہی ماحولیات پر اثرانداز ہوتا ہے لہٰذا یہ قدرے بے معنی بات ہے کہ ہم عالمی ماحولیاتی مسائل پر Environmental Friendliness یا Spaceship Earth جیسے انسانی افکار کو موضوعِ بحث بنائیں۔ میرا خیال ہے کہ اگر ہم انسان کو مرکز تصور کرنے والے خیالات سے وابستہ رہتے ہیں جیسا کہ فی الحال ہے تو ہم انسانی کرہ (Human Sphere) کو مزید سو سال یا کم و بیش Maintain رکھنے میں کامیاب رہیں گے۔

ہساشی: وہ کون سا سب سے بڑا مسئلہ ہے جو انسانی کرہ سے پیدا ہوتا ہے؟

تکافومی: میرا خیال ہے کہ ہم اس فریب میں مبتلا ہیں کہ انسانی کرہ ہمیشہ پھیلتا ہی رہے گا۔ انسانی کرہ انسانی تہذیب کی دس ہزار سالہ مختصر تاریخ میں بہت تیزی سے بڑھا ہے۔ یہ موجودہ سطح کو پہنچ گیا ہے لیکن یہ لامتناہی انداز میں بڑھنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا۔ تبدیلی کی رفتار سے نمٹنے کی صلاحیت انسان میں محدود ہے۔ زندہ وجود ہونے کی حیثیت سے ہم کچھ کیمیائی ری ایکشنز سے کنٹرول ہوتے ہیں جو ایک خاص مدت میں سامنے آتے ہیں۔ انسانی جسم کتنا ہی پھرتیلا کیوں نہ ہو‘ ایک وقت آتا ہے‘ جب انرجی اور مٹیریلز کے بہائو میں مزید تیزی جسمانی طور سے ناممکن ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ہم نے Cyber-world کی تعمیر کی‘ جہاں ہم افراط کا تعاقب حقیقی دنیا کے مقابلے میں زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ کر سکیں گے۔ اس کی ایک مثال بین الاقوامی مالیات کی دنیا ہے۔ اس دنیا کا وجود کرنسیوں کی خرید و فروخت کے ذریعہ قائم ہے۔ یہ کوئی ٹھوس چیز نہیں ہے بلکہ صاف بات یہ ہے کہ یہ دھوکے کی ساجھے داری (Shared Illusion) ہے۔ شامل رقم تقریباً کئی گنا زیادہ ہے اس رقم سے جو سامان اور مصنوعات کی تجارت میں شامل ہے۔ اس طرح کی دھوکے کی ساجھے داری کے تیزی سے پھیلنے کا امکان Cyber-world میں ہوتا ہے۔ لیکن حقیقی دنیا میں افزائش کے فزیکل حدود ہیں۔ بہرحال انسانی کرہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ ہم فریب میں یقین کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں یعنی یہ کہ ہم اسی طرح تیزی سے پھیلتے رہیں گے اور وقت کی تبدیلی کی رفتار کو ہم مزید تیز کر دیں گے۔ مریخ اور زہرہ کے ماحول کو تبدیل کرنے کے حوالے سے ہم حالیہ عزائم کو دیکھیں۔ ہم اس کوشش میں ہیں کہ ان کا ماحول زمین سے مشابہ ہو جائے۔ یہ فریب کی دوسری مثال ہے کہ جس کی وجہ سے ہم یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم تیزی سے پھیلنے کا سلسلہ مزید جاری رکھ سکتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ جس سے ہم دوچار ہیں‘ میرے خیال میں انسانی کرہ کو پھیلانے کی متواتر کوشش ہے‘ اور وہ بھی دھوکے کی ساجھے داری (Shared Illusion) پر کسی قسم کا سوالہ نشان لگائے بغیر۔

ہساشی: انسانی کرہ (Human Sphere) کی حقیقت کے پیشِ نظر ہمیں کس قسم کی تہذیب کو اپنا مقصد بنانا چاہیے؟

تکافومی: انسانی آرزوئوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ یہ ہمیشہ روز افزوں ہے۔ انسانی کرہ کی تاریخ توسیع کی تاریخ ہے تاکہ ان آرزوئوں کو پورا کیا جاسکے۔ بہرحال جب آپ انسانی کرہ میں توسیع کی حدود کو پہنچتے ہیں تو آپ اسی انداز میں فراوانی کے حصول کی کوشش کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتے۔ اس نکتے پر ہمیں ’فراوانی‘ (Affluence) کے مطلب پر غور کرنا چاہیے۔ ہم فراوانی کا مطلب یہ سمجھتے ہیں کہ چیزیں ہماری تحویل میں ہوں۔ لیکن چیزوں کو تحویل میں لینے کے حوالے سے ہمیں اپنے رویے پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا واقعی ہمارے لیے ضروری ہے کہ زندہ رہنے کے لیے ہم چیزوں کو تحویل میں لیں؟

درحقیقت ہمیں ان سرگرمیوں کی ضرورت نہیں ہے جو مصنوعات کی ہیں بلکہ خود مصنوعات کی ضرورت ہے۔ برقی سامان‘ موٹر گاڑیاں اور گھر ہمیں ان کی افادیت اور کارگزاری کی وجہ سے درکار ہیں نہ کہ فی نفسہٖ یہ چیزیں ہمیں مطلوب ہیں۔ ہمارا اپنا وجود درحقیقت محض مستعار ہے۔ ہم اپنے جسموں کے متعلق سوچتے ہیں کہ یہ خود ہماری ملکیت ہیں۔ لیکن درحقیقت ہم انہیں زمین سے مستعار لیتے ہیں۔ جب ہم مرتے ہیں تو ہم انہیں سپردِ زمین کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے جسم کی افادیت اور کارکردگی کے ذریعہ زندہ رہتے ہیں جو Malerials سے بنا ہے جنہیں زمین ہم کو ادھار دیتی ہے۔ چیزیں اہم نہیں ہیں اس کی افادیت اور کارکردگی اہم ہے۔ لہذا یہ بات سمجھداری کی ہے کہ ہم چیزوں پر ملکیت نہ جتائیں۔ انہیں تو ہم ادھار لیتے ہیں ان کی کارکردگی (Function) سے فائدہ اٹھانے کے لیے۔ جب ہم ان کی کارکردگی سے فائدہ اٹھا چکیں گے تو انہیں واپس کر سکتے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ملکیت کے حوالے سے اس قسم کی سوچ جس کی بنیاد فریب پر نہیں ہے‘ فروغ پاسکتی ہے۔ اگر انسانی کرہ انسانی خواہشات پر کنٹرول کی جانب آگے بڑھتا ہے تو یہ انسانی پیش رفت کی تاریخ میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہو گا۔

(بشکریہ: ’’ایشیا پیسیفک‘‘۔ جاپان)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.