انسانی ڈھانچوں کے سوداگر

مغربی بنگال میں انسانی ڈھانچوں کی فروخت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ بنگال پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے انسانی ہڈیوں اور ڈھانچوں کی غیرقانونی تجارت کو بے نقاب کیا ہے۔ یہ ڈھانچے ان غریب دیہاتیوں کے ہیں جن کے خاندان ان کی لاشوں کو جلا بھی نہیں سکتے یا ان کی لاشوں کو جلانا ان کے بس میں نہیں ہوتا کیونکہ ان کی غربت انہیں اس کی اجازت نہیں دیتی۔ نتیجتاً ان لاشوں کو طبی تحقیق کے لیے بیچ دیا جاتا ہے۔ گذشتہ دنوں افسران نے مغربی بنگال کے دریائے بھاجیراتھی کے کنارے پر قائم ہڈیوں کی فیکٹری پر چھاپہ مارا جہاں درجنوں انسانی ڈھانچے پائے گئے جن پر کیمیاوی مرکبات لگا کر انہیں سوکھنے کے لیے دھوپ میں ڈال دیا گیا تھا۔

ایک دیہاتی مکتی بسواس جو ماضی میں اس تجارت سے منسلک تھا‘ نے پولیس کو بتایا کہ اس نے کئی لاشوں کو دریا سے نکالا تھا جن کے ورثا پیسے نہ ہونے کے باعث دریا میں چھوڑ جاتے تھے۔ ایک چتا جلانے پر نو ہزار روپے خرچ آتا ہے جو لاکھوں غریب ہندوستانیوں کی پہنچ سے باہر ہے۔ اس کی بجائے کئی مفلس خاندان اپنے مردہ رشتہ داروں کی لاشوں کو دریا پر پھینک آتے ہیں جن میں سے کئی کو مقدس بھی خیال کیا جاتا ہے۔ ایسا کرنے والے کو گرفتار نہیں کیا جاتا۔ لیکن پولیس کا کہنا تھا کہ وہ اس تجارت سے منسلک لوگوں کا پورا پھیلا ہوا جال تلاش کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ بردھوان‘ جو کلکتہ کے ۲۰۰ کلو میٹر شمال میں ہے‘ کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس کا کہنا ہے کہ ’’ڈھانچوں کا کارخانہ کہیں نہ کہیں موجود ہے اور ہم اس تجارت کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے کڑی سے کڑی ملا رہے ہیں۔ عام طور پر ہڈیوں کو کلکتہ کے میڈیکل اسکولوں میں بھیجا جاتا ہے جہاں ان ڈھانچوں کو تربیت لینے والے افراد استعمال کرتے ہیں یا مستقبل کے سائنسدان ان پر اپنی مہارت کا ثبوت ثبت کرتے ہیں۔ پولیس ان لوگوں کو انجام کار تک پہنچانے کا تہیہ کر کے سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے‘‘۔

سو اس مشن کی کڑی ان لاشوں سے ملتی ہے جو مسلمانوں کے قبرستانوں سے لاپتا ہو رہی ہیں۔ ایک سال قبل تحصیل بردھوان میں مسلمانوں کے قبرستان سے گیارہ قبریں کھود کر لاشیں غائب کرنے کے واقعات کی اطلاع کلکتہ اور دوسرے اضلاع سے بھی ملیں۔ افسران ان پہلوئوں کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ لاشوں کو غیرقانونی طور پر بنگلا دیش سے بحری جہازوں میں باہر بھیجا جاتا ہے۔ اس کاروبار میں ملوث افراد کو ایک ڈھانچا کے بدلے میں ۳۰ ہزار سے زائد رقم ملتی ہے۔ ڈھانچوں کے سابقہ تاجروں کا کہنا ہے کہ کلکتہ ایک زمانے میں انسانی ڈھانچوں کی برآمد کا مرکز تھا۔ ان ڈھانچوں کو دور دراز علاقوں حتیٰ کہ یورپ تک بھیجا جاتا تھا۔

(بحوالہ نقوش ڈاٹ کام)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*