مغربی بنگال کے مثالی مدارس

گیارہ ستمبر ۲۰۰۹ء کے واقعات کے بعد سے دنیا بھر میں جنوبی ایشیا کے اسلامی مدارس کو شدت پسندوں اور عسکریت پسندوں کی تربیت گاہ اور محفوظ ٹھکانوں کی حیثیت سے بدنام کیا جاتا رہا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ مدرسہ لفظ سنتے ہی خاصے محتاط دکھائی دینے لگتے ہیں۔ ان کے ذہنوں میں یہ بات میڈیا کے ذریعے ٹھونس دی گئی ہے کہ اسلامی مدارس میں صرف شدت پسندی اور انتہا پسندی سکھائی جاتی ہے اور یہ کہ ان مدارس میں تعلیم پانے والے زندگی کے بنیادی تقاضوں کو نبھانے کے قابل نہیں رہتے۔ بھارت کی ریاست مغربی بنگال نے اس حوالے سی غیرمعمولی استثنا کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ اس ریاست کے طول و عرض میں ایسے اسلامی مدارس موجود ہیں جن میں نہ صرف یہ کہ جدید دور کے اصولوں اور تقاضوں کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے بلکہ ماحول اس قدر معیاری اور غیرمتنازع ہے کہ بہت سے غیرمسلم بھی اپنی اولاد کو ان مدارس میں بھیجنے میں کسی نوع کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے۔

واشنگٹن کے بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے بروکنگز دوہا سینٹر (قطر) نے ایک اسٹڈی کے نتائج کی روشنی میں بتایا ہے کہ مغربی بنگال کے مدارس نے اسلامی دنیا کے لیے ایک عمدہ مثال پیش کی ہے۔ ان مدارس میں جدید انداز کے مطابق تعلیم دی جاتی ہے۔ ان سے فارغ التحصیل ہونے والوں کو عملی زندگی میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ پاکستان جیسے ممالک کو ان مدارس کی طرز پر تعلیمی ادارے قائم کرنے چاہئیں تاکہ نئی نسل کو مستقبل کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا ممکن ہو۔ بروکنگز انسٹی ٹیوشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی بنگال کے مدارس نے ثابت کیا ہے کہ قرون وسطی کے مسلم ممالک میں مدارس علم کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کرتے تھے۔ پاکستان جیسے ممالک میں یہ روایت اس لیے کمزور پڑ گئی ہے کہ مدارس کا نظم و نسق جدید تعلیم سے بے بہرہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں آگیا ہے۔

۲۰۰۹ء میں کیے جانے والے ایک سروے کے مطابق مغربی بنگال کی اسلامی مدارس میں تعلیمی معیار اس قدر بلند ہے کہ ہندو والدین بھی اپنے بچوں کو ان میں داخل کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ انہیں اس بات کا یقین ہے کہ مدارس میں ان کے بچوں کو مستقبل کی بہتر تیاری کا موقع ملے گا۔ ہندو‘ عیسائی اور قبائلی بت پرست اسلامی مدارس میں اپنے بچوں کو اسی طرح بخوشی داخل کرتے ہیں جس طرح پاکستان میں عیسائی اسکولوں میں لوگ اپنے بچوں کو داخل کرتے ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ ان اداروں میں تعلیم کا معیار بلند ہے اور نظم و ضبط پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔

مغربی بنگال کے اقلیتوں کی بہبود اور مدرسے کی تعلیم کے وزیر عبدالستار کا کہنا ہے کہ مدارس میں تعلیم پانے والے طلبا میں ۱۷ ؍فیصد غیرمسلم ہیں۔ بعض مدارس میں غیرمسلم طلبا اکثریت میں ہیں۔ ان طلبا کی جدید ترین نصاب اور طریقِ تدریس کی مطابق تربیت کی جارہی ہی تاکہ وہ ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سائنس دان اور میڈیا مین بن سکیں۔ ان مدارس میں تعلیم پانے والے کسی بھی شعبے میں دوسروں سے پیچھے نہیں رہتے۔ مدارس میں جدید ترین نصاب متعارف کرانے پر مغربی بنگال کی کمیونسٹ پارٹی ہر طرف سے داد پارہی ہے۔ مغربی بنگال پر کمیونسٹ پارٹی کے اقتدار کی طویل تاریخ ہے۔ سابق وزیراعلیٰ جیوتی بسو (اب آں جہانی) کی قیادت میں اس ریاست نے مثالی ترقی کی ہے۔ مغربی بنگال میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی بھی برقرار رہی ہے اور معاشرے کے ہر طبقے کو پنپنے کا موقع ملا ہے۔ ریاست میں مدارس کی تعلیمی نظام کو حکومت کی واضح سرپرستی میسر ہے۔ مدارس میں تعلیم پانے والے طلبا کو فیس ادا نہیں کرنی پڑتی۔ انہیں قابل اساتذہ کی خدمات حاصل ہوتی ہیں۔ ان اساتذہ کے زیر سایہ وہ بہتر زندگی کے لیے عمدہ تیاری کر پاتے ہیں۔ ریاست بھر میں ۵۷۶ مدارس ہیں جن میں جدید تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے والے ۴۷۴ ؍اعلیٰ مدرسہ اور اسلامی تعلیمات کو بنیاد بنانے والے ۱۰۲ ؍سینئر مدرسہ شامل ہیں۔ غیرمسلم طلبا کو اسلامی مدارس اور نارمل ہائی اسکولوں میں کوئی بڑا فرق دکھائی نہیں دیتا‘ اس لیے وہ بے فکر ہو کر ان مدارس میں اندراج کراتے ہیں۔ مغربی بنگال بورڈ آف مدرسہ کے صدر سہراب حسین کہتے ہی کہ مدارس کو اب اقلیت کے تعلیمی ادارے قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مدارس میں گیارہ فیصد اساتذہ غیرمسلم ہیں۔ مرکزی دھارے کی تعلیم میں یہ مدارس اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ کل تک بھارت کے ہندو اپنے بچوں کو مدارس سے دور رکھتے تھے کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ ان تعلیمی اداروں میں ان کے بچوں کا دھرم بھرشٹ ہو جائے گا۔ اب یہ تصور ختم ہو چکا ہے۔ چتوس پلی ہائی مدرسہ کے ہیڈ ماسٹر انور حسین بتاتے ہیں کہ ان کے مدرسے میں ایک ہزار طلبا ہیں جن میں ۶۴ فیصد غیرمسلم ہیں۔ اس مدرسے کے ۱۲ ؍اساتذہ میں سے ۴ ہندو ہیں۔ اس مدرسے کے ہندو معلم سپر بھات ڈے کا کہنا ہے کہ کل تک ہندو اساتذہ مدارس میں تعیناتی پر جز بز ہوتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے۔ اس حوالے سے ذہن تبدیل ہو رہا ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’واشنگٹن ٹائمز‘‘ امریکا۔ ۳۱ دسمبر ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.