امام خمینی نے ایک مخصوص راہ دکھائی!

ایران کے اسلامی انقلاب کے بانی آیت اﷲ روح اﷲ خمینیؒ نے اپنی تحریک و انقلاب کے جو نظریاتی نقوش چھوڑے ہیں، وہ پوری دنیا کے ثقافتی و سیاسی تھنک ٹینکوں میں ہنوز دلچسپی و گفتگو کا موضوع بنے ہوئے ہیں۔ ایک مطلق العنان حکومت جس کی پشت پناہ مغربی دنیا تھی، کو اکھاڑ پھینکنے میں امام کی کامیابی اور پھر اسلامی جمہوریہ کا قیام جس کی کوئی نظیر نہیں، بہتیرے مطالعات کا موضوع ہے۔ امام کے ۲۸ویں یومِ وصال کے موقع سے روزنامہ ’’ایران‘‘ تہران نے امام خمینیؒ کی صاحبزادی زہرہ مصطفوی سے انٹرویو لیا ہے۔ محترمہ زہرہ مصطفوی فلسفہ میں پی ایچ ڈی ہیں اور یونیورسٹی پروفیسر ہیں۔ آپ فلسطینی حقوق کی دفاع کرنے والی این جی اوز کی بین الاقوامی یونین کی سربراہ بھی ہیں۔ آپ نے امام کے افکار اور تحریک کے مختلف پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے جس کا متن درج ذیل ہے:


روزنامہ ایران: ۱۹۷۹ء کے اسلامی انقلاب کے بعد امام کے مطلوب اہداف کی کس حد تک تکمیل ہو سکی؟

جنابِ زہرہ مصطفوی: پہلے آپ اجازت دیں کہ امام کے اس یومِ وصال کے موقع پر میں اسلامی انقلاب کے تمام پیروکاروں کو تعزیت و تسلیت پیش کروں۔

جب ہم امامؒ کے افکار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات واضح ہو کر سامنے آتی ہے کہ امام نے سیاسی و سماجی مسائل کے حوالے سے ایک مخصوص راہ متعین کی تھی۔ ہم نہ انھیں نظریت پسند کہہ سکتے ہیں کہ جنھوں نے صرف ناقابلِ حصول کمال مطلوب کے متعلق سوچا ہو اور نہ ہی ہم انھیں کوئی ایسی شخصیت قرار دے سکتے ہیں کہ جنھوں نے محض چھوٹے اور مختصرالمیعاد مقاصد کے حصول کی کوشش کی ہو۔ طویل المیعاد مقاصد کے حصول کے لیے امام نے ایک ایسی راہ دکھائی جسے مختصر عرصے میں عبور کیا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں امام پہلی بات یہ فرماتے ہیں کہ عوام کو بیدار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک آدمی اسلام کی تبلیغ و اشاعت کا کام ٹھیک طریقے سے انجام دے اور نوعِ انسان کو ان کے ناگفتہ بہ حالات کا کماحقہٗ احساس دلائے۔ دوسری بات جو امام مرحوم فرماتے ہیں وہ یہ ہے کہ عوام کو لازمی طور سے کٹھ پتلی اور ظالم حکومتوں کے مظالم کے خلاف مزاحمت کرنی چاہیے۔ تیسری بات یہ ہے کہ عوام کو بعاوت کرنا چاہیے اور بدعنوان حکومتوں کو برطرف کر دینا چاہیے اور پھر اپنے اپنے ممالک میں اسلامی حکومت کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے۔ ایران میں اسلامی حکومت ایک اسلامی جمہوریہ ہے جہاں امام کے بیشتر افکار کو اس کے آئین میں تلخیص کی صورت میں سمو دیا گیا ہے۔ چوتھا نکتہ یہ ہے کہ اسلامی حکومت اس بات کی پابند ہے کہ وہ معاشرے میں اسلامی عدل کے قیام کو یقینی بنائے۔ پانچواں نکتہ یہ ہے کہ عدل کے قیام کے لیے معاشرے میں متقی لوگوں کو پروان چڑھایا جانا چاہیے۔

یہ بہت ہی واضح حقیقت ہے کہ امام نے اپنے مشن کا آغاز انسانوں کی تربیت اور ان کے اندر بیداری کی پرورش کے ساتھ کیا اور انھوں نے اپنے مشن کو تکمیل کے مرحلے پر خدا طلب لوگوں کی تربیت کے ذریعہ پہنچایا جو معاشرے کا آخری اور کامل مرحلہ ہے۔ امام نے معاشرے کے مختصرالمیعاد اہداف و مقاصد کی بھی نشاندہی کی مثلاً ہوشیاری، ٹھوس عزم و ارادہ، اسلامی حکومت اور سماجی عدل کا قیام اور یوں انھوں نے اپنے افکار کو ایسا تاثر دینے سے محفوظ رکھا جس پر غیرحقیقت پسندی کا گمان ہو۔ چنانچہ اسلامی حکومت کے قیام کے ذریعہ امام کے کچھ افکار مجسم ہو گئے۔ اس کے علاوہ امام کا یہ خیال تھا کہ جب تک اسلامی جمہوریہ اپنے ستونوں کو مستحکم نہیں کر لیتی ہے اور حقیقی آزادی حاصل نہیں کر لیتی ہے، اس وقت تک اسلامی انقلاب کامیاب نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ امام نے اپنے اس خیال کا اظہار یوں کیا: ’’ہم ہنوز نقلابی ریاست اور اسلامی ریاست کے درمیانی مرحلے میں ہیں‘‘۔ معاشرتی عدل کے تصور سے متعلق امام ایک فکری نظریہ پیش کرتے ہیں جس کے مطابق سماجی عدل اس وقت حقیقت بن کر سامنے آتا ہے جب سماجی حقوق تک لوگوں کی رسائی ممکن ہوتی ہے۔ امام کے خیال میں معاشرتی عدل کے حصول کی راہ بیرونی ممالک سے آزادی کے ذریعہ متعین ہوتی ہے۔

روزنامہ ایران: کیا امامؒ کی رحلت کے بعد ان کے افکار کو ایک طرف رکھ دیا گیا؟

زہرہ مصطفوی: ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ امام کی رحلت کے بعد امام کے پیشِ نظر مقاصد کو کنارے لگا دیا گیا ہو۔ ایران میں تمام رجحانات امام کے افکار سے ماخوذ ہیں اور تمام سیاسی دھڑے یا گروہ اپنے آپ کو امام کا پیرو سمجھتے ہیں۔ امام کی رحلت کے بعد بیشتر اوقات نقطۂ ارتکاز ایران کے تعمیرِ نو کے عمل پر تھا تاکہ ایران کو ایک کامیاب ماڈل کے طو رپر پیش کیا جاسکے جو امامؒ کے مقاصد میں سے ایک تھا۔ اس لیے کہ امامؒ نے کہا تھا کہ دشمنوں کی سازشوں میں سے ایک سازش یہ ہے کہ وہ دنیا کے سامنے یہ اعلان کرے کہ اسلام معاشرے کی تنظیم یا اس کے انتظام و انصرام کی اہلیت نہیں رکھتا اور یہ کہ اسلامی جمہوریہ اس میں بھی ناکام رہی ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے لیے کوئی مفید کام کرے۔ (امامؒ کے وصیت نامے میں اس مسئلے کی اچھی وضاحت ہے) اسی بنا پر تعمیر کے عمل کو امامؒ کے اہداف میں سے ایک ہدف کی تکمیل سمجھا گیا۔ ایک مرحلے پر آزادی کا حصول امام اور اسلامی انقلاب کا بنیادی نصب العین قرار پایا، اس لیے کہ آزادی کا فروغ، جو معاشرے میں اسلامی جمہوریہ کے قیام کے لیے سنگِ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، ایک ایسی راہ کو ہموار کرے گا جس میں دوسروں کی غلطیوں پر تنقید ممکن ہو سکے گی، خاص طور سے حکام کی غلطیوں پر تنقید۔ امامؒ کا ہمیشہ سے اس اصول پر یقین تھا کہ اس حد تک آزادی کو کارفرما ہونا چاہیے کہ اگر حکام کوئی غلطی کرتے ہیں تو عوام ان کی غلطیوں کو اسلامی ذرائع سے دور کرنے کے اہل ہوں۔

روزنامہ ایران: سیاسی جماعتیں امامؒ کے خیالات سے کس قدر قربت رکھتی ہیں؟

زہرہ مصطفوی: ایران میں سیاسی جماعتیں امام خمینیؒ کے افکار کا مختلف فہم رکھتی ہیں۔ وہ اپنے آپ کو امام کا پیرو خیال کرتی ہیں اور ان کے خیال سے اپنے آپ کو قریب سمجھتی ہیں۔ امام ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ جب تک لوگ اسلام اور انقلاب سے وفادار ہیں، وہ اسلام اور انقلاب کے دائرے میں ہیں۔ جو بات اہم ہے وہ یہ کہ سیاسی جماعتوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات اسلامی انقلاب کے اصولوں کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں۔ امام نے سیاسی جماعتوں کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو ’’متنوع خیالات‘‘ سے تعبیر کیا، اس لیے کہ سیاسی جماعتوں کا اصل مقصد اسلام اور اسلامی انقلاب کے پیغام کو عام کرنا ہے۔ جب تک اسلامی انقلاب کے مقاصد مثلاً آزادی، خودانحصاری، مظلوموں کی حمایت، عدلِ اجتماعی کا قیام اور اسلامی قانون کا نفاذ کو سیاسی جماعتیں محبوب رکھتی ہیں، وہ اسلامی انقلاب کے خط کی پیرو سمجھی جائیں گی۔ لیکن جب وہ ان اصولوں سے انحراف کریں گی تو وہ امامؒ کے افکار سے منحرف تصور کی جائیں گی۔

روزنامہ ایران: امامؒ کے افکار و خیالات کو متعارف کرانے کے کیا طریقے ہیں؟

زہرہ مصطفوی: اصل حکمتِ عملی یہ ہونی چاہیے کہ مسلم اقوام کو سوالات کرنے پر ابھارا جائے اور جوانوں کو مختلف مسائل پر حساس بنایا جائے۔ یہ پہلا قدم ہے۔ امام خمینیؒ نے یہ حکمتِ عملی اسلام کے طریقۂ تعلیم اور اس کے عملی عرفان سے اخذ کیا۔ وہ لوگ جو اپنی ذات یا وجود کو روحانی و معنوی حقائق سے سرشار کرنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے پہلا قدم یہ ہو گا کہ وہ بیدار ہوں اور اس حقیقت کا اِدراک کریں کہ وہ انسانیت اور صراطِ الٰہی سے کس قدر دور ہو گئے ہیں۔ امام کی فکر یہ ہے کہ نوعِ انسانی اپنی الٰہی فطرت پر اعتماد و انحصار کر کے اجتماعی اور سیاسی سوالات کا جواب حاصل کر سکتی ہے۔ اہلِ علم کے مابین بحث و مکالمہ اصلاح کے عمل میں معاون ہو گا اور معاشرے کو استحکام بخشے گا۔

روزنامہ ایران: این جی اوز کی بین الاقوامی یونین نے فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع میں، فلسطینی عوام کی حمایت میں اور صیہونیت کے خلاف مزاحمت میں کیا کارنامہ انجام دیا ہے؟

زہرہ مصطفوی: فلسطین کی آزادی اسلامی نقطۂ نظر سے پوری نوعِ انسانی کا فریضہ ہے، خواہ وہ مسلم ہوں یا نہ ہوں۔ یہ فریضہ ہی اصل سبب ہے دنیا کے اطراف میں مختلف این جی اوز کے قیام کا جن اصل مقصد آزادیٔ فلسطین ہے۔ یہی مقصد اس عالمی یونین کے قیام کا سبب بنا۔ یہ یونین ایسی ۲۴ این جی اوز پر مشتمل ہے جو ایشیا، یورپ اور افریقہ میں فعال ہیں۔ ان این جی اوز کی مختلف ذمہ داریاں اس طرح سے ہیں کہ ہر تنظیم ایک مخصوص فریضے پر کاربند ہے۔ بعض این جی اوز ان کمپنیوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھے ہوئی ہیں جو اسرائیل کی صیہونی حکومت کو براہِ راست رقوم سے مدد کرتی ہیں۔ یونین میں شامل این جی اوز دیگر این جی اوز کے سامنے اسرائیل کی مددگار کمپنیوں کو متعارف کرانے کے بعد ان سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ خطے کے ممالک کو ان صیہونیت حامی کمپنیوں کی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے ہوئے ان پر زور ڈالیں کہ اسرائیلی معیشت کے وسائل مسدود کرنے کے لیے ان سے تجارتی لین دین کا وہ بائیکاٹ کریں۔ بعض این جی اوز فلسطینی جوانوں کو اسرائیلی قید سے رہا کرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے فلسطینی خواتین کو متعدد مسائل کا سامنا ہے جن کا یہاں دہرانا میں مناسب خیال نہیں کرتی۔ ایران میں تین این جی اوز ہیں جو مسئلۂ فلسطین پر فعال ہیں: (۱)Society for Defending the Palestinian Nation (SDNP) (۲)ندا انسٹی ٹیوٹ اور (۳)نواب صفوی انسٹی ٹیوٹ۔

ایرانی این جی اوز اپنی اشاعتوں کے ذریعہ اسرائیلی حکومت کے بائیکاٹ پر توجہ مرکوز کیے ہوئی ہیں اور عوام کے سامنے صیہونیوں کے حقیقی چہروں کو بے نقاب کر رہی ہیں۔ اسرائیلی مصنوعات کی شناخت کرنا اور اس حوالے سے ٹی وی پروگرامات کو نشر کرنا ایرانی این جی اوز کی سرگرمیوں میں شامل ہے۔ SDNP یونین کی سب سے فعال این جی او ہے۔ یہ کتابیں شائع کرتی ہے، تہران اور دیگر شہروں میں کانفرنسوں کا انعقاد کرتی ہے اور ماہرین و اساتذہ کو دعوت دیتی ہے کہ وہ طلبہ کو فلسطین کی تاریخ سے آگاہ کریں۔ یہ ایسی CDs تقسیم کرنے کا اہتمام کرتی ہے جن میں صیہونی جرائم کو بے نقاب کیا گیا ہو اور اس نے قدس نیوز ایجنسی بھی قائم کی ہے۔ یہ این جی او اپنی تعمیری اور وسیع تر سرگرمیوں کو پورے حوصلے کے ساتھ جاری رکھے ہوئی ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ایران‘‘ تہران۔ شمارہ: ۲ جون ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*