رواداری اور تہذیب و شائستگی پر کسی کی اجارہ داری نہیں

بڑی طاقتوں اور بالخصوص دنیا کی واحد سپرطاقت امریکا اور اس کے تنہا قابلِ بھروسہ حلیف برطانیہ کا یہ خیال ہے کہ جوہری ٹیکنالوجی اور اسلحہ ان کے اور بحالتِ مجبوری ایٹمی کلب کے تسلیم شدہ ممبروں کے علاوہ کسی دوسرے ملک کے پاس نہیں ہونا چاہیے‘ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر یہ چیزیں دوسروں کے ہاتھ لگ گئیں تو امن عالم کے درہم برہم ہو جانے کا قوی اندیشہ ہے‘ وہ اس کی ایک وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ دوسروں کے پاس اس ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی حفاظت کا ٹھوس اور معقول انتظام نہیں ہے‘ اس کی دوسری وجہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ ان کے اور بدرجۂ مجبوری ایٹمی کلب کے تسلیم شدہ ممبروں اور اسٹراٹیجی کے بطور ’مہذب دنیا‘ کے دائرے سے باہر جو قومیں بستی ہیں اور جو ممالک پائے جاتے ہیں‘ ان میں رواداری‘ ضبط و تحمل اور پُرامن بقاے باہم کا جذبہ نہیں پایا جاتا‘ بلکہ وہ ہمہ دم باہم ٹکرائو کی حالت میں رہتے ہیں۔ چونکہ ان میں تہذیب و شائستگی کا زبردست فقدان ہے اور ان کا وحشی پن ابھی تک پوری طرح دور نہیں ہوا ہے لہٰذا اس کا قوی امکان ہر وقت موجود رہتا ہے کہ کہیں وہ اس ٹیکنالوجی کو دوسروں کے خلاف استعمال کر کے دنیا کے امن کو بدامنی اور تباہی و بربادی میں نہ تبدیل کر دیں۔ ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ چونکہ دوسرے آپسی رقابت کو ختم کرنے اور مقابل قوت پر قابو پانے بلکہ اسے فنا کر دینے کی غرض سے اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں‘ اس لیے اس کا خطرہ ہے کہ بحرانی حالت میں وہ ضبط کا دامن چھوڑ دیں اور اس خطرناک شے کو استعمال کرنے کی بھیانک غلطی کر بیٹھیں۔ اس لیے کہ عدم تحفظ کے احساس کو دور کرنے ہی کی خاطر وہ اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اپنے بارے میں اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ ٹیکنالوجی اور اس کی مدد سے جوہری اسلحہ اس لیے بنایا ہے اور اسے اس لیے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ دنیا میں امن قائم کیا جاسکے‘ وہ اسے انسانیت کو تباہ و برباد کرنے کے لیے نہیں بلکہ اسے باقی رکھنے کی غرض سے رکھنا چاہتے ہیں‘ ان کے پاس ٹیکنالوجی اور اسلحہ کو محفوظ رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور چونکہ وہ مہذب اور شائستہ اقوام ہیں‘ جنگ جو طبیعت کی حامل نہیں ہیں بلکہ امن پسند ہیں اس لیے وہ ہرگز اسے انسانیت کو تباہ کرنے کے لیے استعمال نہیں کریں گی۔ اول تو اس کی نوبت ہی نہیں آئے گی اور اگر بالفرض ایسی کوئی صورت حال پیدا بھی ہوئی تو وہ جوہری ٹیکنالوجی اور اسلحہ کی حامل قوم ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی ہرممکن کوشش کریں گی۔

اس بنا پر امریکا اور برطانیہ ہمیشہ سے یہ چاہتے رہے ہیں کہ ایٹمی کلب کا دائرہ کسی حال میں بھی نہ پھیلے‘ انہوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا‘ تحدید اسلحہ‘ تخفیف اسلحہ اور عدم پھیلائو کے نام پر طرح طرح کے قوانین بنائے گئے‘ میزائل سازی کو روکنے اور خلائی ٹیکنالوجی کو محدود رکھنے کی انتھک کوششیں کی گئیں تاہم یہ مقصد پورا نہیں ہو سکا اور جوہری ٹیکنالوجی کا دائرہ بھی وسیع ہوا اور جوہری اسلحہ کی تیاری کا حلقہ بھی وسیع ہوتا چلا گیا‘ یہاں تک کہ اب ایٹمی کلب کے تسلیم شدہ ممبروں کے علاوہ کئی دوسرے ممالک بھی غیرتسلیم شدہ طور پر ہی سہی‘ اس کلب میں شامل ہو گئے۔ ان میں بھارت اور پاکستان سب سے زیادہ اہمیت کے بھی حامل ہیں اور تشویش کے موجب بھی‘ امریکا اور برطانیہ دونوں نے اس کی تمام تر کوششیں کر لیں کہ ان دونوں ملکوں کو ایسا کرنے سے روکا جائے‘ انہوں نے اس کی کوشش کی کہ دونوں ملکوں کو جوہری ٹیکنالوجی کے حصول سے باز رکھا جائے‘ انہیں میزائل سازی کے منصوبے کو روبہ عمل لانے سے روکا جائے‘ دونوں نے اس کی براہِ راست کوششیں بھی کیں اور بالواسطہ طور پر بھی دونوں پر دبائو ڈالا گیا‘ دونوں کو یہ باور کرانے کی کوششیں کی گئیں کہ ان کا حصول دونوں کے لیے تباہ کن ہے۔ اس لیے کہ وہ نہ تو اس کا پُرامن استعمال جانتے ہیں نہ ان کے پاس سلامتی اور تحفظ کا کوئی معقول انتظام ہے‘ یہ بھی کہا گیا کہ اگر ان کے درمیان کسی طرح کی آویزش پیدا ہوئی تو تصادم کسی بھی وقت ایٹمی جنگ میں بدل جائے گا جو نہ صرف ان کے لیے مہلک ہو گا بلکہ اس پورے خطہ اور پوری دنیا کے لیے زبردست خطرہ پیدا کر دے گا۔ دو ملکوں کی جنگ عالمی جنگ بن جائے گی‘ اس لیے انہیں اس کا خیال ترک کر کے اپنے بنیادی مسائل پر توجہ دینی چاہیے‘ تاہم اب دونوں ممالک جوہری طاقت کے حامل ملک بن چکے ہیں‘ دنیا نے خواہ اس کا اعلانیہ اعتراف نہ کیا ہو تاہم وہ اس بات کو تسلیم کر چکی ہے کہ اب بھارت اور پاکستان ایٹمی طاقت کے حامل ملک ہیں۔ اس سلسلہ کی جو معلومات اب تک سامنے آئی ہیں‘ ان کے مطابق بھارت نے ۱۹۷۴ء میں یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی اور پاکستان نے اس کے کوئی دس بارہ برس بعد اسے حاصل کر لیا تھا۔ بھارت نے ۱۹۷۴ء میں ایٹمی تجربہ کیا تھا۔ دوسرا تجربہ ۱۹۹۸ء میں کیا تاہم کہا یہ جاتا ہے کہ اس نے ایٹم بم ۹۰ کے عشرے کے ابتدائی برسوں میں بنا لیا تھا‘ میزائل سازی میں بھی اب دونوں ممالک بہت آگے جاچکے ہیں‘ اس دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں زبردست اتار چڑھائو بھی آئے بلکہ بعض اوقات تو دونوں جنگ کے بالکل قریب پہنچ گئے تاہم دونوں نے ضبط و تحمل سے کام لیا اور تصادم کو ٹال دیا گیا‘ ساتھ ہی دونوں ممالک ایٹمی خطرے کو دور کرنے پر بھی سنجیدگی کے ساتھ غور کرتے رہے‘ اس سلسلہ میں دونوں ملکوں کے مابین ہونے والے معاہدے اس کے گواہ ہیں‘ اس سلسلہ میں سب سے پہلا معاہدہ ۱۹۹۸ء میں ہوا تھا۔ اب دونوں ممالک نے ایٹمی خطرے کو معدوم کرنے سے ایک بار پھر اتفاق کیا ہے اور ایک اور معاہدہ کیا ہے‘ جس پر نئی دہلی میں ۲۸ جون ۲۰۰۴ء کو دستخط ہوئے۔ ان معاہدوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تہذیب و شائستگی‘ ضبط و تحمل اور رواداری پر کسی کا اجارہ نہیں ہے‘ یہ اقدار ’مہذب دنیا‘ کے باہر بھی پائی جاتی ہیں بلکہ وہاں ان کا زیادہ پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے‘ تاریخ اس پر گواہ ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی اور ایٹمی اسلحہ کا استعمال ’مہذب دنیا‘ ہی نے کیا ہے۔ ’غیرمتمدن‘ بلکہ ’وحشی‘ اقوام نے اس کی صلاحیت رکھنے کے باوجود ضبط و تحمل سے کام لیا ہے۔ مہذب دنیا کے انسانیت کش عمل کی بے شمار مثالیں کھلی کتاب کی طرح سامنے ہیں‘ بھارت اور پاکستان نے اگر اسی طرح دوسرے تصفیہ طلب امور بھی اسی خیر سگالی کے جذبے کے ساتھ آپس میں حل کر لیا تو بڑی طاقتوں کو مداخلت کا موقع ہی نہیں ملے گا۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘۔ نئی دہلی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*