طاہر محمد خان کا انٹرویو

طاہر محمد خان سابق وزیرِ اطلاعات و نشریات اور آئینی امور کے ماہر قانون دان بھی ہیں۔


س: کیا بلوچ قوم پرست اپنے اس مطالبے میں حق بجانب ہیں کہ بلوچستان پر انہیں حکومت کرنے دی جائے اور یہاں کے وسائل پر انہی کا کنٹرول ہو؟

ج: وفاقیت کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ جمہوری اور قانونی عمل میں صوبے یا ریاست کے عوام اپنی سرزمین پر پوری طرح حکمراں ہوں۔ انہیں اس کی اجازت ہونی چاہیے اور انہیں اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ کسی بھی دوسرے صاحبِ اقتدار کے اختیار کے ناروا استعمال سے اپنے صوبے کو محفوظ رکھ سکیں۔ اس میں جو اصول مضمر ہے وہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت کا صوبے کے وسائل پر مکمل کنٹرول ہونا چاہیے اور صوبے کے وسائل سے حاصل شدہ آمدنی اور مالیات کے تصرف اور انتظام و انصرام کا انہیں پورا حق ہونا چاہیے۔ ابتدا ہی سے وفاقی حکومت بلوچستان کے وسائل کاسوئی گیس سے سین سینڈک تانبا وسونا منصوبوں نیز جستہ منصوبوں تک کا استعمال کرتی رہی ہے۔ وفاقی حکومت ان منصوبوں کی آمدنی سے فائدہ اٹھاتی رہی ہے۔ پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ کی تعمیر تزویراتی مقاصد کے لیے یا ہوئی ہے۔ بہرحال زمینوں کو یاتو فوجی استعمال کے لیے ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کو فائدہ پہنچانے کے لیے قبضے میں لیا گیا۔

س: بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ۱۹۷۳ء کا آئین اطمینان بخش حد تک صوبائی خودمختاری کی ضمانت دیتا ہے۔

ج: نہیں! یہ چھوٹے صوبوں کو کچھ تحفظ فراہم کرنے کی ایک کوشش تھی۔ بہرحال ۱۹۷۷ء کے بعد سے صرف یہ کہ اختیارات وفاقی حکومت کو منتقل کر دیے گئے بلکہ اس سے متصل فہرست کی توسیع بھی غیرمتناسب طریقے سے کی گئی۔ اس وقت وفاقی حکومت تمام شعبوں میں اس انتظامی اختیار کی پورے طور سے حامل ہے جن کا تعلق مکمل طور سے صوبے سے ہے مثلاً تعلیم، اُمورِ صحت، سماجی فلاح و بہبود، خاندانی منصوبہ بندی، جنگلات اور ریوینیو وغیرہ نتیجہ یہ ہوا کہ صوبائی حکومتیں وفاقی حکومت کی پالیسیوں کے لیے ربڑ کی مہریں ہو گئیں۔

س: آپ ان کا کیا حل پیش کرتے ہیں؟

ج: بلوچستان کے عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں غلام بنا لیا گیا ہے۔ صوبائی اُمور میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور صوبے میں جو ترقیاتی کام ہو رہے ہیں، وہ سب حکمراں گروہ کے مفادات کو فروغ دینے کے لیے ہیں۔ قانونی اور آئینی دونوں ہی ادارے عوام کو انتقامی کارروائیوں سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے خیال میں خودمختارانہ ضمانتیں موجود ہونی چاہییں کہ مستقبل میں وفاقی قوتیں آئین کو معطل نہیں کریں گی یا پاکستان کو فوجی ریاست میں تبدیل نہیں کریں گی جس میں کہ ملک کو مارشل لاء قوانین کے تحت چلایا جائے۔ شاید اس طرح کی کوئی ضمانت پاکستان میں فراہم نہیں کی جاسکتی ہے۔ میری نظر میں ۳ وسیع حل ہیں پہلا یہ کہ ملٹری اور فیڈرل سروس اسٹرکچر کو تحلیل کر دیا جائے جس نے دراصل فوج کے غیرقانونی اور غیرجمہوری اقتدار کو مستحکم کیا ہے۔ دوم یہ کہ ایک حقیقی آئین کو ازسرِ نو تشکیل دیا جائے جس میں صوبوں کے عوام کو یہ آزادی دی جائے کہ وہ باہم مل کر وفاق کے اختیارات کی حد متعین کریں اور کارگزاریوں کا بڑا حصہ خود اپنے پاس رکھیں۔ سوم یہ کہ ایک ایسے مالیاتی و انتظامی نظام پر متفق ہو سکیں جس میں ایکسائز ڈیوٹی، انکم اور ویلتھ ٹیکسز ساتھ میں گنّے، تمباکو اور زراعتی مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکسز بھی وصول کرنا صوبوں کا حق ہو۔ بہرحال صوبوں کو اپنی آمدنی کا ایک حصہ وفاق کو دینے کا پابند کیا جاسکتا ہے۔

س: کیا آپ کے خیال میں یہ وقت ہے کہ صوبوں کو ایک نئے معاہدۂ عمرانی (Social Contract) پر متفق ہونا چاہیے؟

ج: اگر کوئی چاہتا ہے کہ پاکستان کی سلامتی محفوظ رہے تو اسے قوموں اور صوبوں کے مابین ایک معاہدۂ عمرانی کے تعین پر متفق ہونا ہو گا اور اس معاہدۂ عمرانی کے متفق علیہ اصولوں پر مبنی ایک آئین کو تشکیل دینا ہو گا۔

س: موجودہ تناظر میں آپ صوبائی خودمختاری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: بابائے قوم اس حوالے سے بالکل واضح نقطۂ نظر رکھتے تھے کہ ملک کو ایک وفاق ہونا چاہیے جہاں صوبائی حقوق اور مفادات کی نگرانی نمائندہ صوبائی حکومتیں کریں گی۔ بہرحال ۱۹۴۷ء سے ۱۹۵۶ء تک حکومتِ ہند ایکٹ ۱۹۳۵ء کے متبادل آئین کے طور پر استعمال ہوتا رہا۔ یہ ایکٹ بھی صوبائی سرحدوں اور صوبوں کے حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے انہیں اپنے سیاسی و مالیاتی حقوق سے استفادہ کا حق دیتا ہے۔ اس کے باوجود وفاقی قوتوں نے پاکستان کے عوام کو دھوکہ دیا اور مدتوں صوبائی حقوق پر قابض رہیں۔

س: مختلف رجواڑوں، مثلاً قلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

ج: تاریخی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کے حکمرانوں نے خاران، مکران اور لسبیلا کی ریاستوں کو اپنے سے ملحق کرنے کے لیے چال چلی تھی۔ اس طرح کہ انہیں فوجی کارروائی کی دھمکی دی تھی۔ خان آف قلات کو ڈیل کرنے پر مجبور کیا گیا جس کی مذمت سیاسی و علمی شخصیات دونوں نے یکساں طور سے کی۔ الحاق کی مخالفت اس بنا پر ہوئی کہ اسے بغیر عوام کی رضامندی کے کیا گیا۔ بہرحال الحاق اگرچہ حکمرانوں کا یکطرفہ فیصلہ تھا، اس کے باوجود مملکتِ پاکستان نے ان ریاستوں کو سچے دل سے قبول نہیں کیا۔ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان نے بلوچستان کو ایک مفتوحہ زمین خیال کیا جسے پولیس اور فوج کے ذریعہ ہی کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’ہیرالڈ‘‘ کراچی۔ شمارہ: مارچ ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.