بشیر عبدالسلام الکبتی مراقب عام اخوان المسلمون، لیبیا کا انٹرویو

لیبیامیں اخوان المسلمون کے نئے مراقب عام بشیر عبدالسلام الکبتی ۳۳ سال امریکا میںرہے ہیں۔ ابتداً وہ تعلیم کی غرض سے امریکا گئے تھے۔ ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد انہوں نے امریکا میںرہ کر ہی قذافی حکومت کی مخالفت شروع کر دی اور معمر قذافی کے خلاف بغاوت کا آغاز ہوتے ہی لیبیاواپس آگئے۔ یہاں آنے کے بعد انہوں نے ’’بن غازی‘‘ میںایک رفاہی تنظیم بنائی جو ’’ندائے خیر‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے اور وہ اس کے چیف ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ یہ تنظیم لیبیائی عوام کی مدد کے لیے رفاہی اور ریلیف کی ذمے داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ قذافی حکومت کے سقوط سے پہلے ان کے دورۂ کویت کے دوران ہفت روزہ ’’المجتمع‘‘ کے نمائندے جمال الشرقاوی نے ان کے ساتھ یہ انٹرویو کیا، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:


o اپنی تنظیم ’’ندائے خیر‘‘ کے بارے میں کچھ بتایے۔ اس کی تشکیل کیسے ہوئی؟ ملک میں بڑے پیمانے پر قومی پیداوار ہونے کے باوجود لیبیائی عوام محتاج کیوں کر ہوئے؟

٭ ’’ندائے خیر‘‘ کی تشکیل ۲۰ فروری ۲۰۱۱ء کو ہوئی، یعنی بغاوت شروع ہونے کے تین دن بعد۔ اس بحران کے نتیجے میں لیبیا میں لوگوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات زندگی کی تکمیل میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، اس لیے ان محتاجوں کی مدد و مساعدت کے لیے ’’ندائے خیر‘‘ کی تشکیل عمل میں آئی۔ لیبیا میں محتاجی کا تصور انقلاب سے مرتبط نہیں ہے، بلکہ انقلاب سے پہلے ’’معمر قذافی‘‘ کے عہد میں لیبیا کے اندر ۲۹ فیصد لوگ خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہے تھے، پھر انقلاب کے بعد بحران سنگین صورت اختیار کر گیا اور اس صورتحال میں لیبیائی عوام بیرونی امداد کے سخت محتاج ہوگئے۔ اس تعلق سے ہم کویت کی رفاہی سوسائٹیوں اور سرفہرست کویت کی مشترک ریلیف کمیٹی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ لوگ لیبیائی عوام کی دستگیری اور مدد کے لیے سب سے پہلے پہنچنے والوں میں سے تھے۔ ان کے قافلے مصر کے راستے بن غازی پہنچے۔

o انقلاب سے پہلے آپ کہاں مقیم تھے؟

٭ میں امریکا میں ۳۳ سال اقامت پذیر تھا۔ اس کا آغاز امریکا میں تعلیمی مرحلے سے ہوا۔ اس کے بعد جب ایم اے سے فارغ ہوا تو قذافی مخالف محاذ میں شامل ہو گیا۔ اس وجہ سے امریکا ہی میں مقیم رہا۔

o آپ نے ترکِ وطن کیوں کیا؟

٭ گزشتہ ظالمانہ نظام نے زبان بندی، بڑے پیمانے پر گرفتاری اور شخص واحد کی حکمرانی کی جو پالیسی اختیار کر رکھی تھی، اسی سبب سے لیبیا کے بہت سے شہری ملک چھوڑ کر بھاگ گئے یا خود سے ترک وطن کر لیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ لیبیا کے جو لوگ باہر دوسرے ممالک میںرہتے ہیںان میں سے اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو تعلیم کی غرض سے ملک سے باہر گئے اور قابل لحاظ بات یہ ہے کہ باہر کے ملکوں میں جتنی قومیں (Communities) کم پڑھی لکھی ہیں ان کے پاس بھی بی اے کی ڈگری ہے۔ لیبیائی کمیونٹی کے ترک وطن کا بنیادی سبب حصولِ تعلیم ہے۔ لیبیائی عوام طبیعتاً ملک سے باہر جانے کا رجحان بالکل نہیں رکھتے۔ لیکن نیرنگئی حالات نے انہیں ہجرت پر مجبور کر دیا۔ پھر مغربی ملکوں میں حصولِ تعلیم کی جگہوں پر ہر گروہ نے اپنی اپنی انجمنیں اور سوسائٹیاں تشکیل دے لیں۔ تکمیل تعلیم کے بعد یہی لوگ قذافی کے استبدادی نظام کے مخالف گروپوں میں تبدیل ہو گئے۔ کچھ لوگوں نے قلم کے ذریعے قذافی نظام کے خلاف محاذ سنبھالا۔ کچھ دوسرے لوگوں نے ملک میں ظلم و زیادتی پر مبنی نظام سے اپنی ناراضی کے اظہار کے لیے مظاہروں کا راستہ اختیار کیا۔ چونکہ قذافی نظام میں اس طرح کی سرگرمیوں پر سخت پابندی تھی۔ اس لیے اس وقت ہماری وطن واپسی بالکل ناممکن تھی۔

o آپ کی وطن واپسی کے اسباب کیا تھے؟

٭ انقلاب کا جیسے ہی آغاز ہوا تمام لوگوں نے اپیل کرنا شروع کر دی کہ انقلاب کو کامیاب بنانے کے لیے سب تارکین وطن جلد ازجلد وطن واپس آئیں اور انقلاب کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے ہرممکن مدد بہم پہنچانے کی کوشش کریں۔ اب جن کو آسانی میسر آئی وہ وطن واپس آگئے۔ ملک سے باہر سیکڑوں بلکہ ہزاروں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد موجود ہیں جو انشااللہ آئندہ مرحلے میں لیبیا کی تعمیر جدید میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مستقبل میں لیبیا میں انشاء اللہ ادارہ جاتی نظام قائم ہو گا اور ایک آئینی حکومت وجود میں آئے گی۔ اس وقت لیبیا ایک آزاد و خود مختار مملکت ہوگا۔

o قذافی نظامِ حکومت میں عام طور پر کہا جاتا تھا کہ لیبیا میں اعلیٰ تعلیمی صلاحیت کا فقدان ہے اور ایسے افراد نہ ہونے کے برابر ہیں جو ذمے داریوں کا تحمل کر سکتے ہوں… کیا یہ درست ہے؟

٭ یہ بات بالکل درست نہیں ہے۔ لیبیا میں باصلاحیت لوگ بھرے ہوئے ہیں۔ یہ جو لیبیا میں صاحب صلاحیت لوگوں کی کمی کی بات رائج کی گئی تھی تو یہ دراصل ’’معمر قذافی کے دماغ کی پیدا کردہ مشکل تھی۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ خود بہت زیادہ پڑھے لکھے آدمی نہیں تھے، انہوں نے ہائی سیکنڈری اسکول پاس کیا تھا، پھر اُس کے بعد ملٹری کالج میں داخلہ لیا، جس وقت وہ اپنی فوجی ٹیم کے ساتھ مل کر انقلاب لائے تھے وہ اس وقت ’’فرسٹ لیفٹیننٹ‘‘ کے عہدے پر تھے۔ جب انہوں نے لیبیا میں حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی اور کچھ ہی دنوں کے بعد بڑی چالاکی سے انقلابی کونسل کے ممبران سے چھٹکارا پالیا تو اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے ترقی کے اعلیٰ نمونے کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے اپنے آپ کو عقل کُل سمجھ لیا اور وہ دوسروں کو قطعاً کوئی اہمیت نہیں دیتے تھے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ صاحبِ عقل لوگ جو مختلف میدانوں میں مہارت اور تجربہ رکھتے تھے، ان کی اکثریت ہجرت کر گئی اور انہوں نے مجبوراً ترکِ وطن کر لیا۔ ملک میں صرف خود غرض اور مفاد پرست لوگ رہ گئے۔

o لیبیا پیٹرول کی آمدنی سے مالا مال ہے، وہاں فی کس آمدنی کا تناسب کیا ہے؟

٭ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق لیبیا کی آبادی ’’پانچ ملین‘‘ سے زیادہ نہیں ہے اور صرف پیٹرول سے قومی آمدنی روزانہ ۱۵۰ ’’ملین‘‘ ڈالر سے کم نہیں ہے۔ آبادی کی تعداد کے تناسب اور سرزمین لیبیا پر موجود امکانات کے تناسب کو دیکھتے ہوئے خیال ہوتا ہے کہ لیبیا کے شہریوں کی فی کس آمدنی بہت زیادہ ہوگی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ’’معمرقذافی‘‘ کے زمانے میں بھی ایک طبقہ معاشی تنگی کا شکار تھا۔ خطِ افلاس کا پیمانہ تین سو ڈالر ماہانہ فی آدمی ہے اور لیبیا کی ایک تہائی آبادی خطِ افلاس سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔

o لیبیا میں رفاہی کام کا آغاز آپ نے کیسے کیا؟

٭ ہماری رفاہی تنظیم ’’ندائے خیر‘‘ کی ٹیم لیبیا کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے بعض نوجوانوں نے مغربی ملکوں میں رہ کر اس میدان میں تجربہ حاصل کیا ہے اور بعض لیبیا ہی میں موجود رہے ہیں۔ ہماری تنظیم ’’ندائے خیر‘‘ کی ٹیم کے پاس چار بنیادی کام ہیں: (۱) ریلیف اور رفاہی کاموں کے لیے مہم چلانا (۲) رفاہی اداروں کی تشکیل جدید اور اس فیلڈ میں کام کی تربیت کا پروگرام (۳) ماحول کے تحفظ کا پروگرام (۴) ادارہ جاتی اور رضاکارانہ عمل کی ثقافت کو عام کرنا۔

ریلیف سے متعلق مہم کے میدان میں ہم نے امکان کی حد تک ملک سے باہر کے اہل خیر حضرات تک پہنچنے کی کوشش کی ہے اور ان سے اپیل کی ہے کہ اس آزمائش کی گھڑی میں لیبیا کے عوام کی بھرپور مدد کریں۔ باہر ملکوں کے بیشتر اہل خیر نے ہماری اپیل پر لبیک کہا ہے اور ہمارے پاس ریلیف کے سامانوں سے لدے قافلے چلے آرہے ہیں۔ ہم نے ریلیف کے لیے ’’محتاج خاندانوں کے لیے غذائی ٹوکری‘‘ کے نام سے ایک نظام بنایا ہے۔ اس ٹوکری میں وہ بنیادی غذائی چیزیں ہوتی ہیں جو لیبیا کے عوام بالعموم کھاتے ہیں۔ یہ ٹوکری ضرورت مند خاندانوں کو دو ہفتے میں ایک بار دی جاتی ہے۔ ایک ٹوکری کا خرچ ۶۵ ڈالر ہوتا ہے۔ ہم باقی دوسرے رفاہی اداروں کے تعاون سے دو لاکھ ضرورت مند خاندانوں کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

جہاں تک ماحول کے تحفظ کے پروگرام کا تعلق ہے تو مثال کے طور پر ’’بن غازی‘‘ شہر جس کی آبادی ساڑھے سات لاکھ ہے، وہاں صفائی کمپنیاں سب باہر کی تھیں۔ جب انقلاب رونما ہوا اور لیبیا کے حالات دگرگوں ہوگئے تو ان کمپنیوں میں کام کرنے والے لوگ ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ اس کے نتیجے میں شہر کے گلی کوچوں میں ہر طرف کچرا بھر گیا۔ اس طرح ایک بحرانی کیفیت پیدا ہوگئی۔ آخرکار ہماری ٹیم نے دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر شہر کی صفائی کا پروگرام بنایا۔ اور ہم نے اس کا نام ’’بن غازی جدید‘‘ مہم رکھا۔ ہم نے اس پروگرام کے لیے ’’ندائے خیر‘‘ کے ادارے میں دو لاکھ پچاس ہزار لیبیائی دینار مختص کر دیے ہیں۔ رہا رفاہی اداروں کی تشکیل جدید اور اس فیلڈ میں کام کی تربیت کا پروگرام تو انقلاب کے بعد جب رفاہی اداروں کو کام کرنے کے مواقع ملے، اس وقت صرف ’’بن غازی‘‘ میں سیکڑوں رفاہی اور ریلیف کے اداروں اور سماجی تنظیموں نے رجسٹریشن کروائے۔ چونکہ لیبیا میں پہلی بار اس طرح کے ادارے قائم ہوئے ہیں، اس لیے تجربات اور افراد کے تعلق سے شدید قلت کا احساس ہو رہا ہے۔ اسی احساس کے نتیجے میں ہم نے ان افراد کی تربیت اور ترقی کی خاطر متعدد کورسز کا انتظام کیا ہے۔ ہمارا چوتھا بنیادی مقصد رضاکارانہ کام کی ثقافت (Culture) کو عام کرنا ہے۔ ہم لیبیائی قوم کے عام لوگوں کے اندر اس ثقافت کی روح کو ازسرنو پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ نوجوانوں میں یہ روح ۱۷ فروری (انقلاب کے آغاز کی تاریخ) کے بعد جس طرح بیدار ہوئی ہے، اس تاریخ سے پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی تھی، ہم ان نوجوانوں میں اس روح کو اس طرح پروان چڑھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے پرعزم و باحوصلہ ہو کر پورے جوش و جذبے سے کام کریں۔

o قذافی کے بعد آپ لیبیا کے مستقبل کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

٭ لیبیا کا مستقبل خوشخبریوں سے لبریز ہے۔ کیونکہ جو قومیں اپنی عزت اور آزادی کے لیے اپنے خون کا نذرانہ پیش کر سکتی ہیں، وہ انقلاب اور اس کے ثمرات کی حفاظت کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کے لیے ہر آن تیار رہیںگی۔

(ترجمہ: عبدالحلیم فلاحی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*