غلامی کے خلاف اقبال کی جدوجہد

اقبال عمر بھر غلامی کے خلاف سرگرمِ جہاد رہے۔ اشرف المخلوقات کی حیثیت سے وہ انسان کی عظمت اسی میں پاتے ہیں کہ خدا کے سوا وہ کسی کے سامنے سر نہ جھکائے اورنہ کسی ذہنی و عملی غلامی میں مبتلا ہو۔ چنانچہ ’’پیامِ مشرق‘‘ میں غلامی کے عنوان سے ایک نظم میں وہ غلامی کو قبول کرنے والے اور آزادی جیسی نعمتِ عظمیٰ کو مطلق العنان بادشاہوں کے قدموں میں ڈال دینے والے بے بصر انسانوں کو کتوں سے بھی بدتر قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے کسی کتے کو کتے کے آگے سر جھکاتے ہوئے نہیں دیکھا۔

آدم از بے بصری بند گئی آدم کرد
گوہرے داشت ولے نذرِ قباد و جم کرد
یعنی از خوئے غلامی زِسگان خوار تر است
من ندیدم کہ سگے پیشِ سگے سر خم کرد

اور ’’ارمغان حجاز‘‘ میں اس لعنت کو موت سے بد تر گردانتے ہیں۔ ملا زادہ ضیغم لولابی کشمیری کے حوالے سے کہتے ہیں۔

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام
مکر و فنِ خواجگی کاش سمجھتا غلام
شرعِ ملوکانہ میں جدّتِ احکام دیکھ
صور کا غوغا حلال، حشر کی لذّت حرام
اے کے غلامی سے ہے روح تیری مضمحل
سینۂ بے سوز میں ڈھونڈ خودی کا مقام

وہ غلاموں کی نظر اور بصیرت کو ناقابلِ اعتماد قرار دیتے ہیں۔

غلامی کیا ہے؟ ذوقِ حسن وزیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے ہے وہی زیبا
بھروسہ کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردانِ حر کی آنکھ ہے بینا

اقبال کے نزدیک غلام بے ضمیر ہوتا ہے۔ وہ دور آزادی میںجس چیز کو غیرت و حمیت کے صریحاً منافی سمجھتا ہے غلامی کے زیر اثر اسی کو دل و جان سے قبول کر لیتا ہے۔

جادوئے محمود کی تاثیر سے چشم ایاز
دیکھتی ہے حلقہ گردن میں سازِ دلبری
تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا
کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

’’زبور عجم‘‘ میں ’’دَر بیانِ فنونِ لطیفۂ غلاماں‘‘ کے عنوان سے ایک نظم ہے۔ اس میں غلاموں کی موسیقی، مصوری اور تصورِ مذہب پر اپنے مخصوص پر سوز، مگر بے لاگ انداز میں اظہارِ خیال فرمایا ہے۔ موسیقی کا پوسٹ مارٹم یوں کرتے ہیں۔

مرگ ہا اندر فنون بندگی
من چہ گویم از فسونِ بندگی
نغمہ او خالی از نارِ حیات
ہمچو سیل افتد بدبوارِ حیات
از نئے او آشکارا رازِ او
مرگِ یک شہر است اندر سازِ او
الخدر ایں نغمۂ موت است و بس
نیستی در کسوتِ صوت است و بس

میں تمھیں کیا بتائوں کہ غلامی کا جادو کیا ہے اس کے فنون میں بھی موت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا نغمہ زندگی کی حرارت سے خالی ہے اور اس کا سیلاب زندگی کی دیوار کو ڈھا دیتا ہے۔ اس کا ساز آبادیوں کو موت کی نیند سلا دیتاہے۔ اس لیے غلام کے نغمہ موت سے دور رہ اور اپنے آپ کو تباہ ہونے سے بچا لے۔

غلاموں کی مصوری پر تبصرہ کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:

در غلامی تن زِ جاں گرد تہی
از تنِ بے جاں چہ امیدِ بہی
ذوق ایجاد و نمو از دل رود
آدمی از خویشتن غافل رود
جبرئیلے را اگر سازی غلام
بر فتد از گنبدِ آئینہ فام
کیشِ او تقلید و کارش آزری ست
ندرت اندر مذہبِ او کافری ست

یعنی ’’غلامی میں جسم روح سے خالی ہو جاتے ہیں، اور جسمِ بے روح سے کیا امید کی جا سکتی ہے؟ دل سے ذوقِ ایجاد و ترقی رخصت ہو جاتا ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے آپ سے غافل ہو جاتاہے۔ جبرائیل اگر (خدا کے سوا کسی اور کی ) غلامی اختیار کر لے تو اسے آسمان کی بلندیوں سے نیچے گرادیا جائے۔ ایک غلام تقلید پرست اور بت گر ہوتا ہے۔ اور اس کے نزدیک ہر نئی بات کفر ہوتی ہے‘‘۔

اقبال حالتِ غلامی میں مذہب اور عبادت وریاضت کو تضیعِ اوقات سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک غلامی میں مذہب اور عشق میں دوری ہو جاتی ہے۔ عشق زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہوتا، قول و فعل میں تضاد پیدا ہو جاتا ہے۔ غلام دین اور عقل تک کا سودا کر لیتا ہے اور وہ جسمانی آسائش کی خاطر روح کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے اگر چہ غلام خدا کا نام لیتا ہے، مگر دراصل وہ اقتدار کا پجاری ہوتاہے۔ا س کے مذہبی عقائد بہت محدود ہوتے ہیں اور اس کا ذہن اندھیروں کی آماجگاہ بنا رہتا ہے۔ زندگی اس کے لیے مصیبت اور موت ہمہ وقت اس کے جلو میں رہتی ہے۔اشعار ملاحظہ ہوں:

در غلامی عشق و مذہب را فراق
انگبینِ زندگانی بد مذاق
در غلامی عشق جز گفتار نیست
کارِ ما گفتارِ ما را یار نیست
دین و دانش را غلام ارزاں دہد
تابدن را زندہ دارد جاں دہد
گرچہ بر لب ہائے اور نام خداست
قبلہ او طاقتِ فرمانروا ست
مذہبِ او تنگ چوں آفاقِ او
از عشا تاریک تر اشراقِ او
زندگی بارِ گراں بردوشِ او
مرگِ او پروردہ آغوشِ او

آگے چل کر غلامی کی چند در چند برائیوں کی جانب مزید اشارہ کرتے ہیں۔

از غلامے ذوقِ دیدارے مجوے
از غلامے جانِ بیدار مجوے
دیدۂ او محنت دیدن نبرد
در جہاں خورد و گراں خوابیدہ و مرد
تا غلام از خویش گردد نا امید
آرزو از سینہ گردد ناپدید

’’پس چہ باید کرد‘‘ میں تو اس ضمن میں ان کا لہجہ بہت ہی تلخ ہو جاتا ہے۔ غلامی کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔

از غلامے لذتِ ایمان مجو
گرچہ باشد حافظِ قرآن مجو
مومن است و پیشۂ او آزری ست
دین و عرفانش سراپا کافری ست

یعنی ’’اگر ایک غلام حافظِ قرآن بھی ہو تو اس سے لذتِ ایمان کی توقع نہ کرو۔ وہ کہنے کو تو مسلمان ہے، مگر دراصل وہ بت گر ہے اور اس کا دین اور عقل سراپا کفر ہے۔

اقبال تادمِ رحلت غلامی کے خلاف جد جہد میں مصروف رہے اور یہ جنگ دراصل بالواسطہ طور پر سامراجی طاقت کے خلاف تھی۔ صاف ترغیب تھی کہ استعمار کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، غلامی کی زنجیریں کاٹ دو اور ظالم افرنگیوں کا تختہ الٹ دو چنانچہ ایک مکتوب میں بھی غلامی کی یوں مذمت کرتے ہیں۔

’’غلام قوم مادیات کو روحانیات پر مقدم سمجھنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور جب انسان میں خوئے غلامی راسخ ہو جاتی ہے تو وہ ہر ایسی تعلیم سے بیزاری کے بہانے تلاش کرتا ہے جس کا مقصد قوتِ نفس اور روحِ انسانی کا ترفع ہو‘‘۔

سید نیازی مرحوم ’’اقبال کے حضور‘‘ میں ان کا یہ مقولہ نقل کرتے ہیں:

غلامی بہت بڑی لعنت ہے۔ غلامی زبان سے وہ کچھ بھی کہلوا دیتی ہے جو انسان نہیں کہنا چاہتا۔ دانستہ بھی اور نا دانستہ بھی۔

(بحوالہ کتاب ’’مغرب پر اقبال کی تنقید‘‘۔ انتخاب: ڈاکٹر عبدالغنی فاروق)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*