کیا فوج سیاست کو الوداع کہہ رہی ہے؟

عام پاکستانی اس لیے بہت خوش ہیں کیونکہ ۱۹۸۸ء کے بعد انھیں پہلی بار حکومت اور اس کی پارٹی کے خلاف ووٹ ڈالنے کا موقع ملا ہے جو جی ایچ کیو کے سہارے بوٹوں کی دھمک کے ساتھ ایوانِ اقتدار میں داخل ہو گئے تھے۔ پاکستانیوں کو ایسا موقع شاذ و نادر ہی ملتا ہے۔ عام طور سے ہوتا یہ ہے کہ حکومتیں ووٹوں کے ذریعے تشکیل پاتی ہیں لیکن انھیں بوٹوں کی ٹھوکروں سے باہر کر دیا جاتا ہے۔ اس بار نسبتاً آزاد اور منصفانہ انتخابات ہوئے ہیں، اس لیے کہ فوج پیچھے ہٹ گئی اور سیاسی قوتوں کو معمول سے زیادہ کردار ادا کرنے کی اجازت دے دی۔ بہرحال اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فوج اپنے کردار کی ازسرِ نو شیرازہ بندی کے لیے تیار ہے اور سیاسی حکومتوں کے ماتحت رہنے کے لیے آمادہ ہے۔ پاکستان کے اندر اور باہر کے لوگ اس ملک کی سیاست میں کسی تبدیلی کے مشاہدے کی اُمید کر رہے ہیں نیز فوج اور سیاسی قوتوں کے مابین ادارہ کی صورت توازن دیکھنے کے خواہاں ہیں۔ ان کی توقعات کا تعلق صرف انتخابات سے نہیں ہے بلکہ نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اُس رویّے سے ہے جو انھوں نے انتخابات کے انعقاد سے پہلے سے اختیار کیا ہوا ہے۔ مثلاً حاضر سروس افسران کو سول شعبوں سے واپس بلانے کا ان کا فیصلہ اور فوجی افسران کو سیاستدانوں سے ملنے سے ان کا منع کرنا جیسے اقدامات کو مثبت خیال کیا جارہا ہے۔ انھوں نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور نیشنل لاجسٹکس سیل جیسے اداروں سے فوج کے حصص نکالنے کی بھی بات کی ہے۔ اس بحث کا کہ آیا فوج تبدیلی کے لیے آمادہ ہے، جائزہ فوج کے تزویراتی کردار کو سامنے رکھتے ہوئے اور اس کے اعلیٰ درجے کے دفاعی انتظامی ڈھانچے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے تاریخی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔ برسوں سے فوج کی بنیادی تشویش کا محور بیرونی خطرہ رہا ہے۔ یہ پرویز مشرف کے دور میں تبدیل ہونا شروع ہوا۔ مشرف نے سارا زور داخلی سلامتی کی جانب منتقل کر دیا لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ بیرونی خطرات کا عنصر بالکل ہی معدوم ہو گیا ہو۔ درحقیقت بہتوں کا استدلال ہے کہ بلوچستان اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کی اکثریت اس انتخاب کی وجہ سے تھی جس کا بلوچ قوم پرستوں نے بائیکاٹ کیا تھا اور اس وجہ سے بھی تھی کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی نظر میں اس صوبے کی بہت اہمیت ہے۔ صوبہ بلوچستان قوم پرستی یا صوبائی خودمختاری کے نعروں کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے جو بلوچستان میں اس وقت بلند کیے جارہے ہیں، خصوصاً ایسے قوت میں جب کہ یہ خیال کیا جارہا ہو کہ صوبے میں جو بھی مسائل موجود ہیں، بھارت ان کو ہوا دے رہا ہے۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ سیاست پر اپنے مکمل کنٹرول سے تبھی دستبردار ہو گی جب ملک کی داخلی سلامتی نیز اس کو درپیش بیرونی خطرات کے حوالے سے اس کے خیالات میں کوئی تبدیلی رونما ہوئی ہو اور اس کی روشنی میں وہ ریاست کے تزویراتی نوعیت کے انتظامی معاملات میں اپنے کردار کو کم کرنے کا ارادہ کرے۔ فوجی اور تزویراتی اندازے اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک کہ پالیسی سازی کا عمل پوری طرح سویلین حکام کے کنٹرول میں نہ ہو۔ دو مسائل ہیں جو فوج کے رویے میں تبدیلی سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا یہ کہ فوج سویلین پر بالخصوص سیاستدانوں پر بالکل اعتماد نہیں کرتی ہے، اس حوالے سے کہ وہ ریاست کو صحیح طور سے چلا سکیں گے۔ یوں تو پوری دنیا میں فوج سیاستدانوں کو بہت ہی مشکوک نظروں سے دیکھتی ہے لیکن خاص طور سے ان ممالک میں یہ مسئلہ بہت زیادہ شدید ہے جہاں مسلح افواج کی اقتدار پر قابض رہنے کی روایت رہی ہے۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کا اتحادی ملک امریکا کہیں زیادہ پریشان ہو گا، اس بات سے کہ آج کی دنیا میں فیصلہ سازی کا اختیار سویلین کے ہاتھوں میں جائے۔ اس کی وجوہات بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور کارپوریٹ دنیا کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں۔ وینزویلا اس کی مثال ہے جس سے اس نکتہ کو درک کیا جاسکتا ہے کہ کیوں امریکا سیاسی قوتوں کی بالادستی سے پریشان ہوتا ہے۔ عوامی حکومتوں کے اندازے قطعی مختلف ہوتے ہیں، فوجی حکومتوں کے اندازوں سے۔ اوپر پیش کیے گئے متعدد دلائل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ طاقت کا توازن عوامی ہاتھوں میں منتقل کرنا کہیں زیادہ مشکل کام ہے جب تک کہ سیاسی قائدین فوجی جنرلوں کے ساتھ گفتگو کا ایک مناسب نظام اختراع نہ کر لیں۔ ابھی تک تو ایسے کسی نظام کا وجود نہیں ہے، سوائے یہ کہ چور دروازے سے گفتگو کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں صلاحیت کے فقدان کے پیشِ نظر جنرل کیانی کے لیے گھڑی کو الٹا گھمانا ایک مشکل تر کام ہو گا، اس کے باوجود کہ وہ فوجی و عوامی تعلقات کے توازن میں وہ کسی تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہوں۔ مسئلہ یہاں انتقالِ اقتدار کے عمل کو اداریائے جانے کا ہے نہ کہ کسی عبوری اور وقتی انتظام کا۔ نئے فوجی

سربراہ کی نظر میں منتقلی ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے، کم از کم عارضی طور سے، اس لیے کہ اس وقت ان کے آدمیوں کو پست حوصلگی کا سامنا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مسئلہ ہے جس نے معاشرے اور ملک میں لوگوں کو منقسم کر دیا ہے۔ پھر اس کے بعد مسئلہ فوج کے کمزور امیج کا ہے جو جنرل پرویز کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ ممکن ہے جنرل کیانی ۲ سے ۳ سال تک فوج کو سیاست سے علیحدہ رکھیں اور یہ فوج کی ساکھ کو بحال کرنے کی ایک چال ہو۔ درحقیقت ملک کی تاریخ ہمیشہ سے اس کی گواہ رہی ہے کہ جب کبھی فوج شدید بحران سے دوچار ہوئی ہے، اس نے آزاد اور منصفانہ انتخابات کرائے ہیں۔ مثلاً ۱۹۷۱ء کے انتخابات آزاد اور منصفانہ تھے کیونکہ فوج کے حوصلے بہت زیادہ پست تھے۔ ۱۹۸۸ء کا انتخاب بھی اسی نوعیت کا تھا کیونکہ جنرل ضیاء الحق کے ساتھ دیگر کئی اہم فوجی جنرل پُراسرار جہاز حادثے کی نذر ہو گئے تھے۔ اب فوج کو اپنی ساکھ بحال کرنے کا مسئلہ درپیش ہے کیونکہ سیاست، معیشت اور معاشرے میں اس کی روز افزوں واضح مداخلت کی وجہ سے یہ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ عارضی پسپائی کا مطلب ہر گز طویل المیعاد تبدیلی نہیں ہے۔ تاریخی تناظر میں اگر دیکھا جائے تو ایک شخص بآسانی یہ محسوس کر سکتا ہے کہ پیشہ ور جنرلوں کا ایک سلسلہ ہے جن کی سرگرمیاں ضروری نہیں ہے کہ پیشہ ورانہ مہارت اور سول حکومت کی تابعداری پر منتج ہوئی ہوں۔ ۱۹۸۸ء کے بعد مثلاً چار فوجی سربراہان ایسے گزرے ہیں جنہوں نے سیاست سے الگ تھلگ رہنے کو ترجیح دی، تاہم جب یہ سبکدوش ہوئے تو ان کی جگہ جن لوگوں نے لی وہ سیاسی عزائم سے معمور جنرل تھے۔ اس کی ضمانت کیا ہے کہ ایسا آئندہ نہیں ہو گا؟ پرویز مشرف کے ۸ سال فوج کے لہجے اور آہنگ میں تبدیلی کا سبب بنے ہیں۔ انھوں نے (فوجی کارندوں نے) اپنے آپ کو پاور بروکر کے طور پر سمجھ رکھا ہے اور اپنے کو ایک طاقتور ادارہ خیال کرتے ہوئے سیاست میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں، اس لیے کہ ان کی نظر میں سیاسی رہنما نااہل اور عوامی نمائندوں میں صلاحیت کا فقدان ہے۔ جنرل کیانی ممکن ہے کہ تبدیلی کے خواہاں ہوں لیکن حقیقی تبدیلی اس وقت تک نہیں آسکتی جب تک کہ ان کی تنظیم سیاست سے بے نیاز ہونے نیز قومی وسائل کی تقسیم سیاستدانوں کے حوالے کرنے میں اپنا کچھ فائدہ نہ دیکھتی ہو۔

فوج اور عوام کے تعلقات کے توازن میں بہتری کے عمل کو جو چیز مسلسل خطرے سے دوچار کرے گی وہ پرویز مشرف کا اقتدار میں رہنا ہے اور مستقبل کے استحکام کے امکانات کو حقیقت میں بدلنے کا معاملہ ان کے ہاتھ میں ہونا ہے۔ سابق جنرل ہمیشہ یہ کوشش کریں گے کہ سیاسی حکومت کو کمزور اور غیرمستحکم کریں، خاص طور سے اس وقت جب سیاسی حکومت متعدد مسائل پر پرویز مشرف کے برعکس موقف اختیار کرے گی۔ اس کے علاوہ معیشت کی بہتری سول حکومت کی قوت کی برتری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ مثلاً اگر عالمی معیشت کے ادارے نئی حکومت کی حساسیت کو اہمیت نہیں دیتے اور اس پر دبائو ڈالتے ہیں کہ وہ اشیا کی قیمتوں کا تعین اس طرح کرے کہ وہ بین الاقوامی قیمت کے انڈیکس کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو اور یہ ادارے اگر سول حکومت کو مالی امداد روک کر سزا سے دوچار کرتے ہیں تو ایک مضبوط جمہوریت کی جانب سفر بہت مشکل ہو جائے گا۔ خراب اقتصادی پیش رفت ایسی صورتِ حال پیدا کر سکتی ہے کہ فوج کو بنا بنایا جواز ہاتھ آجائے براہِ راست یا بالواسطہ مداخلت کا بشرطیکہ فوج اپنے کھوئے ہوئے اعتماد کا کچھ حصہ پھر سے حاصل کر چکی ہو۔

خطے میں جغرافیائی و سیاسی منظرنامہ گیارہ ستمبر کے بعد بدل چکا ہے۔ ممکن ہے امریکا سویلین حکومت سے معاملات کے طریقے سیکھ چکا ہو جس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ مضبوط سویلین حکومت کی پشتیبانی کرے گا۔ امریکا کی اصل تشویش یہ ہے کہ نئی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے کیا موقف اختیار کرتی ہے۔ ججوں کی بحالی کا مسئلہ اسی سے مربوط ہے۔ اگر آنے والی حکومت وہ موقف اختیار کرتی ہے جس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رکاوٹ خیال کیا جائے گا تو بہت ممکن ہے کہ واشنگٹن فوج کا ساتھ دے جیسا کہ ماضی میں وہ ہمیشہ کرتا رہا ہے۔ ملک میں فوج اور عوام کے تعلقات کی ازسرِ نو شیرازہ بندی کے حوالے سے بہت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سانپ زیادہ اور سیڑھیاں کم ہیں یعنی ناکامی کے خدشات زیادہ اور کامیابی کے امکانات کم ہیں۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’نیوز لائن‘‘ کراچی۔ شمارہ: مارچ ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*