ترکی سے اسلام اور جمہوریت کا سبق

۲۱ جولائی کو ترکی کی حکمراں جماعت انصاف و ترقی پارٹی (AKP) کی عام انتخاب میں فیصلہ کُن فتح اب تک ایک شاندار نتیجہ کو ظاہر کرتی ہے۔ بڑی بڑی سیاسی دشواریاں فوجی مداخلت کی دھمکیاں، شمالی عراق پر حملے کی باتیں، آمادۂ بغاوت قومیت اور یورپ اور امریکا کے ساتھ حوصلہ شکن تعلقات۔۔۔ یہ سب باتیں اور ایک سخت ترین سیکولر جمہوریہ میں ایک نرم اسلامی حکومت کا وجود دشواری، بغاوت اور داخلی محاذ آرائی یا جو بھی اس کا نام دیں، کا حل ہو سکتی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ترکی پورے طور سے ایک جمہوری انتخاب سے گزرا ہے جہاں نہ بہت زیادہ تشدد تھا اور رائے دہندگان بھی بڑی تعداد میں نکلے تھے اور نتیجہ بھی بالکل واضح تھا۔ دوسری باتوں کے علاوہ یہ نتیجہ ووٹروں کی جانب سے فوج کو ایک زبردست ڈانٹ تھی جس نے صدارتی امیدوار کے انتخاب کے حوالے سے AKP کے معاملے میں مداخلت کا عندیہ دیا تھا۔

اگرچہ ترک عوام اب بھی اپنی افواج کا بہت زیادہ احترام کرتے ہیں لیکن ان میں سے اکثریت کا احساس ہے کہ فوج کو سیاست میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ عوام حکومت کو انعام دے رہے ہیں کہ جس نے اپنی بہتر کارکردگی کے ساتھ بہتر نتائج دیے ہیں اور اپوزیشن پارٹیوں کو کہ جنہوں نے غیر ہم آہنگ اور غیر اطمینان بخش پالیسیاں اپنا رکھی تھیں، دھکا دے دیا ہے۔ یہی وہ ٹھیک طریقہ ہے جمہوریت کے کام کرنے کا۔ فوج کی مداخلت کا مطلقاً کوئی جواز نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر حکومت دانشمندی کی حامل ہے تو اسے اسلام پسندوں کے ایجنڈے سے متعلق محتاط رویہ جاری رکھنا چاہیے۔ بہت سارے ووٹرز یہ چاہتے ہیں کہ پردے، حجاب پر سے پابندی اٹھائی جائے لیکن سیکولرزم سے جدا وہ کسی بہت بنیادی اقدامات کی خواہش نہیں رکھتے۔ کیا ترکی میں وسیع تر مسلم دنیا کے لیے جمہوریت کے مستقبل کے حوالے سی کوئی سبق ہے؟ ہاں! ہے لیکن اس تک رسائی بہت احتیاط کی متقاضی ہے۔ جمہوریت کے بہتیرے راستے ہیں اور صحیح راہ کا انتخاب الگ الگ مقام پر مختلف ہو سکتا ہے۔ ترکی کی اپنی ایک استثنائی تاریخ ہے۔ بہت زیادہ سہل کرتے ہوئے بھی جمہوریت کی جانب اس کا دشوار گزار سفر سرسری طور سے درج ذیل طریقے سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ اس نے سلطنت قائم کی، خلافت کا وارث ہوا، دوسری جنگِ عظیم میں شکست کھانے والوں کے ساتھ رہا، مایوس ہو کر خلافت ختم کر دی اور ایک جدت پرست مطلق العنان حکمراں کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا جس نے اسلام کو بڑی بے دردی کے ساتھ دیس نکالا دے دیا۔ پھر ایک ایک اسلامی پارٹی کے ظہور کے لیے نصف صدی تک انتظار کیا جو اتنی نرم اور معتدل ہو کہ اعتماد کے ساتھ حکومت اسے سونپی جاسکے۔ مختصر یہ کہ ایک سدھائے ہوئے اسلام کو پوری احتیاط کے ساتھ حکومت میں واپسی کی اجازت سے قبل برسوں سیاسی زندگی سے جبراً دور رکھا گیا۔

مصیبت سے سبق

طویل انتظار کے علاوہ اس طرزِ فکر کے ساتھ جو دشواری ہے وہ یہ ہے کہ سیاست سے دور رکھے جانے کے مرحلے میں اور سیاست میں داخل ہونے دینے کے مرحلے میں چیزیں المناک طور پر غلط رُخ پر جاسکتی ہیں۔ پہلی صورت کی مثال کے لیے ایران پر غور کیجیے جو کہ ترکی کا ہمسایہ ہے۔ ۱۹۲۰ء کی دہائی کے بعد سے رضا شاہ نے اس ملک کی معیشت اور معاشرہ کو جدید بنانے کے لیے کمال اتا ترک کے سیکولر ریفارم پالیسی کی تقلید کی اور وہ بھی غضبناک تیز رفتاری کے ساتھ اور اسلام کے کردار کو جبراً گھٹاتے ہوئے۔ایرانیوں نے اس زبردستی مسلط کیے ہوئے ماڈرنائزیشن کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھا۔ اس کا حتمی نتیجہ توقع کے برخلاف نکلا۔ اس طرح شاہ پہلے سے بھی زیادہ غیرموثر ہو گیا اور ۱۹۷۹ء میں آیت اﷲ خمینی کا انقلاب رونما ہوا۔ بس وہ علما جنہیں شاہ نے سیاسی منظر سے دور رکھنے کی کوشش کی، نے کلّی طور پر اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اس کے بعد سے اقتدار ابھی تک انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس کی مثال کے لیے کہ داخلے کی اجازت دینے میں بھی چیزیں غلط رُخ پر جاسکتی ہیں، الجزائر میں ۱۹۹۲ء کے حالات کو یاد کیا جاسکتا ہے۔ اس صورت میں سیکولر قیادت اس نکتے پر پہنچ کر اپنے اعصاب کھو بیٹھی جب اسے فیصلہ کرنا تھا کہ آیا اپوزیشن پارٹی اسلامک سیلویشن فرنٹ (FIS) اتنی معتدل ہے کہ پارلیمانی انتخاب میں اسے عظیم فتح حاصل ہونے کے بعد اقتدار سونپا جاسکتا ہے۔

آخرکار حکمراں پارٹی اور فوج نے مل کر اس کے برخلاف فیصلہ کیا۔ انھوں نے انتخاب کے دوسرے مرحلے کو منسوخ کر دیا جس کے تباہ کُن نتائج نکلے۔ آئندہ دس سالہ خانہ جنگی میں کوئی دو لاکھ الجزائری مارے گئے۔ اس وقت الجیریا کے اس فیصلے کو کہ اسلام پسندوں کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنا ہے، پوری عرب دنیا کے حکمرانوں کی حمایت حاصل تھی۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ FIS جیسی پارٹیاں حقیقی جمہوری پارٹیاں نہیں ہیں۔ کہا یہ گیا کہ اگر یہ ایک بار اقتدار میں آگئیں تو اسے کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیں گی۔ یہ واقعہ ایک آدمی، ایک ووٹ اور ایک ہی بار کا معاملہ ثابت ہو گا۔ چنانچہ FIS کے معاملے میں الجزائریوں کو اس پارٹی کو آزما کر دیکھنے سے روک دیا گیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ ٹھیک یہی الزام عرصہ دراز سے AKP پر بھی ترکی میں لگایا جارہا ہے۔ اس پارٹی کے رہنما طیب اردگان نے واقعتا ایک بار کہا تھا کہ جمہوریت وہ ریل گاڑی ہے جس سے منزل پر پہنچنے کے بعد اترا جاسکتا ہے۔ ایک وزیراعظم کی حیثیت سے بہرحال وہ اور ان کی پارٹی اس حقیقت سے آشنا ہو چکے ہیں جو واقعتا جمہوریت کے مفہوم میں پوشیدہ ہے۔ اب اس میں زیادہ شک نہیں ہے کہ AKP اگر بیلٹ باکس میں شکست کھاتی ہے تو وہ اقتدار دوسروں کے حوالے کر دے گی۔ ایسا کیوں؟ بعض کا کہنا ہے کہ اس کا جواب ترکی سیکولر آئین میں اور کٹّر سیکولر فوج کی موجودگی میں ہے جو سیاست میں مداخلت کے لیے تیار بیٹھی ہے اور اس لمحے کی انتظار میں ہیں جب سیاست داں اپنی حد سے تجاوز کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک طرح کی بے اعتمادی ہو سکتی ہے۔ ایک دوسری بات یہ ہے کہ حقیقی اور مدلل طور پر زیادہ مضبوط ڈسپلن AKP نے جمہوریت کے حوالے سے اپنے تجربے کے ذریعہ اپنایا ہو۔ جناب اُردگان کی پارٹی کو معلوم ہے کہ اس کی مستقل سیاسی کامیابی اور اس کی پشت پر کارفرما قانونی جواز اس بات پر منحصر ہے کہ ووٹروں کی خواہشات کو قریب سے معلوم کیا جائے جو اُردگان کی پارٹی سے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے اسلامی اہداف میں اعتدال پیدا کریں اور جمہوری کھیل کے جو اصول ہیں، اس کی پابندی کریں۔ اگر کوئی بڑا سبق اسلامی دنیا ترکی کی کامیابی سے حاصل کر سکتی ہے تو وہ اس نکتے میں پوشیدہ ہے۔ وہ اسلامی پارٹیاں جو اپنے آپ کو اسلامی ہونے کا دعویٰ کرتی ہیں، وہ ایسے قوانین کی پابند ہونا چاہتی ہیں جو انھیں پورے طور پر انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دیتے ہوں۔ اگرچہ یہ نتیجہ بہت ہی واضح کیوں نہ ہو لیکن اسے ایسے مقامات پر فراموش کر دیا جاتا جہاں اس کی سچ مچ بہت زیادہ ضرورت ہے۔ مثلاً مصر میں جہاں اخوان المسلمون کو باضابطہ سیاسی سرگرمیوں سے، باوجود اس کی بڑھتی ہوئی مقبولیت، کے جبراً دور رکھا گیا ہے۔ یہ بالکل مناسب وقت ہے کہ انھیں سیاست میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’اکانومسٹ‘‘ لندن۔ شمارہ: ۲۸ جولائی ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*