اسلامی تاریخِ فلپائن کا ایک ورق

Mosque in Marawi City in the Philippines

دنیا میں امریکا کی ہارورڈ اور برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹیاں درجہ اول کی تسلیم کی جاتی ہیں۔ عالمی وقار کی مناسبت سے جاپان میں ٹوکیو یونیورسٹی کا درجہ بھی کچھ اسی نوعیت کا ہے۔ پروفیسر یامااُوچی ماسایو کی شعبۂ تعلیم کا تکنیکی نام تو کچھ اور ہے لیکن یہ سمجھ لیجیے کہ وہ اس یونیورسٹی کے گویا شعبۂ اسلامیات کے صدر ہیں۔ اسلام کے تعلق سے انہیں جاپان کے ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں بہت بلایا جاتا ہے اور اسلام پر جاپانی زبان میں انہوں نے تحقیقی کتابیں بھی بہت لکھی ہیں اور عرصہ دراز سے لکھتے چلے آرہے ہیں۔ یہ قاہرہ اور ہارورڈ یونیورسٹیوں کے بھی مہمان پروفیسر اور محقق کی حیثیت سے مصر اور امریکا میں بھی کافی وقت گزار آئے ہیں۔ انہیں ترکی کی تاریخ پر بھی کافی دسترس حاصل ہے۔
عالمی تاریخ پر ایک جاپانی اشاعتی ادارے نے ۳۰ موٹی موٹی جلدوں پر مشتمل ایک سیریز شائع کی ہے۔ پروفیسر یامااوچی سے اس سلسلے کے
۲۰ ویں جلد لکھوائی گئی ہے۔ ۵۰۰ صفحات پر مشتمل جاپانی زبان میں لکھی ہوئی اس کتاب کا نام ہے ’’جدید اسلام کا چیلنج‘‘۔ جرمنی کے ایک مرحوم نو مسلم محمد اسد، جنہوں نے انگریزی میں قرآن کا ترجمہ بھی کیا ہے، نے اپنی کتاب Islam At The Cross roads میں بتایا ہے کہ صلیبی جنگوں میں مسلمانوں کے ہاتھوں پے درپے شرمناک شکستیں کھانے کے بعد یورپ نے اس کا بدلہ لینے کا راستہ یہ اختیار کیا کہ دنیا کے سامنے اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے پیش کیا جائے اور اسلام کی ہر اچھی بات کو اس کا حلیہ بگاڑ کر سامنے لایا جائے۔ میدان جنگ میں تلوار سے شکست کا بدلہ قلم کی طاقت سے لیا جائے۔ مسلمانوں میں تعلیم کی کمی اور تحقیق کے فقدان کی وجہ سے ان کا یہ حربہ اتنا کامیاب ثابت ہوا کہ خود مسلمانوں کا مغربی تعلیم یافتہ طبقہ بھی انہی کی باتوں کو سچ اور روشن خیالی کی علامت اور اپنے علماء کی باتوں کو دقیانوسی سمجھنے لگا۔ اب بھی امریکا میں یہودیوں کی سرکردگی میں ۱۰۰ سے زائد Think Tanks (تحقیقی اداروں) کے قیام کے ذریعے بڑے بڑے پروفیسروں کو کروڑوں ڈالر کے وافر سرمایہ کے ساتھ اس کام کے لیے لگایا گیا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کی کیسے بیخ کنی کی جائے اور انہیں کس کس محاذ پر کیسے کیسے ضرب کاری لگاتار لگائی جاتی رہے۔ مساجد اور مدرسوں کے لیے تو مسلمانوں میں اب بھی بڑا مبارک جوش و خروش ہے لیکن افسوس کہ دانشورانہ سطح پر دشمن کے مقابلے کی ضرورت اور اہمیت کا احساس تو دور کی بات ہے، شعور تک نہیں ہے۔ اس کمی کو جاپان کے دانشور کسی حد تک پورا کر رہے ہیں۔ جاپانیوں نے نہ تو کبھی مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں شکستیں کھائی ہیں اور نہ کبھی ان کی فوجیں انڈونیشیا کے علاوہ کسی دوسرے مسلمان ملک میں بزورِ تلوار داخل ہوئیں۔ پوری تاریخ میں ہمارا اور جاپانیوں کا نہ تو کبھی لڑائی بھڑائی کا کوئی تعلق رہا اور نہ ہی کسی قسم کی جنگ و جدل کا۔ پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے۔ جو کام مسلمانوں کے کرنے کا تھا اس کی توفیق مسلمانوں کو تو نہیں ہوئی اس کو سرانجام دینے کی کی کمی جاپانی دانشور کسی حد تک پورا کر رہے ہیں او آج کے دور میں پروفیسر یامااوچی ماسایوکی اس کاررواں کے سرخیل نظر آتے ہیں۔

پروفیسر یاما اُوچی کی تحریروں سے تو میرا تعارف حال ہی میں ہوا ہے لیکن میرا یہ تاثر پہلی بار آج سے تقریباً ۴۰ سال قبل اس وقت بنا جب ٹوکیو سے دور دراز ایک شہر میں کانازاوا یونیورسٹی کے ایک جاپانی پروفیسر تاریخ سے ملاقات ہوئی۔ زندگی میں پہلی بار ایک غیر مسلم مستشرق کی زبان سے یہ آواز کان میں پڑی کہ اسلام تلوار سے نہیں پھیلا۔ بحیثیتِ مسلمان اس بات کا پہلے ہی سے یقین تو تھا ہی لیکن ہر انگریزی کتاب میں یہی لکھا ہوا ملتا تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ خیال تھا کہ جاپانیوں نے بھی انگریزی کتابوں ہی سے اسلام سیکھا ہوگا۔ اس لیے یہ تاثر پہلے ہی سے بنا ہوا تھا کہ یہ لوگ بھی وہی کچھ کہیں گے جو انہوں نے انگریزی کتابوں میں پڑھا ہوگا۔ لیکن میرا یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ میں نے پروفیسر صاحب کے اس خیال کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ ہم تو اپنے قریبی علاقوں کی تاریخ سے زیادہ واقف ہیں۔ انڈونیشیا، ملائیشیا، فلپائن اور چین ہمارے قریبی علاقے ہیں جہاں اسلام بڑی تیزی سے پھیلا۔ بعض تو پورے کے پورے ملک کے ملک ہی مسلمان ہو گئے جیسے انڈونیشیا، ملائیشیا، برونائی اور فلپائن وغیرہ۔ ان میں کہیں بھی کوئی اسلامی فوج ایک دن کے لیے بھی نہیں آئی۔ ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ ان علاقوں میں اسلام تلوار کے زور سے پھیلا۔ ان علاقوں میں تو فوجیں نہیں بلکہ پیسے کمانے کے لیے تاجر آئے تھے۔ ان تاجروں نے پیسے کمانے کے ساتھ ساتھ اپنے اخلاق و کردار سے ایسا تاثر چھوڑا کہ ان کے علماء کی تعلیم و تشریح سے لوگوں میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ ان علاقوں کے لوگوں نے بغیر کسی فوجی ڈر یا خوف اور بغیر کسی لالچ، دھونس یا دھاندلی کے اپنی دنیا اور عاقبت کی بہتری اس میں سمجھی کہ ازخود آگے بڑھ کر خوشی خوشی اسلام قبول کر لیں۔

پروفیسر یاما اُوچی نے بھی اپنی کتاب میں جگہ جگہ اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلام زیادہ تر مسلمان تاجروں، علماء اور صوفیاء کی تعلیمات اور کردار کے ذریعے پھیلا۔ فلپائن میں اسلام پھیلنے کا تذکرہ انہوں نے ان الفاظ میں کیا ہے۔

’’ساتویں صدی میں جزیرہ نما عرب میں محمد ﷺ پر خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی اور اس پر مبنی اسلام کی تعلیمات ۱۰ ویں صدی میں جنوب کی طرف سمندر پار کے ملک فلپائن کے تمام جزائر تک مسلمان تاجروں کے ذریعہ پہنچیں۔ اس کے بعد جب ۳۰۰ سال کا عرصہ گزرا تو اس دوران علماء اور صوفیاء کرام کی کوششوں سے فلپائن کے سارے جنوبی جزیرے مکمل طور پر اسلام قبول کر چکے تھے۔ علماء سے مراد اسلام کے اسکالر ہیں اور یہ لوگ مذہبی رہنما کا مقام رکھتے ہیں اور صوفیاء ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کا زور روحانیت اور عبادات پر ہوتا ہے۔ مسلمان دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں اپنی روزمرہ کی زندگی اسلامی طرز پر گزارنے کے لیے انہیں دو طبقات سے مذہبی رہنمائی حاصل کرتے ہیں۔

اسلام، مندناؤ اور روسن جزائر میں بھی خوب تیزی سے پھیلا لیکن ۱۵۱۲ء میں اسپین کے حملے کے وقت تک سولوجزائر مسلمانوں کے مرکزی مقام کی حیثیت اختیار کر گئے تھے۔

اسپین نے پہلے منیلا پر قبضہ کیا اور پھر اس کے بعد روسن جزیرہ کو اپنا مرکزی مقام بنا کر پورے فلپائن پر کنٹرول کرنے لگا۔ مسلمانوں کے علاوہ جو دوسرے غیر مسلم فلپائن کے باشندے تھے انہوں نے اسپین کے استعمار کے خلاف کوئی مزاحمت نہیں کی اور کیتھولک عیسائیوں کو اپنا مائی باپ تسلیم کر لیا اور فاتح قوم کی زبان، مذہب، کلچر اور بودوباش کو اختیار کر لیا۔ اس کے مقابلے میں مسلمانوں نے سولو، مندناؤ اور پاراوان جزائر پر اور دیگر ساحلی علاقوں میں اپنی مزاحمت کی تحریک بڑے زور و شور سے جاری رکھی۔ خصوصاً مسلمانوں کی مورو نسل کے لوگوں نے ۱۸۹۸ء میں فلپائن پر امریکا کے قبضے کے بعد بھی اپنی تحریک مزاحمت جاری رکھی اور ۱۹۴۶ء میں جب فلپائن آزاد ہوا اور ایک جمہوری ملک بن گیا تو عین اس کے مرکز میں اپنی جس مضبوط مزاحمت کا مظاہرہ کیا وہ فلپائن کی تاریخ کا ایک معروف حصہ بن چکی ہے۔ اب بھی مرکزی حکومت سے آزاد ہو کر اپنی ایک علیحدہ اسلامی ریاست بنانے کے لیے مورو مسلمانوں کی جو تحریک MNLF کے نام سے چل رہی ہے اس سے جاپان کا ہر شخص اچھی طرح واقف ہے‘‘۔

اس تحریر میں پروفیسر یاما اُوچی نے یہ واضح کیا ہے کہ فلپائن میں اسلام مسلمان تاجروں، علماء اور صوفیاء کے ذریعے پھیلا ہے۔ فلپائن کے آگے جاپان تک تو اسلام اپنی شان و شوکت کے زمانہ میں کبھی آیا ہی نہیں۔ پروفیسر یاما اُوچی کی تحریر سے دوسری یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ مسلمانوں کے جذبۂ دعوت اور خصوصاً جذبۂ جہاد نے ان کی انفرادیت کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ وہ بھی فلپائن کی دوسری غیر مسلم آبادی کی طرح آج اسپین اور امریکا کے زیر اقتدار خود بھی عیسائی بن چکے ہوتے۔

(بحوالہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ یکم اگست ۲۰۰۸ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*