اسلامی طریقۂ مشاورت۔ پاکستان کے لیے بہترین فارمولا

لیاقت علی خان بنیادی طور سے سول انجینئر ہیں۔ بعد میں انھوں نے قانون میں دلچسپی لی اور پھر اس مضمون میں پنجاب یونیورسٹی سے ڈگری کا امتحان پاس کیا۔ ۱۹۷۶ء میں خان امریکا چلے گئے اور وہاں انھوں نے نیویارک یونیورسٹی اسکول آف لاء سے ایل ایل ایم اور جے ایس ڈی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ خان نیویارک بار کے رکن بھی ہیں۔ خان نے تین کتب تصنیف کی ہیں جو Development in International Laws کے عنوان سے ایک موقر سلسلہ ہے۔ کئی سالوں سے قانون کے جائزے پر مبنی وہ مضامین لکھتے چلے آرہے ہیں جن کے موضوعات امریکی آئین، تقابلی آئینی قانون، قانونی تعلیم، انسانی حقوق، بین الاقوامی تنازعات نیز دہشت گردی وغیرہ سے متعلق رہے ہیں۔ ان کی علمی تحریریں دنیا کی یونیورسٹیوں میں تعلیمی کورس کے اجزا کے طور پر شامل کی گئی ہیں۔ خان نے اپنی علمی کاوشوں کا محور اساسی قانون اور ان تنازعات کو بنایا ہے جن کا تعلق مسلمانوں سے رہا ہے۔ خان نے اسلامی اصولِ قانون پر بہت ہی جمود شکن مضامین تحریر کیے ہیں۔ مضامین اور علمی کتابیں اور تدریسی کتابیں لکھنے کے علاوہ خان امریکا، مشرقِ وسطیٰ اور برصغیر ہندو پاک کے مشہور و معروف جرائد میں بھی لکھتے رہے ہیں۔ ان کے قانون اور امورِ خارجہ سے متعلق تبصرے دنیا بھر میں شائع ہوتے رہے ہیں اور میڈیا نے ہمیشہ عالمی واقعات پر ان سے تبصروں کی فرمائش کی ہے۔ موسمِ بہار ۲۰۰۷ء میں خان او آئی سی کے ہیڈ کوارٹر، جدہ، سعودی عربیہ میں بطور ریزیڈنٹ لیگل اسکالر کے کام کر چکے ہیں۔ وہ ۱۹۶۳ء سے واش برن اسکول آف لاء میں تدریس کے فرائض انجام دیتے چلے آرہے ہیں۔ ان کی بعض تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:

* A Theory of International Terrorism: Understanding Islamic Militancy (Martinus Nijhoff 2006)
* A Theory of Universal Democracy: Beyond the End of History.(Kluwer Law International 2003)
* The Extinction of Nation-States: A World Without Borders (Kluwer Law International, 1996)
* The legitimacy of a coup detat. New York University, 1983

ذیل میں لیاقت علی خان کا انٹرویو ہے جو انھوں نے پریس ٹی وی کے اسماعیل سلامی کو دیا ہے:۔


سوال: پاکستان کے حالیہ انتخاب میں جیسا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے معتدل سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دیے ہیں؟ کیا یہ ملک کے لیے خوش آئند بات ہے۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو کیوں؟

جواب: لفظ ’’معتدل پارٹیاں‘‘ مسلم ممالک کے سباق میں ایک رازدارانہ لفظ (Code Word) ہے جس کا مطلب سیکولر اور مغرب نواز پارٹیاں ہے۔ امریکا کے سیاسی لغت میں جو پارٹیاں اسلامی طرزِ حیات کو سنجیدگی سے لیتی ہیں وہ معتدل نہیں ہیں۔ ۲۰۰۸ء کے پارلیمانی انتخابات میں پاکستانیوں نے بنیادی طور سے دو قومی پارٹیوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو ووٹ دیا ہے جو پہلے بھی برسر اقتدار رہ چکی ہیں۔ بعض اسلامی پارٹیوں نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ بعض نے حصہ لیا لیکن شکست سے دوچار ہوئیں جس کا بنیادی سبب پرویز مشرف کے ساتھ ان کا قریبی الحاق تھا۔

انتخاب میں کامیاب ہونے والی پارٹیاں اگر ’’دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ‘‘ میں ہاتھ بٹاتی ہیں تو انھیں بطور معتدل پارٹی خوش آمدید کہا جائے گا۔ لیکن اگر نئی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شریک ہونے سے انکار کر دیتی ہے اور ملک میں امن و امان بحال کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اپنا موقف بدلنے کے لیے اُسے طرح طرح کے اقتصادی اور فوجی دبائو میں لینے کی کوشش کی جائے گی۔ بدقسمتی سے بعض (سبھی نہیں) پالیسی ساز امریکی اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ مسلمان حکومتیں ’’انتہا پسندوں اور بنیاد پرستوں‘‘ کے خلاف لڑیں اور انھیں قتل کریں۔ یہ دراصل خانہ جنگی اور اندرونی خلفشار کا نسخہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان بلکہ سارے مسلم ممالک بیدار ہوں اور ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘ کے عنوان سے اپنی نسل کشی کے منصوبے کو مسترد کر دیں۔

مشاورت، گفتگو، صلح جوئی اور ثالثی تنازعات کے حل کا اسلامی طریقہ ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کا بھی طریقہ ہے اور ان طریقوں کو اپنانا لازمی ہو جاتا ہے جب تنازعات مسلمانوں کے درمیان ہوں، اُمید ہے کہ فتح حاصل کرنے والی پاکستانی پارٹیاں اندرونی اختلافات و تنازعات کو حل کرنے کے لیے ان طریقوں کو استعمال میں لائیں گی۔

سوال: اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ پیپلز پارٹی نے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اور مسلم لیگ (ن) بھی ان سے تھوڑا ہی پیچھے ہے۔ کیا آپ کے خیال میں اس مسائل زدہ ملک میں جمہوریت کا قیام ممکن ہے؟

جواب: پاکستان کوئی وحدانی ریاست (Unitary State) نہیں ہے۔ یہ چار صوبوں پر مشتمل ہے۔ ہر صوبے میں ایک جمہوری پارلیمنٹ ہے۔ ۲۰۰۸ء کے انتخابات میں وفاقی پارلیمنٹ کے ساتھ چار صوبائی پارلیمنٹوں کا بھی انتخاب ہوا ہے۔ چنانچہ مسلم لیگ (ن) جس نے پنجاب میں کامیابی حاصل کی ہے، وہ پنجاب میں حکومت بنائے گی۔ پیپلز پارٹی سندھ میں کامیاب ہوئی ہے اور وہ صوبائی حکومت وہاں تشکیل دے گی۔ دوسری پارٹیاں باہمی اتحاد و اشتراک سے دیگر دو صوبوں میں حکومت بنائیں گی۔ مرکز میں امکان ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) مخلوط حکومت تشکیل دیں گی جو قومی مفاہمت اور استحکام کے لیے پاکستانیوں کی ضرورت ہے۔ سب سے بری صورتِ حال اس وقت ہو گی جب پیپلز پارٹی بیرونی دبائو میں آکر پرویز مشرف کے ساتھ کام کرنے پر راضی ہو جائے گی۔ یہ اشتراک وکلا کی ناراضی کا سبب بنے گا۔ علاوہ ازیں جج معزول رہیں گے، عدالتی نظام ناکارہ رہے گا، سپریم کورٹ اس وقت جس شکل میں موجود ہے، کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

سوال: ادھر پرویز مشرف پر مستعفی ہونے کے لیے بہت زیادہ دبائو رہا ہے۔ اس تاکید کے ساتھ کہ ایک قومی حکومت تشکیل دی جائے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ممکن ہو سکے گا۔

جواب: پرویز مشرف پر مستعفی ہونے کے لیے تو دبائو تو اب بنے گا جبکہ مسلم لیگ (ق) جو کہ ان کا سہارا تھی، بری طرح انتخابات میں ہار گئی ہے۔ ایک طویل عرصے تک فوجی سربراہ رہنے کے بعد اب ان کے پاس فوجی اقتدار بھی نہیں ہے۔ ان کے پاس سیاسی قوت بھی نہیں ہے کہ ان کی سیاسی پارٹی انتخابات میں شکست کھا چکی ہے۔ ان کے پاس آئینی قوت بھی نہیں ہے کیونکہ انھوں نے ناجائز طریقے سے مختلف مواقع پر آئین میں ترمیم کر ڈالی ہے۔ تمام قانونی جواز سے محروم ہونے کے بعد یہ بات بالکل غیر واضح رہی ہے کہ پرویز مشرف کس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدرکی حیثیت سے آئندہ برقرار رہیں گے۔ اگر قومی اتحاد پر مبنی حکومت کا بھی قیام عمل میں آتا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ مشرف اس کا حصہ ہوں۔

سوال: کیا اس کا کوئی امکان ہے کہ نومنتخب ارکانِ پارلیمنٹ صدر پرویز مشرف کو برطرف کر دیں؟

جواب: یہ منحصر ہے قومی پارلیمنٹ میں موجود پارٹیوں کی سیاسی قوتِ ارادی پر۔ انھیں دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہو گی کیونکہ پارلیمنٹ اور سینٹ دونوں مل کر ہی صدر پرویز مشرف کو برطرف کر سکتی ہیں۔ برطرفی کوئی آسان مرحلہ نہیں ہے۔ قوم ایک دوسری مشکل سے دوچار ہو گی۔ بہتر یہ ہے کہ صدرپرویز خود مستعفی ہو جائیں۔ بہرحال پرویز مشرف ممکن ہے اقتدار سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی مشکل میں پڑ جائیں۔ ممکن ہے وکلا ان کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کی کوشش کریں، اس لیے کہ انھوں نے آئین کو بغیر کسی جائز سب کے معطل کیا۔

سوال: آپ کے خیال میں موجودہ صورتِ حال میں پاکستانی عوام کی بہتری کس میں ہے؟

جواب: پاکستانی عوام کی بہتری اس میں ہے کہ جمہوری عمل کو موثر بنایا جائے اور اسے جاری رہنے دیا جائے۔ وہ پارٹیاں جنہوں نے وفاقی انتخاب میں کامیابی حاصل کی ہیں، اُن پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ملک کو اس مشکل وقت سے نکالیں۔ انھیں معاملہ فہم ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور اسلامی طریقۂ مشاورت سے استفادہ کرتے ہوئے آگے کے قدم کا انتخاب کرناچاہیے۔ انھیں لازمی طور سے آزاد ہو کر سوچنا چاہیے۔ کسی بیرونی دبائو کے زیرِ اثر آ کر سوچنا بالکل ترک کر دینا چاہیے۔ سیاسی بحران مزید گہرا ہوتا جائے گا اگر وکلا کو قافلے میں شامل نہیں کیا جاتا ہے۔ عدالتی نظام کی بحالی قومی استحکام کی کلید ہے۔

سوال: بے نظیر بھٹو کی شہادت پاکستان کی تاریخ بدلنے میں کس حد تک معاون ہو سکتی ہے؟

جواب: پاکستان نے جمہوریت کی جدوجہد میں اپنے متعدد رہنمائوں کی قربانیاں پیش کی ہیں۔ پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ہی ملک کے پہلے وزیراعظم کو قتل کر دیا گیا۔ وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو بھی قتل کے مشکوک الزام کی بنا پر پھانسی پر چڑھا دیا گیا۔ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کا قتل تازہ ترین سانحہ ہے۔ وہ قوم کی محبوب رہنما تھیں۔ یہ غیرواضح ہے کہ کس طرح ان کا قتل پاکستان کی تاریخ کی تبدیلی پر منتج ہو گا۔ تمام عملی مقاصد کے پیشِ نظر پاکستان ایک عالمی اکھاڑا بن چکا ہے جہاں بیرونی قوتوں کے مفادات کا ٹکرائو پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسیوں کو تشکیل دیتا ہے۔

{}{}{}

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*