اسلامی تحریکوں کی غیرمعمولی پیش قدمی

ان الفاظ سے امریکی رائٹر ڈویل مکمانوس نے اپنے مقالے Mosque and State شائع شدہ امریکی لاس اینجلس ٹائمز کی ابتدا کی ہے ’’اسلامی جماعتیں سیاسی، شرعی اور قانونی طاقت بن چکی ہیں، خواہ ہم پسند کریں یا نہ کریں‘‘!، اور یہ ثابت کیا ہے کہ عرب خطے میں اسلام پسند امر واقع بن چکے ہیں، اس لیے عام طور سے مغرب اور خاص طور سے امریکا کو ان سے معاملہ بندی کا طریقہ ایجاد کرنا چاہیے۔ ذیل میں اس مقالے کا ترجمہ پیش ہے:

دو برس قبل ایک کانفرنس جس میں امریکی ذمہ داروں کے ساتھ تیونس، اردن اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک کے نوجوان مسلم سیاستدان بھی شریک تھے، میں بھی شریک ہوا، اجتماع کے دوران اسلام پسندوں نے یہ معلوم کرنا چاہا کہ کیا امریکا ایسے آزادانہ انتخابات میں اسلام پسندوں کو امیدوار بننے کی اجازت دے گا، جس سے ان کو اقتدار تک پہنچنے کا موقع ملنے والا ہو؟ امریکی ذمہ داروں نے اس کے جواب کے بجائے ان سے اُلٹا یہ سوال کیا کہ: کیا کامیابی کے بعد اسلام پسند آزاد و جمہوری انتخابات منعقد کرانے کی اس وقت بھی اجازت دیں گے جب ان کو اقتدار کھونے کا اندیشہ ہو؟

اس وقت تو یہ مباحثہ محض نظری گفتگو تھی، مگر اب یہ سوالات حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔

چنانچہ تیونس میں انقلاب کے بعد پہلے انتخابات میں اسلام پسند پارلیمنٹ کی اکثر نشستوں پر کامیاب ہو چکے ہیں، مصر میں بھی انتخابات کے نتیجے میں اخوان المسلمون کو واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ جس سے اسلامی رجحان کی کئی شاخیں نکلی ہیں، لیبیا میں کسی سے بھی یہ بات مخفی نہیں کہ قذافی کو اکھاڑ پھینکنے والے انقلاب میں اسلام پسندوں کا نمایاں اور بنیادی حصہ تھا، اس لیے کسی بھی نئی حکومت میں ان کے بنیادی کھلاڑی ہونے کا احتمال ہے۔

اس کانفرنس میں میرے پڑوس میں ایک مندوب سیکولر مصری سعد الدین ابراہیم بیٹھے تھے، انہوں نے دین و حکومت کے درمیان علیحدگی کی اپنی پسند وضاحت سے یہ کہتے ہوئے بیان کی: ’’اسلام پسندوں میں بہت سے لوگ دل سے جمہوری نہیں ہیں… لیکن تمہارے لیے ان سے چھٹکارا ممکن نہیں ہے، اس لیے ان سے تم کو معاملہ کرنا ہے‘‘۔

امریکا اور دیگر لوگوں کی مشکل یہ ہے کہ ان کو عالم عرب میں اسلام پسندوں کے ایرانی ماڈل میں تبدیلی کا خوف ہے جو ۳۲ برس سے زور زبردستی سے ایران پر حکومت کر رہے ہیں اور جمہوریت کا نام محض شعار کے طور پر اچھالتے ہیں۔

چونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیشتر اسلام پسند لبرل تعدد و تنوع کو قبول نہیں کرتے، ملک کے سرکاری دین اسلام کو اور اسلامی شریعت کو شہری قانون کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ وہ اسرائیل کو قبول نہیں کرتے اور اس کے ساتھ امریکا کی پالیسیوں کو بھی پسند نہیں کرتے، اس لیے بہت سے امریکی یہ خیال کرتے ہیں کہ عرب انقلابات کے نتیجے میں حکومت تک پہنچنے والے اسلام پسندوں کے ساتھ گزارا مشکل ہے۔ اس بات کو صفائی سے ان ممبران کانگریس نے بیان کیا کہ جنہوں نے آئندہ پارلیمنٹ میں الاخوان المسلمون کے اکثریت حاصل کرنے کی صورت میں مصر کی امداد میں کمی کی تجویز پیش کی ہے۔

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی سوچ رکھنے والوں کو تین باتیں پریشان کیے رہتی ہیں:

(۱) اسلام پسند قانونی سیاسی طاقت بن گئے ہیں۔
(۲) صاف شفاف آزادانہ جمہوری انتخابات میں ان کی کامیابی کا احتمال ہے۔
(۳) اور ابھی تک وہ اپنے خاص تجربے کی چوکھٹ پر ہیں۔

اسلامی جماعتیں اسی وجہ سے نئی عرب جمہوریتوں کا جز بنیں جس وجہ سے اسرائیل میں بنی تھیں، چنانچہ جس طرح اسرائیل میں دینی یہودی جماعتیں ہیں، اسی طرح اٹلی کنزرویٹو کیتھولک پارٹی کو گلے لگائے ہوئے ہے، وجہ یہ ہے کہ وہاں کے ووٹر ملکی سیاست میں ان کے اعتقادات کا عکس دیکھنا چاہتے ہیں، خود امریکا میں اگرچہ اس طرح کی کوئی پارٹی نہیں ہے، لیکن وہاں کے کنزرویٹو عیسائی بھی یہ احساس رکھتے ہیں۔ بہرحال بہت سی ایسی دلیلیں بھی ہیں کہ اسلام پسند جن میں سے بہت سے جمہوریت کو مانتے ہیں کہیں بھی اس کے لیے خطرہ نہیں بنے۔ شمالی کیرولینا یونیورسٹی کے دو اسکالر چارلز کوز مین اور اجلال نقوی نے عالم اسلام کے ایک سو ساٹھ ایسے انتخابی تجربوں کا مطالعہ کیا جن میں اسلامی جماعتوں نے مقابلہ کیا تھا، اور انہوں نے یہ پتہ لگایا کہ اسلام پسند انتخابات میں قابل لحاظ پیش رفت حاصل کر رہے ہیں، بعض تجزبہ نگاروں کا خیال ہے کہ جمہوری عمل میں شرکت سے اسلام پسندوں کی حدت میں تخفیف کا امکان ہے، دوسروں کا کہنا ہے کہ اسلام پسندوں کے لیے شرعیت (قانونی جواز) حاصل کرنے کا تنہا طریقہ یہ ہے کہ وہ جمہوریت اپنائیں، اس لیے ان کو یہ موقع حاصل کرنا چاہیے۔

دوسری طرف امریکی انتظامیہ اب بھی اسلام پسند جماعتوں سے احتیاط و ہوشیاری کا طریقہ اپنائے ہوئے ہے جو عالم عرب میں اقتدار تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ چنانچہ ہلیری کلنٹن نے بعض امریکی سفارت کاروں کو الاخوان المسلمون سے گفتگو کی اجازت دی ہے۔ (دہشت گرد تنظیموں کی امریکی سرکاری فہرست میں الاخوان المسلمون نہیں ہیں) مگر یہ روابط ابھی نچلی سطح پر تجربے سے زیادہ نہیں ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ امریکا اسلام پسندوں کے ہر قول و فعل سے متفق نہ ہو (اور یہ حالت تو روس، چین اور میکسیکو کی بھی ہے) لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسلام پسند دائمی سیاسی طاقت بن چکے ہیں، خواہ امریکا چاہے یا انکار کرے۔

اس لیے اگر مصر، تیونس اور لیبیا جمہوری راستے پر چلتے ہیں تو بے شک وہ اسلام اور تعدد و تنوع میں اتفاق و مطابقت پیدا کرنے کا کوئی وسیلہ پالیں گے، اس موقع پر امریکا اور مغرب کو چاہیے کہ ان کے ساتھ زیادہ سنجیدگی سے شرکت اور معاملہ کرکے ان کی مدد کریں، خواہ یہ جمہوری قواعد کے راستے سے سیاست برتنے سے ہو یا ایسے قانونی کھلاڑیوں کے ساتھ معاملے کی حیثیت سے ہو جن کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہے۔

(ترجمہ: مسعود الرحمن خان ندوی)

(بشکریہ: لاس اینجلس ٹائمز، ۲۳؍ اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*