لبنان، اسرائیل اور حزب اللّہ

اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر ۳؍ اگست کو ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جو بروقت کنٹرول نہ کیے جانے کی صورت میں جنگ میں بھی تبدیل ہوسکتا تھا۔ ایک جھڑپ میں اسرائلی لیفٹیننٹ کرنل مارا گیا جبکہ دو لبنانی فوجی اور ایک صحافی جاں بحق ہوئے۔ ہوا یہ کہ سرحد کی اسرائیلی جانب ایک اسرائیلی فوجی چند افراد کے ساتھ چیری چننے آ رہا تھا۔ لبنانی فوجی سمجھے کہ اسرائیلی فوج سرحدی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس نے انتباہ کے لیے فائرنگ کی۔ جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ ہوائی فائرنگ کے بجائے ۲۰۰ میٹر کے فاصلے پر ایک نگراں چیک پوسٹ پر متعین اسرائیلی فوجی افسر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے فائرنگ کی تو دو لبنانی فوجی اور ان کے ساتھ ساتھ ایک صحافی بھی مارا گیا۔ اقوام متحدہ کے امن فوجی فوری طور پر حرکت میں آئے اور غلط فہمی رفع کی۔ اگر یہ مداخلت نہ ہوتی تو بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوسکتا تھا۔ اسرائیلی فوج نے جوابی حملے میں آرٹلری اور راکٹ بھی استعمال کیے۔

اقوام متحدہ نے بعد میں وضاحت کی کہ جن اسرائیلی درختوں کے حوالے سے تنازع کھڑا ہوا تھا وہ اسرائیل کی حدود میں واقع ہیں۔ یہ المیہ جنگ میں اس لیے بھی تبدیل ہوسکتا تھا کہ ۲۰۰۶ء میں اسرائیل اور حزب اللہ ملیشیا کے درمیان ایک بڑی جنگ ہوئی تھی جس میں اسرائیل کو فاتح قرار نہیں دیا جاسکا تھا۔ اسرائیل اب حزب اللہ کو کسی بھی سطح پر برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ لبنان اور اسرائیل کی سرحد پر ۱۲ ؍ہزار سے زائد امن فوجی تعینات ہیں مگر پھر بھی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حزب اللہ کے پاس اب بڑے اور بہتر میزائل ہیں جن سے اسرائیل کی حدود میں دور تک نشانہ باندھا جاسکتا ہے۔ اسرائیل جانتا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا دراصل ایران کی شہہ پر کام کر رہی ہے۔

لبنان میں یہ خدشہ تقویت پا رہا ہے کہ اسرائیل اب لبنان کے خلاف کچھ بھی کرنے سے قبل حزب اللہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے گا۔ اسرائیلی رہنما کہتے ہیں کہ اب لبنان میں حملے صرف شیعہ علاقوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ملک بھر میں کیے جائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ لبنان کی کمزور حکومت کو ختم ہی کردیا جائے کیونکہ یہ حکومت کابینہ میں حزب اللہ کے حمایت یافتہ ارکان کے رحم و کرم پر ہے۔

حزب اللہ کا دعویٰ ہے کہ وہ شیعوں کی نمائندہ تنظیم ہے۔ لبنان کی ایک تہائی آبادی شیعوں پر مشتمل ہے۔ فوج کے مقابلے میں حزب اللہ ملیشیا زیادہ منظم، تربیت یافتہ اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اس کی نیٹ ورکنگ بھی اچھی ہے۔ بہت سے غیر شیعہ بھی حزب اللہ کو سراہتے ہیں کہ وہ خاصی بے باکی سے اسرائیل کو للکارتی اور لتاڑتی ہے۔ مئی ۲۰۰۸ء میں جب لبنانی حکومت نے حزب اللہ ملیشیا کے اثرات کا دائرہ محدود کرنے کے لیے چند ایک پابندیاں عائد کیں تو اس نے بیروت کے وسطی حصے پر قبضہ کرلیا تھا جو کئی ہفتوں تک برقرار رہا تھا۔

اب پھر حزب اللہ کی جانب سے مختلف ہتھکنڈے اپنائے جانے کا خطرہ ہے۔ حکومت نے اقوام متحدہ کی معاونت سے ایک ٹربیونل قائم کیا ہے جس کا بنیادی مقصد ۲۰۰۴ء سے ۲۰۰۸ء تک سیاسی قتل کی وارداتوں کی تفتیش کرکے مجرموں کو سزا دینا ہے۔ قتل کی ان وارداتوں کا الزام حزب اللہ پر عائد کیا جاتا رہا ہے۔ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ اور ان کے ساتھیوں پر بھی سیاسی قتل کی وارداتوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ ۲۰۰۵ء میں لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری کے قتل نے ملک کو شدید عدم استحکام سے دوچار کردیا۔ شام سے تعلق خراب ہوئے۔ کئی ممالک نے لبنان کے حالات کو دیکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کیا۔ بعد میں حالات ایسے خراب ہوئے کہ حزب اللہ کے لیے کنٹرول کرنا مشکل ہوگئے اور اسرائیل کے خلاف جنگ شروع ہو گئی۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ اگر رفیق حریری کے قتل میں حزب اللہ کا ہاتھ ثابت ہوگیا تو لبنان میں فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ جائے گی اور ایک نئی اور شدید تر خانہ جنگی شروع ہو جائے گی۔

حال ہی میں کشیدگی اتنی بڑھ گئی کہ شام کے صدر بشار الاسد، سعودی فرماں روا عبداللہ بن عبدالعزیز اور قطر کے شیخ حماد الخلیفہ نے بیروت پہنچ کر معاملات کو بہتر کیا۔ اسرائیل کے خلاف ’’فتح‘‘ کی چوتھی سالگرہ پر حسن نصر اللہ نے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹربیونل کی پشت پر مغربی سازش بے نقاب کریں گے اور رفیق حریری کے قاتلوں کو بھی سامنے لائیں گے۔ ۳؍ اگست کو حسن نصر اللہ نے بیان بدلتے ہوئے کہا کہ وہ رفیق حریری کے قتل میں اسرائیل کے ملوث ہونے کے شواہد بعد میں بیان کریں گے اور قتل کی نوعیت سے متعلق بعض اہم معلومات بھی بعد میں پیش کریں گے۔ ۳؍ اگست کو سرحد پر جو کچھ بھی ہوا اس کی بنیاد پر حسن نصراللہ کو یہ کہنے کا موقع مل گیا ہے کہ اسرائیل کو کنٹرول کرنے کے لیے چھاپہ مار سرگرمیاں ناگزیر ہیں۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘۔ ۷؍ اگست ۲۰۱۰ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*