اسرائیل، فلسطین اور الخلیل

فلسطین کے مسئلے کا حل تلاش کرنے والوں کی نظر میں ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دو ریاستوں کے نظریے پر عمل کی صورت میں الخلیل کا مستقبل کیا ہوگا؟

اگر اسرائیل کی حکومت فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے غرب اردن میں واقع اسرائیلی آبادیوں کو ہٹانے پر رضامند ہو بھی جائے تو بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ قریاتِ اربعہ (Kiryat Arba) اور الخلیل (Hebron) سے اسرائیلی آباد کاروں کو کس طور نکال پائے گی کیونکہ الخلیل مسلمانوں اور یہودیوں دونوں کے مقدس مقامات کا حامل ہے۔

اسرائیل اور فلسطین کو الگ الگ ریاستوں کے روپ میں دیکھنے والے لوگ اس خیال کے حامل ہیں کہ دونوں ریاستیں ساتھ ساتھ جی سکتی ہیں اور ۱۹۶۷ء سے پہلے کی سرحدوں کو قبول کرکے ذرا سی تبدیلی کے ذریعے غرب اردن میں بسے ہوئے یہودیوں کو اسرائیلی حدود میں بسایا جاسکتا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس میں جو علاقے پہلے عرب کہلاتے تھے ان میں اب دو لاکھ سے زائد یہودی آباد ہیں۔ غرب اردن کی مختلف آبادیوں میں تین لاکھ تک یہودی سکونت پذیر ہیں۔ اگر دو ریاستوں کے نظریے پر عمل ہوا اور آزاد فلسطینی ریاست معرض وجود میں آئی تو ان تمام یہودیوں کو اسرائیل میں آباد ہونا پڑے گا۔ فلسطینیوں کو اپنی دو یا تین فیصد زمین ہی سے محروم ہونا پڑے گا اور اس نقصان کا ازالہ بھی وہ کہیں اور سے کرلیں گے۔

غرب اردن میں الٹرا آرتھوڈوکس یہودی بھی آباد ہیں جنہیں عرفِ عام میں ہیریڈیم کہا جاتا ہے۔ اگر فلسطینی ریاست معرض وجود میں آتی ہے تو ان الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو بھی فلسطینی حدود میں آباد ہونا پڑے گا۔ دو ریاستی نظریہ تسلیم کیے جانے پر غرب اردن سے کم و بیش ایک لاکھ یہودیوں کو اسرائیل جاکر آباد ہونا پڑے گا۔ ان میں سے چند ہی فلسطینی ریاست میں رہنے کو ترجیح دیں گے۔

ابھی تک اس امر پر بحث ہو رہی ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی صورت میں کیا دو لاکھ یہودیوں پر مشتمل آبادی ایریل کو بھی ختم کیا جائے گا جو غرب اردن میں ۱۷؍کلومیٹر تک دخیل ہے۔ یہ مفروضہ بہت پہلے قائم کرلیا گیا تھا کہ دو ریاستی فارمولا قبول کیے جانے کی صورت میں قریاتِ اربعہ نامی یہودی بستی کو، جو ۱۹۷۱ء کے بعد قائم کی گئی تھی، ختم کرکے اس کے سات ہزار (یہودی) مکینوں کو اسرائیل بھیجا جائے گا۔ الخلیل میں آباد ۴۰۰ یہودیوں کو بھی اسرائیل جانا پڑے گا۔

الخلیل کا معاملہ اب تک اٹکا ہوا ہے۔ یہ شہر یہودیوں کا دوسرا مقدس ترین مقام ہے کیونکہ ان کا عقیدہ ہے کہ یہیں آرک آف پیٹریارچ ہے۔ یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ اس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام کے مقبرے ہیں۔ مسجد ابراہیمی سے ملحق ایک عمارت پر یہودیوں کا بھی دعوٰی ہے۔ ۱۹۶۷ء کی جنگ کے بعد الخلیل دو ہزار سال میں پہلی بار یہودیوں کے کنٹرول میں آیا۔ انتہا پسند یہودیوں کا تو خیر ذکر ہی کیا، سیکولر ذہن کے حامل یہودی بھی نہیں چاہیں گے کہ الخلیل دوبارہ مسلمانوں کے کنٹرول میں چلا جائے۔ ۱۹۲۹ء میں فسادات کے دوران ۶۷ یہودی مارے گئے تھے۔ ۱۹۹۴ء میں ایک یہودی آباد کار بروچ گولڈ اسٹین نے فائرنگ کرکے مسجد ابراہیم میں ۲۹ مسلمانوں کو شہید کردیا تھا۔

نقشوں کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے الخلیل میں اپنی آبادیوں اور قریاتِ اربعہ کے درمیان فزیکل لنک کو مستحکم کیا ہے۔ سڑکیں بھی تعمیر کرلی گئی ہیں اور مکانات بھی معیاری ہیں۔ اگر دو ریاستوں کے فارمولے پر عمل ہوا تو الخلیل سے یہودی آباد کاروں کو منتقل کرنا بڑا مسئلہ ہوگا۔ الخلیل کے قدیم علاقوں میں آباد یہودی ایک ایسا علاقہ ترتیب دے رہے ہیں جس میں صرف یہودی آباد ہوں گے۔ یہودی زیادہ سے زیادہ زمین خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی فلسطینی کو وہاں آباد نہ ہونے دیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ کوئی ملٹری آرڈر بھی عمل پذیر رکھنا چاہتے ہیں تاکہ فلسطینیوں کی نقل و حرکت ممکن نہ رہے۔

الخلیل کے قدیم علاقوں میں فلسطینیوں کی نقل و حرکت ویسے ہی خاصی محدود کردی گئی ہے۔ یہودی آبادیاں الگ تھلگ ہیں۔ شہدا اسٹریٹس پر چار بلڈنگ بلاکس کو قلعے کی شکل دے دی گئی ہے۔ سخت سیکورٹی نافذ ہے جس کے باعث کوئی بھی غیر متعلقہ شخص اِس علاقے میں قدم نہیں رکھ سکتا۔ فلسطینیوں کا شِکوہ یہ ہے کہ یہودی شمال میں حرم اسٹریٹ پر کچرا پھینکتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں وہاں سے گزرنے والوں کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مشرقی علاقوں کو H2 کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں اسرائیلی سیکورٹی فورسز کا گشت جاری رہتا ہے جس سے فلسطینیوں کو خاصی دشواری پیش آتی ہے۔

یہودی آباد کاروں کا دعوٰی ہے کہ الخلیل میں فلسطینیوں کی ملکیت میں زمین تھی ہی نہیں۔ کچھ زمین عسکری مقاصد کے لیے حاصل کی گئی تھی۔ کچھ سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھی اور باقی زمین ۱۹۳۰ء کے عشرے تک وہاں آباد یہودیوں کی ملکیت میں تھی۔ بعد میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی زمین بیچ کر نکل جائیں۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ ۱۹۹۴ء میں بروچ گولڈ اسٹین کے ہاتھوں ۲۹ مسلمانوں کی شہادت کے بعد اُس وقت کے اسرائیلی وزیر اعظم یزاک رابن نے، جو خود بھی ایک انتہا پسند یہودی کے ہاتھوں قتل ہوئے، غرب اردن اور بالخصوص الخلیل اور قریاتِ اربعہ سے یہودی آباد کاروں کو نکالنے کی کوشش کی تھی۔ اُنہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب ایسے کسی بھی آپریشن میں زیادہ مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

(“Israel, Palestine and Hebron: Not so Easy”… “Economist”. July 28th, 2012)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*