بگڑتے ہوئے ترک اسرائیل تعلقات

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ترکی اور اسرائیل کے تعلقات میں تلخی بڑھتی ہی جارہی ہے۔ دونوں کے تعلقات پہلے ہی بہت اچھے نہیں تھے۔ اب حالات نے ان میں مزید دراڑ ڈال دی ہے۔

۲ ستمبر ۲۰۱۱ء کو ترکی نے اسرائیلی سفیر کو باضابطہ نکال دیا جو اب تک کی اطلاعات کے مطابق واپس اسرائیل پہنچ بھی چکے ہیں۔ ترکی نے اسرائیل سے عسکری روابط بھی منقطع کرلیے ہیں۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے لیبیا کا دورہ کیا ہے اور اب جلد ہی مصر کا دورہ بھی کرنے والے ہیں۔ ۱۵ برسوں میں کسی ترک لیڈر کا یہ پہلا دورہ ہوگا جس میں کئی عسکری اور معاشی معاہدے متوقع ہیں۔ مصر کے دورے میں طیب اردگان ممکنہ طور پر غزہ بھی جائیں گے جس کا اسرائیل نے اقتصادی محاصرہ کر رکھا ہے۔ جب سے اسلامی تحریکِ حماس نے اس کا انتظام سنبھالا ہے یہ دورہ اسرائیل کی آنکھ میں واقعی تنکا چبھونے والی بات کہلائے گا۔

اسرائیل کے خلاف حالیہ ترک اقدامات اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کی بنیاد پر سامنے آئے ہیں جس میں گزشتہ سال امدادی قافلے پر اسرائیلی کمانڈوز کی فائرنگ اور اس کے نتیجے میں ترکی کے آٹھ امدادی کارکنوں کی ہلاکت کو درست قرار دیتے ہوئے اسرائیل کو بظاہر کلین چٹ دے دی گئی ہے۔ ایک ترک نژاد امریکی بھی اس واقعے میں جاں بحق ہوا تھا۔ رپورٹ میں اسرائیلی کارروائی کو زیادتی پر مبنی قرار دینے کے باوجود اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی اور اس ناکہ بندی کو ختم کرنے کی کوششوں کے خلاف کارروائی کو درست قرار دیا گیا تھا۔ یہ رپورٹ ۲ ستمبر کو جاری کی گئی۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کو اسرائیل نے چند تحفظات کے ساتھ قبول کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رپورٹ کے مندرجات اسرائیل کے موقف کی تائید پر مبنی ہیں اور اس پر اسرائیلی قیادت نے سکون کا سانس لیا ہوگا۔ ترک صدر عبداللہ گل اور وزیر اعظم طیب اردگان نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کو غیرحقیقت پسندانہ قرار دے کر مسترد کردیا۔ پینل کے ترک رکن اوزڈم سینبرک نے کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی ہر اعتبار سے غیرقانونی ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس واقعے پر ترکی سے معذرت کا اظہار کرنا چاہیے اور متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ بھی ادا کرنا چاہیے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ینیامین نیتن یاہو نے کہا کہ معافی مانگنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اسرائیلی فوجیوں نے اپنے وطن کی حفاظت کی خاطر گولی چلائی تھی۔

ترک اور اسرائیلی تاجروں نے سکون کا سانس لیا ہے کہ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود غیرفوجی تجارت متاثر نہیں ہوگی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت چند برسوں کے دوران تیزی سے بڑھی ہے۔ سالانہ تین ارب پچاس کروڑ ڈالر سے زائد کی تجارت کے ساتھ آج ترکی، اسرائیل کا چھٹا بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

عسکری روابط شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اگر معاملات یونہی چلتے رہے تو کئی اسرائیلی کمپنیوں سے چھانٹیاں شروع ہو جائیں گی کیونکہ کئی مشترکہ منصوبے کھٹائی میں پڑچکے ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ برسوں میں ترک فوج کے امریکی ساختہ ٹینکوں کو اپ گریڈ کیا ہے اور امریکی ساختہ طیاروں کی مرمت کی ہے۔ ترکی کرد مزاحمت کاروں کے خلاف اسرائیل کے تیار کردہ ڈرون استعمال کرتا ہے۔ مگر خیر باقاعدگی سے منعقد کی جانے والی مشترکہ فوجی مشقیں اب ماضی کا قصہ معلوم ہوتی ہیں۔ اسرائیلی طیارے اب بلغاریہ اور قبرص کی فضاؤں پر گردش کرتے ہیں۔ اور اسرائیل نے ترکی کے پڑوسی یونان کے ساتھ بھی مشترکہ فوجی مشقیں کی ہیں۔ طیب اردگان نے ۶ ستمبر کو اعلان کیا کہ ان کا ملک مشرقی بحیرہ روم کے پانیوں میں اپنے جنگی جہازوں کی موجودگی بڑھائے گا۔

ترک اسرائیل دفاعی تعلقات اس لیے بھی متاثر ہوئے ہیں کہ ترک وزیر اعظم نے سیاست میں مسلح افواج کا عمل دخل کرنے کے لیے چند فیصلہ کن اقدامات کیے ہیں۔ ماضی میں ترک جرنیل خارجہ پالیسی پر زیادہ اثر انداز ہوتے تھے اس لیے اسرائیل اور امریکا کی ہم نوائی زیادہ کی جاتی تھی۔ مگر نو برسوں کے دوران جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی کی حکومت نے بہت کچھ بدل دیا ہے۔ اسلام نواز رجحانات رکھنے والی جماعت کی حکومت کے خلاف فوجی سازشوں اور مسلح افواج کی مجموعی نا اہلی نے بھی بہت کچھ تبدیل کیا ہے۔ اسرائیل سے تعلقات میں پیدا ہونے والی گرم جوشی کم کرنے میں بھی اس منظر نامے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ امدادی قافلے پر حملے کے بعد مسلم دنیا میں ترکی کا وقار بلند ہوا ہے۔ جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی اسلامی ممالک، بالخصوص عرب دنیا سے تعلقات بہتر بنانے پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

ترکی فی الحال نیٹو کو ناراض کرنے کے موڈ میں نہیں۔ اس نے میزائل ڈیفنس سسٹم کے راڈار نصب کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ یہ میزائل ڈیفنس سسٹم بظاہر ایران کے خلاف ہے جس کے ساتھ ترکی کے تعلقات پیچیدہ رہے ہیں۔ ترک وزیراعظم نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مخالفین کو کچلنے کے لیے طاقت کے استعمال پر شام کے صدر بشارالاسد کی مذمت کی ہے تاہم اب تک شام سے تعلقات کی سطح گھٹانے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

(بشکریہ: ’’دی اکنامسٹ‘‘ لندن۔ ۱۰؍ستمبر ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*