موت کو قبول کرنا ہی زندگی ہے!

امریکی کمپیوٹر ساز کمپنی ایپل کے بانی اسٹیو جابس کا حال ہی میںکینسر کی وجہ سے انتقال ہوا ہے۔ انہوں نے ۲۰۰۵ء میں اسٹین فرڈ یونیورسٹی میں خطاب کیا تھا۔ اس یادگار خطاب سے اقتباسات پیشِ خدمت ہیں:


آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ جو چیز کم ہو اسے بہت احتیاط اور دانش مندی سے خرچ کرنا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ استفادہ ممکن ہو۔ آپ بھی اپنے وقت کو دانش مندی سے خرچ کیجیے اور کسی اور کی مرضی کی زندگی بسر کرنے سے گریز کیجیے۔

جب میں ۱۷ سال کا تھا تب میں نے ایک قول پڑھا تھا جو کچھ یوں تھا کہ اگر آپ روزانہ یہ سوچیں کہ یہ آپ کی زندگی کا آخری دن ہے تو ایک نہ ایک دن آپ ضرور درست ثابت ہوں گے۔ اس کے بعد ۳۳ سال تک یعنی آج کے دن تک یہ معاملہ رہا ہے کہ میں جب بھی آئینے میں اپنے وجود کا جائزہ لیتا ہوں تو اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ اگر آج میری زندگی کا آخری دن ہو تو کیا میں وہ کروں گا جو میں آج کرنا چاہتا ہوں؟ اور اگر کئی دن تک جواب نفی میں آئے تو میں محسوس کرتا ہوں کہ زندگی میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کی ضرورت ہے۔

میں نے جتنے بھی بڑے فیصلے کیے ہیں ان کی پشت پر میرا یہ احساس سب سے اہم عامل کے طور پر کار فرما رہا ہے کہ دنیا میں قیام عارضی ہے۔ اگر انسان کو موت کا یقین ہو تو تمام توقعات، ناکامی کا خوف اور تفاخر۔۔ سبھی کچھ مٹ جاتا ہے اور صرف وہی کام یاد رہ جاتا ہے جو ہماری نظر میں بہت اہم ہو۔ اگر آپ کو یہ احساس ستا رہا ہے کہ آپ کچھ نہ کچھ کھونے والے ہیں، کسی نہ کسی چیز سے محروم ہونے والے ہیں تو موت پر اپنے یقین کو پختہ کرلیجیے اور پھر دیکھیے کہ وہ احساس آپ کو کتنی تیزی سے چھوڑتا ہے! آپ پہلے ہی نشانے پر ہیں۔ ایسے میں دل کی بات نہ ماننے کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔

ایک سال پہلے کی بات ہے، ڈاکٹروں نے مجھ میں کینسر کی تشخیص کی۔ صبح ساڑھے سات بجے اسکین ہوا۔ ڈاکٹروں نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ کینسر کسی بھی طور قابل علاج نہیں اور میرے لیے زیادہ سے زیادہ چھ ماہ کی زندگی رہ گئی ہے۔ انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ گھر جاکر مجھے اپنے معاملات ترتیب دینے اور درست کرنے پر توجہ دینا چاہیے۔ جب کسی مریض کی موت یقینی ہو تو ڈاکٹر معاملات کو سمیٹنے، ترتیب دینے ہی کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو باتیں آپ اپنے بچوں کو دس بارہ سال بعد بتانے کا ارادہ رکھتے تھے وہ تمام باتیں انہیں چند ماہ کے دوران بتادیں۔ تمام معاملات کو درست کرنے کی صورت میں اہل خانہ کے لیے پیچیدگیاں کم سے کم رہ جاتی ہیں۔ یعنی یہ کہ آپ اہل خانہ کو خدا حافظ کہہ دیں۔

میں کینسر کی تشخیص کے ساتھ پورا دن رہا۔ شام کو بایوپسی ہوئی۔ ڈاکٹروں نے ایک اینڈو اسکوپ میرے حلق سے اتارا، پیٹ سے اترتا ہوا یہ ہرنیے تک پہنچا۔ اور پھر انہوں نے ایک سوئی میرے پینکریز میں داخل کرکے ٹیومر سے چند خلیے نمونے کے طور پر لیے۔ میری بیوی نے مجھے بتایا کہ جب ڈاکٹروں نے ٹیومر سے نکالے ہوئے سیلز کا جائزہ لیا تو خوشی سے چیخ اٹھے کیونکہ مجھے ایک ایسا کینسر تھا جس کا علاج ممکن تھا۔ سرجری ہوئی اور اب میں ٹھیک ٹھاک ہوں۔

یہ موت سے میرا قریب ترین آمنا سامنا تھا اور اب امید ہے کہ چند عشروں تک موت سے ایسا سامنا نہیں ہوگا۔ جب موت ایک مفید اور خالص دانش ورانہ تصور تھا تب کے مقابلے میں اب میں زیادہ تیقن سے کہہ سکتا ہوں کہ کوئی بھی مرنا نہیں چاہتا۔ جو لوگ جنت میں داخل ہونے کے خواہش مند ہیں وہ بھی مرنے کے تصور سے کتراتے ہیں۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، موت ہم سب کی مشترکہ منزل ہے۔ کوئی بھی موت سے بچ نہیں سکا۔ ہم پورے یقین اور اعتماد سے کہہ سکتے ہیں کہ زندگی کی بہترین ایجاد موت ہے۔ موت ہی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنے والا عنصر ہے۔ موت بہت سی غیر ضروری چیزوں اور کچرے کو ہٹاکر بہتر زندگی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ آج آپ نئے ہیں۔ بہت جلد آپ بوڑھے ہو جائیں گے اور پھر منظر سے ہٹا دیے جائیں گے۔ اس قدر ڈرامائی انداز اختیار کرنے پر میں آپ سے معذرت خواہ ہوں مگر حقیقت یہی ہے۔

آپ کے پاس وقت بہت کم ہے۔ آپ کے اندر میں بہت سے تصورات اور بہت سی آوازیں ہیں۔ دوسروں کے تصورات، خیالات اور آوازوں کو اپنے وجود کی گہرائی سے ابھرنے والی آوازوں اور خیالات کی راہ میں دیوار مت بننے دیجیے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ اپنے دل کی آواز سنیے، اپنے وجدان پر بھروسہ کیجیے۔ آپ کے دل ہی کو معلوم ہے کہ آپ کیا بننا چاہتے ہیں۔ باقی سب کچھ تو ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔

(بشکریہ: ہفت روزہ ’’ٹائم‘‘ امریکا۔ ۲۱؍اکتوبر ۲۰۱۱ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.