جناح کا اصل اختلاف کانگریس سے تھا

محمد علی جناح ہندوئوں سے نفرت نہیں کرتے تھے اور ان کا اصل اختلاف کانگریس کے ساتھ تھا۔۔۔ یہ جسونت سنگھ کہتے ہیں۔ بی جے پی کے سابق سینئر لیڈر اور سابق وزیر خارجہ جسونت سنگھ کی حالیہ کتاب ’’جناح ہندوستان، تقسیم، آزادی‘‘ (Jinnah: India, Partition, Independence) کا اجراء ۱۷ اگست ۲۰۰۹ء کو ہوا۔ جسونت سنگھ نے کرن تھاپر کے ٹی وی شو ’’ڈے وِلس ایڈووکیٹ‘‘ (Devil’s Advocate) میں ان سے بات چیت کی ہے جو سی این این، آئی بی این پر نشر ہوا۔ اس انٹرویو کے چند اقتباسات پیش ہیں۔


کرن تھاپر:۔ محمد علی جناح کے سوانح نگار کی حیثیت سے آپ کے تجزیہ کے مطابق جناح ایک قوم پرست تھے…؟

جسونت سنگھ:۔ جی ہاں وہ انگریزوں سے ہندوستان کی آزادی کے لیے لڑے لیکن انہوں نے پرعزم طور پر اور مسلسل لڑائی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے لڑی۔

کرن تھاپر:۔ کئی لوگوں کا کہنا ہے کہ جناح ہندوئوں سے نفرت کرتے تھے؟

جسونت سنگھ: غلط، یہ بالکل غلط ہے۔یقینا وہ ایسے نہیں تھے ان کا اصل اختلاف کانگریس کے ساتھ تھا۔ یہ بات وہ بار بار کہتے رہے یہاں تک کہ پریس کو دیئے گئے اور پاکستان اسمبلی میں دیئے گئے اپنے آخری بیان میں بھی انہوں نے یہی کہا۔

کرن تھاپر:۔ تب پھر ان کا مسئلہ کانگریس اور کانگریس کے کچھ لیڈروں کے ساتھ تھا لیکن ہندوئوں کے ساتھ ان کا کوئی مسئلہ نہیں تھا؟

جسونت سنگھ: نہیں، چاہے جو بھی ہو ان کا ہندوئوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ وہ ایسے نہیں تھے۔ آخری سالوں میں وہ ایسے بن گئے تھے جس کا الزام انہوں نے گاندھی جی پر لگایا انہوں نے مہاتما گاندھی پر اپنے خطابات کے ذریعہ عوام کے جذبات و تعصبات کو اشتعال دلانے کا الزام لگایا۔

کرن تھاپر:۔ کیا آپ جناح کو پسند کرتے ہیں؟

جسونت سنگھ: میں ان کی شخصیت کے چند پہلوئوں کو پسند کرتا ہوں ان کا عزم و حوصلہ اور ابھرنے کی خواہش۔ وہ خود اپنے شخصیت ساز تھے۔ جبکہ مہاتما گاندھی ایک دیوان کے بیٹے تھے۔

کرن تھاپر:۔ نہرو بھی بہت دولت مند گھرانے میں پیدا ہوئے تھے؟

جسونت سنگھ: یہ سبھی لوگ دولت مند اور اچھی حیثیت رکھنے والے گھرانوں میں پیدا ہوئے لیکن جناح نے اپنا مقام خود بنایا۔ انہوں نے بمبئی جیسے شہر میں اپنا مقام بنایا جبکہ وہ انتہائی غریب تھے۔ ان کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ وہ اپنی ملازمت پر پیدل جاتے تھے۔ جناح بمبئی میں واٹسن نامی ایک ہوٹل میں رہتے تھے اور انہوں نے اپنے ایک سوانح نگار کو بتایا کہ ان کا کمرہ اوپری منزل پر تھا اور کوئی لفٹ بھی نہیں تھی۔

کرن تھاپر:۔ ۱۹۱۶ء تک جناح کو ہندو مسلم یکجہتی کا نمائندہ قرار دیا جاتا رہا لیکن ۳۰ سال بعد ۱۹۴۷ء میں وہ پاکستان کے ’’قائداعظم‘‘ ہو گئے۔ آپ کی کتاب کے مطابق کانگریس کا یہ قبول کرنا نااہلیت کے سبب ہوا کہ مسلمان ہندوئوں کے غلبے سے خوفزدہ تھے اور وہ نئے نظام میں اپنے لیے ’مقام‘ چاہتے تھے۔

جسونت سنگھ: یہاں اہم مقابلہ اقلیت پرستی اور اکثریت پرستی کے درمیان تھا۔ مغل سلطنت کو کھونے کے ساتھ ہندوستان کے مسلمانوں نے اقتدار کھو دیا تھا لیکن ۱۹۴۷ء تک بھی اکثریت پرستی نے ان پر اثر انداز ہونا شروع نہیں کیا تھا۔ تب انہوں نے دیکھا کہ جب تک کہ سیاسی، معاشی اور سماجی مقصد کے لیے ان کی اپنی آواز نہیں ہو گی وہ تباہ ہوتے رہیں گے۔ وہ شروعات تھی اور مقصد بھی وہی تھا۔

کرن تھاپر:۔ جناح کانگریس کی اکثریت پرستی سے خوفزدہ یا پریشان تھے اس کا کوئی جواز ہے یا یہ بات قابلِ فہم ہے؟

جسونت سنگھ: ۱۹۴۶ء کے انتخابات میں جناح کی مسلم لیگ نے ساری مسلم نشستوں پر کامیابی حاصل کی اس کے باوجود اس کے ارکان کی تعداد ناکافی تھی اور ایک بھی مسلمان کے بغیر کانگریس کے ارکان کی تعداد حکومت سازی کے لیے کافی تھی۔ اسی لیے مسلم لیگ حکومت سے باہر رہی۔ تب یہ احساس ہوا کہ صرف انتخابات میں مقابلہ کرنا کافی نہیں ہے۔

کرن تھاپر:۔ انہیں کچھ یقین دہانیوں کی ضرورت تھی تاکہ اس نظام میں انہیں مقام دیا جائے؟

جسونت سنگھ: بالکل صحیح اور وہ یقین دہانیاں تھیں زیادہ سے زیادہ تحفظات دینا۔ جس سے میں کھلے طور پر اختلاف کرتا ہوں۔ تحفظات ۲۵ سے ۳۳ فیصد تک پہنچے۔ اس کے بعد بات تحفظات سے مساوات تک آئی۔ پھر مساوات یا تقسیم۔

کرن تھاپر:۔ یہ سب ایک مقام کے لیے تھا؟

جسونت سنگھ: یہ سب فیصلہ سازی میں ان کے اپنے سماجی و معاشی مقاصد کے لیے ایک قسم کی خود مختاری کے لیے تھا۔

کرن تھاپر:۔ آپ کی کتاب کا لبِ لباب یہ ہے کہ اگر کانگریس غیر مرکوز وفاقی ہندوستان کو قبول کرتی تب پھر ایک متحدہ ہندوستان ہم حاصل کر لیتے۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہاں مسئلہ ’’نہرو کا مرکوزیت کا طریقہ کار اور پالیسی‘‘ کو ناپسند کرنے کا تھا۔ تقسیم کے لیے کیا آپ نہرو کو بھی کم ازکم اتنا ہی ذمہ دار مانتے ہیں جتنا کہ جناح ہیں؟

جسونت سنگھ: میرا خیال ہے کہ ایسا وہ خود کہتے ہیں انہوں نے اس کی تصدیق کی اور مثال کے طور پر بھوپال کے نواب صاحب کے دوسروں کے ساتھ ان کی خط و کتابت جو ان کے سرکاری سوانح نگار تھے۔ بھوپال کے نواب مرحوم کو ان کے خطوط بہت ہی متحرک خطوط ہیں۔

کرن تھاپر:۔ تو یہ نہرو کی اکثریت پرستی تھی جس نے جناح کو کوئی جگہ نہیں دی؟

جسونت سنگھ: یہ حد سے بڑھی ہوئی اکثریت پرستی اور اقلیت پرستی کے درمیان مقابلہ بن گیا تھا اور اس کے ریفری بن کر برطانوی حکمران سیٹی بجا رہے تھے۔

کرن تھاپر:۔ کیا مبالغہ آمیز اقلیت پرستی کانگریس کی حد سے بڑھی ہوئی اکثریت پرستی کا ردعمل تھا؟

جسونت سنگھ: جزوی طور پر اور یہ تاریخی حالات کا بھی ردعمل تھا جو اس وقت پیدا ہو گئے تھے۔

کرن تھاپر:۔ آپ کہتے ہیں کہ جنوری ۱۹۱۵ء میں ان کی پہلی ملاقات میں جناح کی گرم جوشی کے ردعمل میں گاندھی جی کا رویہ غیر مہذب تھااس سے اشارہ ملتا ہے کہ گاندھی جی اتنے ہمدرد نہیں تھے جتنے جناح تھے؟

جسونت سنگھ: غالباً میں نے وہ الفاظ استعمال نہیں کیے جو آپ نے کیے ہیں۔ جناح ۱۸۹۶ء میں اپنی تعلیم مکمل کر کے واپس وطن لوٹے۔ گاندھی جنوبی افریقہ چلے گئے تھے آخر کار واپس ہوئے۔ اس دوران وہ ایک مرتبہ ہندوستان آئے تھے یہ ۱۹۱۵ء تھا۔ جناح گو کھلے دل کے ساتھ ان کے خیر مقدم کے لیے گئے، گاندھی جی سے ان کا تعارف کروایا گیا گاندھی جی جناح سے ملے اور کہا کہ شکر ہے کہ ہمارے پاس ایک مسلمان لیڈر ہے۔ میرے خیال سے یہ گاندھی جی کے جنوبی افریقہ میں کام کرنے کا نتیجہ تھا حقیقت میں وہ نہیں تھا جو انہوں نے محسوس کیا۔ دونوں کے درمیان تعلق بتدریج مسابقتی ہوتا گیا۔

(بحوالہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۲۸ اگست ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*