عِلم، عالِم اور مُعلِّم

ابتدائے سخن میں آپ کی خدمت میں آپ کے لیے سلامتی کے جذبات کا اظہار کرتا ہوں اور خداوندِ عزیز و حکیم کا شکرگزار ہوں کہ اس نے اِس بندۂ حقیر کو ایک علمی اور علم دوست فضا میں نیز حق جو افراد اور زمانۂ علم و معرفت کے محققین کے درمیان گفتگو کرنے کا موقع اور توفیق عنایت کی۔ استاد اور علم کے حامل افراد، وہ روشن چراغ ہیں کہ جو ہر زمانے میں نور افشانی کرتے ہیں اور ظلمت و تاریکی اور ابہام سے پُر وادیوں کو روشن کرتے ہوئے بشر کو جہالت، حیرانی و سرگردانی سے نجات دیتے ہیں۔

کائنات میں موجود حقائق کے فہم و اِدراک کی کلید، علم و دانش حاصل کرنے والوں اور معرفت کے طالبوں کے ہاتھ میں ہیں۔ مخفی و ناآشکار حقائق، غیرمعلوم عالموں اور وہ علوم کہ جن تک ہنوز رسائی نہ ہو سکی، کی تعداد کی کوئی حد و حساب نہیں اور ترقی و پیش رفت کے یہ بستہ دریچے مسلسل محنت، جدوجہد اور علم دوست اور حاملانِ علم کی کاوشوں کے ذریعہ حقائق کی طرف کھل جائیں گے۔ کوشش و محنت کے ذریعہ ہر بند دروازہ کھل جاتا ہے اور پوشیدہ حقیقت آشکار ہو جاتی ہے۔

اگر انسانی فطرت کہ جو حقیقت جوئی کے اسرار و رموز کا مرکز اور حقائق کو کشف کرنے میں انسان کی ممد و معاون ہوتی ہے، نہ ہوتی تو انسان جہالت کی اسارت و قید میں ہی پھنسا رہتا اور انسانی سعادت کی راہیں اس پر کبھی نہ کھلتیں۔ ’’فطرت‘‘ درحقیقت انسانی وجود میں ہمیشہ رہنے والا ایک ’’ودیعت کردہ تحفہ‘‘ ہے، وہی خدا کہ جس نے انسان کو اس جہان میں بھیجا، معرفت کو اپنے پہلے اور بزرگ ترین ہدیہ کی حیثیت سے اُس کے سامنے پیش کیا تاکہ بشر اس کی کامل پہچان حاصل کر سکے۔

تمام انبیائے الٰہی کے پیام و سخن کا خلاصہ انسان کو جہالت، خرافات کی غفلت، برے اخلاق اور غلط و باطل افکار و نظریات کے اندھیروں سے نکال کر علم و معرفت اور پسندیدہ و اچھے اخلاق کے نور کی طرف حرکت دینا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں علم کو ’’نور اور روشنی‘‘ کی حیثیت سے متعارف کرایا گیا ہے، علم یعنی نور اور روشنی، حقیقی علم وہ علم ہے کہ جو بشر کو گمراہی و ضلالت سے نجات دے اور اس کے لیے نافع و سودمند ہو۔

علم پر ہونے والے بڑے اور عظیم ظلموں میں سے ایک ظلم اسے مادی و تجربی علوم کے دائرے میں محدود کرنا ہے، حالانکہ علم کا دائرہ بہت زیادہ وسیع ہے۔ کائنات میں موجود حقائق صرف مادہ اور مادیت تک محدود نہیں ہیں۔ مادہ، حقائقِ عالم کون و مکاں کا ایک سایہ اور مادی تخلیق، عالمِ خلقت کا صرف ایک ادنیٰ سا درجہ ہے۔ انسان اس خلقت کا ایک نمونہ ہے کہ جو مادے اور روح کا مرکب ہے اور روح اور انسانی جوہر، انسان کی مادیت اور اس کے جسم پر غلبہ رکھتے ہیں۔ ایک اور اہم نکتہ ’’علم کے انسانی روح و جان کی پاکیزگی اور اخلاق و کردار کی درستی‘‘ سے تعلق رکھنے سے عبارت ہے۔ تمام انبیا کی تعلیمات کے مطابق ایک حقیقت کو ہمیشہ علم کے ہمراہ و ساتھ ساتھ ہونا چاہیے اور وہ حقیقت ’’انسانی روح کی پاکیزگی اور اچھے اور پسندیدہ اخلاق‘‘ سے عبارت ہے۔

علم و معرفت اپنے وسیع معنی میں کہ جسے میں نے آپ کی خدمت میں عرض کیا، ایک پاک و پاکیزہ حقیقت ہے۔ علم روشنی ہے، کشف ہے اور صرف وہ صاحبِ علم اور محقق اس حقیقت تک رسائی حاصل کر سکتا ہے کہ جو خود پاک و پاکیزہ ہو اور حقائق کے فہم و ادراک کی راہ کے مانع اور کشف ہونے والے حقائق کو قبول کرنے میں رکاوٹ بننے والے غلط افکار و نظریات، وہم، وسوسے اور خرافات یا مادی وابستگیوں اور خود خواہی و خودپرستی سے دور ہو۔

علم و معرفت کی عظمت اور شان و شوکت کے ساتھ ساتھ اس کی کچھ آفتیں بھی ہیں۔ سیکھنے، حاصل کرنے، علم و دانش اور تحقیق کی سب سے بڑی آفت شاید انسان کی خود خواہی، باطنی آلودگی، مادی وابستگی اور اس کے شخصی و ذاتی مفادات ہیں، مادیت سے خود کو اور اپنے دل کو وابستہ کرنا انسان کو کائنات میں موجود حقائق کے مدمقابل لاکھڑا کرتا ہے، نفسانی خواہشات کی آلودگی میں گرفتار اور مادیت سے وابستہ انسان، حقیقت کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے، انکارِ حقیقت میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے اور اگر اس کو قبول بھی کر لے تب بھی نہ صرف یہ کہ اس کے سامنے سرِ تسلیم خم نہیں کرتا بلکہ اس کی پیروی سے بھی سرپیچی کرتا ہے۔

بہت سے صاحبانِ علم ہیں کہ جو حقائق کو جانتے ہیں لیکن ان پر ایمان نہیں لاتے اور ان کی خود خواہی و خود پرستی انھیں اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اِن حقیقتوں کو قبول کریں۔ وہ تمام افراد کہ جنہوں نے تاریخِ بشریت میں انسانوں پر جنگوں کو تھوپا، کیا وہ اس حقیقت کو درک کرنے سے عاجز و قاصر تھے کہ انسانوں کی جان، مال، ناموس اور سرزمین سب قابلِ احترام ہیں؟ یا یہ کہ وہ سب باتیں جانتے تھے لیکن ان پر ایمان نہیں لائے تھے اور خود کو ان کے برابر تسلیم نہیں کیا تھا؟ جب تک انسان کا قلب کینہ و حسد اور خودپرستی سے خالی نہ ہو، وہ حقائقِ عالم، روشنی اور علم کے سامنے اپنا سر نہیں جھکا سکتا۔ علم وہ نور ہے کہ جس کے حامل کو پاک و پاکیزہ ہونا چاہیے۔ اگر بشر، مادی اور معنوی علوم کے بلند ترین درجات تک رسائی حاصل کر لے لیکن صاحبانِ علم، دانشمند اور مفکرین پاکیزہ نہ ہوں تو وہ ان علوم کے ذریعہ عالمِ بشریت کی کوئی بھی خدمت انجام نہیں دے سکیں گے بلکہ ممکن ہے کہ کچھ اور واقعات رونما ہوں۔ ممکن ہے وہ حقائق میں سے کچھ حقیقتوں کو کہ جو ان کے نفع و فائدے میں ہے، لوگوں کے سامنے بیان کریں اور بعض کا کتمان کریں جیسا کہ بعض آسمانی مذاہب کے علما نے کیا۔ افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ آج بھی بعض محققین اور دانشور حضرات حقیقتوں کو لوگوں سے پنہاں کر رہے ہیں۔

علم اور صاحبِ علم اگر انفرادی، جماعتی اور گروہی منافع کے حصار میں گرفتار ہو جائے، جیسا کہ موجودہ حالات میں بڑی طاقتوں نے بہت سے صاحبانِ علم اور مختلف علوم کو اپنے قبضہ میں لیا ہوا ہے تاکہ اقوامِ عالم کا استحصال کریں اور ان کے تمام انسانی اور قدرتی ذرائع کو اپنے اختیار میں لے لیں۔ یہ طاقتیں مختلف شیووں اور حیلے بہانوں سے اقوامِ عالم کو فریب دیتی ہیں، اپنے اِقدامات کی توجیہہ کرتی ہیں، قوموں کے لیے فرضی دشمن کا ڈھونگ رچا کر بدامنی اور خوف و ترس کی فضا ایجاد کرتی ہیں تاکہ بدامنی اور دہشت گردی سے مقابلے کے نام پر تمام امور کو اپنے قبضے میں لے لیں۔

یہ لوگ قوموں کی انفرادی اور اجتماعی آزادی کو بھی کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے پامال کرتے ہیں، یہاں تک کہ افراد کی چار دیواری کا بھی احترام نہیں کرتے۔ ٹیلی فونی مکالموں کو سنتے ہیں، افراد کی رفت و آمد پر سخت نگرانی رکھتے ہیں اور یوں انھیں بدامنی کی فضا میں سانس لینے والا اور نفسیاتی مریض بناتے ہیں اور سونے پہ سہاگا یہ کہ اپنے اِن اقدامات سے دنیا کے مختلف ممالک پر اپنی لشکر کشی اور حملوں کی توجیہہ کرتے ہیں۔ یہی طاقتیں ہیں کہ جو ایک قوم کی ہزاروں سالہ محنت، جدوجہد، اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور ہنرمندی کے ذریعہ حاصل کی جانے والی ثقافت پر ایک حساب کتاب شدہ منصوبہ بندی کے ذریعہ حملے کر رہی ہیں۔

ان طاقتوں کی کوشش ہے کہ قوموں کو نابود کرنے کے ساتھ ان کے عوام سے ان کا تشخص و وجود چھین لیں اور ان کا اپنی تاریخ اور اَقدار سے رابطہ قطع کر دیں۔ بموں، ایٹمی اسلحے اور کیمیائی ہتھیاروں کی ساخت بھی بڑی طاقتوں کے علم و تحقیق کے غلط استفادے کی ہی ایک شکل ہے۔ اگر مختلف اقوام و ملل کے بعض صاحبانِ علم اور محققین کی ہمکاری و حمایت نہ ہوتی تو یہ ایٹمی اسلحہ اور کیمیائی ہتھیار نہ بنائے جاتے۔ کیا یہ تمام اسلحے دنیا کے امن و امان کے لیے ضروری اور اس کے دفاع کے لیے لازمی حیثیت رکھتے ہیں؟ اگر ان بڑی طاقتوں کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑ جائے تو عالمِ بشریت کو کس دردناک حالات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ ہیروشیما اور ناگاساکی میں ایٹمی بموں کی مہلک شعاعوں اور کیمیائی مادوں کے اثرات ان شہروں کی نسلِ جدید میں آج بھی ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں اور یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ اثرات کب تک نسلوں کو برباد کرتے رہیں گے؟

خداوندِ عالم نے پاک و پاکیزہ شخصیات، انبیاء اور صالح و نیک افراد کو علم و معرفت حاصل کرنے کے لیے سزاوار قرار دیا ہے چونکہ وہ جانتا تھا کہ علم، نور و ہدایت ہونے کے ساتھ ساتھ انسانیت کی خدمت کا ایک وسیلہ ہے اور یہی علم انسانیت کی ترقی کی راہ کی رکاوٹ اور اسی کے خلاف استعمال ہونے والا ایک ہتھیار بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے تاکید کی ہے کہ تعلیم کا حصول، باطن کی پاکیزگی اور صداقت کے ہمراہ ہونا چاہیے۔

اگر آپ تاریخ کا مطالعہ کریں تو آپ کو جہاں بھی کوئی خیر و خوبی نظر آئے گی وہ پاکیزہ صاحبانِ علم کی بدولت ہی نظر آئے گی، وہی افراد کہ جو اپنے علم و معرفت کو بشریت کی خدمت کے لیے استعمال کرتے ہیں، ایسے افراد کا ہدف راہ کو انسانیت کے لیے واضح و روشن کرنا ہوتا ہے اور ان کے کشف کردہ حقائق انسانی کمال و سعادت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ ان صاحبانِ علم نے علم میں جتنی ترقی کی اُسی نسبت سے لوگوں کے سامنے متواضع رہے اور اچھے اخلاق سے پیش آتے رہے۔ معمولاً یہ نیک اخلاق اور پاک سرشت صاحبانِ علم، بشریت کے فکری رہنما، معلم اخلاق اور ان کی اصلاح و ہدایت کرنے والے تھے۔ تمام مصلحانِ بشریت، ابتدا میں اچھے عالم اور بہترین معلم تھے۔ بزرگانِ دین سے آنے والی روایات میں وارد ہوا ہے کہ ’’جب ایک صاحبِ (عالم) خراب و گمراہ ہو جاتا ہے تو پورا ایک عالم فاسد و خراب ہو جاتا ہے اور اگر ایک صاحبِ علم نیک اور اچھا بن جائے تو پورا ایک عالم نیک ہو جاتا ہے‘‘۔

علم ’’خدا کی طرف کھلنے والا ایک دریچہ‘‘ ہے اور اس کا ثمرہ و میوہ ’’عمل‘‘ ہے۔ صاحبانِ علم کو چاہیے کہ وہ اپنے علم کی نسبت احساسِ ذمہ داری کریں۔ بے عمل صاحبانِ علم دراصل بے ثمر درخت کی مانند ہیں، نیک اور اچھے صاحبانِ علم، معاشرے کے بگڑے ہوئے حالات، معاشرتی درد و رنج اور ظلم و ستم کے مقابلے میں خاموش نہیں بیٹھتے اور اپنے علم کو ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو آگاہی و شعور دیتے ہیں، صاحبانِ علم، ظالم و ستمگر کے مقابلے میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور انھیں اجازت نہیں دیتے کہ وہ جھوٹ و فریب سے کام لیں اور ان کے حقوق کو ضائع کریں۔ علم کی دنیا ایک مقدس اور خدائی دنیا ہے اور علم انسان کے ہاتھ میں خداوندِ عالم کی ایک امانت ہے اور اس پاک وادی میں ناپاک لوگوں کا داخل ہونا دراصل عالمِ بشریت پر ظلم کے مترادف ہے۔

ظالم و طاغوتی طاقتیں علم کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں اور اپنی طاقت و قدرت کی وجہ سے پاکیزہ صاحبانِ علم اور دانشمندوں کو ایسے میدانوں میں قدم رکھنے نہیں دیتیں کہ جن میدانوں میں کشف ہونے والے حقائق ان طاقتوں کو ذلت و رسوائی کا باعث بنیں۔ یہ بات نہایت شرم آور ہے کہ (بعض ممالک میں) ایسے قوانین پاس کیے جاتے ہیں کہ جن کے مطابق (ہولوکاسٹ جیسے) بعض تاریخی واقعات میں تحقیق ممنوع قرار دے دی جاتی ہے اور اس وادی میں سرگرم و فعال محققین، مجرموں کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں، انھیں زندانوں میں ڈال کر ان پر جرمانہ عائد کر دیا جاتا ہے۔

اس عالمِ کائنات کی سب سے بڑی اور واضح حقیقت ’’خداوندِ عالم‘‘ ہے، پوری کائنات اور اس کی ہر چیز اس کے دستِ قدرت میں ہے اور اسی کی نشانی ہے۔ اس کے باوجود خدا کے وجود کے بارے میں تحقیق و مطالعہ کا باب ابھی بھی کھلا ہوا ہے اور کسی پر بھی خدا کے ہونے اور نہ ہونے کی تحقیق و مطالعہ کی وجہ سے مقدمہ چلا کر اسے زندان میں نہیں ڈالا جاتا۔ بہت سے ایسے افراد بھی ہیں کہ جو مطالعہ و تحقیق کے بعد خدا پر ایمان بھی لے آتے ہیں۔

اسلامی تعلیمات میں آیا ہے کہ ’’شک یقین کا مقدمہ ہے‘‘ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ انسان اپنی اس شک پر توقف نہ کرے۔ چنانچہ اس بات میں کیا قباحت و اشکال ہے کہ اجازت دی جائے کہ (ہولوکاسٹ جیسے) تاریخی حادثات و واقعات میں تحقیق و مطالعہ کیا جائے تاکہ اس کے مختلف ابعاد (Dimensions) اور پہلو روشن و واضح ہو سکیں۔ علت جوئی اور سوال کرنے کی خصلت ہمیشہ انسان کے ہمراہ رہے گی۔ اس لیے کہ اس کے بغیر بشرکمال کی جانب پیش رفت سے لطف اندوز نہیں ہو سکے گا۔ ایک اور قابلِ افسوس بات بڑی طاقتوں کی جانب سے علم کو اپنے لیے منحصر و مخصوص کرنے کی جسارت ہے کہ جو اس حد تک آگے بڑھ گئی ہے کہ اس قبیح امر کے لیے دوسروں کی علمی پیش رفت کا انکار اور اس کی مخالفت کی جاتی ہے۔

خلاصۂ کلام یہ کہ علم و معرفت انسان کو خداوندِ عالم کا سب سے بڑا ہدیہ و تحفہ ہے اور انسان کی کمال طلبی اور حق جوئی کی فطرت ہمیشہ اسے تحصیلِ علم میں جدوجہد کرنے اور حقائق کو کشف کرنے کے لیے حوصلہ دیتی ہے۔ علم کو اخلاق اور تزکیۂ نفس کے ساتھ ہونا چاہیے تاکہ صاحبِ علم (عالِم) اور محقق اسے صحیح طریقہ سے حاصل کر سکیں اور عالمِ بشریت بھی اس سے بھرپور انداز سے بہرہ مند ہو سکے۔ پاک و پاکیزہ علماء نہ صرف یہ کہ چراغِ ہدایت ہیں بلکہ مُصلحانِ عالمِ بشریت ہیں۔ ظالم اور طاغوتی طاقتوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ وہ علم کی پاکیزہ وادی میں اپنے نجس و منحوس قدم رکھیں اور علوم کو اپنے مذموم مقاصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اور بشریت کے خلاف استعمال کریں یا تحقیق و مطالعہ کے دائرے کو محدود اور خاص امور میں محصور کریں۔

علم کی وادی ایک پاکیزہ وادی ہے کہ جسے پاکیزہ ہی رہنا چاہیے۔ خداوندِ عالم کو تمام حقائق کا علم ہے اور وہ ذاتِ بابرکت، عالم، معلم اور محقق کو پسند کرتی ہے۔ اس دن کی اُمید کے ساتھ کہ جب صالح اور نیک عالم اس دنیا کے حاکم ہوں گے اور مصلحِ کل (حضرت امام مہدیؑ) کہ جو عالمِ الٰہی اور عبد صالح ہیں، حضرت عیسیٰؑ کے ساتھ اس دنیا پر حکومت کریں گے۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’منتظرِ سحر‘‘ کراچی۔ شمارہ: ستمبر،اکتوبر ۲۰۰۷ء۔۔۔ ترجمہ: سید صادق رضا)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*