ڈھاکا میں فاشزم

نومبر۹ اور ۱۰ ۱۹۳۸ء کی شب جرمنی اور آسٹریا میں یہودیوں پر حملوں کا آغاز ہوا۔ یہ حملے نازی فوج اور شہریوں نے شروع کیے۔ ان دونوں کو ایڈولف ہٹلر نے بہت عمدگی سے اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا اور بالآخر اس تباہی کی راہ ہموار ہوئی جو جرمنی کا مقدر بنی۔ ڈھاکا میں ۵ اور ۶ مئی کی درمیانی شب وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے نازی فاشزم کی تاریخ دہرائی۔ پولیس، نیم فوجی دستوں اور فوجیوں کو گہری نیند میں ڈوبے ہوئے، حالات سے بے خبر احتجاجیوں کے خلاف بہت سفاکی سے استعمال کیا۔ حسینہ واجد کا ایک ہی مقصد ہے : ریاست پر قبضہ اور اپوزیشن کا مکمل خاتمہ۔ ہمیں معلوم ہے کہ ہم اور آپ ۲۰۱۳ء میں جی رہے ہیں، ۱۹۳۸ء میں نہیں۔ عالمگیر مواصلاتی سہولتیں وطن سے محبت کرنے والے بنگالیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم سے دنیا کو بے خبر نہیں رہنے دیں گی۔
شیخ حسینہ واجد کی حکومت اب تک اپوزیشن کے تین ہزار سے زائد ارکان کو شہید کرچکی ہے، جن میں مذہبی اسکالر بھی شامل ہیں۔ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں سیکڑوں کی حالت نازک ہے اور ہزاروں کارکنان جیلوں میں ہیں۔ جس رات یہ سب کچھ ہوا، مکمل بلیک آؤٹ رکھا گیا تاکہ قتل و غارت بھرپور طور پر جاری رہے اور لوگوں کو پتا ہی نہ چل سکے کہ ہوا کیا ہے۔ میڈیا پر شدید دباؤ ڈالا گیا ہے کہ وہ حقائق چھپائے۔ اپوزیشن کے دو چینلز کو خاموش کردیا گیا ہے۔
انسانی تاریخ میں قتل و غارت کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں مگر جدید دور میں ایسا کم کم ہوا ہے۔ ایک اسلامی ملک میں حکومت نے اپوزیشن کو کچلنے کی خاطر طاقت کا بے محابا استعمال کیا اور وطن سے محبت کرنے والے اور دین کی روشنی پھیلانے والے امن پسند علما کو بھی شہید کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ یہ سب کچھ اس شہر (ڈھاکا) میں ہوا جسے مسجدوں کا شہر کہا جاتا ہے۔
معاملہ صرف قتل و غارت پر ختم نہیں ہوتا۔ انٹرنیٹ پر لادین بلاگرز اللہ، رسول اللہ، امہات المومنین اور صحابۂ کرام کے ساتھ اسلامی تعلیمات کا مضحکہ اڑانے کی بھرپور کوشش میں بھی مصروف ہیں۔ یہ سب کچھ دیدہ دلیری سے کیا جارہا ہے اور عوامی لیگ کی حکومت کچھ بھی کرنے سے صاف گریز کر رہی ہے۔
لادین اور سیکولر بلاگرز کے لیے اسلام کے بارے میں اہانت آمیز رویہ رکھنا ممکن نہ ہوتا اگر حکومت نے آئین سے اللہ پر یقین کو بنیادی اصول کی حیثیت سے ختم کرکے اس کی نوعیت لادین نہ کی ہوتی۔ بنگلہ دیشی بلاگرز اسلام کی توہین کرنے کے معاملے میں اپنے تمام سرپرستوں (بشمول سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین) سے بھی آگے نکل چکے ہیں۔ عالمی برادری نے اب تک کچھ خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ اس کا بنیادی سبب شاید یہ ہے کہ بلاگرز اسلامی تعلیمات کی توہین بنگلہ زبان میں کر رہے ہیں۔ مذہب کے بارے میں جو توہین آمیز جملے بنگلہ دیش کے لادین بلاگرز دے رہے ہیں، وہ مسلمان تو کیا، کسی بھی انسان کومشتعل کرسکتے ہیں۔
اسلام اور اکابرِ اسلام کے بارے میں اہانت آمیز ریمارکس پر بنگلہ دیش کے غیور اور امن پسند عوام کا مشتعل ہو جانا فطری امر تھا۔ اسلامی جماعتوں کے کارکنوں اور علما نے حکومت سے بجا طور پر مطالبہ کیا کہ اہانت آمیز ریمارکس دینے والے بلاگرز کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ملک کے جید علما اور اسلامی جماعتوں کے کارکنان کے مطالبات یکسر نظر انداز کرتے ہوئے عوامی لیگ کی حکومت نے لادین بلاگرز کی سرپرستی جاری رکھی اور انہیں شاہ باغ اسکوائر تحریک جاری رکھنے کی ہدایت کی جس کے تحت امن پسند مذہبی علما اور کارکنان کو جنگی جرائم میں ملوث قرار دے کر سزائیں دینے کے لیے مقدمات چلائے جاتے رہے۔ حکومت نے تمام اسلامی شعائر پر مکمل پابندی کی راہ ہموار کی۔ اسلامی تعلیم کے تمام اعلیٰ اداروں کو بند کرنے، اسلامی چینلز اور اخبارات مثلاً روزنامہ آمار دیش، روزنامہ دِگنتا، دِگنتا ٹی وی اور اسلامی ٹی وی کی بندش پر زور دیا جاتا رہا۔
بلاگرز نے اپنے مطالبات قرار داد کی شکل میں پارلیمنٹ میں بھی رکھے ہیں اور وزیراعظم شیخ حسینہ واجد نے ان غیر جمہوری اور شرمناک مطالبات کا نہ صرف یہ کہ خیر مقدم کیا ہے بلکہ ان پر بھرپور عمل کا وعدہ بھی کیا ہے۔
امن پسند علما اور مذہبی جماعتوں کے کارکنان نے اسلام اور ریاست کے خلاف پیش کیے جانے والے مطالبات کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا تو حکومت نے ریاستی مشینری کی بھرپور طاقت استعمال کرتے ہوئے ان مظاہروں کو روکنے کی کوشش کی جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد شہید اور دیگر ہزاروں زخمی اور اپاہج ہوئے۔ وزارتِ داخلہ اور پولیس کو حکم دیا گیا کہ مظاہرین جیسے ہی سڑک پر دکھائی دیں، ان پر فائر کھول دیا جائے۔ اس کے نتیجے میں قتل و غارت کا بازار گرم ہوا۔ ہزاروں افراد اب بھی جیلوں میں ہیں اور ریمانڈ کے نام پر انہیں انسانیت سوز مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دوسری طرف حکومت بلاگرز کے مطالبات تسلیم کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ بیشتر میڈیا آؤٹ لیٹس حکومت نواز ہیں اور بلاگرز کی خبریں نمایاں طور پر شائع کرتے ہیں۔ اسلامی عناصر کی طرف جھکاؤ رکھنے والے چینلز اور اخبارات پر حکومت دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنے رجحانات تبدیل کرلیں۔ یہ بھی بلاگرز کے مطالبات ہی کا ایک حصہ ہے۔ بلاگرز کے مطالبے ہی پر حکومت نے حال ہی میں سینئر صحافی اور روزنامہ ’’آمار دیش‘‘ کے ایڈیٹر محمود الرحمٰن کو گرفتار کیا ہے۔ محمود الرحمن حکومت کی کرپشن کے خلاف پورے جوش و خروش کے ساتھ آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ پولیس حراست میں محمود الرحمن پر تشدد کیا جارہا ہے۔ ان کی زندگی داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ روزنامہ ’’آمار دیش‘‘ کے دفاتر بند کیے جاچکے ہیں۔
عوامی لیگ کی حکومت کے غیر اسلامی، غیر جمہوری اور تسلیم شدہ انسانی حقوق سے انحراف پر مبنی رویے نے ملک بھر میں لوگوں کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ امن پسند علما اور ان کے پیروکاروں نے کسی بھی سطح پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہوئے بغیر اسلامی شعائر کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے ’’حفاظتِ اسلامی‘‘ کے نام سے فورم تشکیل دیا۔ معروف عالم دین علامہ احمد شفیع کی سربراہی میں اس فورم نے حکومت کے سامنے ۱۳؍نکات رکھے، جن میں عوام کے اسلامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ یہ مطالبات اِس خیال سے پیش کیے گئے تھے کہ ملک بھر میں اسلام پسند عوام کے جذبات بھڑک اٹھنے سے قبل ہی حکومت ایسے اقدامات کرے جن سے معاملات درستی کی راہ پر گامزن ہوں۔ حکومت نے ایک بھی مطالبہ ماننے سے صاف انکار کردیا۔ حکومت نے اپنی تمام ایجنسیوں، لادین بلاگرز اور سیکولر جماعتوں کو ’’حفاظتِ اسلامی‘‘ تحریک کے اثرات ختم کرنے کے کام پر لگادیا ہے۔
حفاظتِ اسلامی نے جب یہ دیکھا کہ حکومت ایک بھی مطالبہ ماننے کے لیے تیار نہیں تو اس نے ۵ مئی ۲۰۱۳ء کو پرامن ڈھاکا بند کا اعلان کیا۔ حکومت نے اس احتجاج کو ناکام بنانے کے لیے بھرپور ریاستی قوت استعمال کرنے کی پالیسی اپنائی۔ حفاظتِ اسلامی کے کارکنوں کو ڈھاکا میں داخل ہونے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ ۵ مئی کو دن بھر ڈھاکا کے باہر اور اندر مختلف مقامات پر پولیس اور حکمراں جماعت کے مسلح کارکنان حفاظتِ اسلامی کے کارکنوں سے تصادم کی راہ پر گامزن رہے۔ جب مظاہرین نے شپلہ چھتر کی طرف مارچ شروع کیا تو ڈھاکا کے تمام اہم علاقے مثلاً موتی جھیل، بیت المکرم مسجد، بنگا بندھو ایونیو، بجوئے نگر، دینک بنگلہ انٹر سیکشن اور پُرانا پلٹن میدان جنگ کا منظر پیش کرتے رہے۔ پولیس نے مظاہرین کو پیش قدمی سے روکنے کے لیے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں درجنوں کارکن شہید اور ہزاروں زخمی ہوئے اور صورتِ حال بے قابو ہوگئی۔ شہر کے مختلف علاقوں سے آکر شپلہ چھتر (واٹر للی اسکوائر) میں لاکھوں افراد جمع ہوئے۔ ان تمام افراد کا پُرامن احتجاج سہ پہر تک جاری تھا مگر ٹی وی چینلز کو یہ سب کچھ براہِ راست نشر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ علامہ احمد شفیع کو مظاہرین تک آنے اور ان سے خطاب کی اجازت نہیں دی گئی۔ حفاظتِ اسلامی کے کارکنوں نے اپنے لیڈر کی آمد تک ہٹنے سے انکار کردیا۔ ایسے میں حکمراں جماعت کے سیکرٹری جنرل نے پریس کانفرنس میں دھمکی دی کہ اگر حفاظتِ اسلامی کے کارکنان شام چھ بجے تک منتشر نہ ہوئے تو انہیں ریاستی مشینری بزور منتشر کردے گی۔ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس بار تو احتجاج کے لیے سڑکوں پر آنے بھی دیا گیا ہے، اگلی بار تو گھروں سے بھی نکلنے نہیں دیا جائے گا۔
۵ اور ۶ مئی کی درمیانی شب ڈھاکا پر قیامت گزر گئی۔ پولیس کے ساتھ ساتھ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش اور ریپڈ ایکشن بٹالین کو بھی بے محابا استعمال کیا گیا۔ مخالفین اور مظاہرین کو کچلنے کی ہر وہ کوشش کی گئی جو کی جانی چاہیے تھی۔ بڑے پیمانے پر قتل عام اُس وقت ہوا جب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ حکومت نے میڈیا پر حقائق کو آنے سے روکا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈھاکا میں تین ہزار سے زائد افراد کو شہید کیا گیا اور آٹھ ہزار سے زائد زخمی ہوئے جن میں سے سیکڑوں کی حالت اب بھی نازک ہے۔ میڈیا پر پابندیاں عائد کردی گئیں تاکہ کوئی بھی حقیقت طشت از بام نہ ہو۔ عالمی برادری کو بنگلہ دیشی حکومت نے اپنی ظالمانہ کارروائیوں سے بے خبر رکھا ہے۔ اسلامی اُمہ بھی حقائق سے بہت حد تک بے خبر ہے۔ اگر تمام حقائق عالمی سطح پر پیش ہوں تو بنگلہ دیشی حکومت کے خلاف مضبوط کیس بنتا ہے۔ میڈیا کا گلا گھونٹنے کے ساتھ ساتھ انصاف پسند صحافیوں اور لکھاریوں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کسی کو کھل کر کچھ بھی لکھنے نہیں دیا جارہا۔

(“Kristallnacht of the Fascists in Dhaka”…”The Milli Gazette” Delhi. May 18, 2013)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.