من موہن سنگھ۔ بھارت کے پہلے سکھ وزیراعظم

من موہن سنگھ! کس نے سوچا تھا کہ نہایت ملائمت سے گفتگو کرنے والا یہ ماہر معاشیات ۱۴ویں لوک سبھا میں وزیراعظم کی مسند پر متمکن ہو گا۔ عام آدمی تو درکنار خود کانگریسی رہنمائوں کے بھی وہم و گمان میں نہیں تھا کہ ۵۷ سالہ یہ محترم کانگریسی بزرگ من موہن سنگھ اس منصب سے سرفراز ہوں گے۔ بلکہ اس بات کی امید ہی نہیں تھی کہ نہرو گاندھی خاندان کے میدانِ سیاست میں سرگرم ہوتے ہوئے کوئی اور شخص اس مسند کو رونق بخش سکتا ہے۔ اور شاید اسی وجہ سے شرد پوار اور پی اے سنگما جیسے لوگوں نے سونیا کے سیات میں آتے ہی کانگریس سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔

مگر یہ ناممکن اب ممکن ہو چکا ہے۔ سونیا گاندھی کے انکار کے بعد اب من موہن سنگھ ہی اس ملک کے وزیراعظم ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ بطور وزیر معاشیات اپنا لوہا منوانے والے من موہن سنگھ اس نئی ذمہ داری سے کتنے احسن طریقہ پر عہدہ برآ ہوتے ہیں۔

تعلیمی قابلیت:

من موہن سنگھ نے برطانیہ کی آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے معاشیات میں ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے معاشیات میں ایم اے کرنے کے بعد ڈی لٹ بھی کیا۔ اس کے علاوہ کئی یونیورسٹیوں نے انہیں اعزازی طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا‘ جس میں کینیڈا کی ایک یونیورسٹی بھی شامل ہے۔

سیاست میں شمولیت:

من موہن سنگھ نے سیاست میں کافی دیر سے شمولیت اختیار کی۔ سیاست میں ان کی شمولیت کا کریڈٹ سابق وزیراعظم نرسمہا رائو کو جاتا ہے اس سے قبل ۱۹۵۷ء سے ۱۹۶۵ء تک انہوں نے چندی گڑھ یونیورسٹی میں تدریسی فرائض انجام دیے۔ اس کے بعد مختلف یونیورسٹیوں میں پروفیسر رہے۔ تاہم ۱۹۷۱ء میں انہوں نے درس و تدریس کو خیرباد کہا اور وزارت برائے غیرملکی تجارت کے معاشی صلاح کار منتخب ہوئے۔ ۱۹۷۲ء سے ۱۹۷۶ء تک وہ وزارت مالیات میں چیف اکنامک ایڈوائزر رہے۔ ۱۹۷۶ء میں انہیں ریزرو بینک آف انڈیا کا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا۔ ۱۹۸۲ء میں وہ ریزرو بینک کے گورنر منتخب ہوئے اور ۱۹۸۵ء تک اس عہدے پر فائز رہے۔ ریٹائرمنٹ کے دوسرے ہی دن انہیں پلاننگ کمیشن کا ڈپٹی چیئرمین نامزد کیا گیا جہاں وہ ۱۹۸۷ء تک رہے۔ اس کے علاوہ چندر شیکھر کے دور حکومت میں وہ ان کے امور معاشیات کے مشیر رہے۔

ملک میں اقتصادی اصلاحات کے بانی سمجھے جانے والے من موہن سنگھ نہ صرف ملک کے پہلے سکھ وزیراعظم ہیں بلکہ پہلے اقلیتی وزیراعظم ہونے کا شرف بھی انہیں ہی حاصل ہے۔ من موہن سنگھ کی سیاست میں آمد کافی تاخیر سے ہوئی۔ وہ ۱۹۹۱ء میں راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوئے اور نرسمہا رائو کی حکومت میں وزیرِ خزانہ منتخب ہوئے۔ ان کے جاری کیے گئے اقتصادی اصلاحات کے پروگرام کو اس وقت کے وزیراعظم پی وی نرسمہا رائو کی حمایت حاصل تھی۔ بطور وزیر خزانہ انہوں نے ملک کے ٹیکس سسٹم کو آسان بنایا اور کاروبار کے لیے فضا کو سازگار بنانے کے اقدامات کیے۔ ان کے دور میں ملک کی معیشت بحال ہوئی‘ صنعت میں بہتری آئی اور افراطِ زر پر قابو پایا گیا۔ انہیں کھلی معیشت کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے۔

بطور وزیرِ خزانہ من موہن کی کامیابیاں:

انہوں نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ جب انہیں وزیرِ خزانہ کا عہدہ پیش کیا گیا تو وہ بہت حیران ہوئے تھے۔ ان کے مطابق ’’میرے دوستوں نے کہا تھا کہ تمہیں قربانی کا بکرا بنایا جارہا ہے۔ تم ناکام ہوگے اور پھر تمہیں ۶ ماہ ہی میں برطرف کر دیا جائے گا‘‘۔ مگر میں نے کہا تھا کہ ’’یہ میرے لیے ملک کی خدمت کرنے کا ایک اچھا موقع ہے اور میں اس میں اپنے آپ کو ثابت کر دوں گا‘‘۔ انہوں نے اپنی اس بات کو ثابت کر دکھایا۔ آج جو بھی معاشی انقلابات ملک میں آئے ہیں اور جن کا کریڈٹ واجپائی حکومت لے رہی تھی دراصل سنگھ ہی کی دَین تھیں۔ معاشی اصلاحات کے دوران کا یہ قول کافی مشہور ہوا کہ ’’ایسے خیالات کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں روک سکتی‘ جسے لاگو کرنے کا وقت آگیا ہو‘‘۔

من موہن سنگھ گھاگ قسم کے سیاست داں نہیں ہیں تاہم معاشیات پر ان کی گہری نظر‘ معاملہ فہمی اور ۷۲ سالہ زندگی کے تجربات سے ملک بہت کچھ حاصل کر سکتا ہے۔ سیاست میں اپنے تجربہ سے انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ پیچیدہ موضوعات پر رائے عامہ کیسے ہموار کی جاسکتی ہے۔ وہ بہت کم بولتے ہیں اور تمام لوگوں کے خیالات سن لینے کے بعد ہی اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔

ان کی اس شخصیت اور حیثیت کی بنا پر ہی تمام اتحادی ان کے نام پر متحد نظر آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ انہوں نے صرف ایک لوک سبھا الیکشن میں حصہ لیا مگر ناکام رہے۔ ۱۹۹۱ء میں انہیں آسام سے راجیہ سبھا کا رکن چنا گیا۔ اس کے بعد لگاتار تین بار ان کی میعاد میں اضافہ ہوتا رہا۔ وزیراعظم بننے سے قبل وہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر تھے۔

یہاں یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ اب تک ہندوستان میں کتنے سکھوں نے اہم ترین ذمہ داریاں بنائی ہیں۔ آزادی کے بعد سے ہی سکھوں نے ملک کی ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سردار بلدیو سنگھ کو ہندوستان کے پہلے وزیرِ دفاع ہونے کا امتیاز حاصل ہے۔ اس کے علاوہ سردار سورن سنگھ ہندوستان کے بہترین وزیر برائے امورِ خارجہ ثابت ہوئے۔ گیانی ذیل سنگھ اور بونا سنگھ کے نام محتاجِ تعارف نہیں‘ جنہوں نے وزارتِ داخلہ کی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائیں۔


بھارت کے وزراے اعظم

۱۔ جواہر لال نہرو: ۱۵ اگست ۱۹۴۷ء تا ۲۷ مئی ۱۹۶۴ء

۲۔ گلزاری لال نَندا: ۲۷ مئی ۱۹۶۴ء تا ۹ جون ۱۹۶۴ء (کارگزار)۔ ۱۱ جنوری ۱۹۶۶ء تا ۲۴ جنوری ۱۹۶۶ء (کارگزار)

۳۔ لال بہادر شاستری: ۹ جون ۱۹۶۴ء تا ۱۱ جنوری ۱۹۶۶ء

۴۔ اندرا گاندھی: ۲۴ جنوری ۱۹۶۶ء تا ۲۴ مارچ ۱۹۷۷ء۔۔۔۔۔ ۱۴ جنوری ۱۹۸۰ء تا ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ء

۵۔ مرارجی ڈیسائی: ۲۴ مارچ ۱۹۷۷ء تا ۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء

۶۔ چَرَن سنگھ: ۲۸ جولائی ۱۹۷۹ء تا ۱۴ جنوری ۱۹۸۰ء

۷۔ راجیو گاندھی: ۳۱ اکتوبر ۱۹۸۴ء تا یکم دسمبر ۱۹۸۹ء

۸۔ وی پی سنگھ: ۲ دسمبر ۱۹۸۹ء تا ۱۰ نومبر ۱۹۹۰ء

۹۔ چندر شیکھر: ۱۰ نومبر ۱۹۹۰ء تا ۲۱ جون ۱۹۹۱ء

۱۰۔ پی وی نرسمہا راؤ: ۲۱ جون ۱۹۹۱ء تا ۱۰ مئی ۱۹۹۶ء

۱۱۔ ایچ ڈی دیوے گوڑا: یکم جون ۱۹۹۶ء تا ۲۱ اپریل ۱۹۹۷ء

۱۲۔ ڈاکٹر اِندر کمار گجرال: ۲۱ اپریل تا ۲۸ نومبر ۱۹۹۷ء

۱۳۔ اٹل بہاری واجپائی: ۱۶ مئی تا یکم جون ۱۹۹۶ء۔۔۔۔۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۸ء تا مئی ۲۰۰۴ء

۱۴۔ من موہن سنگھ: ۱۶ مئی ۲۰۰۴ء تا حال

(بشکریہ: روزنامہ ’’انقلاب‘‘۔ ممبئی)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*