مراکش: اسلام پسندوں کی کامیابی اور درپیش چیلنج

مراکش میں عوامی دبائو کے نتیجے میں گزشتہ ۲۵ نومبر کو قبل ازوقت انتخابات منعقد ہوئے اور اس میں شک نہیں کہ یہ انتخاب شریک جماعتوں کے لیے ایک بڑا اہم امتحان تھا۔ اس الیکشن میں سامنے والا ہر امیدوار خوفزدہ تھا کہ وہ ووٹروں کا قابل قبول تناسب حاصل کر پائے گا یا نہیں۔ یہ بات صحیح ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے ووٹروں کی تعداد ۴۰ سے ۴۵ فیصد تھی۔ لیکن جو لوگ عوام کی بھاری اکثریت کا انتخابات میں حصہ لینے کا دعویٰ کر رہے تھے، یہ تعداد ان کی توقعات کے مطابق نہیں تھی، مگر اس کے باوجود یہ ایک معقول تناسب تھا اور قدیم جمہوری ملکوں میں الیکشن کے موقع پر عام طور پر جو تناسب ہوتا ہے، یہ تعداد اس کے مماثل تھی۔ اس الیکشن کے موقع پر گرچہ بعض جماعتوں نے ووٹنگ کے بائیکاٹ کی اپیل عوام سے کی تھی، لیکن اس کے باوجود ووٹنگ کے اجتماعی بائیکاٹ کا جو منظر ۲۰۰۷ء میں تھا، اس بار دیکھنے میں نہیں آیا۔

انتخابات میں عوام کی شرکت اتنی معقول تعداد میں تھی کہ جن تنظیموں اور جماعتوں نے پوری طاقت سے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا وہ ششدر و حیرت زدہ رہ گئیں۔ اس کے برعکس ان جماعتوں نے اطمینان کا سانس لیا جنہوں نے عوام سے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کی اپیل کی تھی۔ انہوں نے عوام کو باور کرایا تھا کہ فی الحال تھوڑی تبدیلی کو قبول کر لیا جائے اور بہت زیادہ مطالبے کے لیے حالات کے مستحکم ہونے کا انتظار کیا جائے اور مزید اصلاحات منتخب اداروں کے ذریعے روبہ عمل ہوں گی۔

انتخابات کے نتائج کے سبب مراکش میں ایک بڑی اہم تبدیلی رونما ہوئی۔ اور یہ تبدیلی وہاں کی اسلامی پارٹی ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کی کامیابی کی شکل میں نمایاں ہوئی ہے۔ اس پارٹی کو پارلیمنٹ کی کل نشستوں میں سے ۱۰۷ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں سیٹوں کی حصول یابی اس بات کی بڑی اہم دلیل ہے کہ ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی کو مراکش میں بڑی مقبولیت حاصل ہے۔ بالخصوص ایسے ماحول میں جہاں دو بنیادی تحریکیں ایک دوسرے سے برسرپیکار تھیں: نوجوانوں کی تحریک (Youth Movement) جو ۲۰ فروری ۲۰۱۱ء کو مراکش میں رونما ہونے والے مظاہروں کی پیدا کردہ ہے۔ یہ مظاہرے ان عرب انقلابات سے اظہار یکجہتی کے لیے برپا ہوئے تھے جس نے تین آمرانہ نظاموں کو روند ڈالا۔ اس تحریک نے جزوی اصلاحات کو قبول نہ کرنے اور انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ ان جزوی اصلاحات سے اصلاح کے کل مقاصد کی تکمیل نہیں ہوتی ہے اور دوسری تحریک اصلاحی تحریک تھی جو حکمراں نظام کی تشکیل کردہ تھی۔ یہ تحریک گزشتہ مارچ میں وجود میں آئی تھی اور اسے مَلِک کی طرف منسوب کیا گیا تھا۔ اس پارٹی کے بطن سے نیا دستور وجود میں آیا اور قبل از انتخاب کا اعلان ہوا۔

انقلاب کے بغیر تبدیلی کا عمل

مراکش کا حکمراں نظام داخلی و بین الاقوامی سطح پر پہلا پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر یہ بروئے کار آگیا اور نتیجہ خیز ثابت ہوا تو یقینا یہ ایک ایسا مثالی نمونہ ہوگا جو عرب دنیا کو برآمد کیا جاسکے گا۔ اور بلاشبہ یہ پیغام دیا جاسکے گا کہ تبدیلی کا وہ طریقہ جو خطرات سے پُر ہے، جسے تیونس، مصر اور لیبیا میں اختیار کیا گیا وہ تبدیلی لانے کا واحد طریقہ نہیں ہے، بلکہ ایک طریقہ درجہ بدرجہ تبدیلی لانے کا ہے اور یہ طریقہ بہت زیادہ مامون و محفوظ ہے۔

جیسا کہ اسلام پسندوں کی کامیابی سے ظاہر ہے کہ یہ ووٹروں کی مضبوط قوت ارادی کا نتیجہ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ ووٹروں کا یہ جذبہ صرف جمہوریت کی بحالی تک محدود نہ ہو بلکہ یہ اس اصلاح کے تسلسل کا ایک لازمی جزو بن جائے، جسے مراکش کا حکمراں نظام ملک کے اندر موجود دشمنوں اور باہر کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لیے آگے بڑھا رہا ہے۔ بہار عرب (Arab Spring) کے زیر سایہ سیاسی فصل کی کاشت کا سلسلہ برابر جاری رہے گا اور نتیجہ بڑا تکلیف دہ ہو گا۔

انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والوں کو صدمہ

انتخابات کے بائیکاٹ کی اپیل کرنے والے اندازہ لگا رہے تھے کہ ۲۰۰۷ء کے مقابلے میں اس بار ووٹ ڈالنے کی تعداد بہت کم ہوگی۔ ۲۰۰۷ء میں کل ۳۷ فیصد ووٹ پڑے تھے جبکہ حکمراں نظام نے اپنی بنائی ہوئی پارٹیوں کے مفاد میں ووٹروں کو پولنگ بوتھوں تک گھیر کر لانے کے لیے طاقت کا بھی استعمال کیا تھا۔ الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والوں نے ۲۰۰۷ء سے زیادہ بڑی تعداد میں عوام سے مظاہرے میں شرکت کی اپیل کی تھی مگر وہ صرف چند ہزار مظاہرین کو جمع کر سکے۔ اگر انتخابات میں دھاندلیاں ہوئی ہوتیں تو ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی بھی اس مظاہرے میں شریک ہو جاتی، پھر یہ بنیادی تبدیلی کے لیے حکمراں نظام کو مجبور کرنے کے لیے ملین مارچ ہو جاتا۔ لیکن ان لوگوں نے ووٹ کے دو دن بعد جس مظاہرے کی اپیل کی تھی، اس میں رباط میں صرف چند سوآدمی شریک ہوئے تھے۔ اسی طرح بعض دوسرے شہروں میں بھی مظاہرین کی تعداد چند ہزار سے متجاوز نہیں تھی۔ اس مظاہرے کے شرکاء جہاں نظام وقت کے خلاف مختلف طرح کے نعرے لگا رہے تھے وہیں انہوں نے اس پارلیمانی انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے اسے فوری حل طلب مسائل کو چھوڑ کر مسلسل آگے بھاگتے رہنے سے تعبیر کیا۔

جنہوں نے مراکش میں گزشتہ برس ۲۰ فروری اور ۹ مارچ کو بپھرے ہوئے نوجوانوں کی طرف سے جاری مظاہروں اور اصلاحات کے مطالبوں کا جائزہ لیا ہوگا، انہیں پتہ ہے کہ ان ہر دو موقعوں پر ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ اور اس کے رہنمائوں کا موقف اور رجحان یہ رہا ہے کہ اصلاح کا عمل مسلسل اور تدریجاً ہو اور نظام کے خلاف بغاوت کا راستہ نہ اختیار کیا جائے۔

چونکہ مراکش کے حکمراں نظام کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ اگر انتخابی عمل میں ذرا بھی کہیں چُوک ہوئی تواس کے کتنے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس لیے اس نے حکومت کی پوری مشینری کو انتخابی عمل میں کسی بھی گڑبڑ پر نظر رکھنے کے لیے چوکس کر دیا تھا۔ اسی لیے گڑ بڑ کے بہت معمولی واقعات ریکارڈ کیے گئے۔ یہ وہ واقعات تھے جن سے کوئی بھی انتخابی عمل محفوظ نہیں رہتا۔

متوقع حکومت

’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی کے قائدین کو بخوبی معلوم ہے کہ ’’جمہوری بلاک‘‘ کی تین پارٹیاں اُن سے قریب تر ہیں: ’’استقلال‘‘ اور ’’عوامی اشتراکی اتحاد‘‘ اور ’’پروگریسو اینڈ سوشلسٹ‘‘ پارٹی۔ اور ان کی قربت کا سبب یہ ہے کہ یہ تینوں پارٹیاں اپنی جڑیں عوام میں رکھتی ہیں، برخلاف ان پارٹیوں کے جو سرکاری ہیں اور جنہیں سابق وزیرداخلہ ادریس بصری کے دفتر نے تشکیل دیا ہے یا ملک میں السادس کے دوست فواد عالی الہمت کی پارٹی، جس نے روز اول سے اعلان کر رکھا ہے کہ اس کا سیاسی پروگرام ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی سے برسرپیکار رہتا ہے۔ اس نے الیکشن سے کچھ دن پہلے چار سرکاری پارٹیوں کا ایک متحدہ محاذ بھی بنایا تھا اور چار دوسری پارٹیاں اس محاذ میں شامل ہو گئی تھیں۔ ان میں تین بائیں بازو کی پارٹیاں تھیں اورایک اسلامی پارٹی تھی۔ اس طرح ان پارٹیوں نے آٹھ پارٹیوں کا ’’G-8‘‘ کے نام سے ایک متحدہ محاذ بنایا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ان پارٹیوں میں قدر مشترک صرف ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ پارٹی کی دشمنی تھی۔

’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سعدالدین العثمانی نے ایک ایسا مربوط و مضبوط اتحاد بنانے کی دعوت دی ہے جو ملک کے نظام کو چلانے اور قومی مسائل حل کرنے پر پوری طرح قادر ہو۔ عثمانی نے مزید کہا کہ بیلٹ بکسوں کے ذریعے جو نقشہ ابھر کرسامنے آیا ہے وہ ایک عظیم بلقان کی حدیں متعین کرے گا۔ اس الیکشن نے سابقہ سیاسی نقشوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت سازی کے لیے جو اتحاد بنے اس میں زیادہ سے زیادہ تین چار پارٹیاں ہوں اور سب نئے آئینی رجحان سے ہم آہنگ ہوں۔

عثمانی نے اتحاد کے منظر نامے پرزور دیتے ہوئے کہا: ’’ڈیمو کریٹک بلاک‘‘ کے ساتھ اتحاد کا بہت زیادہ امکان ہے۔ انہوں نے اتحاد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: اس سلسلے میں چند چیزوں کو نگاہ میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان میں… بنیادی ڈھانچے کی تشکیل، حکومت کی ترجیحات اور پروگراموں کو ترتیب دینے کا مرحلہ شامل ہے۔ پھروزراء کے انتخاب پر اتفاق رائے ہونا ضروری ہے۔

لیکن ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کی جانب سے اپنے الائنس کی تشکیل کی ذمے داری پارٹیوں کے ساتھ گفت و شنید کے دوران اس کی پوزیشن کمزور کر سکتی ہے، باوجود یہ کہ اسے بڑی کامیابی ملی ہے، بایں صورت کہ ڈیمو کریٹک بلاک کی پارٹیاں ایک ساتھ مل کر گفتگو کا عندیہ دیں۔ اس لیے وزیراعظم عبدالالہ بن کیران کو مذکورہ بلاک کے ساتھ اتحاد کی کوشش کے ساتھ دوسری پارٹیوں کے لیے بھی دروازہ کھلا رکھنا ہوگا۔

گرچہ افواہ گشت کر رہی تھی کہ شاہی محل کا رجحان اسلام پسندوں کی طرف نہیں ہے، لیکن نئے دستور کی رو سے بادشاہ کے لیے ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کے سربراہ کو حکومت سازی کی دعوت دینے کے لیے علاوہ کوئی اختیار (Option) نہیں تھا۔ کیونکہ یہی پارٹی ایوان کی سب سے بڑی پارٹی ہے اور اسی کے پاس پارلیمنٹ کی سب سے زیادہ نشستیں ہیں اور جہاں تک بادشاہ یا شاہی محل کی پسندیدگی اور عدم پسندیدگی کا سوال ہے تو عبدالالہ بن کیران نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ واضح کر دیا تھا کہ بادشاہ سے ہمارا تعلق ذاتی محبت کی بجائے ملک کے مفاد کی بنیاد پر ہے۔

سخت چیلنجوں کا سامنا

مستقبل میں ’’جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ‘‘ کے اتحاد کی کیا صورت بنتی ہے یہ تو آنے والا وقت بتائے گا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ آئندہ دنوں میں پارٹی کو چند سخت اور دشوار گزار چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کو اختصار کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے:

اوّل: پارٹی کے لیے سب سے پہلا چیلنج یہ ہے کہ اسے ایک اچھی اور صاف ستھری حکومت بنانی ہوگی جو دستور میں دی گئی آزادیوں کو تسلیم بھی کرے اور مستقبل میں ان کی بقا کی ضمانت فراہم کرے اور حکومتی اداروں میں کام کے لیے ہر ذمہ داری کے ساتھ محاسبہ کے اصول کو بطور لازمی شرط کے لاگو کرے۔ اس طرح حکومت کو ملک و معاشرے کی خدمت میں لگا دے۔ اور اس بنیاد پر کام کرنے کی ضرورت پر برابر زور دیا جاتا رہے اور دستور میں موجود نص کے بموجب مفاد عامہ کے لیے مسلسل تنظیمی اور ادارہ جاتی قوانین کا اجراء ہوتے رہنا چاہیے۔ اس طرح حکومت اور شراکت پر مبنی جمہوری اداروں کو استحکام حاصل ہوگا۔ اس صورت میں حکومتی اداروں اور ملکی سیاست کے تعلق سے اعتماد مضبوط ہوگا اور عوام کے دلوں میں حکومت کے تئیں اعتبار بحال ہوگا۔

دوم: ایک ایسے نئے ’’سوشل چارٹر‘‘ کو پاس کرانے کی ضرورت ہے جو ملک کے شہریوں کو باعزت زندگی گزارنے کی ضمانت دے اور ان کے عمدہ اور معیاری ’سوشل سروسز‘‘ کو ممکن بنائے۔ اور اجتماعی ترقی کے میدان میں عوام کے لیے شرکت کے مواقع بہم پہنچانا بھی نئی حکومت کی ایک بڑی ذمہ داری ہوگی۔

سوم: ملک میں کاروبار کے لیے ایک ایسی شفاف فضا بنانا جو ملکی و بیرونی سرمایہ کاری کو ممکن بنا سکے اور اس کے نتیجے میں ملک کو زرمبادلہ حاصل ہو اور اجتماعی عدالت کا نظام بروائے کار آئے۔ اس طرح فقر، بے روزگاری اور قوت خرید کے فقدان جیسے مشکل مسائل کو حل کرنے کے لیے ملکی حکمت عملی کو مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

چہارم: ملک کے اتحاد و سا لمیت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا نئی حکومت کی ایک بڑی ذمے داری ہے۔ اسی طرح ملک میں موجود گوناگوں ثقافتوں کی حفاظت کے ساتھ ساتھ اسلامی اقدار کو ان کا صحیح مقام دینا بھی حکومت کی ذمہ داری ہوگی۔ بیرونی دنیا سے مثبت تعلقات قائم کرنا بھی نئی حکومت کے لیے ایک بڑا اہم چیلنج ہوگا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تعلقات متوازن اور منصفانہ شراکت کی بنیاد پر قائم ہوں، جس میں ہر فریق کو آزادی اور باہمی مصالح کی بھرپور رعایت ہو، اس میں کسی کو دوسرے پر اپنی پالیسی تھوپنے کی بالکل گنجائش نہ ہو۔ اسی طرح عرب اور مسلمان قوموں کے مسائل کا دفاع بھی نئی حکومت کے سامنے ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ایک ممتاز قائد ڈاکٹر حسن دائودی کا کہنا ہے کہ مذکورہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور ملک میں موجود مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے جرأت مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے، خواہ اس کے نتیجے میں پارٹی کو آئندہ انتخابات میں پسپائی اختیار کرنا پڑے۔

(بشکریہ: سہ روزہ ’’دعوت‘‘ دہلی۔ ۱۹؍جنوری ۲۰۱۲ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.