موساد اور اس کے تانے بانے

موساد فخر سے یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے کارندے خفیہ خبریں اکٹھی کرتے وقت بلند ترین اخلاقی معیار پر پورے اترتے ہیں۔ بین الاقوامی قانون کے تحت تمام خفیہ سرگرمیاں اور خفیہ اطلاعات اکٹھی کرنا غیرقانونی کام ہے۔ اس کے باوجود ہر قوم ان سرگرمیوں میں ملوث ہوتی ہے اس لیے ہر ملک کو ایسے غیرقانونی آپریشنز شروع کرتے وقت ان کی گائیڈ لائنز کا خود ہی تعین کرنا ہوتا ہے۔ اسرائیل نے اس سلسلے میں ایک منفرد تصوراتی معیار (Idealist View) مقرر کر رکھا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ’’ہر وہ کام جائز ہے جسے نہ صرف حکومتِ وقت اور سیاسی لیڈروں نے درست قرار دیا ہو بلکہ انٹیلی جنس کے سربراہ اور خود انٹیلی جنس کے ایجنٹ بھی جائز سمجھتے ہیں‘‘۔ لیکن اس معیار پر وہ پورا نہیں اتر سکا۔ ۱۹۷۲ء کے اولمپکس منعقدہ میونخ میں جو قتلِ عام کا واقعہ ہوا تھا‘ اس پر اس نے ’’غضب الٰہی ٹیمیں‘‘ (Wrath of God hit teams) بھیجی تھیں تاکہ جو لوگ اس کے ذمہ دار تھے‘ ان سے انتقام لیا جائے۔ ٹیم کے ہر ممبر کو اس کے ہدف کے بارے میں تفصیلی اعمال نامہ مہیا کیا گیا اور کہا گیا کہ اس شخص سے فی الواقعہ جرم سرزد ہوا تھا‘ اس کے مجرم ہونے میں رَتی بھر شبہ نہی لہٰذا تمہیں اسے ہلاک کر کے ہی واپس آنا ہے۔ اس طرح کے قطعی احکامات میں انصاف اور اخلاقی اصولوں کا معیار کہاں ملحوظ رکھا گیا تھا؟

قتلِ انسان اگرچہ بعض صورتوں‘ اعلیٰ ترین ملکی مصلحتوں کے تحت ناگزیر ہو جاتا ہے لیکن اس کام پر مامور افراد کا کہنا ہے کہ ان کے اقدامات‘ میدانِ جنگ میں مصروفِ پیکار سپاہی کے اقدامات جیسے ہی ہوتے ہیں۔ یہودی جو زندگی کے تقدس کی قسمیں کھاتے ہیں اور قانون کی نزاکتوں کو بھی سمجھنے کا دعویٰ کرتے ہیں‘ جب قتل کی بے تحاشا کارروائیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں تو ان کی قسمیں اور دعوے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اسرائیل کے اندر بعض اقدامات کے اخلاقی جواز پر بڑی زوردار بحثیں ہو چکی ہیں‘ ان آپریشنوں کی پلاننگ کے موقع پر بھی بہت سی ذہنی توانائی جواز یا عدم جواز کی بحثوں کی نذر ہوئی ہے۔ بالآخر فیصلے صادر کرنے والوں نے تان اس جملے پر توڑی ’’ہم جرائم پیشہ افراد کو تو ریکروٹ نہیں کرتے‘ ہم عام شہریوں کو بھرتی کرتے ہیں جنہیں یہ یقین دلا کر بھیجا جاتا ہے کہ تمہیں دیا گیا کام اخلاقی طور پر بالکل جائز ہے‘‘۔

ایک سینئر افسر نے جھنجلا کر کہا کہ ’’موساد کسی کو ڈرا دھمکا کر اپنا ایجنٹ نہیں بناتی جو بھی اس کی صفوں میں شامل ہوتا ہے‘ اپنی مرضی سے آتا ہے اور کام کو سمجھ کر کرتا ہے۔ موساد کی پالیسی ایک حد تک اخلاق پر ہی مبنی ہوتی ہے اور ایک حد تک اس یقین پر مبنی ہوتی ہے کہ جبر (بلیک میلنگ) کے تحت بھرتی شدہ ایجنٹ بددلی سے کام کرتا ہے لہٰذا وہ قابلِ اعتماد نہیں رہتا‘‘۔ ایک دوسرے افسر نے کہا ’’موساد میں بھرتی‘ ترغیب کے ذریعے کی جاتی ہے‘ ایسا کرنے سے ایجنٹ اور بھرتی کرنے والے کے درمیان اعتماد اور بھروسہ قائم ہو جاتا ہے اور وہ کام کو اپنی ذمہ داری سمجھ کر پورا کرتا ہے۔ ڈرانے دھمکانے سے یہ جذبہ تباہ ہو جاتا ہے‘‘۔ ذمہ دار افسروں کے یہ بیانات موساد کے بارے میں بلیک میلنگ وغیرہ کی کہانیوں کی مکمل طور پر تردید کرتے ہیں۔ اس کی بارے میں اور بھی بہت سی باتیں مشہور کی گئی ہیں لیکن ان میں سے بیشتر بے سروپا ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں میں رہنے والے عربوں کو کسی پڑوسی ملک میں ملازمت یا کسی کام سے جانا ہو تو جب وہ باہر جانے کے لیے اجازت نامے لینے جاتے ہیں‘ ان سے ملک کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے‘ انکار کرنے پر جیل بھیجنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ عربوں پر اس قسم کے دبائو شین بتھ ڈالتی ہے۔ لہٰذا یہ الزام غلط نہیں ہے۔

موساد کا دعویٰ ہے کہ وہ کسی بھی ایجنٹ کو استعفیٰ دینے سے نہیں رکتی۔ اگر ملازم بددل ہو جائے تو بے پروائی اور تساہل کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے‘ لہٰذا اسے مستعفی ہونے سے روکنا اچھی بات نہیں ہوتی۔ کام کے دوران اگر اسے دشمن ملک سے ملازمت کی پیشکش موصول ہو جائے تو صورتحال اور بدترین ہوتی ہے۔ متلون مزاج اور غیرمتوازن افراد کو بھی اس سروس کے لیے موزوں نہیں سمجھا جاتا۔ کیونکہ ایسے لوگ جلد یا بدیر بے نقاب ہو جاتے ہیں اور ساتھ ہی سروس کی رازداری کا معیار بھی گر جاتا ہے جوناتھن پولارڈ نامی ایک ایجنٹ اسی زمرے میں آتا تھا۔ وہ امریکی بحریہ کی انٹیلی جنس میں تھا اور اسرائیل کے لیے بھی جاسوسی کرتا تھا۔ وہ بہت جذباتی غیرمحتاط اور شیخی باز شخص تھا۔ اس وقت کے ایف بی آئی کے سربراہ ولیم ویبسٹر نے جو بعد میں سی آئی اے کا ڈائریکٹر ہو گیا تھا‘ لکھا کہ بہت سے ماہرین پولارڈ کو دیکھ کر حیرت کا اظہار کیا کرتے تھے کیونکہ وہ اسرائیلی انٹیلی جنس کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا تھا۔ اس کا بھرتی کر لیا جانا غیرمعمولی واقعہ محسوس ہوتا تھا۔

موساد آج کل اس مخمصے سے دوچار ہے کہ کیا اسے فلسطین کے باہر کے یہودیوں سے جاسوسی کا کام لینا چاہیے یا نہیں؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ باہر کے یہودی اس شعبے میں بڑے شوق و رغبت سے بھرتی ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے مسئلہ یہ پیدا ہو گا کہ اگر بھرتی ہونے کے بعد وہ جاسوسی کرتے ہوئے پکڑ لیے گئے تو ان ملکوں کے یہودی مقامی آبادی کے انتقام کا نشانہ بننے لگیں گے اور دنیا بھر میں پرانی سام دشمنی (Anti-Symitism) کی تحریک ایک بار پھر چل نکلے گی۔ یہ خطرہ اسرائیلی انٹیلی جنس ورک شروع ہوتی ہی محسوس ہونے لگا تھا۔ ۱۹۵۱ء میں عراق میں موساد کے ایجنٹ سرگرمِ عمل پائے گئے تو وہاں سے سارے یہودیوں کے اخراج کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔ اس پر موساد کے ایک اعلیٰ افسر شائول ایویگور نے وزیراعظم بن گوربن سے یہ حکم جاری کرنے کی استدعا کی کہ آئندہ لوکل یہودیوں یا ان کی تنظیموں سے انٹیلی جنس کا کام نہیں لیا جائے گا۔ اس نے بڑے زوردار طریقے سے استدلال پیش کیا کہ اسرائیلی ریاست کو دنیا بھر میں آباد یہودیوں کے لیے امید کی علامت بننا چاہیے نہ کہ باعثِ اذیت۔ اس نے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر مقامی یہودی جاسوسی کرتے پکڑے گئے تو اس ملک کی تمام یہودی آبادی خطرے میں پڑ جائے گی۔ مختصر یہ کہ موساد حتی الوسع سمندر پار ملکوں کے یہودیوں کی ریکروٹمنٹ کے پھندے میں پھنسنے سے بچنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا مزید ایک سبب یہ تھا کہ جن ملکوں کے جاسوسوں کو اسرائیل میں پکڑا جارہا تھا‘ ان کے حکام اسرائیل کے لیے جاسوسی کرنے والوں کو پکڑ لیتے تو وہ یہودی آبادکاروں کو کھنگالنا شروع کر دیتے۔ چنانچہ موساد غیرفلسطینی یہودیوں کو اسی طرح مشتبہ سمجھتی ہے جس طرح روسی ’’کے جی بی‘‘ کارڈ کے حامل کمیونسٹ پارٹی کے غیرملکی افراد کو شک کی نظر سے دیکھتی تھی۔

موساد کے بارے میں سی آئی اے کی رپورٹ میں اس کے برعکس رائے کا اظہار کیا گیا۔ یہ رپورٹ تہران میں امریکی سفارت خانے پر انقلابیوں کے قبضے کے بعد وہاں کے ریکارڈ میں پائی گئی تھی۔ اس میں بتایا گیا کہ اسرائیل غیرفلسطینی یہودیوں سے جاسوسی کا کام لیتا رہا ہے۔ اس سے دو مقصد حاصل کیے گئے۔ ایک تو ایران کے یہودیوں کو روزگار فراہم کر کے انہیں زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا گیا اور دوسرا ان کے ذریعہ انفارمیشن حاصل کرنے کا مقصد بھی پورا ہو گیا۔ رپورٹ میں کہا گیا تھا:

’’صیہونیت کی جارحانہ نظریاتی نوعیت اس امر کی متقاضی ہے کہ تمام یہودی اسرائیل سے تعلق رکھتے ہیں اور انہیں لازماً اسرائیل کے دائرے کے اندر ہی جانا ہے‘ تاہم وہ اپنی بعض کمزوریوں کے باعث اپنے انٹیلی جنس آپریشنوں کے لیے ان سے مدد نہیں لے سکتی کیونکہ دنیا بھر کے یہودیوں میں اس کی خاصی مخالفت پائی جاتی ہے۔ اس حقیقت سے آگاہی رکھنے کی وجہ سے انٹیلی جنس کے نمائندے یہودی آبادیوں کے اندر بہت محتاط ہو کر اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ انہیں اپنے اعلیٰ حکام کی طرف سے بھی واضح ہدایت ملی ہوئی ہے کہ وہ اپنے مشن کو ہوشیاری سے پایہ تکمیل تک پہنچائیں اور اسرائیل کے لیے خواہ مخواہ پریشانی کے اسباب پیدا نہ کریں۔ وہ صیہونیت مخالف عناصر کی صفوں کے اندر داخل ہو کر ان کی مزاحمت کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی احتیاطوں کے باوجود اسرائیلیوں کو پے در پے ناکامیاں پیش آئی ہیں اور ایسے کئی کیس بھی سامنے آئے ہیں‘ جن میں یہودی عقائد رکھنے والے امریکیوں کی ریکروٹمنٹ کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا اور امریکی حکام کو اس کی رپورٹ دے دی گئی ہے‘‘۔

موساد کے مقاصد اور طریقِ کار کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں اور گمراہ تاثرات بھی پھیلے ہوئے ہیں۔ لیکن حقائق یہ ہیں کہ انٹیلی جنس کے کام کی اصل ذمہ دار ’’انسٹی ٹیوٹ‘‘ ہے جس کی خفیہ کارروائیوں میں ڈس انفارمیشن پھیلانا اور دہشت گردی کا انسداد بھی شامل ہے۔ موساد کا اصل کام معاندانہ رویہ رکھنے والی عرب اقوام اور دنیا بھر میں قائم ان کی تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کرنا ہے۔ لیکن اس کا خاص مشن مغربی یورپ اور امریکا میں عرب تنظیموں کا مقابلہ کرنا ہے۔ ایجنسی کے کام کا فوجی پہلو عربوں کی عسکری قوت سے باخبر رہنا اور خاص طور پر ان کی قیادت‘ ان کے حوصلوں اور ان کے ساز و سامان کے بارے میں رپورٹیں تیار کرنا ہے۔ یہ ان کی داخلی سیاست اور سفارتی سرگرمیوں میں بھی دلچسپی رکھتی ہے۔ موساد کے ایجنٹ‘ عرب لیڈروں کے باہمی تعلقات میں آنے والی تبدیلیوں پر کڑی نظر رکھتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے تجارتی مذاکرات اور بالخصوص جنگی آلات کی خریداری اور فراہمی کے مسائل کی تحقیق اس کا مستقل موضوع ہے۔ اس کے ماہرین اور تجزیہ کار عربوں کے پروپیگنڈے کا بھی مقابلہ کرتے رہتے ہیں۔ موساد اقوامِ متحدہ کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتی رہتی ہے۔ کیونکہ اس کے نزدیک یہ عموماً اسرائیل کے مفاد کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتی ہے۔ موساد عربوں کے خفیہ راز اکٹھے کرتی رہتی ہے‘ پھر ان رازوں کی مدد سے ان کے مابین ٹکرائو پیدا کرتی ہے اور شکوک و شبہات کے بیج بوتی رہتی ہے۔

اندرونی ساخت

۱۹۷۷ء میں اس کے اندر سات شعبے قائم کیے گئے تھے‘ جو اَب تک چلے آرہے ہیں۔ ان میں ’’کولیکشن‘‘ کا شعبہ سب سے بڑا ہے۔ یہ غیرملکی جاسوسی کے آپریشنوں کا ذمہ دار ہے اور ان سے متعلقہ رپورٹیں بھی اسی کی تحویل میں ہوتی ہیں۔ اس کے چند کارندے فیلڈ ورک پر مامور ہیں۔ انہیں سفارتی تحفظ حاصل رہتا ہے۔ انہیں ’’لیگلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ جبکہ بعض شعبے سفارتی تحفظ کے دائرے سے باہر ہیں۔ یہ ’’ٹریڈرز‘‘ یا ’’بزنس مین‘‘ ہوتے ہیں۔ اسی طرح ایک ’’ایکشن اور لیژن‘‘ ڈپارٹمنٹ ہے جو دوست ملکوں کی انٹیلی جنس سروسز سے تعلقات کی دیکھ بھال کرتا ہے اور ان ممالک سے روابط رکھتا ہے‘ جن کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ اس کے ماتحت ایک ’’اسپیشل آپریشنز ڈویژن‘‘ ہے۔ یہ ایکشن کرنے والے ایجنٹوں پر مشتمل ہے جو عرب دہشت گردوں کے خلاف خفیہ آپریشنز پر مامور ہے اور مطلوبہ نازیوں اور ان کے نئے گروپوں (Neo-Nazis) کے خلاف بھی متحرک رہتا ہے۔ یہ اپنی کارروائیاں تین عنوانات سے کرتا ہے۔ ’’سبوتاژ‘‘، ’’پیراملٹری ایکٹویٹی‘‘ اور ’’سائیکولاجیکل وارفیئر‘‘۔ ان سب کا ریکارڈ مذکورہ صدر ’’کولیکشن‘‘ کے پاس رہتا ہے۔

موساد کا سربراہ اگرچہ صرف وزیراعظم کے سامنے جوابدہ ہوتا ہے‘ تاہم بعض شخصیات کی اہمیت کے حوالے سے اس معمول پر رد و بدل کر لیا جاتا ہے۔ وہ وزیرِ دفاع کو اپنے آپریشنز کی تفصیلات سے باخبر رکھنا ضروری نہیں سمجھتا۔ کوئی بہت بڑا آپریشن کرنا ہو تو اس کا حتمی فیصلہ کابینہ کمیٹی کرتی ہے جو وزیراعظم موساد کے سربراہ اور متعلقہ معاملے کے وزیر پر مشتمل ہوتی ہے۔ بن گورین کے زمانے میں جب سابق نازی لیڈر ایشیمن کا مسئلہ زیرِ بحث آیا تو اس میں پہلی انٹیلی جنس سربراہ کی طرف سے ہی ہوئی تھی‘ جس کا ہیرل نے بعد میں خود اعتراف کیا۔ اس نے بتایا: ’’میں نے بن گورین کو صاف صاف بتا دیا کہ ہمیں کسی دوست ملک کے اندر ہی کوئی غیرقانونی کارروائی کرنا پڑے گی‘ اس نے صرف اس واحد کیس میں مجھ سے پورا اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ اس کے سوا کوئی چارہ کار دکھائی نہیں دیتا یعنی ہم سرکاری راستے سے ایشمین تک نہیں پہنچ سکتے‘‘۔

ایک اور موقع پر ہیرل کے سوانح نگار مائیکل بار زوہر نے یاد دلایا کہ ہیرل نے جنرل موشے دایان کے سامنے ایک انتہائی شرانگیز اور مکارانہ منصوبہ پیش کر دیا جس کے جواب میں اس نے کہا: ’’اب جب تم نے مجھ سے پوچھ لیا ہے تو میرا جواب نفی میں ہی ہو گا۔ مجھ سے تم پوچھتے ہی کیوں ہو؟ مجھ سے جب بھی پوچھو گے‘ میں نفی میں ہی جواب دوں گا‘‘۔ اس جواب سے صاف ظاہر ہے کہ منظوری کے بغیر کارروائیاں کرنا موساد کے معمولات کے منافی نہیں تھا۔ اس سے سیاسی فیصلے صادر کرنے والے عہدیدار کو یہ فائدہ ہے کہ اگر بعد میں اسے چیلنج کر دیا جائے تو وہ اس آپریشن سے بہ آسانی لاعلمی ظاہر کر سکتا ہے۔ موشے دایان اس کے لیے ایک خاص جملہ ’’قابلِ یقین تردید‘‘ استعمال کیا کرتا تھا۔

۶۰ ہزار یہودیوں کا اخراج

انٹیلی جنس سروس کا ایک اور ہدف سوویت بلاک ہے کیونکہ موساد یہ جاننا چاہتی ہے کہ روس کس حد تک عرب اقوام کی حمایت کر سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسے سوویت یونین اور مشرقی یورپ میں یہودی اقلیت کے حالات پر بھی گہری تشویش رہتی ہے اور وہاں سے ان کے انخلا کے بارے میں سوچ بچار کرتی رہتی ہے۔ اس کے لیے اسے ایک بجٹ ہر وقت تیار رکھنا پڑتا ہے‘ جو فوراً ضرورت کی جگہ پر پہنچ سکے چنانچہ ’’انسٹی ٹیوٹ‘‘ نے عراق‘ ایران جنوبی یمن اور الجزائر میں ٹیمیں بھیجیں جنہوں نے خطرے سے دوچار‘ ہزاروں یہودیوں کو وہاں سے خفیہ طریقوں یا کھلے عام نکلوا لیا۔ موساد کا ایک سب سے بڑا آپریشن ایتھوپیا سے ۶۰ ہزار سیاہ فام یہودیوں کو کامیابی کے ساتھ نکلوا لینا تھا جن کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ اسرائیل کے گمشدہ قبیلوں میں سے ایک قبیلے کی اولاد ہیں۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی ان سب لوگوں کو ہمسایہ عرب ریاست سوڈان سے طیاروں کے ذریعہ لایا گیا‘ جس کے اس وقت کے صدر نمیری کو اسرائیل سفارت کاروں نے اس آپریشن کی طرف سے آنکھیں بند کر لینے پر آمادہ کر لیا۔ اس تعاون کی قیمت سوڈان کے چیف آف سکیورٹی جنرل عمر محمد الطیب کو عمر قید کی سزا پاکر ادا کرنا پڑی۔ اس پر الزام یہ لگا کہ اس نے طیاروں کو سوڈان میں کیوں اترنے دیا تھا۔

اسرائیل‘ یہودیوں کی اذیتوں بھری طویل تاریخ کی پیداوار ہے‘ ان اذیتوں اور مصائب سے بچنے کے لیے وہ دنیا بھر میں مارے مارے پھرتے رہے۔ اس ریاست کی صورت میں انہیں بڑی مشکل سے ایک جائے قرار ملی ہے لہٰذا اس ریاست کی یہ مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ہاں رہنے والی آبادی کی بہبود کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک میں آباد یہودیوں کی مدد کی بھی ذمہ داری لے۔ ریاست اپنی سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے یہودیوں کو دنیا میں عزت اور وقار کی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ انٹیلی جنس سروسز اسرائیل کو ناپسندیدہ ملک بن کر دنیا سے کٹ جانے کے خطرے سے بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے کارندے اپنے ملک کے لیے بہتر تجارت کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ اسلحہ کی خریداری اور اپنی اور اپنے ملک کی فوج کی تربیت کے انتظامات بھی کرتے رہتے ہیں۔ موساد کے شعبہ ’’کولیکشن‘‘ (Collection) اور شعبہ پولیٹیکل ایکشن نے کئی ممالک میں اپنے اسٹیشن قائم کر رکھے ہیں۔ ان میں امریکا‘ مشرقِ وسطیٰ‘ جنوبی امریکا‘ روس‘ مشرقی یورپی منڈی کے ملک‘ افریقا‘ ایشیا اور بحیرۂ روم کے ساحلی ممالک شامل ہیں۔ اسرائیل کے لیے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اسے ان کاموں پر اپنے وسائل سے بڑھ کر خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔ حالات نے اسے مجبور کر رکھا ہے کہ اپنی منی کار (Mini-car) کی متحمل نہ ہو سکنے والی معیشت پر رولس رائس انٹیلی جنس کا بوجھ اٹھائے پھرے۔

ہائی ٹیکنالوجی اور سینہ زوری

اسرائیلی انٹیلی جنس کی مشینری انتہائی پیچیدہ ہے جسے سمجھنے کے لیے کافی غور و خوض کی ضرورت پڑتی ہے لیکن اس سے بھی زیادہ پیچیدہ اور مشکل بات ’’موساد‘‘ اور اس کے فوجی بھائی۔۔۔ ’’امن‘‘ کے درمیان بنتے بگڑتے تعلقات کو سمجھ سکنا ہے۔ جب سے موساد کا نام منظرِ عام پر آیا‘ بیرونی دنیا اسے ایک مہم جو اور خطرناک حد تک پھرتیلی تنظیم کے طور پر جاننے لگی ہے لیکن ’’امن‘‘ کو کوئی نمایاں شہرت حاصل نہیں ہو سکی‘ سوائے متعلقہ پیشے کے لوگوں کے ‘ اس کا بہت ہی کم لوگوں کا پتا چل سکا ہے۔ اسے دو بڑی ناکامیاں اگر پیش نہ آئی ہوتیں تو شاید اسے بھی موساد کے ہم پلہ سمجھ لیا گیا ہوتا۔ پہلی ناکامی ۱۹۵۰ء کے عشرے میں مصر میں خفیہ آپریشن تھا جو بری طرح ناکامی سے دوچار ہوا اور دوسری بار کی ناکامی یہ تھی کہ وہ مصر اور شام کی طرف سے آنے والی خفیہ رپورٹوں سے اس اشارے کو نہ سمجھ سکی کہ ۱۹۷۳ء میں اسرائیل پر ایک زبردست حملہ ہونے والا ہے۔

ناکامیوں کے اس ریکارڈ کو متوازن بنانے کے لیے ملٹری انٹیلی جنس نے بلاشبہ چند شاندار کامیابیاں حاصل کر لیں‘ اس کی فراہم کردہ خفیہ اطلاعات چھ روزہ جنگ میں بے حد کار آمد ثابت ہوئیں۔ جن کی بنا پر مصر کے جنگی طیاروں کو جنگ شروع ہونے سے چند منٹ قبل ان ہی کی ایئر فیلڈ پر تباہ کر دیا گیا۔ ’’امن‘‘ کے فیلڈ ورکروں نے اس کے لیے جان توڑ کر محنت کی تھی۔ انہوں نے عرب افواج کے ہر افسر کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کر لیں جو نہ صرف فیلڈ کمانڈروں کو بلکہ نچلے رینک کے افسروں کو بھی پہنچا دیں تاکہ وہ دشمن اور اس کے طریق حرب سے پوری طرح باخبر ہو سکیں۔ ’’امن‘‘ فیلڈ ورکرز نے یہ حقائق ملٹری سکیورٹی کے آزمودہ طریقوں کے استعمال‘ قیدیوں سے سخت قسم کی پوچھ گچھ اور اخبارات اور ملٹری گزٹس کے تراشوں کے گہرے مطالعے سے اکٹھے کیے تھے‘ جس کے نتائج توقع کے مطابق برآمد ہوئے۔

’’امن‘‘ مشرق وسطیٰ کی بہترین ریسرچ تنظیم بن گئی تھی‘ اس کے کارکن اور تجزیہ کار (Analysts) حقائق جمع کرنے کی زبردست صلاحیتیں رکھتے تھے مگر کبھی کبھی‘ اتنی محنت سے جمع کردہ حقائق سے کماحقہٗ درست نتائج اخذ کرنے میں ناکام رہتے تھے۔ اس صورتحال کی ذمہ داری ایک حد تک ’’امن‘‘ اور ’’موساد‘‘ کے درمیان پائی جانے والی چپقلش پر بھی ڈالی جاتی تھی۔ اس کا سبب جسے اندر ہی کے لوگ صحیح طور پر سمجھ سکتے تھے‘ ان کی ذمہ داریوں کے دائروں کی لکیریں واضح نہیں تھیں۔ کبھی ایک تنظیم کا کارکن دوسری تنظیم کے دائرے میں گھومتا پایا جاتا اور کبھی دوسری تنظیم کا اس کے دائرے میں مصروف پایا جاتا‘ جبکہ کبھی کبھار دونوں ایک ’’کام‘‘ کو اس لیے چھوڑ دیتے کہ وہ اسے دوسرے کا کام جانتے تھے۔ ایسے واقعات بھی رونما ہوئے کہ فوج کا خفیہ رابطہ یونٹ خود کو ’’امن‘‘ اور موساد‘‘ کے مشترکہ آپریشنوں میں پھنسا ہوا پاتا تھا۔ کوئی آپریشن شروع کرنے سے پہلے اس کے لیے موزوں تر فرد کا انتخاب موساد کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔ دونوں تنظیموں کے وسائل کو یکجا کرنے کے لیے ایسا کرنا کسی حد تک مفید بھی تھا مگر اس سے کشمکش اور جھگڑے بھی پیدا کرنے لگے تھے۔ کیونکہ ایک تنظیم بعض کاموں کے لیے حریف تنظیم کے کارکنوں کو بھیجنے لگی تھی۔ پھر یہ ہونے لگا کہ ملٹری انٹیلی جنس اسپیشل آپریشنوں کا انتخاب کرتی اور پھر ان کے لیے منصوبہ بندی کرنے کا اختیار بھی استعمال کرتی۔ ان پر عملدرآمد کے لیے اسے موساد سے منظوری لینا پڑتی تھی۔ اس کا لازمی طور پر یہی نتیجہ نکلنا تھا کہ موساد سینئر سروس قرار پاگئی۔

’’امن‘‘ نے اپنی زندگی کا آغاز اسرائیلی جنرل اسٹاف کی انٹیلی جنس برانچ کے اندر کام کرنے سے کیا لیکن ۱۹۵۳ء میں فوج نے اس کے ڈھانچے کی تنظیم نو کر کے برطانوی ماڈل کی بجائے فرانسیسی ماڈل اختیار کر لیا۔ اس کے بعد ملٹری انٹیلی جنس خود ایک برانچ بن گئی۔ جس کے عبرانی ٹائٹل کے ابتدائی لفظ یکجا کرنے سے اس کا نام ’’امن‘‘ پڑ گیا۔ تنظیمِ نو کے بعد کرنل بنجمن گیلی اس کا سربراہ مقرر ہوا اور لیفٹیننٹ کرنل یہوسفات حرکابی اس کا نائب بن گیا۔ کچھ عرصہ بعد ’’امن‘‘ واضح طور پر ملٹری سروس کے طور پر ابھر آئی جس کا اپنا سبز اور سفید فلیگ گل سون پر مشتمل بیج اور فوج کے مماثل دیگر نشانات تھے جو اسے سویلین چوغے اور خنجر کی حامل موساد سے ممیز کرتے تھے۔ اس ڈھانچے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے یہ روایت بن گئی کہ اس کا سربراہ جنرل کے عہدے تک پہنچ جاتا تھا۔ ۱۹۵۳ء میں قائم ہونے والے ڈھانچے کا سربراہ کرنل گلبی (جوکہ جنرل نہ بن سکا) فوج کی دونوں انٹیلی جنس کوروں کا سربراہ تھا‘ جو چھ سو افسروں اور جوانوں پر مشتمل تھیں۔ یہ افسر اور جوان تمام فورسز اور جنرل اسٹاف کی انٹیلی جنس برانچ میں بھی پھیلے ہوئے تھے‘ اس برانچ میں افراد کی تعداد دو سو تھی۔ اس کی نمایاں خصوصیت اس کا ایک ’’کولیکشن‘‘ ڈپارٹمنٹ اور ایک ریسرچ ڈپارٹمنٹ تھا۔ ریسرچ ڈپارٹمنٹ میں متعدد ’’ڈیسک‘‘ تھے اور ہر ڈیسک ایک ایک عرب ملک کے لیے تھا جو اس ملک سے آمدہ اطلاعات کا تجزیہ کرتا رہتا تھا۔ ان میں سے بعض باہر کے لیے مخصوص تھیں۔ یہ ڈھانچہ اگرچہ بدلتی ہوئی ضروریات کی خاطر قائم کیا گیا تھا تاہم یہ آج بھی وہی کام کر رہا ہے۔

۱۹۸۰ء کے عشرے میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز کی انٹیلی جنس برانچ‘ مشرقِ وسطیٰ کے تمام ملکوں کی فوجی جغرافیائی اور اقتصادی امور سے متعلق معلومات اکٹھی کرتی رہی۔ اس مقصد کے لیے اسے چار شعبوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ شعبے یہ ہیں:

(۱)پروڈکشن (۲)فوجی معلومات ’’انٹیلی جنس کور‘‘ (۳)غیرملکی تعلقات اور فیلڈ سکیورٹی اور (۴)ملٹری سنسر شپ۔ اور یہ طے کر دیا گیا کہ اسرائیل کے دفاعی معاملات پر اثرانداز ہونے والی تمام میڈیا رپورٹیں سنسر کے لیے پیش کی جائیں‘ خواہ امن کا زمانہ کیوں نہ ہو۔

پروڈکشن کے شعبے کا اہم ترین کام یہ ہے کہ وہ ہر سال ’’جنگ کے خطرے‘‘ کے امکانات کا جائزہ لے اور جاسوسی کے سالانہ اخراجات کا بھی گوشوارہ مرتب کرے اور دشمن کو حملہ آور ہونے سے روکنے کے انتظامات کرے۔ یہ شعبہ روزانہ خبرنامہ جاری کرتا ہے جس میں من و عن خبریں بھی ہوتی ہیں اور تجزیاتی رپورٹیں بھی۔ حالیہ اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ ۱۹۸۰ء کے عشرے میں ’’امن‘‘ کا عملہ سات ہزار مردوں اور عورتوں پر مشتمل تھا جن میں سے چھ سو علاقائی ڈیسکوں پر تھے اور خفیہ خبروں کی فراہمی پر مامور تھے۔ ان کی ریکروٹمنٹ کمانڈنگ افسر کی سفارش پر کی جاتی ہے۔ انٹیلی جنس کور کی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ مروجہ اور خفیہ دونوں ذرائع سے فوجی نوعیت کی اطلاعات اکٹھی کرے۔ ایجنٹس برانچ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے فوجی جاسوسی یعنی کہ خفیہ فوجی مٹیریل (ساز و سامان) جمع کرتی ہے۔ لیکن اس یونٹ کے کارکنان ’’امن‘‘ فارن ملٹری انٹیلی جنس کے کارندوں کی طرح آزادی سے ’’آپریٹ‘‘ نہیں کر سکتے۔ ان کا دائرہ جغرافیائی طور پر محدود ہوتا ہے۔ یہ صرف ہمسایہ ملک کے اندر داخل ہونے کے مجاز ہوتے ہیں جبکہ ان کی مدد اور نگرانی کے لیے طویل المسافت مبصر یونٹ مقرر کر دیے جاتے ہیں جو سرحد کے پار دشمن کی نقل و حرکت کو نوٹ کرتے ہیں تاکہ وہ ان کو گزند نہ پہنچا سکے۔ اسے یونٹ نمبر۱۰ یا کتام‘‘ (Katam) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دشمن کے قریب کے علاقے میں ایجنٹ بھیجنے کا اختیار رکھتا ہے۔ ان میں سے بعض یہودی ’’عربائزرز‘‘ کہلاتے ہیں۔ یہ عربوں کا سا لباس اور وضع قطع اختیار کر کے دشمن کے علاقے میں دور تک چلے جاتے ہیں۔ دوسری قسم کے ایجنٹ صرف عرب گماشتے (انفارمر) ہوتے ہیں۔ سروس میں ان کے لیے عبرانی زبان کا لفظ ’’شتنکرم‘‘ (Shtinkerim) استعمال ہوتا ہے جو انگریزی کے لفظ ’’سٹنکر‘‘ (بدبودار) سے مشتق ہے۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’المنصف‘‘۔ حیدرآباد دکن)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*