شیرِ مادر

ماں کا دودھ ایک ایسا بے مثل مرکب ہے جو خدا نے نومولود بچے کے لیے لاجواب غذا کے طور پر تخلیق کیا ہے۔ یہ ایسا مرکب ہے جو بیماریوں کے خلاف نومولود کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے حتیٰ کہ آج کل کی جدید ٹیکنالوجی سے تیار کردہ بچوں کی مصنوعی غذائیں اس معجزانہ غذا کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔

آئے دن شیرِ مادر کے بارے میں ایک نئے فائدے کا پتا چلتا ہے۔ سائنس نے ماں کے دودھ کے متعلق دریافت کیا کہ پیدائش کے بعد دو سال تک رضاعت انتہائی مفید ہے۔ سائنس کے ذریعے حال ہی میں دریافت ہونے والی اس حقیقت کے بارے میں قرآن نے چودہ سو سال قبل ہی یہ اہم بات فرما دی کہ ’’اس کا دودھ چھڑانا دو سال کا تھا۔۔۔‘‘

’’اور ہم نے انسانوں کو جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف سہ کر پیٹ میں اٹھائے رکھتی ہے (پھر اس کو دودھ پلاتی ہے) اور (آخر کار) دو برس میں اس کا دودھ چھڑانا ہوتا ہے (اپنے نیز) اس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید کی ہے کہ میرا بھی شکر کرتا رہ اور اپنے ماں باپ کا بھی (کہ تم کو) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے‘‘۔ (سورہ لقمان: ۱۴)

رحم مادر سے چمٹنے والا لوتھڑا

اگر ہم قرآن میں انسان کی تخلیق کے بارے میں بیان کردہ حقائق کا جائزہ لیتے جائیں تو نئے سائنسی معجزات آشکار ہوتے جائیں گے۔ جب مرد کا کرم منوی عورت کے بیضے کے ساتھ جڑتا ہے تو ہونے والے بچے کا جوہر بن جاتا ہے۔ یہ واحد خلیہ جو جفتہ (Zygote) کہلاتا ہے، اب فوراً تقسیم در تقسیم ہو کر بڑھنا شروع کر دے گا، اور بالآخر ’’گوشت کا لوتھڑا‘‘ بن جائے گا، جو جنین کہلائے گا۔ بلاشبہ یہ خردبین کی مدد ہی سے دیکھا جا سکے گا۔ یہ جنین اپنی نشوونما کا وقت فضول نہیں گزارتا۔ یہ رحم مادر کی دیوار کے ساتھ پودوں کی جڑوں کی مانند چمٹ جاتا ہے۔ یوں جنین، ماں کے بدن سے اپنی پرورش کے لیے ضروری اجزا حاصل کرتا ہے۔ یہاں اس مرحلے پر قرآن کا ایک نمایاں معجزہ نظر آتا ہے۔ رحم مادر میں پرورش پانے والے جنین کا حوالہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں لفظ ’’علق‘‘ استعمال کیا ہے۔

’’(اے محمد) اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے (عالم کو) پیدا کیا۔ جس نے انسانوں کو خون کی پھٹکی سے بنایا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے‘‘۔ (سورہ علق: ۱۔۳)

عربی میں لفظ ’’علق‘‘ کا مطلب ہے ’’وہ چیز جو کسی جگہ سے چمٹ جاتی ہے‘‘۔ لغوی معنوں میں یہ لفظ ایسی جونکوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بدن کے ساتھ خون چوسنے کے لیے چمٹ جاتی ہیں۔

یقینی طور پر رحم مادر میں پرورش پانے والے جنین کے لیے انتہائی مناسب لفظ کا استعمال ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ قرآن خدا کی وحی ہے جو سارے عالموں کا بادشاہ اور رب ہے۔

(بحوالہ: ’’سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈاٹ کام‘‘)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*