ماحولیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ مسلمانوں کی مذہبی ذمہ داری ہے!

دنیائے اسلام سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنماؤں اور ماحولیاتی ماہرین نے امیر اور تیل پیدا کرنے والے ممالک سے کہا ہے کہ وہ ۲۰۵۰ء تک فوسِل فیول کا استعمال ترک کر دیں۔

یہ مطالبہ ’’دی اسلامک کلائمیٹ ڈکلیریشن‘‘ نامی اعلامیے میں کیا گیا ہے، جس کا مسودہ ترکی کے شہر استنبول میں ہونے والے ایک بین الاقوامی سمپوزیئم میں تیار کیا گیا۔

اسلامی ماحولیاتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں موجود ۶ء۱ ؍ارب مسلمانوں پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مذہبی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس میں سیاست دانوں پر بھی زور ڈالا گیا ہے کہ وہ ایک نئے معاہدے پر دستخط کریں جو کہ گلوبل وارمنگ کے درجہ حرارت کی حد ۲ یا ۵ء۱ ڈگری تک محدود رکھے۔

اس میں قرآن کی اس آیت کو یاد کرواتے ہوئے مسلمانوں سے کہا گیا ہے
کہ وہ ’’زمین پر تکبر سے نہ چلیں‘‘۔

مسودے میں تمام رہنماؤں، سربراہوں اور تجارتی اداروں سے ۱۰۰ فیصد دوبارہ استعمال کے قابل توانائی کے استعمال کے لیے زور ڈالا گیا ہے۔

یہ مسودہ زیادہ تر امیر اور تیل کی دولت سے مالا مال ملکوں پر زور ڈالتے ہوئے کہتا ہے کہ ان ملکوں کو گرین ہاؤس گیسوں کو اس صدی کے نصف تک ختم کردینا چاہیے۔

اعلامیہ میں امیر ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے استعمال میں کمی کی ضرورت کو پہچانیں تاکہ غریب ممالک زمین کی دوبارہ قابلِ استعمال نہ رہنے والی توانائی سے مستفید ہو سکیں۔

فضلون خالد، جنہوں نے یہ مسودہ تیار کرنے میں مدد کی، بی بی سی کو بتایا کہ ’’اس بارے میں لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور سیاست دان لوگوں کو یہ بتارہے ہیں کہ ان کے زندگی گزارنے کے معیار میں اور بہتری آسکتی ہے جو کہ گمراہ کن ہے اور یہ فرض صرف مسلم ممالک پر عائد نہیں ہوتا‘‘۔

لبنان اور یوگینڈا کے مفتی اعظم نے اس مسودے کی حمایت کی ہے، جبکہ انڈونیشیا کے مذہبی رہنماؤں اور ترکی اور مراکش کے ماحولیاتی اور حکومتی حکام نے بھی اس کی طرف داری کی ہے۔

(بحوالہ ’’بی بی سی اردو ڈاٹ کام‘‘۔ ۱۸؍اگست ۲۰۱۵ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.