مسلمان ترکی کو یورپی یونین سے باہر رکھنے کا یورپی عزم

ترکی ایک مسلم اکثریت والا ملک ہے چنانچہ یورپی یونین میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں ہو سکتی ہے۔ فرانس کے چیک شیراک نے حال ہی میں بہت ہی واضح بیان دیا ہے‘ اگرچہ اسلام کا براہِ راست نام لینے سے انہوں نے گریز کیا۔ ترکی کو یورپی یونین سے باہر رکھنے کے حوالے سے اس یونین کے پرانے اراکین کے عزم کو مشرقی یورپ کے سابقہ اشتراکی ممالک کی یونین میں شمولیت سے بلاشبہ بہت تقویت ملے گی۔ لیکن یورپی رکن ممالک کو ترکی کو ایک تجارتی شریک کے طور پر قدر و اہمیت دیے جانے پر کوئی اعتراض نہیں بشرطیکہ یہ اپنی سیکولر حیثیت کو باقی رکھتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے تعاون کو جاری رکھتا ہے۔ برزلز کی جانب سے ایران پر تازہ دبائو کہ وہ اصلاحات لائے اور دہشت گردی کی موہوم پشت پناہی کو ترک کرے‘ اس امر کو ظاہر کرتا ہے کہ یورپ میں اسلام سے جنگ کے لیے کس قدر آمادگی ہے۔ علاوہ ازیں یہ تازہ اعلان کہ یورپی رکن ممالک یونین کے مجوزہ دستور میں عیسائیت کو یورپ کا مذہب قرار دینے پر غور کر رہے ہیں‘ اس بات کا مظہر ہے کہ ترکی اپنے آپ کو خواہ کتنا ہی سیکولر بنا لے‘ اسے یورپی یونین میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ اس بات کی بھی شہادت ہے کہ یورپ ترکی کے سیکولرزم کو مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے اور ترکی میں اسلام کے فروغ کی علامات پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور ترکی کی فوج سے مل کر انہیں روکنے کے لیے کوشاں ہے۔ انقرہ اور برزلز میں مذاکرات کے آغاز کے لیے جو شرطیں عائد کی گئی ہیں‘ ان میں وسیع تر جمہوریت‘ انسانی حقوق کی صورتحال کی بہتری اور ترکی کی فوج کی سیاست سے کنارہ کشی کا مطالبہ شامل ہے۔ حکومت نے تعلیمی اصلاحات پر مبنی ایک بل پیش کیا‘ جس میں مدرسہ سے فارغ نوجوان گریجویٹس کو یونیورسٹی میں داخلے کی اجازت دی گئی اور حکومتی افسران‘ جج‘ وکلا اور اساتذہ کے طور پر ان کی بحالی کو قانونی قرار دیا گیا تو برزلز اُن فوجی و سول سیکولر افسران کے ساتھ تھا جو اس بل کو سیکولرزم کے لیے ایک خطرہ محسوس کر رہے تھے۔ ترکی کے فوجی و سول رہنما‘ رجب طیب ارزگان کی پارٹی کو ’مائل بہ اسلام‘ حکومت کو اور حکمران پارٹی AKI کو جو ۲۰۰۲ء کے اواخر میں برسراقتدار آئی ہے‘ عقبی دروازے سے اسلامی بنیاد پرستی کو ہوا دینے کا ذمہ دار تصور کرتے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ بل جو کہ حکمران پارٹی کے انتخابی منشور میں شامل تھا‘ ناانصافی کو روکنے کا ایک ذریعہ ہے۔ اسلام پسند حکومت کے معزول کیے جانے کے ٹھیک دو سال بعد ۱۹۹۹ء میں ایک قانون پاس کیا گیا‘ جس کی رو سے شرعی مدارس سے فارغ گریجویٹس کا پیشہ ورانہ شعبوں میں داخلہ ممنوع ٹھہرا‘ وہ مذہبی رہنما ہو سکتے تھے‘ کوئی سرکاری افسر نہیں ہو سکتے تھے۔ AKP کے ڈپٹی چیئرمین مراد مرجین کا کہنا ہے کہ ’’ہمارا کوئی خفیہ ایجنڈا نہیں ہے۔ ہم یورپی یونین کی رکنیت کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ دیکھیں کہ ہم نے اب تک کیا کام انجام دیا ہے تو انکار کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ آپ کو ترکی کے ووٹروں کی خواہشات‘ ضروریات اور توقعات پر توجہ دینی چاہیے اور ان وعدوں پر جو ہم نے ان سے انتخاب میں کیے ہیں‘ یہ بل ہائی اسکول گریجویٹس کے مابین امتیاز و تفریق کم کرنے کی ایک کوشش ہے‘‘۔

لیکن یورپی یونین کی خواہش نہیں ہے کہ ترکی زیادہ جمہوری ملک ہو جائے‘ اگر اس کی ایسی خواہش ہوتی تو یہ AKP کی اصلاحات کی ضرور حوصلہ افزائی کرتی‘ جن کی وجہ سے ملک کشادگی کی پالیسی پر گامزن ہے اور بدعنوانی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے اور جس کا اعتراف مغربی میڈیا نے بھی اپنی رپورٹوں میں کیا ہے۔ مثلاً فائنا نیشنل ٹائمز نے اپنے گیارہ مئی کے شمارے میں لکھا کہ ’’ستم ظریفی یہ ہے کہ مائل بہ اسلام حکومت داخلی و بین الاقوامی ہر دو امور میں اپنے پیش رو سیکولر حکومتوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ترقی پسند ثابت کر رہی ہے‘‘۔

اگر انقرہ یورپی یونین میں شمولیت کے شرائط پر پورا اترتا ہے تو برزلز کے لیے ترکی کو باہر رکھنے کا کوئی بہانہ نہ ہو گا۔ اس کے علاوہ قدرے کشادہ پالیسی کا حامل اور کم بدعنوان ملک ہونے کی بنا پر ترکی مسلم ممالک سے اپنے تعلقات استوار کرنا چاہے گا اور نیٹو اتحاد کو پیش کی جانے والی اپنی خدمات میں تخفیف کرے گا‘ جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بھی شامل ہے۔ یونین میں شمولیت کے امکان کو مضبوط کرنے کے حوالے سے انقرہ کی دوسری کوشش ترکی اور یونان کے قبرص کے اتحاد کے اقوامِ متحدہ کے منصوبہ کی حمایت ہے جو اس کی شمولیت سے پہلے کیا جانا ہے۔ یونانی قبرص کے باشندوں نے اس منصوبے کی مخالفت کی ہے لیکن یونانی حصے کو پھر بھی یونین میں شامل کر لیا گیا جبکہ ترکی کے قبرص کو باہر چھوڑ دیا گیا۔ یہ یورپی یونین کا بلکہ بحیثیتِ مجموعی پورے مغرب کا دوغلہ پن تھا کہ انہوں نے ترکی قبرصیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منصوبے کی حمایت کی تعریف کی اور ۱۹۷۴ء سے جبکہ پہلی مرتبہ یہ جزیرہ منقسم ہوا تھا‘ سے عائد کردہ پابندیوں کے خاتمے کا وعدہ کیا اور اس کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ انقرہ جس نے قبرصیوں پر اس منصوبے کی حمایت کے لیے بہت زیادہ دبائو ڈالا‘ کوئی بھی صلہ پانے سے محروم رہا۔ یونانی قبرص اب اس لائق ہو گیا ہے کہ ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت سے متعلق دسمبر میں شروع ہونے والے مذاکرات کے سلسلے کو روک دے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یورپی کمیشن ترکی میں اصلاحات کے حوالے سے اپنی رپورٹ اکتوبر میں پیش کر دے گا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ کمیشن اکتوبر میں بات چیت کے آغاز کی سفارش کرے گا۔ لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ بات چیت ترکی کی رکنیت کی حمایت میں ہو گی‘ خصوصاً ایسی حالت میں جبکہ رکن ممالک اس نکتے پر بھی متفق نہیں ہیں کہ ترکی کی رکنیت کے مسئلے پر ابتدائی بات چیت کا بھی آغاز ہونا چاہیے یا نہیں۔

فرانس کی حکمراں جماعت UMP نے کہا ہے کہ وہ جون میں ہونے والے یورپی انتخابات کے دوران انقرہ کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت میں مہم چلائے گی۔ UMP کے چیئرمین اور صدر شیراک کے قریب ترین مشیر الان جُپّے (Alan Juppe) نے کہا ہے کہ ’’UMP یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے حوالے سے کسی گفتگو کا آغاز نہیں چاہتی ہے۔ ہم ترکی کے ساتھ ایک مراعات یافتہ تجارتی شراکت کی جانب مائل ہیں اور دستور میں اس کا امکان موجود ہے‘‘۔ بعد میں شیراک نے بھی UMP کے اس موقف کی یہ کہہ کر تائید کر دی کہ ’’وہ یونین میں ترکی کے کسی قبل از وقت داخلے کے مخالف ہیں‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ فرانس کو گفتگو کے آغاز کے حوالے سے جرمنی اور برطانیہ کی مخالفت کا سامنا ہو لیکن یونین میں شمولیت کے حوالے سے پھر بھی اسے ان دونوں کی مخالفت کا سامنا نہیں ہو گا۔ لیکن شیراک اور جُپّے اس سوچ میں تنہا نہیں کہ ترکی کو یورپی گانوں کا مقابلہ تو کرانا چاہیے (جس کا انعقاد اس نے اپنے یہاں مئی میں کرایا) اور نیٹو سربراہی کانفرنس کا بھی انعقاد (۲۸۔۲۹ جون کو) کرنا چاہیے لیکن یہ کسی ایسی تنظیم کا رُکن ہونے کے لائق نہیں ہے جو اپنے دستور میں عیسائیت کو اپنا مذہب درج کرانے پر غور کر رہی ہو۔ صرف یورپی ممالک نہیں ہیں جو ترکی کو یورپی یونین سے باہر رکھے جانے کی حمایت کر رہے ہیں بلکہ اسرائیل بھی ترکی کی شمولیت کو اپنے مفاد کے خلاف سمجھتا ہے‘ اس کے باوجود کہ انقرہ امریکا کا ایک مضبوط حلیف ہے اور نیٹو کا ایک اہم رکن ہے۔ امریکا یہ سمجھتا ہے کہ ترکی اچھا اُسی وقت ہے جبکہ وہ امریکا کے اسٹراٹیجک مفادات کی حمات کرتا ہے۔ جب انقرہ نے عراق پر امریکا کے حملے کی مخالفت کی تو امریکا نے اپنے اس قریب ترین حلیف سے اپنی ناراضی کو ہرگز نہیں چھپایا۔ جب ترکی نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ بھرپور تعاون شروع کیا‘ تبھی امریکا نے نیٹو سربراہی کانفرنس کے استنبول میں انعقاد کی اجازت دی۔ مغربی میڈیا نیٹو کانفرنس کے انعقاد سے یہ سمجھتے ہیں کہ امریکا اور ترکی کے تعلقات میں عراق جنگ کے حوالے سے جو تلخی پیدا ہو گئی تھی‘ وہ دوبارہ اچھی طرح بحال ہو گئی ہے‘ جیسا کہ مئی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے۔ ترکی کی حکومت نے اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی تیز کر دی ہے جو کہ سکیورٹی فورسز کے مطابق نیٹو سربراہی کانفرنس کے موقع سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور جس میں صدر بش کو بھی شریک ہونا ہے۔

ترکی حکومت کے بہترین مفاد میں ہو گا اگر وہ اپنے تعلقات مسلم ممالک بالخصوص ایران اور پاکستان کے ساتھ مضبوط بناتی ہے۔ اس طرح وہ اپنے عوام کی بہتر خدمت کر پائے گی۔ ان تینوں ممالک کے مابین گہرے عسکری‘ اقتصادی اور سیاسی تعلقات سے مغربی ممالک کی نظر میں ان کی قدر و اہمیت بہت زیادہ بڑھ جائے گی اور وہ ان کے احترام پر مجبور ہوں گے۔ ہم اپنے اتحاد کو ایک ایسی تنظیم کی شکل دے سکتے ہیں جو مسلم مفادات کی حفاظت کے لیے کوشش کر سکتی ہے۔

(بشکریہ: ’’کریسنٹ انٹرنیشنل‘‘۔ ٹورانٹو۔ جون ۲۰۰۴ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*


This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.