لائبریریوں کی تعداد میں اضافے کی ضرورت

یہ کراچی شہر کا المیہ ہے کہ اس میں مطالعے کا کلچر عنقا ہے۔ کتب خابوں کی جگہ چرغا پیزا، آئسکریم اور ڈَبو سینٹر قائم ہیں، کراچی شہر میں خواندگی اور اعلیٰ تعلیم کے حامل افراد کی تعداد دیگر شہروں کے مقابلے سے کہیں زیادہ ہے لیکن جو لوگ مطالعے سے تھوڑا بہت شغف رکھتے ہیں ان میں کتابیں خرید کر پڑھنے کی عادت کم ہی نظر آتی ہے۔ دوسری جانب فٹ پاتھ پر پڑی پرانی اور خستہ کتابیں کوئی خاص سستی نہیں ملتیں، لوگ اپنے پسند کے مختلف مشاغل پر تو رقم خرچ کرتے ہیں لیکن مطالعے کے لیے، ضرورت پڑنے پر بھی، کتاب کسی سے مستعار لے کر ہی پڑھتے ہیں۔ مطالعے کی عادت میں کمی کی ایک بڑی وجہ شہر میںلائبریریوں کی انتہائی قلیل تعداد بھی ہے، جو لائبریریاں موجود بھی ہیں وہاں سے کتب حاصل کرنے کا طریقہ آسان نہیں نیز ان لائبریریوں کے اوقات کار بھی کچھ عجیب قسم کے ہیں، اس لیے ان سے استفادہ آسان نہیں، چنانچہ نوجوان، ڈبو اور ویڈیو گیمز جیسی جگہوں پر اپنا قیمتی وقت برباد کرتے نظر آتے ہیں۔ شہری حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام ٹائونز میں لائبریریوں کے قیام کو ممکن بنائے تاکہ شہری اپنے گھر سے قریب ہی مطالعے کی سہولت حاصل کر سکیں اور نوجوان اپنا وقت بے راہ روی یا سماج دشمن سرگرمیوں میں ضایع کرنے کے بجائے مطالعے میں صرف کر سکیں۔ یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ایک صحت مند دماغ ہی ایک صحت مند معاشرے کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے اور صحت مند دماغ اس وقت ہی وجود میں آسکتا ہے کہ جب اچھی کتب کے مطالعے کے مواقع میسر ہوں۔

(بشکریہ: روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ کراچی۔ شمارہ: ۲۴ مئی ۲۰۰۷ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*