غافل قومیں، سحر زدہ لوگ!

جادووہ جو سر چڑھ کر بولے!؟ چند امور ایسے ہوتے ہیں جن کے بارے میں خیال آتے ہی دل رنج و غم سے بھر جاتا ہے۔ خرافات پراعتقاد، جاہلانہ رسومات کی پیروی اور سحر زدگی ان میں سرفہرست ہیں۔ یہاں ہمارا مقصد جادو اور اس کی اقسام وغیرہ کے بارے میں بحث کرنا نہیں ہے بلکہ ایک حقیر سی کوشش ہے کہ ان خواتین و حضرات کے خواب غفلت میں رخنہ ڈالا جائے جو خود کو بیدار اور ہوشیار سمجھتے ہیں۔ اگر آپ حقیقتاً بیدار ہیں تو یہ مضمون آپ کے لیے نہیں ہے، البتہ اس کے ذریعہ شاید آپ کسی کو فائدہ پہنچا سکیں۔ واللہ المستعان! چونکہ موضوع کچھ (یا شاید کافی حد تک) اختلافی ہے اس لیے تمہید ضروری ہے۔ امید ہے کہ آپ انتہائی توجہ سے ان مطالب کا مطالعہ فرمائیں گے۔ ہم چند متفرق سوالوں سے اپنی گفتگو کا آغاز کرتے ہیں:

۱۔ کیا یہ ممکن ہے کہ عدد ۱ میں ۱ جمع کیا جائے تو جواب ۱۰ حاصل ہو؟

۲۔ اگر ایک گیند ہاتھ سے چھوڑ دی جائے تو عام حالات میں وہ ایک اسپرنگ کی مانند چکراتی ہوئی نیچے آئے؟

۳۔ جو چاند ستارے ہمیں مستقبل کے بارے میں بتاتے دکھائی دیتے ہیں وہ خود دراصل ماضی کی تصویر ہوں؟

۴۔ کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ بظاہر خالی نظر آنے والا کمرہ ہزاروں، لاکھوں موجودات سے پُر ہو؟

۵۔ نہ تو سبز پتا ہرا ہوتا ہے اور نہ ہی سرخ گلاب لال رنگ کا!؟

۶۔ ویزلین یا ویسلین (Vaseline) کا استعمال کیا ہے؟

پہلے ہم جوابوں کی طرف آتے ہیں پھر اس سوال و جواب کا مقصد بیان کریں گے۔ پہلے سوال کا جواب نہیں بھی ہے اور ہاں بھی۔ اگر آپ محدود فکر کے حامل ہوں تو سوال کو ہی احمقانہ، بے سروپا اور نہ جانے کیا کیا سمجھیں (یہاں، آپ، سے مراد نیلی ٹوپی والے مجن خالو ہیں)۔ بھلا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک جمع ایک کا جواب ’’دو‘‘ کے علاوہ کچھ اور ہو؟ لیکن اگر آپ کسی قدر وسیع فکر رکھتے ہوں، ہر نئی بات سن کر بھڑک نہ اٹھتے ہوں، احتمالات کو یکسر نظر انداز کرنے کے عادی نہ ہوں یا اعشاری نظام کے علاوہ اعداد کے دوسرے نظاموں کے بارے میں علم رکھتے ہوں تو آپ کا جواب ہو گا ہاں! کیونکہ دو کی بنیاد پر قائم عددی نظام (Binary Number System) میں جواب اس کے علاوہ اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ مندرجہ بالا سوال میں جو اعداد ۱۰ ہیں وہ دراصل اعشاری نظام کے ۲ کو ہی ظاہر کرتے ہیں۔ اب آگے بڑھتے ہیں۔ چکراتی ہوئی گیند! پہلے سوال کے جواب میں اگر آپ نے جواب دیکھنے سے پہلے ’’نہیں‘‘ کہنے کو دل چاہتا ہے۔ اگر آپ نظریہ نسبیت یا اضافیت (Theory of Relativity) سے واقف ہیں تو آپ کا جواب ہو گا کہ ہاں یہ بھی ممکن ہے، البتہ اس کا تعلق دیکھنے والے کی جگہ (Frame of Reference) سے ہو گا۔ مثلاً اگر گیند کو ہاتھ سے چھوڑنے والا ایک چلتی ہوئی ٹرین میں سوار ہو اور دیکھنے والا پلیٹ فارم پر کھڑا ہو تو گیند اوپر سے نیچے عمودی لکیر بنانے کے بجائے ایک ترچھی مجازی لکیر بنائے گی کیونکہ جب گیند ہاتھ سے چھوٹی تو ٹرین پلیٹ فارم کی نسبت ایک جگہ تھی لیکن جب وہ فرش سے ٹکرائی تو ٹرین آگے بڑھ چکی تھی۔ ابتداء اور انتہا پر مشتمل ان دونوں نکات کو جوڑیں تو ایک ترچھی لکیر بنے گی۔ اب فرض کیجیے کہ دیکھنے والے کا پلیٹ فارم بھی دائرہ کی صورت میں حرکت کر رہا ہے….. اس طرح آپ جتنی زیادہ حرکات (Movements) یہاں بڑھاتے جائیں، دیکھنے والے کو گیند کی حرکت اسی قدر پیچیدہ دکھائی دے گی۔ لہٰذا جواب ہے کہ ہاں یہ بھی ممکن ہے۔

تیسرے سوال کے جواب میں ہم یہ تو نہیں کہیں گے کہ ستارے مستقبل کا حال نہیں بتا سکتے کیونکہ اس سے مار پٹائی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے اور مار پیٹ سے ہم دور بھاگتے ہیں، خاص کر اگر اس کا ٹارگٹ ہم خود ہوں۔ ویسے آجکل تو بعض ’’مومنین کرام‘‘ بھی اپنی جیبوں میں ستاروں کے نشان ڈالے اپنی چال ان کی چال سے ملاتے دکھائی دیتے ہیں، شاید ستاروں کی چال بہت مستانی ہوتی ہے! خیر چھوڑیں اختلافی امور کو۔ تیسرے سوال کا جواب بہرحال مثبت ہے۔ ستاروں کی روشنی ہم تک بہت دیر سے پہنچتی ہے۔ یعنی ممکن ہے کہ ہم جن ستاروں کی مدد سے اپنا حال اور مستقبل جاننا چاہتے ہوں وہ اب اس جگہ موجود ہی نہ ہوں جہاں اب دکھائی دے رہے ہیں، یعنی زائچہ میں فالٹ! بلکہ غور کیا جائے تو آسمان کا پورا نقشہ (Sky Map) ایک سراب سے زیادہ نہیں ہے:

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

آسمان پر یہ ماضی کی تصویر ہے اور آج کی تصویر ہمیں آئندہ ہی دکھائی دے گی۔ علاوہ ازیں، اگر آپ چاہیں کہ کائنات کے ماضی سے آگاہی حاصل کر سکیں تو دور تک دیکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔ جیسے جیسے آپ کی نگاہیں کائنات سے پرے دیکھیں گی آپ ماضی بعید میں جھانک سکیں گے۔ چوتھے سوال کا جواب تو ظاہر ہے کہ مثبت ہی ہے۔ آج کون ہے جو جراثیم، وائرس بلکہ نیوٹان، پروٹان اور کووارٹز جیسے نظر نہ آنے والے موجودات اور ذرات سے واقف نہ ہو۔ البتہ یہاں ایک ظریف نکتہ ضرور آپ کی خدمت میں پیش کیا جانا چاہیے اور وہ یہ کہ احادیث میں جب اس طرح کے احکام آئے ہیں کہ جس برتن کا کونا ٹوٹا ہو اسے دور پھینک دو کیونکہ اس پر شیطان ہوتا ہے یا مونچھوں کو تراش لیا کرو کیونکہ بڑھے ہوئے بالوں میں شیطان ڈیرہ جما لیتا ہے….. تو یہ بات سمجھنا زیادہ مشکل نہیں کہ شیطان کی صورت میں یہاں کس قسم کے موجودات کا ذکر ہو رہا ہے ’’جن‘‘ کا مطلب ہوتا ہے چھپا ہوا یا نظر نہ آنے والا اور شیطان، شر پھیلانے والے یا نقصان پہنچانے والے کو کہتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ جن ایک مخصوص مخلوق بھی ہے اور لفظ شیطان کا سب سے واضح اطلاق ابلیس ملعون پر ہوتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ اصطلاحات انہی سے مخصوص ہوں اور ان کے دوسرے مصادیق نہ پائے جاتے ہوں۔ شیاطین جن و انس کی قرآنی اصطلاح سے کون واقف نہیں ہے۔ بہرحال ہم برہنہ آنکھوں (Naked Eyes) سے ان موجودات کو دیکھنے سے عاجز ہیں اور ہمیں نظر آنے والا خلاء، طرح طرح کے موجودات سے پُر ہے۔

رنگوں سے متعلق، پانچواں سوال بھی قدرے پریشان کن ہے۔ پہلے آپ یہ بتایئے کہ جو شخص علم کا حصول کرے اسے عالم کہتے ہیں یا اسے جو علم کو خود سے دور کرے؟ ذہین قارئین جواب تک پہنچ گئے ہوں گے۔ کسی بھی چیز کا رنگ دراصل اس رنگ کو کہا جاتا ہے جو وہ رنگوں کے قوس (Spectrum of Light) میں سے جذب نہ کر سکے۔ یعنی سیاہ نظر آنے والی اشیاء چونکہ ہر رنگ کو جذب کر لیتی ہیں اس لیے یہ ہر رنگ کی ہوتی ہیں اور سفید اشیاء ہر رنگ مسترد کر دینے کی وجہ سے دراصل بے رنگ ہوتی ہیں۔ اسی طرح لال دکھائی دینے والی اشیاء سوائے لال کے ہر رنگ جذب کرتی ہیں۔ اس نظر سے دیکھا جائے تو ہر کالی شئے رنگین ہے اور ہر نیلی چیز، نیلے رنگ کے علاوہ تمام رنگوں پر مشتمل ہے۔ ہم وہ رنگ دیکھتے ہیں جو کسی چیز کا اصل رنگ نہیں ہے بلکہ وہ جسے اس نے رد کر دیا ہے! اس تناظر میں اگر کسی کے پاس سوائے ادب کے سب کچھ ہو تو اسے با ادب نہ کہہ دیجیے گا! چھٹا تو شاید سوال برائے سوال ہی لگے۔ بہرحال اگر آپ کا خیال ہے کہ ویزلین کو سردی کے موسم میں جلد کی خشکی دور کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے تو اس کے لیبل پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ یہ دراصل بالوں کو نرم و ملائم کرنے کے لیے ایک ہیئر کنڈیشنر(Hair Conditioner) ہے۔

مندرجہ بالا سوال و جواب سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ ہم جن باتوں پر عام طور پر آنکھ بند کر کے ایمان لے آتے ہیں ان میں سے ایک بڑی تعداد ان کی ہوتی ہے جو مشہور ہو گئی ہیں یا مشہور کر دی گئی ہیں اور ہم نے بغیر سوچے سمجھے انہیں اپنے عقائد کا حصہ بنا لیا ہے۔ اگر یہ صورتحال غیر ارادی اور غلط فہمی کی وجہ سے جنم لیتی تو شاید اتنی پریشانی کی بات نہ ہوتی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آج کل کے جدید دور میں (یا یہ بھی ایک غلط فہمی ہی ہے، آپ کیا کہتے ہیں!؟) جب افراد پر ہی نہیں اقوام پر بھی اپنی جھوٹی دھاک بٹھانے کو ایک ضرورت سمجھا جانے لگا ہے ایسے میں پروپیگنڈا اور غلط العام تفکرات انسان کو موت کے منہ میں یا اس کے ایمان کو نابودی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ میں تعلیم یافتہ ساحروں کو بلایا تھا کیا اس وقت کوئی یہ پوچھنے والا تھا کہ تم تو خود ربوبیت کے دعویدار ہو پھر اپنی قدرت کو دھوکہ بازوں کے ذریعہ کیوں ظاہر کرنا چاہتے ہو! جی ہاں، دھوکے باز! قرآن مجید میں یہی بیان ہوا ہے کہ ان ساحروں نے لوگوں کی نظر بندی کر دی کہ انہیں رسیاں بھی دوڑتے سانپوں کی مانند دکھائی دیں۔ اپنے شعبدوں اور کمالات کی حدود کو یہ جادو گر بہت اچھی طرح جانتے تھے اور دوسرے جن سانپوں کو دیکھ کر خوفزدہ ہو رہے تھے خود ان کی نظروں میں وہ بے جان رسیاں ہی تھیں۔ اسی لیے انہوں نے جب یہ دیکھا کہ ان کی بے جان رسیوں کو ایک جیتے جاگتے اژدھے نے چٹ کرنا شروع کر دیا ہے تو ان کے دلوں میں کون و مکاں کے مالک خدائے وحدہٗ لا شریک کی عظمت کچھ اس طرح سے بیٹھی کہ وہ موسیٰ و ہارونؑ کے رب کے حضور سجدہ ریز ہو گئے۔ وہ چونکہ دھوکہ باز ساحر (IIIusionists) تھے اس لیے اصل اور نقل کا فرق اچھی طرح سمجھتے تھے۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ سے زیادہ خود سے بڑا ساحر تسلیم کر لیتے، جیسا کہ فرعون کا اصرار تھا۔ دوسرے الفاظ میں ساحری سوائے دھوکے کے اور کچھ نہیں ہے جو کبھی نہ کبھی رسوا ہو جاتی ہے۔ اسی لیے ساحری سے منع کیا گیا ہے کہ یہ گمراہی اور نجاست ہے ورنہ ایک مومن کے لیے نہ تو یہ باعث رعب و وحشت ہے اور نہ ہی قابل اعتبار۔ مومن سے مراد نظریہ ضرورت پر کاربند مومنین نہیں ہیں جو کبھی ایمان پسند کرتے ہیں اور کبھی فسق و بے حیائی بلکہ وہ جن کے قلوب شرک کی نجاست سے پاک ہیں (خدا کرے ہم اور آپ اس دوسری قسم سے تعلق رکھتے ہوں) وہ کسی کے رعب میں نہیں آتے اور نہ ہی کسی سے خوف کھاتے ہیں مگر اس خدا سے جو تمام قدرتوں کا خالق و مالک ہے۔

فرعون اور اس کے ساحروں کی کوشش اور پھر رسوائی کا یہ قصہ ہمیں اور آپ کو کیوں سنایا گیا ہے؟ کیا یہ بات رامسس دوم کے ساتھ مٹی میں مل گئی تھی یا اس کے ذریعہ فراعنہ کی نفسیات بیان کی جا رہی ہے، چاہے ان فرعونوں کا تعلق قبل مسیح سے ہو یا آج کے ’’جدید‘‘ دور سے؟ آیئے اس حوالے سے آپ کو دور حاضر کا ایک دلچسپ قصہ سناتے ہیں:

یہ اس وقت کی بات ہے جب دنیا پر دو بڑے فرعونوں کی حکومت ہوا کرتی تھی۔ ایک گدھے پر سوار اہرام مصر کا نشان لیے ہوئے تھا اور دوسرے کے پاس پھائوڑے اور درانتی کا پرچم تھا۔ (آج ایک فرعون جو اپنی ناجائز ذریت کے ساتھ باقی ہے وہ خودکشی کے ذریعہ راکھ ہونے کو ہے اور دوسرے کی راکھ میں چنگاریاں سلگ رہی ہیں)۔ دونوں نے جب ایک دوسرے پر اور ساری دنیا پر دھاک بٹھانے کے لیے علمی و سائنسی ترقی کے نام پر خلاء میں دوڑ شروع کی تو ساٹھ کی دہائی شروع ہونے کو تھی۔ پھائوڑے درانتی والا زیادہ قدرت مند ثابت ہوا اور اس نے یکے بعد دیگرے اس دوڑ میں کئی کامیابیاں حاصل کر لیں۔ دنیا کا پہلا ماہوارہ (Sputnik Sateleite) زمین کے مدار میں پہنچایا، پہلا خلانورد (Gagarin Cosmonaut Yuri) خلاء میں بھیجا، پہلی مرتبہ ایک خلاء نور کو خلاء میں چلایا (Space Walk) پہلی مرتبہ دو خلاء نوردوں کو بیک وقت خلاء میں چلایا، پہلی مرتبہ دو ماہواروں کو خلاء میں ایک دوسرے سے جوڑنے کی کوشش کی، پہلی مرتبہ انسان کو طویل عرصہ تک زمین کے مدار میں رکھا…… اس اثناء میں دوسرے کی رعیت انتہائی رعب و دہشت کا شکار ہو گئی تھی کہ کہیں ان پر خلاء سے پھائوڑے اور درانتی کے نشان والے ایٹم بم نہ گرنا شروع ہو جائیں۔ وہ جس اہرام کے اوپر سب دیکھنے والی آنکھ بنی ہوتی ہوے اس نے اپنا پورا زور لگا دیا کہ ان ہزیمتوں کا بدلا اتارے تاکہ اپنی رعیت اور باقی دنیا پر رعب داب قائم رکھ سکے۔ جس دوڑ میں دو ہی شامل تھے، اس کا نمبر بہرحال دوسرا تھا۔ بلی چوہے کی یہ دوڑ اس وقت اپنے کلائمکس پر پہنچی جب پہلے والے نے ایک بم پھوڑ دیا! جی نہیں ایٹم بم نہیں بلکہ یہ اعلان کہ وہ اپنا آدمی چاند پر اتارنے والے ہیں، اور وہ بھی آٹھ دس سال کے اندر! یہ دلچسپ (اور مضحکہ خیز) اعلان اس وقت کیا گیا جب ان کا ایک خلاء نور (Astronaut) نامکمل مشن کے بعد زمین کے مدار میں پہنچے بغیر واپس آگیا تھا۔ اس کی واپسی کا عظیم الشان جشن منایا گیا اور انہوں نے سب کو یقین دلا دیا کہ وہ کسی طرح بھی پھائوڑے درانتی والوں سے کم نہیں ہیں بلکہ ان سے کہیں آگے ہیں۔ وحشت میں مبتلا رعایا نے اس جھوٹی تسلی کو دل و جان سے قبول کر لیا۔

آٹھ سال بعد جب معمولی کامیابیوں کے باوجود انہیں چاند، چندا ماموں دکھائی دیا تو اس کے سوا کوئی چارہ نہیں رہ گیا کہ اب اپنے پڑھے لکھے ساحروں کو طلب کریں۔ لوگوں کی جہالتوں کو تولا گیا تو آج کل کی طرح وافر مقدار میں پائی گئی۔ اس کے باوجود بڑی جانفشانی سے اسکرپٹ لکھا گیا، نقشے بنائے گئے، وفادار جمع کیے گئے اور جنہوں نے ضمیر وغیرہ کی فرسودہ بات کی انہیں سائنسی تجربات کے دوران عزت و احترام (اور دنیا) سے رخصت کر دیا گیا۔ پھر وہ ’’تاریخی‘‘ دن آگیا جب بالآخر فلم سیٹ پر اور زمین سے کوئی ڈھائی سو میل دور تقریباً صفر کشش ثقل میں انہوں نے جو فلمیں ریکارڈ کی تھیں انہیں یہ کہہ کر دنیا میں نشر کر دیا کہ یہ نشریات آپ ڈھائی لاکھ میل دور چاند سے براہ راست ملاحظہ کر رہے ہیں! اور یوں انسان نے اپنا پہلا قدم چاند پر رکھ ہی دیا۔ رعیت کو ایک کے بعد دوسرے جھوٹ نے ذہنی طور پر آمادہ کر رکھا تھا، اس میں وہ خوف بھی شامل تھا کہ اگر دوسرا آگے نکل گیا تو کیا ہو گا۔ شاید آپ جانتے ہوں کہ ساحروں کی کامیابی کا اہم راز یہ ہے کہ مسحور کیا جانے والا پہلے ہی دل و دماغ سے اس سحر کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی ٹرانس میں نہ آنا چاہے تو نہ تو آپ اسے کوئی پٹی پڑھا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ ہپناٹائز کیا جا سکتا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ صرف اپنی رعیت ہی نہیں تھی، دنیا کی دوسری اقوام بھی تھیں جو اس معاملہ کو شک اور ستائش کی ملی جلی نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔ ان اقوام میں بڑی آبادیوں والے مسلمان بھی تھے اور چینی بھی۔ ان کے لیے اسکرپٹ کے دوسرے حصہ سے استفادہ کیا گیا۔ چاند پر سنائی دی جانے والی واحد آواز اذان کی تھی اور وہاں شق القمر کا نشان ملا ہے! یہ سن کر مسلمان فی الفور ڈھیر ہو گئے۔ چاند سے دکھائی دینے والی واحد تعمیر دیوار چین تھی! لیجیے چینی بھی ایمان لے آئے۔ انسان کا چاند پر پہنچ جانا ضرب المثل بن گیا (یا بنا دیا گیا) جب بھی کوئی اختلافی بات کی جاتی، لوگ یہ مخصوص جملہ سر پر دے مارتے: ’’دنیا چاند پر پہنچ گئی ہے اور ……‘‘ اب بھی تقریباً ایسا ہی ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہاں کہتے ’’دنیا‘‘ ہیں اور مراد امریکا بہادر ہوتا ہے۔ اور امریکا کا خیال بھی یہی ہے کہ صرف وہی دنیا ہے اور باقی کچرا کنڈی!

گرچہ فکری بلوغ رکھنے والوں کے لیے یہ قصہ اب پرانا ہو چکا ہے تاہم نہ تو سادہ لوح کم ہیں اور نہ ہی ٹرانس میں لینے والے ’’پڑھے لکھے‘‘ ساحر۔ صرف اشارتاً دو تین نکات یہاں پیش کر دیتے ہیں تاکہ جواب بھی ہمیں متعصب اور جمود کا شکار اور نہ جانے کیا کیا کچھ سمجھ رہے ہیں ان کی طبیعت صاف ہو جائے (ہمارا مطلب ہے ہماری طرف سے ان کا دل صاف ہو جائے)!

جب بھرم بنانے اور جتانے کی یہ دوڑ شروع ہوئی تھی تو اس وقت عمیق خلاء (Space Deep) میں جان لیوا تابکار شعاعوں پر مشتمل پٹی (Belt Van Allen Radiation) کا تازہ انکشاف ہوا تھا اور اس پر تحقیقات ابتدائی مراحل میں تھیں۔ آج سائنس دانوں کی ایک واضح اکثریت کے خیال میں اس پٹی کی موجودگی میں چند سو میل سے زیادہ خلاء میں کسی جاندار کو بھیج دینا اسے موت کے منہ میں دھکیل دینے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب اس کے پاس ان مہلک شعاعوں سے بچنے کے لیے کوئی موثر نظام بھی نہ ہو۔ ناسا نے اعتراف کیا ہے کہ اپولو مشن کے دوران ایسٹروناٹ جو لباس پہنتے تھے ان میں ایسی کسی حفاظت کا انتظام نہیں تھا۔ بلکہ ۸۰کے اوائل میں ناسا کے اس وقت کے چیف نے بڑے فخر سے اعلان کیا تھا کہ اب ہم اس قابل ہیں کہ جدید لباس کی مدد سے انسانوں کو خلاء میں دور تک بھیج سکیں۔ وہ جذبات میں شاید یہ بھول گئے تھے کہ کئی لاکھ کلومیٹر دور چاند پر تو وہ کئی سال پہلے ہی اتر چکے ہیں! مسئلہ یہ ہے کہ ابھی تک کسی ذی روح کو خلاء میں اس طرح دور تک بھیج دینا کہ وہ زندہ واپس بھی آ سکے کافی تحقیق طلب سمجھا جاتا ہے۔ خلائی شٹل کی جدید تحقیقات میں بھی یہ مسئلہ غالباً سرفہرست ہے۔ اگر چاند پر آدمی زندہ سلامت اتار دینا اور اسے خیریت سے واپس زمین پر لے آنا اب سے تقریباً چالیس سال پہلے ممکن تھا تو ٹیکنالوجی کی چار ہزار گنا ترقی کے بعد آج ایسا کرنا کیونکر ممکن نہیں ہے؟ ناسا نے کیوں ساری دنیا میں مذاق بننا گوارا کیا ہے اور صرف یہ کہہ کر اپنی جان بچانے کی کوشش کرتی ہے کہ اب ہم دوبارہ چاند پر جانا افورڈ نہیں کر سکتے؟ کیوں ان تمام امریکی اور یورپی لوگوں کے مناظروں کے لیے توہین آمیز چیلنجوں سے جان چھڑائی ہے جو کھلم کھلا اس مسئلہ کو ایک عظیم فریب ثابت کرتے رہے ہیں؟۔

ہم یہ نہیں کہنا چاہتے کہ امریکا یا کوئی اور چاند پر نہیں پہنچ سکتا۔ اگر ماضی میں نہیں جا سکے تو ممکن ہے مستقبل قریب میں پہنچ جائیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اس ذریعہ سے سادہ لوح افراد کے اذہان میں یہ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ یہ دین و مذہب ہے جس نے انسان کو ترقی سے روک رکھا ہے، خدا پر ایمان انسان کو جمود کی طرف لے جاتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے حامل امریکا کی قدرت پر یقین، چاند پر! ان کا اصل جھگڑا اس وقت کی منجمد مسیحیت سے تھا لیکن باقی ادیان خصوصاً اسلام کو بھی انہوں نے با آسانی لپیٹ میں لے لیا۔ ہم اس باسی کہانی کو دہراتے بھی نہیں اگر انہوں نے اپنے ساحروں کو ریٹائر کر دیا ہوتا۔ انہوں نے تو یہ کھیل مسلسل جاری رکھا ہوا ہے اور اس کی تازہ ترین مثال گیارہ ستمبر کی ہے جب ساری دنیا عمارتوں کے اوپر جہازوں کو ٹکراتے دیکھ رہی تھی اور یہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کو بنیادوں سے منہدم کر رہے تھے۔ ہم نے پہلے عرض کیا ہے کہ جھوٹی دھاک بٹھانا اور سادہ لوح افراد کو اپنا ذہنی و جسمانی غلام بنا لینا فراعنہ کی نفسیات میں داخل ہے۔ لیکن اگر ہم ان کے ایک ٹرانس سے نکل آئیں تو باقی سے بھی نکل آئیں گے۔

اگر یہ طلسم ٹوٹ جائے تو پھر بہت سے دوسرے سوال بھی اٹھیں گے۔ مثلاً ہولوکاسٹ کو مقدس گائے کیوں بنا دیا گیا ہے کہ کوئی اس پر اختلافی نظر ہی نہیں رکھ سکتا؟ ایجادات و اختراعات کے دفتر (Patent Office) میں ملازمت کرنے والا کلرک اگر کل کو عظیم سائنسداں کے طور پر متعارف کروایا جائے تو کیا اس پر شک بھی نہیں کیا جا سکتا؟ ڈائنامائٹ بنانے والے کے نام سے ہی کیوں امن کا عالمی انعام دیا جاتا ہے؟ کہاں ہیں وہ وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیار جن کے نام پر عالمی پولیس آج تک عراق کے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے؟ دنیا بھر کو ایٹمی توانائی سے روکنے والے خود کیوں این پی ٹی میں شامل نہیں ہو جاتے؟ آج کے ’’مہذب‘‘ دور میں یو این او میں جنگل کا قانون ویٹو کیوں رائج ہے؟ کیوں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے خواہشمند ایسی تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ اپنے ملک و قوم کے لیے کوئی خدمت انجام دینا ان کی شان کے خلاف ہو جاتا ہے؟ کیوں غیر ان کے لیے اپنوں سے زیادہ عزیز اور اپنے کیونکر غیر ہو جاتے ہیں؟ وطن کی محبت جو حدیث کی رو سے ایمان کا حصہ ہے کیونکر ان پر حرام ہو جاتی ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ تعصب برا ہے لیکن محبت تو قابل تحسین ہوتی ہے۔ بلا شبہ ساری دنیا اللہ کی زمین ہے لیکن ہر ایک کا گھر اور وطن اس کے لیے قابل احترام قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ان کا دفاع کرنا حرام اور ان پر تجاوز جائز ہو جاتا۔ اللہ پر بھروسہ رکھنے والے اور دین محمدیﷺ کے پیرو مومنین کیونکر اتنی آسانی سے غیروں کی پھیلائی ہوئی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ مایوسی جو ابلیس کا انتہائی موثر حربہ ہے۔ مومن تو ہمیشہ پُرامید ہوتا ہے!۔

سوال اور بھی بہت ہیں لیکن بہتر یہ ہے کہ ہم اور آپ اپنے خدا کے حضور استغفار کریں، ہر غفلت اور سحر سے بچائو کے لیے اس سے پناہ اور مدد مانگیں، حجتِ خدا (امام مہدیؑ) کی نصرت کا عہد کریں تاکہ ظلمات کے اس سمندر سے نکل کر حقائق کی روشنی اور اپنے حواسوں میں آ سکیں۔ ہم اور آپ عصرِ ظہور میں جی رہے ہیں، جب دنیا و ماوراء کے علوم اور اعلیٰ ترین انسانی صفات کی خوشبوئویں آنا شروع ہو چکی ہیں۔ ایسے موقع پر سانس لینے کا شکرانہ دوسری ہر نعمت سے زیادہ ہم پر واجب ہے۔ حق بہرحال آکے رہے گا اور باطل کو تو مٹنا ہی ہے۔ پھر سوال کرنے والے پوچھیں گے کہ اس دوران ہم اور آپ کہاں تھے؟۔

ہے افق سے ایک سنگ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانندِ آئینہ بکھر جائے گی رات

(بحوالہ: ماہنامہ’’منتظر سحر‘‘ مئی ۲۰۰۸)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*