اٹلی میں نیسلے کی مصنوعات پر پابندی!

نومبر کے مہینے میں اٹلی کے ایک شہر ایسکولی میں بچوں کے لیے تیار کردہ نیسلے کے بیس لاکھ لیٹر دودھ کو پولیس نے ضبط کر لیا ہے۔ یہ کارروائی آلودہ دودھ کے خلاف عدالت کے فیصلے کے بعد عمل میں آئی۔ عدالت نے یہ فیصلہ مارکیٹ میں موجود تین کروڑ لیٹر دودھ کے خلاف دیا تھا۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق جن برانڈز کے دودھ کی فروخت اور تیاری قطعاً ممنوع قرار دے دی گئی ہے‘ ان میں Mio‘ Nidina 1 & 2 اور Mio Cereali شامل ہیں۔ ان برانڈز کے دودھ میں ایک خاص کیمیکل “Isopropylthioxanthone” پایا گیا ہے جو مصنوعات کی پیکنگ پر استعمال ہونے والی سیاہی میں پایا جاتا ہے۔

اس کارروائی کے جواب میں نیسلے کمپنی کی انتظامیہ نے اس بات کو رد کیا ہے کہ مذکورہ کیمیکل کسی طرح بھی بچے کی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ تاہم اس نے بیان دیا ہے کہ وہ عدالت کے فیصلے کے احترام میں اپنی مصنوعات مارکیٹ سے اٹھوا رہی ہے اور خود سے اس پر تحقیق کر کے وہ اس الزام کی صداقت جاننے کی کوشش کرے گی۔ حالانکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ عدالت کے فیصلے کے تحت پولیس یہ کارروائی کر رہی ہے۔

نیسلے کی مذکورہ مصنوعات میں اس مسئلے سے متعلق کچھ عرصہ پہلے بھی ایک نوٹس عدالت نے جاری کیا تھا لیکن نیسلے نے اس کے مطابق عمل درآمد کرنے میں التوا سے کام لیا اور ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اس نے اپنے خلاف ہونے والی کسی کارروائی کا کریڈٹ بھی خود ہی لینے کی کوشش کی ہے۔

اسی سال مئی میں چین میں بھی نیسلے کی جانب سے بچوں کے لیے تیار کردہ دودھ کے ڈبے پولیس نے ضبط کر لیے تھے۔ چین کی وزارتِ صحت نے تحقیق سے معلوم کیا ہے کہ ان ڈبوں میں آیوڈین کی ضرورت سے زیادہ مقدار موجود ہے۔ جب اس حوالے سے میڈیا میں بہت کچھ چھپا تو نیسلے کی طرف سے یہ بیان جاری ہوا‘ جس میں اس نے اپنی مصنوعات کی تیاری میں ملکی اسٹینڈرڈ سے روگردانی کرنے پر معذرت کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی ساتھ اصل قصوروار گوالوں کو قرار دیا جن کے ذریعہ دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔ تاہم تازہ اطلاعات کے مطابق نیسلے نے اپنی معروف پراڈکٹ “Neaslac” کی ازسرِ نو جارحانہ تشہیری مہم شروع کی ہے جس کے لیے وہ بازار میں مفت نمونے فراہم اور ماؤں سے بھی رابطے کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس نے ڈاکٹروں کو بھی اسٹوروں میں لا بٹھایا ہے جو اس پراڈکٹ کو خریدنے کے لیے لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جبکہ عالمی ادارہ صحت کے قوانین کے مطابق بچوں کی غذائی مصنوعات کے لیے ماؤں سے براہِ راست رابطہ کرنا سراسر غیرقانونی ہے۔

ایسا ہی ایک واقعہ اپریل ۲۰۰۲ء میں بیلجیم اور لکسمبرگ میں بھی پیش آیا تھا‘ جہاں ایک پانچ سالہ بچے کی گردن توڑ بخار کی وجہ سے موت واقع ہو جانے کے بعد Nestle Beba 1 اور Nestle Beba 2 کی فروخت کو ممنوع قرار دے دیا گیا کیونکہ اس پراڈکٹ کی تیاری کے عمل کے دوران ایک خاص کیمیکل “Enterobacter Sakazakii” دودھ میں شامل ہو گیا تھا جو مہلک ثابت ہوا۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں قانون پر عملدرآمد کی صورت حال تشویشناک ہے اور نجی شعبے کو من مانی کرنے کی کافی آزادی حاصل ہے‘ وہاں نیسلے جیسی کمپنیاں کسی احتساب کے خوف کے بغیر جارحانہ پالیسیاں اپنائے ہوئے ہیں۔

(بشکریہ: ماہنامہ ’’صارف کی پسند‘‘۔ راولپنڈی۔ شمارہ۔ دسمبر ۲۰۰۵ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*