اب نَیٹو کیوں باقی رہے؟

سوال: ہمیں آغاز نیٹو (NATO) کے ساٹھ سالہ تقریب جشنِ قیام سے اور فرانس کی چار دہائیوں بعد نیٹو میں دوبارہ شمولیت سے کرنا چاہیے۔ آپ کا کیا تجزیہ ہے؟

جواب: ٹھیک ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ نیٹو کی تقریبِ جشن منانے کی کیا ضرورت ہے‘ سوال حقیقتاً یہ ہے کہ اسے باقی ہی کیوں رہنا چاہیے؟ دیوارِ برلن کے انہدام کو تقریباً بیس سال ہو چکے ہیں۔ کوئی یقین کرے یا نہ کرے نیٹو کے قیام کا سبب روسی حملوں سے مغربی یورپ کا دفاع تھا۔ جونہی دیوارِ برلن ڈھا دی گئی اور سوویت یونین کا سقوط واقع ہوا اس کے وجود کی علت ختم ہو گئی لہٰذا پہلا سوال تو یہ ہے کہ اسے باقی ہی کیوں رہنا چاہیے؟

درحقیقت اس کے جوابات بہت دلچسپ ہیں۔ میخائل گورباچوف نے اس وقت امریکا کو جو نیٹو کا رو ح رواں ہے یہ پیشکش کی تھی کہ وہ ایک متحدہ جرمنی کو نیٹو میں شمولیت کی اجازت دیں گے ہاں اسی نیٹو میں جو روس کے خلاف ایک فوجی اتحاد تھا۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ یہ بہت ہی نمایاں رعایت تھی۔ اگر آپ بیسویں صدی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں گے تو دیکھیں گے کہ جرمنی نے تنہا روس کو کئی مرتبہ عملاً تباہ و برباد کیا۔ لیکن اب یہ اتحادِ نو کے حامل اور عسکریت زدہ جرمنی کو اپنے دشمن اتحاد میں شامل ہونے کی پیش کش کر رہا تھا‘ جس کی پشت پناہی تاریخ کی سب سے خوفناک فوجی قوت کر رہی تھی۔ یہ گویا ایک معاوضہ تھا۔ جارج بش اول اس وقت صدر تھے اور جیمس بیکر وزیر خارجہ تھے اور دونوں ہی نے اپنے الفاظ میں اس امر پر اتفاق کیا تھا کہ نیٹو مشرق کی جانب ایک انچ بھی پیش قدمی نہیں کرے گا۔ یہ بات روس کے لیے کم از کم اطمینان کا سبب تھی۔ اب گورباچوف نے بھی اوقیانوس منجمد شمالی سے بحیرۂ روم تک کے منطقے کو جوہری اسلحوں سے پاک علاقہ قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی جس سے ایک بار پھر امن و سلامتی کے تحفظ کی ضمانت ملتی تھی۔ لیکن اسے فوراً ہی مسترد کر دیا گیا بلکہ میرے خیال میں تو اس تجویز کا کوئی جواب ہی سرے سے نہیں دیا گیا۔ بہرحال ۱۹۸۹ء اور ۱۹۹۰ء میں معاملات یہیں پر معلق تھے۔ پھر بل کلنٹن منتخب ہوئے۔ عہد شکنی کرتے ہوئے نیٹو کو مشرق تک وسعت دینا ان کے اولین اقدامات میں سے ایک تھا جو کہ بلاشبہ روس کی سالمیت کے لیے ایک خطرہ تھا۔ ان کے نائب وزیر خارجہ برائے مشرقی یورپ Stiobe Talbott کی طرف سے جو جواب پیش کیا گیا وہ یہ تھا کہ یہ اقدام سابقہ حلیف ریاستوں کو یورپی یونین میں لانے کے لیے ضروری تھا۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا تھا اس لیے کہ یورپی یونین میں شامل ممالک میں بہت سے ایسے تھے جو نیٹو کا حصہ نہیں تھے۔ مثلاً آسٹریا، فن لینڈ اور سوئیڈن۔ لہٰذا یہ ایک بے ربط سی بات تھی۔ لیکن یہ ایک خطرہ تھا روس نے یقینا اپنی دشمنی پر مبنی اس خطرے پر ردعمل دکھایا جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

موجودہ دور تک آتے ہوئے ہم صدر بارک اوبامہ کے قومی سلامتی کے مشیر James Jone کو اس خیال کی مضبوط وکالت کرتے ہوئے پاتے ہیں کہ نیٹو کو مزید مشرق اور جنوب کی طرف پھیلنا چاہیے۔ درحقیقت مشرق و جنوب کی جانب وسعت دینے سے مراد توانائی پیدا کرنے والے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔

نیٹو کے ڈچ سربراہ سیکریٹری جنرل Jaap de Hoop Scheffer نے اس تجویز کی وکالت کی ہے کہ نیٹو کو اس بات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے کہ وہ مغربی ممالک کو توانائی کی فراہمی یقینی بنائے گا۔ پائپ لائن کے ذریعہ، بحری راستوں کے ذریعہ اور دیگر طریقوں سے بھی۔ اب ہم افغانستان پہنچ رہے ہیں جس کی جغرافیائی و تزویراتی اہمیت اس کی جائے وقوعہ کی وجہ سے ہمیشہ مسلّم رہی ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ تسلیم شدہ ہے۔ اس کی جائے وقوعہ توانائی پیدا کرنے والے خلیجی علاقے اور وسط ایشیائی علاقے سے متصل ہے۔

درحقیقت اس حوالے سے کہ نیٹو کو کیوں باقی رہنا چاہیے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ماضی کی طرف پلٹنا چاہیے یعنی دس سال پیچھے جانا چاہیے جبکہ اس کی گولڈن جوبلی کا سال تھا۔ نیٹو کا پچاسواں سال اس لحاظ سے تاریک زمانہ تھا کہ ٹھیک اُسی وقت نیٹو سربیا پر بمباری میں مصروف تھا۔ یہ بمباری جیسا کہ ہر ایک کو اعتراف تھا کہ غیر قانونی تھی اور یہ اس دعوے کے ساتھ کی جا رہی تھی کہ انسانی مقاصد کے لیے یہ ضروری ہے۔ نیٹو اجلاس میں ہنگامہ اس بات پر تھا کہ ہم یورپ کے نزدیک اس طرح کی ظالمانہ کارروائی کیونکر برداشت نہیں کر سکتے ہیں۔ یہ ایک دلچسپ تبصرہ تھا جبکہ نیٹو اس وقت ٹھیک نیٹو کے اندر ظالمانہ کارروائیوں کی حمایت کر رہا تھا۔ مثال کے طور پر ترکی امریکا کی بھاری مدد سے اپنی کرد آبادی پر سخت ظلم و ستم توڑ رہا تھا۔ کوسوو سے جو کچھ رپورٹیں آ رہی تھیں صورتحال یہاں اس سے زیادہ خراب تھی۔ اس زمانے میں بھی مشرقی تیمور میں آپ اپنے آپ کو تعریف کا مستحق نہیں قرار پاتے۔ چنانچہ آپ اگر آپ برا نہ منائیں تو میں کہوں گا کہ اُس وقت ڈِلی قتلِ عام جسے آپ اور Allen نے بڑی شجاعت مندی سے بے نقاب کیا تھا‘ آپ حضرات کی نقاب کشائی کے بعد بھی جاری رہا۔ درحقیقت ۱۹۹۰ء کے اوائل میں امریکا کی بھرپور مدد سے ان مظالم کا دوبارہ سلسلہ شروع ہوا اور یہ اپنی شدت میں کوسوو میں ہونے والے مظالم سے زیادہ سنگین تھے۔ آپ کو معلوم ہے کہ یہ امریکا اور برطانیہ ہیں جو نیٹو میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک اُسی زمانے میں دراصل Dennis Blair کو جو اب صدر اوبامہ کے نیشنل سیکوریٹی سرکل کے ایک افسر ہیں انڈونیشیا بھیجا جاتا ہے تاکہ وہ انڈونیشیائی فوج کو بڑھتے ہوئے مظالم کے سلسلے کو روکنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن انہوں نے ان کی حمایت کی۔ انہوں نے اعلیٰ فوجی جنرل، جنرل ویرانتو سے ملاقات کی اور یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ انہوں نے حتماً یہ بات کہی کہ ’’آپ آگے بڑھیے‘‘ اور جنرل نے اسی کے مطابق کیا اور یہ حقیقت ہے کہ یہ مظالم کسی بھی وقت روکے جا سکتے تھے۔ اس کا مظاہرہ ۱۹۹۹ء کے ستمبر میں ہوا جب بل کلنٹن نے سخت داخلی اور بین الاقوامی دبائو کے پیش نظر اسے ختم کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔ انہیں جکارتہ پر بمباری نہیں کرنی پڑی۔ انہیں اقتصادی ناکہ بندی سے بھی کام نہیں لینا پڑا۔ انہوں نے انڈونیشیا کے فوجی جنرلوں سے صرف اتنا کہا کہ اب کھیل ختم کرو اور انہوں نے فوراً ہی فوج واپس بلا لی۔ تاریخ میں اسے یوں بیان کیا جاتا ہے گویا انسانی ہمدردی پر مبنی یہ ایک عظیم مداخلت تھی۔ درحقیقت یہ داستان سچائی پر مبنی نہیں ہے۔ اس وقت سے اب تک امریکا مظالم کی حمایت کرتا رہا ہے۔ برطانیہ اپنی نئی اخلاقی خارجہ پالیسی کے تحت وقت پر نہیں پہنچا اور امریکیوں نے اپنی حمایت جاری رکھی حتیٰ کہ آسٹریلیا کی زیر قیادت امن فوج کے داخلے کے بعد بھی۔ یہ ہے دس سال پہلے کا نیٹو۔ اگر آپ سربیا سے متعلق دعوئوں کو ایک طرف رکھ بھی دیں جو کہ ایک سند ہو سکتے ہیں اُن واقعات کی جو اس وقت ہوئے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ سربیا میں کیا ہوا تھا۔ کوسوو میں بھاری قتل عام تھا۔

امریکی وزارتِ خارجہ اور نیٹو اور یورپی یونین کے مشاہدین کی فراہم کردہ بھاری دستاویزات ہیں۔ ایک خاص سطح کے مظالم کا تبادلہ سربوں اور چھاپہ ماروں کے مابین ہوا تھا۔ لیکن توقع یہی تھی کہ نیٹو کی بمباری سے مظالم میں نمایاں اضافہ ہو گا جو کہ ہوا۔ اگر آپ پیچھے پلٹ کر میلوسیوک کے فردِ قراردادِ جرم جو کہ درمیانِ بمباری عائد کیا گیا تھا دیکھیں گے تو ایک استثنیٰ کو چھوڑ کر تقریباً جتنے بھی مظالم ہوئے وہ نیٹو کی بمباری کے بعد ہوئے اور یہی وہ چیز ہے جس کو وہ پہلے سے قیاس کر چکے تھے۔ کمانڈنگ جنرل جنرل کلارک نے واشنگٹن کو ہفتوں قبل باخبر کر دیا تھا کہ یہ نتائج سامنے آنے ہیں۔ جونہی بمباری شروع ہوئی اُس نے پریس کو بھی اس کی خبر دے دی تھی۔ یہی وہ مداخلت تھی جو انسانی ہمدردی پر مبنی تھی جبکہ نیٹو اندرون نیٹو مشرقی تیمور اور دوسرے مقامات ان پر بدترین مظالم ڈھائے جانے کی پشت پناہی کر رہا تھا۔

ہاں! دس سال پہلے کا نیٹو یہی ہے۔ پھر انہوں نے ہمیں بتانا شروع کیا کہ نیٹو کس کام کے لیے ہے۔ کیا یورپ کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہے؟ درحقیقت اب یہی دعویٰ تھا۔ چنانچہ جب صدر بش نے مشرقی یورپ میزائل کا دفاعی نظام نصب کیا تو بہانہ یہی بنایا کہ اس کا مقصد یورپ کو ایران کے جوہری میزائلوں سے محفوظ رکھنا ہے۔ حالانکہ اگر ایسا کوئی نظام نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا ہے اور اگر مان لیں ایسا کوئی نظام ضروری بھی ہے تو صرف ایک جگہ کو مسلح کرنا تو نادانی ہے جبکہ ۳۰ سیکنڈ میں پورا ملک بھاپ بن کر ہوا میں تحلیل ہو جائے گا۔ چنانچہ یہ کہا جائے گا کہ خطرہ روس کو ہے ٹھیک اُسی طرح جس طرح کلنٹن نے مشرق کی جانب نیٹو کو وسعت دی تھی۔

سوال: فرانس کی شمولیت ؟

جواب: فرانس کی شمولیت بہت ہی دلچسپ ہے۔

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فرانس کے پاس جنرل De Gaulle کی دی ہوئی ایک پالیسی تھی جو فرانس کو ایک ’’تیسری قوت‘‘ میں جو دونوں سپر پاورز سے آزاد ہو تبدیل کرنا چاہتی تھی۔ لہٰذا یورپ کو ایک آزاد روش پر چلنا چاہیے۔ یہی وہ بات تھی جو جنرل ڈیگال نے اٹلانٹک سے یورالز تک یورپ سے کی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد سے امریکا کو بہت خوف لاحق تھا کہ امریکا تعمیرِ نو کے بعد اپنے پیروں پر کھڑا ہو جائے گا جو کہ ہو گیا اس کی معیشت امریکا کی سطح پر ہے۔ سوائے فوجی قوت کے ہر میدان میں یہ امریکا سے قابل موازنہ ہے۔ لہٰذا سپر پاورز سے آزاد رہ کر ایک پرامن یورپ کی طرف پیش رفت ہو سکتی ہے۔ درحقیقت نیٹو کے مقصد کا بڑا حصہ یورپ کو ایسا بننے سے روکنا ہے اور اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ یورپ امریکا کے زیر کنٹرول ہے اور اس کی چھتر چھایہ میں ہے۔ فرانس نے اب وہ موقف ترک کر دیا ہے اور اس لشکر میں دوبارہ شمولیت اختیار کر لی ہے جسے اب محض مداخلت پسند لشکر کے عنوان سے جانا جاتا ہے۔

فرانس نے اب یہ مؤقف ترک کر دیا ہے اور ایک مداخلت پسندانہ فوج میں پھر سے شمولیت اختیار کر لی ہے جو کہ درحقیقت ایک بین الاقوامی مداخلتی فوج ہے جیسا کہ Jaap de Hoop Scheffer James Jones اور کچھ دوسروں نے بالکل ٹھیک بیان کیا ہے کہ نیٹو امریکا کے زیر کنٹرول ایک بین الاقوامی مداخلتی فوج ہے۔ اسے کیوں باقی رہنا چاہیے؟

اگر آپ ۱۹۸۹ء اور ۱۹۹۰ء کی طرف پلٹیں گے تو آپ کا یہ مشاہدہ انتہائی دلچسپی کا حامل ہو گا کہ امریکا نے سوویت یونین کے سقوط پر کس طرح کا ردعمل ظاہر کیا۔ دیوارِ برلن کے انہدام کے ٹھیک ۲۰ سال بعد جو سوویت یونین کے زوال کی علامت تھا۔ بش اول کی انتظامیہ نے فوراً قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کا فوجی بجٹ اور اسی طرح کی دیگر خبروں کا اعلان کیا جس کا مطالعہ خالی از دلچسپی نہیں۔ جو کچھ وہ کہہ رہے تھے عملاً وہ سب چیزیں پہلے کی طرح انجام پا رہی تھیں لیکن نئے عنوانات کے ساتھ۔ چنانچہ اب ہمیں ایک عظیم تر فوجی اسٹیبلشمنٹ اور ایک عظیم فوجی بجٹ کی ضرورت تھی لیکن روسیوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے نہیں اس لیے کہ یہ تباہ ہو رہے تھے بلکہ تیسری دنیا کی قوتوں کی جدید فنی مہارتوں کی وجہ سے۔ فرض کریں کوئی مریخ سے تیسری دنیا کی قوموں کی فنی مہارت کا مشاہدہ کرے تو وہ ہنس ہنس کر دم توڑ دے گاجس کو بہانہ بنا کر ہم اپنا فوجی بجٹ بہت بڑا رکھنا چاہتے ہیں اور ہم مداخلتی افواج تشکیل کرتے ہیں جس کا مطمع نظر مشرقِ وسطیٰ ہے اور یہی مداخلتی فوج کا اصل ہدف ہے۔ کیوں؟ روسیوں کی وجہ سے نہیں جیسا کہ دعویٰ کیا گیا تھا۔ جو کچھ کہا گیا وہ یہ تھا کہ ہمیں مداخلتی فوج کو مشرقِ وسطیٰ کی سمت بھیجنا ہے جہاں ہم اپنے مسائل کو کریملین سے نتھی نہیں کر سکتے ہیں یا دوسرے الفاظ میں یہ کہیے کہ ہم پچاس سال سے آپ کے سامنے جھوٹ بول رہے تھے لیکن بادل چھٹ گئے ہیں لہٰذا ہماری مداخلتی فوج صرف مشرق وسطیٰ کے لیے ہے اس لیے کہ ہمیں اسے اپنے کنٹرول میں لینا ہے۔ اس کے بقول ہمیں اپنی دفاعی صنعتوں کی بنیاد کو باقی رکھنا ہے۔ اعلیٰ تکنیکی صنعت سے مراد یہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت آپ کے پاس کمپیوٹرز، انٹرنیٹ اور اسی قبیل کی دوسری چیزیں ہیں۔ لہٰذا ہائی ٹیک پر مبنی معیشت کا یہ بہت ہی بڑا ریاستی سیکٹر ہے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ یہ تیسری دنیا کی طرف سے درپیش خطرات کی وجہ سے ہے۔ دوسرے الفاظ میں ہر چیز جوں کی توں باقی رہتی ہے البتہ بہانے بدل جاتے ہیں۔ اب یہ بجٹ بغیر کسی سرگوشی کے پاس ہوتا ہے۔

سوال: جناب نوم چومسکی! اب میں افغانستان کی جانب آنا چاہتا ہوں، یہ نیٹو کا اصل موضوع ہے۔ یہ افغانستان جنگ میں توسیع کے مسئلے کے گرد ہونے والی بحث کا موضوع ہے۔ امریکا میں صدر اوباما کا اقدام بحث کا اصل موضوع نہیں ہے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ آیا افغانستان بحث کا اصل موضوع ہونا چاہیے یا نہیں۔ آپ کا اس سلسلے میں کیا خیال ہے؟

جواب: ہاں! یہ دلچسپ بات ہے۔ امریکا میں بحث کا موضوع ہیئت مقتدرہ کے ٹھیک درمیان میں افغانستان ہے چنانچہ “Foreign Affairs” جو اصلاً امریکی ہیئت مقتدرہ کا مجلہ ہے اپنے کالموں میں شاید چھ ماہ قبل ایک دلچسپ تحریر کو جگہ دیتا ہے جس کے مصنف Burnett Rubin اور احمد رشید ہیں جنہیں افغان مسئلے پر تخصیص حاصل ہے۔ اس مضمون کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ امریکا کو یہ خیال ترک کر دینا چاہیے کہ فوجی فتح ہر مسئلے کا حل ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکا کو اپنی پالیسی کو ازسرِ نو مرتب کرنا چاہیے تاکہ مسئلے کا علاقائی حل نکلے۔ علاقے کے ممالک میں سب سے اہم ایران ہے لیکن بھارت، چین اور روس بھی ہیں اور یہ سب مل کر علاقائی حل تلاش کریں گے اور افغانستان کو ان کے درمیان رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے بجا طور سے اس امر کی نشاندہی کی ہے کہ علاقے کے ممالک اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ نیٹو اپنا فوجی مرکز افغانستان میں رکھے۔ یہ ان لوگوں کے لیے ایک واضح خطرہ ہے۔ اب اس طرح کی بات ماضی ہے یعنی اب یہ کام نہیں ہو رہا ہے محض کسی ایرانی نائب وزیر خارجہ کو ہیلو کہہ دینا کافی نہیں ہے۔ درحقیقت اُس چیز کا تعاقب نہیں کیا جا رہا جسے پالیسی کا محور ہونا چاہیے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دوسرے کاموں کے ساتھ ساتھ الگ سے یہ کام بھی تھوڑا بہت ہو رہا ہے۔ افغانستان میں امن کی تحریک بہت ہی نمایاں ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا حقیقی پیمانہ کیا ہے۔ لیکن یہ کافی ہے اس لیے کہ واشنگٹن پوسٹ کی Pamela Constable نے اپنے حالیہ مضمون میں یہ استدلال کیا ہے کہ جب نئی امریکی افواج آئے گی تو انہیں دو دشمنوں کا سامنا ہو گا۔ ایک طالبان کا اور دوسرے رائے عامہ کا۔ جس کا مطلب ہے امن تحریک جس کا نعرہ ہے اسلحے رکھ دو۔ اگر آپ یہاں ہیں تو ہمیں اعتراض نہیں ہے مگر یہ کہ ایسا امداد اور ترقی کی خاطر ہو۔ ہم مزید کوئی لڑائی نہیں چاہتے ہیں۔ ہمیں مغرب کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی رائے شماریوں سے معلوم ہوا ہے کہ ۷۵ فیصد افغانی افغانیوں کے مابین گفت و شنید کی حمایت کرتے ہیں۔ جو لوگ افغان ہیں اب ان میں طالبان بھی شامل ہیں حتیٰ کہ وہ افغان بھی شامل ہیں جو اس وقت پاکستان میں ہیں۔ ایک فرق ہے وہ یہ کہ بہت زیادہ مسائل سے دوچار علاقے پشتون علاقے ہیں جسے برطانیہ نے زبردستی منقسم کر دیا تھا اور مصنوعی سرحد کھینچ دی تھی جسے ڈیورینڈ لائن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ لائن برطانیہ نے اس لیے کھینچی تھی تاکہ وہ برطانوی ہند کو تحفظ فراہم کر سکے اور اسے توسیع دے سکے جسے افغانیوں نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہ لائن افغانستان کو آدھے آدھے تقسیم کر دیتی ہے۔ افغانستان نے جبکہ یہ ایک فعال ریاست تھی کبھی اسے قبول نہیں کیا، ۷۰ کی دہائی میں بھی نہیں۔ لیکن واقعتا افغان طالبان افغانی ہیں۔ صدر کرزئی پہلے کبھی ہمارے آدمی تھے لیکن اب نہیں اس لیے کہ اب وہ ہمارے کنٹرول سے باہر ہوتے جا رہے ہیں۔

سوال: آپ کیوں یہ خیال کرتے ہیں کہ اوباما اس جنگ کو وسعت دے رہے ہیں؟ کیا اب آپ اسے اوباما کی جنگ کا نام دیتے ہیں؟

جواب: ہاں! یہ پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ میرا مطلب ہے کہ امریکا دنیا کے معاملات میں نسبتاً برتر قوت کا حامل ہے۔ جس کا نام ہے فوجی قوت نہ کہ اقتصادی قوت۔ آپ کو معلوم ہے میری مراد خزانے میں محفوظ اثاثے سے نہیں ہے۔ میرے کہنے کا مطلب ہے کہ یہ بہت ہی طاقتور ریاست رہی ہے لیکن آپ کو معلوم ہے کہ اب یہ چند میں سے ایک ہے۔ اس کا موازنہ اب یورپ سے کیا جا سکتا ہے، اس کا موازنہ اب ابھرتے ہوئے مشرقی ایشیا سے کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ موازنہ محض اقتصادی شعبوں میں ہے۔ لیکن جہاں تک فوجی قوت کا معاملہ ہے تو اس میں اس کا ہنوز کوئی ثانی نہیں ہے۔ امریکا اپنی فوجی قوت پر اتنا ہی خرچ کرتا ہے جتنا کہ پوری دنیا مل کر اپنی فوجی قوت پر خرچ کرتی ہے۔ یہ ٹیکنالوجی کے اعتبار سے دوسروں کے مقابلے میں بہت آگے ہے۔ اور جب آپ کو فوجی قوت میں مسابقانہ برتری حاصل ہے تو آپ اس کے استعمال کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ چنانچہ جہاں آپ مضبوط اور طاقتور ہیں وہی آپ کی پالیسی میں انحراف ملتا ہے اور جہاں آپ مضبوط ہیں وہ ہے آپ کا فوجی شعبہ۔ آپ کو یہ پرانا لطیفہ یاد ہو گا کہ ’’اگر آپ کے پاس ہتھوڑا ہے تو آپ کو ہر چیز کیل نظر آئے گی‘‘ آپ اور ہم سبھی واقف ہیں کہ ایسی قوت متحرک اور فعال ہے۔ ایک طویل استعماری ذہنیت بھی ہے جو کہتی ہے کہ ہمیں غالب رہنا ہے اور ہر چیز پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ خاص طور سے ہمیں توانائی کے وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس کا سرا ماضی میں ملتا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکا میں یہ بنیادی عامل رہا ہے۔

سوال: افغانستان میں توانائی کے وسائل؟

جواب: نہیں افغانستان میں نہیں۔ اس کا زیادہ تر تعلق خلیج سے ہے۔ اس کے بعد وسط ایشیا سے ہے۔ لیکن افغانستان اس نظام کے ٹھیک بیچ میں ہے۔ میرا مطلب پائپ لائن کے معاملے سے ہے۔ آپ اندازہ کر سکتے ہیں یہ کس قدر اہم اور حساس معاملہ ہے۔ پائپ لائن کا یہ بہت طویل منصوبہ ہے جو ترکمانستان سے وسط ایشیا اور پھر بھارت تک دراز ہے۔ اسے TAPI کا نام دیا گیا ہے یعنی ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور انڈیا کے راستے۔ اب یہ کئی وجوہات کے پیشِ نظر امریکا کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ ایک بات تو یہ ہے کہ اگر یہ افغانستان یعنی صوبۂ قندھار کے راستے گزرتا ہے تو یہ علاقہ بہت ہی جنگ زدہ ہے لیکن اگر یہ اسکی وجہ سے مستحکم ہو جاتا ہے تو یہ ایک فائدہ ہو گالیکن ساتھ ہی یہ منصوبہ وسط ایشیائی ریاستوں کا انحصار روس پر کم کر دے گا جس کی وجہ سے روس کا کردار وسط ایشیا میں کمزور پڑ جائے گا۔ لیکن اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران سے پرے گزر جائے گا۔ میرا مطلب یہ ہے کہ بھارت کو توانائی کی ضرورت ہے اور ایران توانائی کا قدرتی سرچشمہ ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ایران تا بھارت پائپ لائن پر گفتگو جاری ہے۔

اگر آپ وسط ایشیا سے بھارت کو گیس کی فراہمی اس طرح ممکن بنا سکیں کہ ایران سے کوئی سروکار نہ رہے تو یہ امریکی پالیسی کے لیے تقویت کا باعث ہو گی جو کہ اب بہت ہی واضح ہے خاص طور سے اوباما کے معاملے میں کہ یہ اور بھی ٹھوس اور واضح ہے یعنی علاقائی ممالک کا ایک ایسا اتحاد قائم کیا جائے جس کا مقصد ایران کو ناکام بنانا ہے۔ یہی بات ہے جس کے متعلق جان کیری نے جو سینیٹ خارجہ تعلقات کمیٹی کے سربراہ ہیں حال ہی میں ایک بہت اہم تقریر کی ہے‘ فلسطین اسرائیل امن معاہدے کے تناظر میں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہم مسئلے کا نئے فکری سانچے میں ادراک کریں اس لیے کہ یہ اسرائیل فلسطین مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہم اس مسئلے کو ایک طرف رکھ دیں اور جو کچھ ہمیں کرنا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اسرائیل اور معتدل عرب ممالک کا اتحاد قائم کریں۔ ’’معتدل‘‘ ایک تکنیکی اصطلاح ہے جس کا مطلب ہے کہ وہ کریں جو ہم کہیں۔ چنانچہ معتدل عرب ریاستوں میں سفاک اور مطلق العنان مصر، شدت پسندو بنیاد پرست سعودی آمریت اور اسی طرح کی دوسری ریاستیں شامل ہیں۔ یہ معتدل ریاستیں ہیں اور انہیں اسرائیل اور امریکا سے مل کر ایران مخالف ایک اتحاد بنانا ہے۔ اور ہمیں بلاشبہ ایران اور بھارت کے درمیان جاری رابطے کو بھی ختم کرنا ہے‘ کم از کم جس حد تک ہم کر سکتے ہیں اور جیسا کہ دوسری جگہوں پر کیا ہے۔ اس طرح ہم اسرائیل فلسطین مسئلے کو کنارے لگا سکتے ہیں۔

سوال: میں اسرائیل فلسطین مسئلے کی طرف آنا چاہتا ہوں لیکن اس سے پہلے آپ سے ایک مختصر سوال ہے کہ کیا آپ کے خیال میں اوباما کو افغانستان سے امریکی افواج کو فوراً واپس بلا لینا چاہیے؟

جواب: آپ میرا نقطۂ نظر جانتے ہیں کہ یہ فیصلہ افغانیوں کو کرنا چاہیے۔

سوال: کیسے؟

جواب: اُن کے پاس راستے ہیں۔ مثلاً امن کی تحریکیں ہیں جس چیز کا مطالبہ کرتی ہیں وہ اس کے فیصلے کرنے کا روایتی طریقہ ہے یعنی لویا جرگہ۔ آپ جانتے ہیں بزرگوں اور کچھ دوسری شخصیتوں کا بہت بڑا اجتماع ہوتا ہے جو تمام افغانیوں سے مل کر کسی اتفاق رائے پر پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کو اُن کا فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے۔ میرا مطلب یہ ہے کہ ہمیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ ہم وہاں مداخلت کریں۔

سوال: میں آپ سے پوچھنا چاہوں گا کہ آپ فلسطین کے مسئلے کا یک ریاستی یا دو ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں؟

جواب: اگر آپ چاہیں تو آپ یک ریاستی حل کی بات کر سکتے ہیں۔ میرے خیال میں تو بہتر نا ریاستی (No State Soloution) ہے۔ لیکن یہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مترادف ہے۔ اگر آپ واقعتا یک ریاستی حل کی حمایت کرتے ہیں جس کا حامی درحقیقت میں پوری زندگی رہا ہوں تو ایک دو قومی ریاست کو تسلیم کر لیجیے نہ کہ ایک ریاست کو۔ آپ کو یہاں سے وہاں جانے کے لیے ایک راستہ تو تلاش کرنا ہے۔ ورنہ تو یہ محض بات ہی ہو گی۔ اب صرف ایک ہی راستہ ہے جو ہر ایک نے تجویز کیا ہے وہ یہ کہ پہلے مرحلے کے طور پر دو ریاستوں کو تسلیم کر لیا جائے۔

(بشکریہ: ’’ڈیلی ٹائمز‘‘۔ ۱۱ اپریل ۲۰۰۹ء)

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*